۱۹۳۵ء میں لاہور میں طلبہ و طالبات کے درمیان اَسناد اور تمغہ جات کی تقسیم کی ایک تقریب جاری تھی۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے ایک طالبِ عِلم، جس نے جامعۂ پنجاب کے ایم اے فَلسفہ کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی، کا نام طلائی تمغہ وصول کرنے کے لیے پکارا گیا، مگر طالبِ عِلم ندارد! نام دوبارہ پکارا گیا، لیکن وہ پھر بھی سامنے نہ آیا۔ حاضرین کے لیے یہ اَمر حیرت کا باعث تھا کہ ایک طالبِ عِلم، جس نے اتنی محنت سے اعلیٰ ترین تعلیمی اِعزاز حاصل کیا تھا، اُسے وصول کرنے ہی نہیں آیا۔
اُس وقت پنجاب کے انگریز گورنر، سر ہربرٹ ولیم ایمرسن، جامعۂ پنجاب کے چانسلر تھے۔ ایک مشہور روایت کے مطابق، اُنہوں نے اُس طالبِ عِلم کی عدم موجودگی پر یہ دلچسپ تبصرہ کیا:
"طلائی تمغہ وصول کرنا بھول جانے والا شخص یقیناً ایک حقیقی فَلسفی ہے۔"
معاملہ واقعی ایک مُنفرد شوق کے سبب بھول جانے ہی کا تھا۔ وہ نوجوان اُس وقت اپنے گھر میں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے ممتاز گویّے، اُستاد توکّل حسین خان کی گائیکی سننے میں ایسا مَحو تھا کہ اُسے تقسیمِ اَسناد کی تقریب میں شرکت کرنا یاد ہی نہ رہا۔ بعد میں خود اُس نے اِس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اُسے طلائی تمغے کے علاوہ دو نقد انعامات بھی ملنے تھے، لیکن اپنے اُستاد کی گائیکی میں مَحو ہونے کے سبب وہ سرے سے تقریب میں ہی نہ جاسکا۔
موسیقی سے اُس نوجوان کی دِل چسپی والد کی بیٹھک میں ہونے والی محفلوں سے پیدا ہوئی تھی۔ اُس کے والد کے پاس کلاسیکی موسیقی کے تقریباً دس ہزار گراموفون ریکارڈز کا ذخیرہ موجود تھا۔ اُس نوجوان کے ایک رشتہ دار ستار بجانے کے شوقین تھے، جن کے مشورے پر اُس نے طبلے کی ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی تھی۔ بچپن کا کچھ زمانہ اُس نے روہتک میں اپنے دادا کے پاس گزارا تھا، جہاں وہ ہریانوی لوک موسیقی کا بھی دِلدادہ ہوگیا تھا۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فَلسفے میں ایم اے کرنے والا یہ نوجوان ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مُتَمَوِّل خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس کے والد خواجہ فیروز الدین احمد لاہور کے ناموَر بیرسٹر تھے۔ اُس کے دادا خواجہ رحیم بخش برطانوی ہندوستان میں ڈپٹی کمشنر جیسے اعلیٰ اِنتظامی عہدے پر فائز رہ چکے تھے، جبکہ اُس کے نانا، خان بہادر ڈاکٹر شیخ عطا محمد، میانوالی میں سول سرجن رہے تھے۔
اُس نوجوان کی والدہ فاطمہ بی بی، شاعرِ مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کی پہلی زوجۂ محترمہ کریم بی بی کی سگی چھوٹی بہن تھیں۔ یوں شاعرِ مشرق رشتے میں اُس کے خالو تھے۔ دلچسپ اِتفاق یہ بھی تھا کہ علامہ محمد اقبال نے خود بھی ۱۸۹۹ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے فَلسفے میں ایم اے کیا تھا۔
فَلسفے کی تعلیم اور موسیقی کے شَغف کے علاوہ اِس نوجوان کی زندگی کا ایک اور مُنفرد اور عجیب پہلو بھی تھا۔ وہ برطانوی ہندوستان میں آزادی کی اِنقلابی تحریکوں، بالخصوص بھگت سنگھ کی جِدّوجُہد سے متاثر تھا۔
۱۹۲۹ء میں، جب وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں پہلے سال کا طالبِ عِلم تھا، اُسے بم سازی کی ایک سازش کے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا۔ اُس پر اور اُس کے ساتھیوں پر مقدمہ چلا، جس میں اُسے دو سال قید کی سزا سنائی گئی، مگر اپیل کے مرحلے پر وہ بَری ہوگیا۔ اِس دوران اُس نے مجموعی طور پر لگ بھگ پانچ ماہ قید میں گزارے۔
۱۹۳۶ء میں یہی نوجوان اپنے والد کی خواہش پر انڈین سول سروس (آئی سی ایس) کے اِمتحان میں بھی شریک ہوا۔ تحریری اِمتحان میں غیرمعمولی کامیابی حاصل کی، لیکن انٹرویو میں ناکام قرار پایا۔ اُس کے اپنے بیان کے مطابق، انگریز حُکّام اُس کی سابقہ اِنقلابی سرگرمیوں اور قید کے ریکارڈ سے واقف تھے اور یہی ماضی اُس کے لیے اعلیٰ سرکاری ملازمت کے حُصول میں رکاوٹ بن گیا۔
آئی سی ایس کے تحریری اِمتحان میں اتنی نمایاں کامیابی حاصل کرنا ہی اُس نوجوان کی ذَہانت اور عِلمی اِستعداد کا بہت بڑا ثبوت تھا۔ اب اُس کے سامنے ایک بہترین راستہ یہ تھا کہ قانون کی تعلیم حاصل کرتا، ایل ایل بی کی ڈگری لیتا اور اپنے والد کی طرح وکالت کے شعبے سے وابستہ ہوجاتا۔ ایک کامیاب بیرسٹر کے بیٹے کو نہ وسائل کی کمی تھی، نہ سرپرستی کی اور نہ عِلمی قابلیت کی۔ وہ چاہتا تو لاہور میں وکالت کرکے لاکھوں میں کھیلتا اور نہایت آسودہ زندگی گزارتا۔
مگر اُس نوجوان نے وہ راستہ چُنا جس نے آنے والی نسلوں کو بھی وَرطۂ حَیرَت میں مُبتلا کردیا۔اُس نے موسیقی ہی کو اپنا مُستقل میدانِ عمل بنالیا۔ ایک ایسا مُنفرد موسیقار، جس کے ساتھ کام کرنے والوں کی عینی شہادتوں کے مطابق، وہ ماچس کی ایک معمولی ڈبیا کو میز پر مارتا اور اُس کی تھاپ سے دُھن کی تال اور آہنگ سمجھاتا تھا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ موسیقی کی نشست میں آنے سے پہلے ہی گیت کی دُھن، اَستھائی، اَنتروں اور اُن کے درمیان بجنے والے موسیقی کے ٹکڑوں کی ترتیب ذہن میں مکمل کرچکا ہوتا تھا۔ اُس کے معاونین یہ دُھنیں سازوں پر بجاتے اور وہ زبانی ہدایات دے کر مطلوبہ تَأثّر پیدا کرواتا۔
اُس کے ساتھ کام کرنے والے موسیقاروں اور سازندوں کے مُشاہدات کے مطابق، موسیقی پر اُس کی گرفت کا یہ عالم تھا کہ چالیس، پچاس سازندے بیک وقت بجا رہے ہوتے اور کسی ایک سازندے سے بھی غلط سُر لگ جاتا تو وہ فوراً بھانپ لیتا۔ بے چین ہوکر اپنی جگہ سے اُٹھتا، متعلقہ سازندے کے پاس پہنچتا اور اُس کی غلطی کی اِصلاح کرواتا۔
گلوکاروں کے معاملے میں بھی اُس کا معیار یہی تھا۔ جب تک کسی لفظ کی اَدائیگی، سُر کے اُتار چڑھاؤ اور گائیکی کے مطلوبہ تَأثّر سے پوری طرح مُطمئن نہ ہوجاتا، بار بار رِیہرسل کرواتا اور ہدایات دیتا۔
یوں ماچس کی ایک معمولی ڈبیا کی تھاپ سے دُھن کا آہنگ سمجھانے والا، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال کی طرح فَلسفے میں ایم اے کرنے والا اور اقبال کے ہَم زُلف بیرسٹر خواجہ فیروز الدین احمد کا یہ بیٹا، ’چاند ہنسے، دنیا بسے، روئے میرا پیار رے‘ جیسی لازوال دُھنوں کا خالق بن گیا۔
اُس کی ترتیب دی ہوئی موسیقی کو برِصغیر کے بڑے بڑے موسیقاروں نے سراہا اور اُس کے فن کی عَظمت کا اِعتراف پاکستان اور ہندوستان، دونوں ملکوں میں ہوا۔
یہ مُنفرد نوجوان خواجہ خورشید انور تھا۔
آج، ۳۰ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو، اسی خواجہ خورشید انور کی ۴۲ویں برسی ہے، جس نے تمام خاندانی پیشہ وَرانہ روایات کو بالائے طاق رکھ کر موسیقی کی دنیا میں اپنی مُنفرد سلطنت قائم کی۔ اُن کا اِنتقال ۳۰ اکتوبر ۱۹۸۴ء کو لاہور میں ہوا تھا۔
خواجہ خورشید انور ۲۱ مارچ ۱۹۱۲ء کو میانوالی کے محلّہ بلوخیل میں پیدا ہوئے؛ اُن کی والدہ فاطمہ بی بی اُن دنوں اپنے والد، خان بہادر ڈاکٹر شیخ عطا محمد کے ہاں میانوالی میں مقیم تھیں۔ ڈاکٹر شیخ عطا محمد کا آبائی تعلق ضلع گجرات سے تھا اور وہ اُس زمانے میں میانوالی میں سول سرجن کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ اُن کی بڑی بیٹی کریم بی بی کی شادی ۴ مئی ۱۸۹۳ء کو علامہ محمد اقبال سے ہوئی تھی۔
خواجہ خورشید انور کے والد خواجہ فیروز الدین احمد لاہور کے بھاٹی دروازے کے ایک مُعزّز اور مُتَمَوِّل کشمیری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اُن کے والد، یعنی خواجہ خورشید انور کے دادا، خواجہ رحیم بخش، برطانوی ہندوستان کی اِنتظامی خدمات میں ڈپٹی کمشنر جیسے اعلیٰ عہدے پر فائز رہ چکے تھے۔ خاندان کی مُستقل رہائش لاہور میں تھی۔
خورشید انور کی وِلادت کے کچھ ہی عرصے بعد فاطمہ بی بی اُنہیں لے کر لاہور میں سسرال کے گھر واپس آگئیں، جہاں اُن کی پرورش دادا خواجہ رحیم بخش کی سرپرستی میں ہونے لگی۔
۱۹۱۳ء میں خواجہ خورشید انور کے والد خواجہ فیروز الدین احمد قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے انگلستان چلے گئے۔ وہاں سے ۱۹۱۵ء میں بیرسٹر بن کر ہندوستان واپس آئے اور لاہور میں وکالت شروع کی۔ وہ اپنے پیشے میں کامیاب ہوئے اور شہر کے نمایاں قانون دانوں میں شمار ہونے لگے۔
خواجہ خورشید انور کی پرورش لاہور کے ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں اعلیٰ تعلیم، ادب، قانون اور موسیقی کو خصوصی اہمیت حاصل تھی۔ اُن کے والد کلاسیکی اور نیم کلاسیکی موسیقی کے غیرمعمولی دِلدادہ تھے۔ گھر میں گراموفون ریکارڈز اور کتابوں کا بڑا ذخیرہ موجود تھا، جبکہ ممتاز گائیکوں اور موسیقاروں کی محفلیں بھی مُنعقد ہوتی رہتی تھیں۔
خواجہ خورشید انور نے ابتدائی تعلیم لاہور کے معروف تعلیمی ادارے سینٹرل ماڈل اسکول سے حاصل کی۔ یہیں سے اُنہوں نے ۱۹۲۸ء میں میٹرک کا اِمتحان پاس کیا۔ ۱۹۲۹ء میں وہ گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبۂ سائنس میں داخل ہوئے۔ تاہم، بعد میں اُن کی دِل چسپی آرٹس اور فَلسفے کے مضامین کی جانب بڑھ گئی۔ اُنہوں نے بی اے کی تعلیم دیال سنگھ کالج لاہور سے مکمل کی۔
خواجہ خورشید انور کی کالج کی زندگی کا زمانہ عِلمی، ادبی اور سیاسی سرگرمیوں سے بھرپور تھا۔ یہیں اُن کی ملاقات فیض احمد فیض اور دوسرے نوجوان ادیبوں سے ہوئی۔ خواجہ خورشید انور خود بھی شعر کہتے تھے۔ اُن کے اپنے بیان کے مطابق، آٹھویں جماعت ہی میں اُن کی ایک غزل اُس زمانے کے معروف ادبی رسالے ’’نیرنگِ خیال‘‘ میں شائع ہوچکی تھی۔ کالج میں تعلیم کے دوران اُن کی ادبی سرگرمیاں جاری رہیں، جبکہ موسیقی سے شَغف بھی بڑھتا گیا۔
خواجہ خورشید انور نے بالآخر فَلسفے کو اپنی اعلیٰ تعلیم کے لیے منتخب کیا اور ۱۹۳۵ء میں جامعۂ پنجاب کے ایم اے فَلسفہ کے اِمتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرکے طلائی تمغے کے حق دار ٹھہرے۔
خواجہ خورشید انور کے دو بھائیوں نے اپنے والد کی طرح قانون کو پیشے کے طور پر اِختیار کیا اور لاہور کے ممتاز وُکلا میں شمار ہوئے۔ اُن میں سے ایک خواجہ سلطان احمد تھے، جو معروف قانون دان خواجہ حارث احمد کے والد تھے، جبکہ خواجہ خورشید انور نے اپنے لیے موسیقی کے میدان کا اِنتخاب کیا۔
خواجہ خورشید انور نے ۱۹۳۴ء میں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی باقاعدہ تعلیم اُستاد تَوَکُّل حسین خان سے حاصل کرنا شروع کی۔ اُن کے چھوٹے بھائی خواجہ سلطان احمد کی بیان کردہ ایک دل چسپ روایت کے مطابق، ایک مرتبہ اُستاد تَوَکُّل حسین خان اُن کے گھر آئے ہوئے تھے کہ اُنہوں نے نوجوان خورشید انور کو اپنی گائیکی کی نَقل کرتے ہوئے سنا۔ نوجوان کو معلوم نہیں تھا کہ اُستاد اُس کی گائیکی سن رہے ہیں۔ اُستاد نے اُسے درمیان میں نہیں ٹوکا، بلکہ پوری توجہ سے سُنا۔ جب وہ گانا ختم کرچکا تو اُستاد نے خوش ہوکر اُسے گلے لگایا، اُس کی صلاحیتوں کو سراہا اور باقاعدہ موسیقی سکھانے کی پیشکش کردی۔ یوں موسیقی کا وہ شَغف، جو والد کی بیٹھک میں ہونے والی محفلوں اور گراموفون ریکارڈز سے پیدا ہوا تھا، اُستاد اور شاگرد کے باقاعدہ رشتے میں تبدیل ہوگیا۔
اُستاد تَوَکُّل حسین خان اپنے زمانے کے ممتاز کلاسیکی گائیک تھے۔ اُن کی شاگردی میں خواجہ خورشید انور نے راگوں کی ساخت، سُروں کے درست استعمال، بَندِشوں، تانوں اور گائیکی کی باریکیوں سے واقفیت حاصل کی۔ یہی تربیت آگے چل کر اُن کی فلمی موسیقی کی بُنیاد بنی۔
لیکن نوجوان خورشید انور کی تخلیقی دِل چسپیاں صرف موسیقی تک محدود نہیں تھیں۔ شاعری اور ڈراما بھی اُنہیں بچپن ہی سے اپنی طرف کھینچتے تھے۔ خود اُن کے بیان کے مطابق، وہ اسکول کے زمانے میں رات گئے تک تھیٹر دیکھنے جاتے اور اگلے روز کلاس میں نیند سے بے حال رہتے تھے۔ والد نے ابتدا میں اُن کے اس شوق پر اِعتراض کیا، لیکن بعد میں ڈرامے دیکھنے کی اِجازت دے دی۔
۱۹۳۵ء میں اُن کی ملاقات ممتاز ڈراما نگار رفیع پیر سے ہوئی، جو جرمنی سے لاہور واپس آئے تھے۔ رفیع پیر کی ڈرامے سے غیرمعمولی وابستگی نے نوجوان خورشید انور کو بہت مُتأثر کیا۔ رفیع پیر گھنٹوں تنہائی میں بیٹھ کر ڈرامے لکھتے اور پھر اداکاروں کے ساتھ اُن کی رِیہرسل میں مصروف رہتے تھے۔
رفیع پیر کی حَوصلہ اَفزائی پر خواجہ خورشید انور نے اپنا پہلا ڈراما لکھا، جسے بعدازاں آل انڈیا ریڈیو کے مختلف مراکز سے نشر کیا گیا۔ لاہور میں اِس ڈرامے کو پہلے رفیع پیر اور پھر اُستاد امتیاز علی تاج نے پیش کیا۔
یوں خواجہ خورشید انور کے اندر موجود موسیقار، شاعر اور ڈراما نگار بتدریج ایک ایسی تخلیقی شخصیت میں ڈھل رہے تھے، جس کی تمام صلاحیتیں بعد میں فلمی دنیا میں یکجا ہونے والی تھیں۔
۱۹۳۶ء میں انڈین سول سروس (آئی سی ایس) کے اِمتحان میں ناکامی کے بعد خواجہ خورشید انور نے موسیقی اور ڈرامے سے اپنی دِل چسپی کو عملی زندگی کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اُس زمانے میں ریڈیو برِصغیر میں موسیقی، ادب اور ڈرامے کی نشر و اشاعت کا ایک اہم مرکز بن کر اُبھر رہا تھا۔
۱۶دسمبر ۱۹۳۷ء کو آل انڈیا ریڈیو لاہور کے باقاعدہ اسٹیشن کا اِفتتاح ہوا۔ خواجہ خورشید انور اِسی نئے نشریاتی مرکز کے اِبتدائی دَور میں پروگرام پروڈیوسر کی حیثیت سے وابستہ ہوئے۔ اُن کے لیے ریڈیو کا یہ تجربہ موسیقی اور ڈرامے کی تخلیقی صلاحیتوں کو پیشہ وَرانہ انداز میں استعمال کرنے کا پہلا اہم موقع ثابت ہوا۔
وہ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل کرچکے تھے، شاعری سے شَغف رکھتے تھے اور ڈراما نگاری کا تجربہ بھی رکھتے تھے۔ ریڈیو میں اُنہیں گائیکوں، سازندوں اور دوسرے فن کاروں کے ساتھ کام کرنے اور موسیقی کے پروگراموں کی تیاری کے عملی مراحل سے واقفیت حاصل ہوئی۔
۱۹۳۹ء میں خواجہ خورشید انور آل انڈیا ریڈیو دہلی منتقل ہوگئے، جہاں اُنہوں نے موسیقی کے پروگرام پروڈیوسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ دہلی اُس زمانے میں آل انڈیا ریڈیو کا ایک اہم نشریاتی مرکز تھا۔ یہاں خواجہ خورشید انور کو ممتاز شاعروں، ادیبوں، گائیکوں اور سازندوں کے ساتھ کام کرنے کے وسیع مواقع ملے۔ اُن کے جاننے والوں میں معروف اَدیب اور ماہرِ نشریات احمد شاہ بخاری پطرس بھی شامل تھے، جو آل انڈیا ریڈیو کے اعلیٰ اِنتظامی عہدوں پر فائز رہ چکے تھے۔
دہلی میں خواجہ خورشید انور نے موسیقی کا ایک مُنفرد نشریاتی تجربہ کیا، جسے ’’ڈوئٹس وِد ڈائیلاگز‘‘ (Duets with Dialogues) کا نام دیا گیا۔ اِس پروگرام کی خصوصیت یہ تھی کہ اِس میں موسیقی اور مکالمے کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کردیا گیا تھا۔ مرد اور عورت کی آوازوں میں گیت اور مکالماتی انداز کی اَدائیگی کے ذریعے ایک ڈرامائی کیفیت پیدا کی جاتی تھی۔ گویا یہ محض دو گلوکاروں کا ایک ساتھ گانا نہیں تھا، بلکہ موسیقی کے ذریعے جذبات اور احساسات کی ایک مختصر داستان پیش کرنے کا تجربہ تھا۔
اِس پروگرام کے لیے گیت معروف شاعر بہزاد لکھنوی تحریر کرتے تھے، جبکہ اُنہیں دُھنوں میں ڈھالنے اور موسیقی کی ترتیب دینے کی ذِمّہ داری خواجہ خورشید انور انجام دیتے تھے۔ یہ تجربہ اُن کی اُس تخلیقی شخصیت کا عکّاس تھا جس میں شاعری، ڈرامے اور موسیقی کے تینوں فُنون یکجا ہوچکے تھے۔ اُنہوں نے ڈرامائی مکالمے کو موسیقی کے آہنگ سے جوڑ کر ریڈیو کے سامعین کے لیے ایک مُنفرد اَندازِ پیش کش متعارف کرایا۔
’’ڈوئٹس وِد ڈائیلاگز‘‘ کو سامعین میں مقبولیت حاصل ہوئی اور اِسی پروگرام کے ذریعے خواجہ خورشید انور کی موسیقیاتی صلاحیتوں کی شُہرت بمبئی کی فلمی صنعت تک پہنچ گئی۔ بمبئی کے فلم سازوں کی جانب سے اُنہیں فلموں کی موسیقی ترتیب دینے کی پیش کشیں موصول ہونے لگیں۔ اُن میں لاہور سے تعلق رکھنے والے ممتاز فلم ساز عبدالرشید کاردار، المعروف اے آر کاردار، بھی شامل تھے، جو اُس زمانے میں بمبئی کی فلمی صنعت میں نمایاں مقام حاصل کرچکے تھے۔
کاردار نے خواجہ خورشید انور کو فلمی موسیقی کے میدان میں آنے پر آمادہ کیا۔ بالآخر اُنہوں نے یہ پیش کش قبول کرلی اور ۱۹۴۰ء کے لگ بھگ آل انڈیا ریڈیو کی ملازمت چھوڑ کر بمبئی چلے گئے۔
تاہم فلمی دنیا میں قدم رکھنے کے باوجود ریڈیو سے خواجہ خورشید انور کا تخلیقی تعلق ختم نہیں ہوا تھا۔ اِس تعلق کا ایک نہایت اہم اور تاریخی باب قیامِ پاکستان کے موقع پر سامنے آیا۔ اُنہیں ریڈیو پاکستان کی پہلی شناختی دُھن، یعنی سگنیچر ٹیون، ترتیب دینے کا اِعزاز بھی حاصل ہوا۔
خواجہ صاحب نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اُنہوں نے یہ دُھن مشرقی موسیقی کی رُوح کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے تیار کی تھی۔ اِس کی تشکیل میں ہلکی تال، کلارنیٹ کی آواز اور قرآنِ مجید کی قِراءت کے صوتی آہنگ سے اِستفادہ کیا گیا تھا۔
اُن کے اپنے بیان کے مطابق، یہ دُھن ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو ریڈیو پاکستان کی اِبتدائی نشریات میں شامل ہوئی اور تقریباً چھ ماہ تک نشر ہوتی رہی۔ اُنہی کے بیان کے مطابق، ایک بڑے کلاسیکی گائیک نے اِس میں اُداسی اور درد کی کیفیت زیادہ محسوس کی اور اِسے کسی مرثیے کے آہنگ سے مُشابہ قرار دیا۔ بعدازاں اِس کی جگہ دوسری شناختی دُھن رائج کردی گئی۔
خواجہ خورشید انور کو اپنی تخلیق کی اِس تبدیلی پر رنج پہنچا، جس کا اِظہار اُنہوں نے بعد کے انٹرویوز میں بھی کیا۔
خواجہ خورشید انور نے آل انڈیا ریڈیو کی ملازمت چھوڑ کر بمبئی میں فلمی موسیقی کا آغاز اے آر کاردار کی پنجابی فلم ‘کُڑمائی’ (۱۹۴۱ء) سے کیا۔ اُن کی پہلی ہندی فلم ‘اشارہ’ (۱۹۴۳ء) تھی، جس کے لیے اُن کی ترتیب دی ہوئی دُھنوں میں ثریا کی آواز میں ‘پن گھٹ پہ مُرلیّا باجے’ کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اِس کے بعد ‘پرکھ’ (۱۹۴۴ء)، ‘یتیم’ (۱۹۴۵ء)، ‘آج اور کل’ (۱۹۴۷ء)، ‘پگڈنڈی’ (۱۹۴۷ء)، ‘پروانہ’ (۱۹۴۷ء) اور ‘سنگھار’ (۱۹۴۹ء) جیسی فلمیں سامنے آئیں۔فلم ‘پروانہ’ میں ناموَر گلوکار و اداکار کندن لال سہگل کی آواز میں اُن کی دُھن ‘جینے کا ڈھنگ سکھائے جا’ اور ثریا کی آواز میں ‘جب تم ہی نہیں اپنے، دنیا ہی بیگانی ہے’ نے غیرمعمولی شُہرت حاصل کی۔
۱۹۵۰ء کی دہائی (۱۹۵۰ء تا ۱۹۵۹ء) کے آغاز میں خواجہ خورشید انور کی بمبئی میں تیار کردہ فلمیں ‘نشانہ’ (۱۹۵۰ء) اور ‘نیلم پری’ (۱۹۵۲ء) نمائش کے لیے پیش ہوئیں۔ ۱۹۵۲ء میں وہ پاکستان آگئے اور چند سال کے وقفے کے بعد ‘انتظار’ (۱۹۵۶ء) کی موسیقی سے پاکستانی فلمی صنعت میں ایک نئی پہچان قائم کی۔ اِس فلم میں ملکۂ ترنّم نور جہاں کی آواز میں ‘چاند ہنسے، دنیا بسے، روئے میرا پیار رے’ اور ‘جس دن سے پیا دل لے گئے’ جیسی دُھنوں نے سامعین کو مُتأثر کیا۔ اِسی سال ‘مرزا صاحباں’ بھی نمائش کے لیے پیش ہوئی۔ بعدازاں ‘زہرِ عشق’ (۱۹۵۸ء)، ‘جھومر’ (۱۹۵۹ء) اور ‘کوئل’ (۱۹۵۹ء) کی موسیقی نے اُن کی شُہرت میں مزید اضافہ کیا۔ ‘زہرِ عشق’ میں ناہید نیازی کی آواز میں ‘موہے پیا مِلن کو جانے دے، بیرنیا’، ‘جھومر’ میں ‘چلی رے چلی رے، بڑی آس لگا کے چلی رے’ اور ‘کوئل’ میں نور جہاں کی آواز میں ‘دِل کا دِیا جلایا’، ‘ساگر روئے، لہریں شور مچائیں’ اور ‘رِم جھِم رِم جھِم پڑے پھوار’ جیسی دُھنیں اُن کے فن کی یادگار بن گئیں۔
۱۹۶۰ء کی دہائی (۱۹۶۰ء تا ۱۹۶۹ء) میں خواجہ خورشید انور کی فلمی موسیقی کے ساتھ ساتھ کہانی نویسی، منظرنامہ نگاری اور ہدایت کاری کی صلاحیتیں بھی سامنے آئیں۔ اُن کی موسیقی سے آراستہ فلموں میں ‘ایاز’ (۱۹۶۰ء)، ‘گھونگھٹ’ (۱۹۶۲ء)، ‘حویلی’ (۱۹۶۴ء)، ‘چنگاری’ (۱۹۶۴ء)، ‘سرحد’ (۱۹۶۶ء) اور ‘ہمراز’ (۱۹۶۷ء) نمایاں تھیں۔ ‘گھونگھٹ’ میں مہدی حسن کی آواز میں ‘مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے’ اور نور جہاں کی آواز میں فیض احمد فیض کا لکھا ہوا گیت ‘مورے پیا کو ڈھونڈ کے لاؤ سکھی’، جبکہ ‘چنگاری’ میں مہدی حسن کی آواز میں ‘اے روشنیوں کے شہر بتا’ اُن کی یادگار تخلیقات میں شامل ہیں۔ ‘سرحد’ میں نور جہاں اور مہدی حسن کا گایا ہوا ‘چاند تُو جب بھی مُسکراتا ہے’ بھی ایک مُنفرد موسیقیاتی تجربہ تھا۔ اِس دَور کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ خواجہ خورشید انور نے ‘گھونگھٹ’، ‘چنگاری’ اور ‘ہمراز’ کی ہدایت کاری بھی کی۔ یوں وہ محض فلموں کی موسیقی ترتیب دینے والے فن کار نہیں رہے بلکہ فلم کے مجموعی تخلیقی عمل میں بھی براہِ راست شریک ہوگئے۔
۱۹۷۰ء کی دہائی (۱۹۷۰ء تا ۱۹۷۹ء) کا آغاز خواجہ خورشید انور کی موسیقی سے آراستہ پنجابی فلم ‘ہیر رانجھا’ (۱۹۷۰ء) سے ہوا، جسے اُن کے فلمی سفر کے اہم ترین سنگِ میلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اِس فلم میں نور جہاں کی آواز میں ‘سُن وَنجھلی دی مِٹھڑی تان وے’ اور وارث شاہ کی ‘ہیر’ کی موسیقیاتی پیش کش نے پنجابی کلاسیکی اور لوک موسیقی کے حُسن کو ایک نیا رنگ دیا۔ بانسری اور دوسرے روایتی سازوں کے استعمال سے خواجہ صاحب نے پنجاب کی تہذیبی فضا اور داستانِ عشق کے جذبات کو موسیقی میں ڈھال دیا۔ اِسی دَور میں ‘گُڈّو’ (۱۹۷۰ء)، ‘سلامِ محبت’ (۱۹۷۱ء)، ‘پرائی آگ’ (۱۹۷۱ء)، ‘شیریں فرہاد’ (۱۹۷۵ء) اور ‘حیدر علی’ (۱۹۷۸ء) جیسی فلمیں بھی سامنے آئیں۔ ‘پرائی آگ’ میں ‘محبت کی قسم تم کو، کیے وعدے وفا کرنا’ اور ‘شیریں فرہاد’ میں ‘کس دَور میں انصاف ہوا اہلِ وفا سے’ جیسی دُھنیں اُن کے فن کی یادگار بنیں۔
تاہم ستر کی اِسی دہائی میں خواجہ خورشید انور کی توجہ رفتہ رفتہ فلمی موسیقی کے ساتھ ساتھ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے قیمتی ورثے کو محفوظ کرنے کی جانب بھی مرکوز ہونے لگی۔وہ اِس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کا ایک بڑا حصہ تحریری کتابوں کے بجائے زبانی روایت، ریاضت اور مختلف گھرانوں کی مخصوص گائیکی میں محفوظ ہے۔ اُنہیں اندیشہ تھا کہ اگر ممتاز اُستادوں کی آوازوں، راگوں کی بَندِشوں اور گائیکی کے مخصوص اَنداز کو ریکارڈ نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں اِس قیمتی ورثے کے ایک بڑے حصے سے محروم ہوسکتی ہیں۔
اسی مقصد کے تحت خواجہ خورشید انور نے ‘آہنگِ خسروی’ کے عنوان سے کلاسیکی موسیقی کی ایک غیرمعمولی صوتی دستاویز تیار کی۔ یہ منصوبہ معروف فارسی شاعر اور برِصغیر کی موسیقی کی تاریخی روایت سے وابستہ شخصیت حضرت امیر خسرو کے نام سے منسوب تھا۔ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے تعاون اور ای ایم آئی پاکستان کی ریکارڈنگ سہولتوں سے تیار ہونے والا یہ عظیم مجموعہ ۱۹۷۸ء کے لگ بھگ تیس لانگ پلے ریکارڈز کی صورت میں سامنے آیا۔ اِس منصوبے کو عملی شکل دینے میں معروف شاعر فیض احمد فیض کی دِل چسپی اور حوصلہ اَفزائی کا بھی اہم کردار تھا۔
‘آہنگِ خسروی’ دو حصوں پر مشتمل تھا۔ پہلا حصہ ‘راگ مالا’ کے عنوان سے دس ریکارڈز پر مشتمل تھا، جس میں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے دس ٹھاٹوں کے تحت مختلف راگوں کو محفوظ کیا گیا۔ اِن ریکارڈز کی ایک نہایت دلچسپ خصوصیت یہ تھی کہ ہر راگ کی پیش کش سے پہلے خود خواجہ خورشید انور کی آواز میں اُس راگ کا مختصر تعارف، اُس کی ساخت اور موسیقیاتی خصوصیات بیان کی جاتی تھیں۔ اِس کے بعد ممتاز کلاسیکی گائیک اُس راگ کی بَندِش پیش کرتے تھے۔ یوں یہ محض موسیقی سننے کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ کلاسیکی موسیقی کو سمجھنے اور سیکھنے کا ایک اہم ذریعہ بھی بن گیا۔
اِس منصوبے کا دوسرا حصہ ‘گھرانوں کی گائیکی’ کے عنوان سے بیس ریکارڈز پر مشتمل تھا۔ اِس میں برِصغیر کی کلاسیکی موسیقی کے مختلف گھرانوں، خصوصاً آگرہ، دہلی، گوالیار، کیرانہ، شام چوراسی، پٹیالہ اور قوّال بچّوں کی موسیقیاتی روایات سے تعلق رکھنے والے ممتاز اُستادوں کی گائیکی محفوظ کی گئی۔ اِس مجموعے کا بنیادی مقصد مختلف گھرانوں کے مخصوص اَندازِ گائیکی، راگوں کی پیش کش، سُروں کے برتاؤ اور بَندِشوں کو اُن کی اصل صوتی صورت میں محفوظ کرنا تھا۔
‘آہنگِ خسروی’ کی اہمیت اِس لیے بھی غیرمعمولی تھی کہ اِس میں خواجہ خورشید انور محض ایک موسیقار کی حیثیت سے نہیں بلکہ موسیقی کے ایک محقق، مُدوِّن اور مُحافِظ کے طور پر سامنے آئے۔ اُنہوں نے اپنے عِلم، تجربے اور کلاسیکی موسیقی سے گہری واقفیت کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا صوتی ذخیرہ مرتب کیا، جو موسیقی کے طلبہ، محققین، گائیکوں اور شائقین کے لیے آج بھی نہایت اہم ہے۔
خواجہ خورشید انور کی موسیقیاتی خدمات کے اِعتراف میں حکومتِ پاکستان نے ۱۹۸۰ء میں اُنہیں ‘ستارۂ اِمتیاز’ عطا کیا۔
۱۹۸۳ء میں خواجہ خورشید انور نے اپنی زندگی، تعلیمی زمانے، اِنقلابی سرگرمیوں، موسیقی کی تربیت، ریڈیو کی ملازمت، فلمی تجربات اور اپنے عہد کی ممتاز شخصیات کے بارے میں تفصیلی انٹرویوز دئیے جو روزنامہ ‘اِمروز’ لاہور کے اتوار کے شماروں میں پندرہ ہفتوں تک قسط وار شائع ہوئے۔ اِن انٹرویوز میں جہاں اُن کا اپنے ہم عصر گائیکوں، موسیقاروں، ادیبوں اور دوستوں کے ساتھ گزرے ہوئے ایام کا احوال ملتا ہے وہاں یہ سوانحی یادداشتیں اُنکی زندگی اور فن کے بارے میں خود اُن کی زبانی محفوظ ہونے والی قیمتی تاریخی شہادتیں بھی بنتی ہیں۔
زندگی کے آخری برسوں میں خواجہ خورشید انور علالت کا شکار رہے۔۳۰ اکتوبر ۱۹۸۴ء کو لاہور میں، ۷۲ برس کی عمر میں، اُن کا اِنتقال ہوا اور اُنہیں لاہور کے تاریخی قبرستان میانی صاحب میں سپردِ خاک کیا گیا۔
ایک عجیب اِتفاق یہ بھی ہوا کہ خواجہ خورشید انور کے دیرینہ دوست فیض احمد فیض بھی اُسی سال، صرف تین ہفتے بعد، ۲۰ نومبر ۱۹۸۴ء کو اِس دنیا سے رُخصت ہوگئے۔ ان دونوں ہستیوں کی نصف صدی سے زیادہ پُرانی دوستی کا ایک نہایت رِقّت انگیز واقعہ فیض کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی نے بیان کیا ہے۔ اُن کے مطابق، خواجہ خورشید انور کی وفات سے چند روز قبل فیض اُن کی عیادت کے لیے ہسپتال گئے۔ خواجہ صاحب نے اپنے دیرینہ دوست کو دیکھ کر پنجابی میں کہا: ‘میں تے چلیاں!’ (میں تو جارہا ہوں!)۔ فیض نے پہلے تو اُن کی بات کو ٹالنے کی کوشش کی، لیکن جب خواجہ صاحب نے اپنی رُخصتی کا یقین ظاہر کیا تو فیض نے دھیمے لہجے میں جواب دیا: ‘پھر میں وی آ ریاں!’ (پھر میں بھی آرہا ہوں!)۔ یہ محض دو دوستوں کے درمیان ہونے والی گفتگو تھی یا آنے والے واقعات کا کوئی عجیب اِشارہ، لیکن اِتفاق دیکھیے کہ ۳۰ اکتوبر ۱۹۸۴ء کو خواجہ خورشید انور اِس دنیا سے رُخصت ہوئے اور ٹھیک تین ہفتے بعد، ۲۰ نومبر ۱۹۸۴ء کو، فیض احمد فیض بھی اپنے دیرینہ دوست کے پیچھے چل دئیے ۔
خواجہ خورشید انور کی زندگی کا سفر میانوالی کے محلّہ بلوخیل سے شروع ہوا تھا۔ لاہور میں پرورش پانے والا وہ بچہ پہلے فَلسفے کا طالبِ عِلم بنا، پھر آزادی کی اِنقلابی سرگرمیوں میں شریک ہوا، قید و بند کی صُعوبتیں برداشت کیں، انڈین سول سروس کا اِمتحان دیا، ریڈیو میں ملازمت کی اور بالآخر موسیقی کو اپنا مُستقل میدانِ عمل بنالیا۔ اِسی موسیقی نے اُسے بمبئی کی فلمی دنیا سے لاہور کی فلمی صنعت تک پہنچایا اور پھر ایک ایسے مقام پر فائز کردیا، جہاں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے عظیم ورثے کا تحفّظ بھی اُس کی زندگی کا اہم مقصد بن گیا۔
خواجہ خورشید انور نے موسیقی کو محض ذریعۂ مَعاش نہیں بنایا بلکہ اُسے اپنی زندگی کا عِلمی، فکری اور تخلیقی حوالہ بنادیا۔ اُن کی ترتیب دی ہوئی لازوال دُھنیں آج بھی سامعین کے دِلوں میں زندہ ہیں، جبکہ ‘آہنگِ خسروی’ کی صورت میں محفوظ کیا گیا عظیم صوتی سرمایہ آنے والی نسلوں کو کلاسیکی موسیقی کی اَصل روایت سے روشناس کراتا رہے گا۔
ریڈیو پاکستان کے لیے خواجہ خورشید انور کی شخصیت خصوصی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ اُن کی عملی زندگی کا ایک اہم باب ریڈیو کی نشریات سے وابستہ رہا۔ موسیقی کے مُنفرد تجربات سے لے کر قیامِ پاکستان کے موقع پر ریڈیو پاکستان کی پہلی شناختی دُھن کی تشکیل تک، اُنہوں نے برِصغیر کی نشریاتی اور موسیقیاتی تاریخ پر اَنمٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔ آج، ۳۰ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو، اُن کی ۴۲ویں برسی کے موقع پر ریڈیو پاکستان برِصغیر کے اِس عظیم موسیقار کو نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان