Saturday, 24 October 2026, 01:42:42 pm
 
اُستاد قمر جلالوی، سائیکل سے جڑی کراچی کی دو حقیقی کہانیوں میں سے ایک کا لازوال کردار
October 24, 2026

۱۹۴۷ء کے بٹوارے کے بعد کراچی کے حصے میں بڑے جَیّد، جاندار اور پکے ٹھکے اُردو اَہلِ قلم آئے، ایسے کہ اُردو ادب کی کسی بھی مُستَنَد یا غیر مُستَنَد تاریخ سے اگر اُن کا تذکرہ مِنہا کر دیا جائے تو شاید یہ کتاب اپنے آدھے صفحات سے محروم ہوجائے۔

تاہم اِن زِندہ رُود اَہلِ علم میں سے دو دُرِ نایاب ایسے بھی گزرے ہیں جن کی زندگیوں میں سائیکل کا تذکرہ کچھ عجیب سی یاسِیّت اور اُداسی لے کر آتا ہے: ایک اُردو کے ممتاز افسانہ نگار اعظم کُریوی (۱۸۹۹ء–۱۹۵۵ء) اور دوسرے مُنفرِدُالبیان شاعر اُستاد قمر جلالوی (۱۸۸۷ء–۱۹۶۸ء)۔

اعظم کُریوی، کُرئی گاؤں (ضلع الہ آباد) سے مُہاجَرت کے بعد کراچی میں آن آباد ہوئے تھے۔ اِس محنت کش کا مِل مزدوری پر گزر بسر تھا۔ ۲۲ جون ۱۹۵۵ء کی رات نائٹ شفٹ کی ڈیوٹی کے بعد اپنی سائیکل پر مِل سے گھر کو لوٹ رہے تھے کہ کراچی کے درگھ روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک بد بخت نے اُن سے سائیکل چھیننے کی کوشش کے دوران، اُن کی مُزاحَمت پر اُن کے سر پر آہنی سریے سے وار کرکے اُنہیں قتل کردیا۔ یوں ایک سائیکل، اُردو ادب کو منٹو اور غلام عباس کے پائے کے افسانہ نگار سے محروم کرگئی۔

ممکن ہے اُردو ادبی تاریخ کے کسی نَوآموز کو اعظم کُریوی کا تذکرہ عجیب لگے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی بظاہر غیر معروف اعظم کُریوی اتنے بڑے افسانہ نگار تھے کہ جامعہ کراچی سے اُن کی افسانہ نگاری پر ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ (’اُردو افسانے کی تشکیلی روایت میں اعظم کریوی کا حصّہ‘ از ڈاکٹر محمد حامد کمال ناروی، ۲۰۰۶ء) تک لکھا جا چکا ہے۔

اُستاد قمر جلالوی کا تذکرہ بھی ہر طور سے سائیکل ہی سے جا جڑتا ہے ۔ یہ پہلے مُتحدہ ہندوستان میں میرٹھ اور علی گڑھ کے علاقوں میں سائیکلوں کی مرمت کرکے روزی کماتے رہے اور پھر ۱۹۴۷ء میں تقسیمِ ہند کے بعد کراچی ہجرت کرکے پاکستان کوارٹرز میں سائیکلوں کی مرمت اور پنکچر لگانے کی دکان کرتے رہے۔ دن بھر سائیکلوں کی مرمت کرتے اور شام کو شاگردوں کے کلام کی اِصلاح کرتے یا مُشاعروں میں شرکت کے لیے روانہ ہوجاتے۔

اعظم کریوی کی طرح اُردو غزل کے اِس صاحِبِ کمال اُستاد نے بھی مہاجرت کے بعد کی زندگی کراچی شہر میں گزاری ۔

آج پاکستان کوارٹرز میں سائیکلوں کی دکان کرنے والے اِنہی اُستاد قمر جلالوی کی ۵۸ویں برسی ہے۔

انہوں نے ۲۴ اکتوبر ۱۹۶۸ء کو یہیں کراچی میں وفات پائی۔ وہ اُستاد قمر جلالوی جنہیں اُستاد نصرت فتح علی خان تک نے گایا:

اُن کی طرف سے تَرکِ مُلاقات ہو گئی۔۔۔

ہم جس سے ڈر رہے تھے، وہی بات ہو گئی

آئے ہیں وہ مَریضِ محبّت کو دیکھ کر۔۔۔۔۔

آنسو بتا رہے ہیں، کوئی بات ہو گئی۔۔۔۔۔

اُستاد قمر جلالوی کا اصل نام سیّد محمد حسین عابدی تھا۔ ۱۸۸۷ء میں علی گڑھ کے قصبے جلالی میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد، سیّد غلام سجّاد حسین، بھی شعر و سُخن کا ذوق رکھتے تھے اور خود بھی شعر کہتے تھے۔ ابتدائی غیر رسمی تعلیم گھر پر حاصل کی اور سیّد زندہ علی سے اُردو اور فارسی پڑھی۔

قمر جلالوی کو کسی تعلیمی ادارے میں باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا موقع تو نہیں ملا، لیکن زبان و ادب سے اُنہیں غیر معمولی شَغَف تھا۔ محض آٹھ برس کی عمر میں شعر گوئی شروع کر دی اور بیس برس کی عمر تک پہنچتے پہنچتے علی گڑھ اور دوسرے شہروں کے مُشاعروں میں بطور شاعر شرکت کرنے لگے تھے۔

معاش کے لیے قمر جلالوی نے سائیکلوں کی مَرمّت کا پیشہ اختیار کیا۔ اپنے آبائی قصبے جلالی سے میرٹھ چلے گئے، جہاں سائیکلوں کی مَرمّت کی ایک دکان پر کاریگر کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔ بعض سوانحی تذکروں میں ضلع علی گڑھ میں اُن کی اپنی سائیکلوں کی دکان کا ذکر بھی ملتا ہے۔ یوں شعر و سُخن کے ساتھ سائیکلوں کی مَرمّت کا پیشہ بھی اُن کی زندگی کا مستقل حصّہ بن گیا۔

قمر جلالوی شاعری میں امیر مینائی کو اپنا رُوحانی اُستاد مانتے تھے، اگرچہ اُن سے باقاعدہ تَلَمُّذ کا ثبوت نہیں ملتا۔ اُن کے نام کے ساتھ ’اُستاد‘ کا سابقہ کیسے لگا، اِس بارے میں دو مختلف روایات ملتی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق، چونکہ وہ سائیکلوں کی مَرمّت کے ماہر کاریگر تھے اور ہندوستان میں ہُنرمند کاریگروں کو ’اُستاد‘ کہنے کا عام رواج تھا، اِسی سبب اُنہیں بھی ’اُستاد‘ کہہ کر مخاطب کیا جانے لگا۔

دوسری روایت کے مطابق، قمر جلالوی کم عمری ہی سے بہت سے نَوآموز شاعروں کے کلام کی اِصلاح کرنے لگے تھے، چنانچہ اِصلاحِ سُخن میں اُن کی مہارت کے باعث اُنہیں ’اُستاد‘ کہا جانے لگا۔

ممکن ہے دونوں روایات اپنی اپنی جگہ درست ہوں اور سائیکلوں کے کاریگر کی حیثیت سے ملنے والا لقب، شاعری میں اُن کی اُستادی کے سبب، مستقل طور پر اُن کے نام کا حصّہ بن گیا ہو۔

اُن کی اُستادی کا اعتراف صرف نَوآموز شُعرا تک محدود نہ تھا، بلکہ اُن کے مُعاصِر اور عمر میں بڑے شُعرا بھی اُنہیں ’اُستاد‘ کہتے تھے۔ یہاں تک کہ جوش ملیح آبادی جیسے نامور شاعر بھی اُنہیں ’اُستاد‘ ہی کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔ ہندوستان اور پاکستان، دونوں ملکوں میں اُن کے شاگردوں کی بڑی تعداد تھی؛ اعجاز رحمانی، پُرنم الہ آبادی، فنا بلند شہری اور فضا جلالوی سمیت کئی نامور شُعرا اُن کے حَلقۂ تَلامِذہ میں شامل تھے۔

۱۹۴۷ء میں تقسیمِ ہند کے بعد اُستاد قمر جلالوی نے اپنے اَہل و عِیال کے ساتھ ہجرت کرکے کراچی میں سُکونت اختیار کرلی۔ میرٹھ اور علی گڑھ میں جس طرح سائیکلوں کی مَرمّت اُن کا ذریعۂ مَعاش تھی، اُسی طرح کراچی پہنچ کر بھی اُنہوں نے یہی پیشہ اختیار کیا اور پاکستان کوارٹرز میں سائیکلوں کی مَرمّت اور پنکچر لگانے کی دکان کھول لی۔

اُستاد قمر جلالوی کی زندگی سے متعلق ایک دلچسپ روایت یہ ہے کہ وہ دن بھر سائیکلوں کے پنکچر لگاتے اور مَرمّت کرتے رہتے، لیکن شعر و سُخن کا سلسلہ اِس دوران بھی جاری رہتا۔ کام کرتے ہوئے جب کوئی شعر ذہن میں آتا تو فوراً کاغذ کے ایک ٹکڑے پر لکھ لیتے اور اُسے دکان کی دیوار پر لگے سائیکل کے تار میں پرو دیتے۔ یوں سائیکلوں کے پُرزوں، اَوزاروں اور پنکچر لگانے کے سامان کے درمیان اُن کے تازہ اَشعار بھی جمع ہوتے رہتے تھے۔

شام ہوتے ہی شاگرد اِصلاحِ سُخن کے لیے جمع ہوجاتے یا کسی مُشاعرے کے مُنتَظِمین کی طرف سے گاڑی آجاتی تو اُستاد دکان کا کام سمیٹ کر مُشاعرے میں شِرکت کے لیے روانہ ہوجاتے۔ دن بھر سائیکلوں کے پنکچر لگانے والا یہ شخص شام کو اپنے عہد کے بڑے بڑے شُعرا کے درمیان بیٹھ کر مخصوص تَرَنُّم، سوز و گُداز اور زبان کی سَلاست سے مُشاعرہ لوٹ لیا کرتا تھا۔

کراچی میں اَدبی شُہرت اور مُشاعروں میں مَقبولِیّت کے باوجود اُستاد قمر جلالوی کے معاشی حالات زیادہ بہتر نہ ہوسکے۔ اُن کی زندگی سے متعلق ایک معروف روایت ہے کہ جب ممتاز عالم اور خطیب علّامہ رشید تُرابی کو معلوم ہوا کہ قمر جلالوی جیسا صاحِبِ کمال شاعر کراچی میں سائیکلوں کے پنکچر لگا کر روزی کما رہا ہے تو اُنہوں نے اُستاد کو اپنے پاس بلایا، اُن کی سَرپَرَستی کی اور حکومتِ پاکستان سے اُن کے لیے وظیفہ مُقَرَّر کرانے کی کوشش کی۔

چنانچہ ۱۹۵۹ء میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے اُن کی اَدبی خِدمات کے اِعتراف میں ڈیڑھ سو روپے ماہوار وظیفہ مُقَرَّر ہوا، جو اُنہیں تاحیات ملتا رہا۔ سائیکلوں کی مَرمّت سے ہونے والی آمدنی اور مُشاعروں سے ملنے والا اِعزازیہ بھی اُن کے مَعاش کے ذرائع تھے۔

قمر جلالوی نہایت خُوددار اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ معاشی تنگ دستی کے باوجود کسی کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے سے گریز کرتے اور اپنے ہُنر کی کمائی سے زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے تھے۔ یہی خُودداری اُن کی شخصیت کا ایک نمایاں وَصف تھا، جو اُن کی شاعرانہ عظمت کے ساتھ زندگی بھر وابستہ رہا۔

اُستاد قمر جلالوی کی شُہرت کا ایک بڑا سبب اُن کا کلام پڑھنے کا مخصوص انداز بھی تھا۔ اُن کی آواز میں قدرتی طور پر درد اور کَرب کی کیفیت موجود تھی اور وہ اپنے اَشعار ایسے تَرَنُّم سے سناتے کہ سامعین پر گہرا اثر ہوتا۔ اُن کی شاعری میں مشکل الفاظ کی نمائش نہیں تھی۔ وہ نہایت سادہ انداز میں کوئی ایسی بات کہہ جاتے جو سننے والوں کے دل میں اُتر جاتی۔

اُن کی قادِرُالکلامی کا اندازہ اِس سے بھی ہوتا ہے کہ وہ مختصر اور طویل، دونوں طرح کی بَحروں میں نہایت خوبی سے مَضامین باندھتے تھے۔ غزل کی کلاسیکی روایت پر اُن کی گرفت ایسی تھی کہ معمولی بات کو بھی محاورے اور حُسنِ بیان سے شعر بنا دیتے تھے۔ اُن کے مُعاصِرین نے اُنہیں مُشاعروں کی جان قرار دیا ہے۔

اُس زمانے میں جب جگر مراد آبادی، حسرت موہانی اور فیض احمد فیض جیسے نامور شُعرا مُشاعروں میں شریک ہوتے تھے، قمر جلالوی بھی اپنے مخصوص اندازِ بیان سے سامعین کی توجہ حاصل کرتے تھے۔ جوش ملیح آبادی جیسے شاعر بھی اُن کی اُستادی کے مُعترِف تھے۔

اُستاد قمر جلالوی کے کلام کی مَقبولِیّت صرف مُشاعروں تک محدود نہ رہی۔ اُن کی غزلوں میں ایسی سَلاست، موسیقیت اور جذبے کی شِدّت موجود تھی کہ برِصغیر کے نامور گلوکاروں نے اُنہیں اپنی آواز دی۔ خصوصاً مُنّی بیگم نے اُن کی متعدد غزلیں گا کر بے پناہ شُہرت اور مَقبولِیّت حاصل کی۔ ’کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں‘، ’مریضِ محبّت اُنہی کا فسانہ سناتا رہا دم نکلتے نکلتے‘، ’اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل، اِس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیں‘ اور ’کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو‘ اُن کی آواز میں محفوظ ہونے والی معروف غزلوں میں شامل ہیں۔

مُنّی بیگم کے علاوہ حبیب ولی محمد نے ’کب میرا نشیمن اہلِ چمن گلشن میں گوارا کرتے ہیں‘، مہدی حسن نے ’کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو‘، غلام علی نے ’کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو‘ اور ’مریضِ محبّت اُنہی کا فسانہ‘ جبکہ عابدہ پروین نے ’مرا خاموش رہ کر بھی اُنہیں سب کچھ سنا دینا‘ کو اپنی آواز دی۔ ملکہ ترنم نورجہاں نے بھی ’کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو‘ گائی۔

قَوالوں میں اُستاد نصرت فتح علی خان نے ’اُن کی طرف سے تَرکِ مُلاقات ہو گئی‘ اور ’نہ رُکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے‘ جیسے کلام کو اپنی پُر تاثیر آواز میں پیش کیا، جبکہ صابری برادران نے ’آئے ہیں وہ مزار پہ‘ کو قَوالی کی صورت میں گایا۔

اِن سبھی نامور فنکاروں کی آوازوں میں اُستاد قمر جلالوی کا کلام پاکستان سمیت دُنیا کے دیگر ممالک کی محافلِ موسیقی میں بار بار سنا گیا اور آج بھی اُس کی فرمائش ہوتی ہے۔تاہم بعض اَہلِ قلم نے اِس بات پر اَفسوس کا اِظہار کیا ہے کہ قمر جلالوی زندگی بھر معاشی مشکلات سے دوچار رہے، جبکہ اُن کا کلام گانے والے فنکاروں کو اُسی شاعری سے شُہرت اور آمدنی حاصل ہوتی رہی۔ البتہ اِس حقیقت سے اِنکار نہیں کیا جاسکتا کہ غزل گائیکوں کی آوازوں نے اُن کے کلام کو نئی نسلوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اُستاد قمر جلالوی کی شُہرت بنیادی طور پر غزل گو شاعر کی حیثیت سے ہوئی، لیکن اُن کے شعری سرمائے کا ایک نمایاں حصّہ نعتیہ شاعری، عقیدتِ رسول ﷺ اور اہلِ بیت علیہم السلام سے محبّت و مَوَدّت کے اِظہار پر بھی مشتمل ہے۔ اُنہوں نے حمد، نعت، مَنقَبَت، سلام، نوحہ اور مَرثیہ جیسی اَصنافِ سُخن میں بھی اپنی قادِرُالکلامی کے جوہر دکھائے۔

اُن کے نعتیہ کلام میں عقیدت و اِحترام، جذبے کی سچّائی اور بیان کی سَلاست نمایاں ہے۔ وہ حُضورِ اَکرم ﷺ سے اپنی والہانہ محبّت کا اِظہار کرتے ہوئے مشکل تراکیب اور غیر ضروری لفظی آرائش کے بجائے سادہ، شائستہ اور مُؤثّر زبان کو ترجیح دیتے تھے۔

محاورے کی پُختگی، الفاظ کی موزونیت اور جذبات کی اثر آفرینی اُن کی نعتیہ شاعری کے نمایاں مَحاسِن ہیں ۔اُن کے شاگردوں میں معروف نعت گو شاعر اعجاز رحمانی بھی شامل تھے، جنہوں نے بعد میں اُردو نعتیہ شاعری میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔

اُستاد قمر جلالوی کی شاعری کا ایک اہم اور قابلِ توجّہ پہلو اہلِ بیت علیہم السلام سے اُن کی گہری محبت، عقیدت اور مَوَدّت بھی ہے۔ اُنہوں نے اہلِ بیتِ اَطہار کے فضائل و مَناقِب، اُن کی سیرت و کردار اور بالخصوص واقعۂ کربلا کے مَصائب و آلام کو نہایت سوز و گُداز کے ساتھ اپنے کلام کا موضوع بنایا۔ اُن کے ہاں اہلِ بیت سے محبّت محض رسمی عقیدت تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ایک گہرے جذباتی اور رُوحانی وابستگی کے ساتھ سامنے آتی ہے۔

قمر جلالوی کو مَرثیہ نگاری میں بھی غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ اُن کی مَرثیہ نگاری محض کسی غزل گو شاعر کی دوسری صنف میں طبع آزمائی نہیں تھی، بلکہ اُنہوں نے باقاعدہ مَرثیے، سلام اور نوحے کہے۔ اُن کے مَرثیوں میں واقعۂ کربلا کے کرداروں، اُن کی قُربانیوں، مَصائب اور جاں نِثاری کے واقعات کو نہایت درد مندی اور جذباتی تاثیر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ واقعۂ کربلا کے مختلف مَناظر اور کرداروں کی کیفیات بیان کرتے ہوئے اُن کی زبان میں سوز و گُداز کے ساتھ ایک خاص وقار بھی محسوس ہوتا ہے۔

مَرثیہ نگاری کی کلاسیکی روایت میں جس شان و شوکت، فصاحت، تَشبیہات و اِستعارات، مَنظر نگاری اور واقعات کے تسلسل کو اہمیت حاصل ہے، قمر جلالوی کے مَرثیوں میں بھی اُن خصوصیات کا اِظہار ملتا ہے۔ اُن کا ایک مَرثیہ ’خواب میں حضرت زہرا کو جو حُر نے دیکھا‘ خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہے۔ جنابِ حُر کے اَحوال پر مشتمل اِس مَرثیے کا اٹھارہ صفحات پر مُشتَمِل ایک الگ مَطبُوعہ نسخہ بھی محفوظ ہے۔

اُستاد قمر جلالوی اُن شُعرا میں شامل ہیں جن کی غیر معمولی شُہرت اور طویل شاعرانہ زندگی کے باوجود اُن کا کوئی باقاعدہ مجموعۂ کلام اُن کی زندگی میں شائع نہ ہوسکا۔ وہ اپنے کلام کی اِشاعت اور تَشہیر میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ اُن کی غزلیں مُشاعروں میں پڑھی جاتیں، شاگردوں اور مَدّاحوں کے پاس نقل ہوتی رہتیں اور بعض اوقات اُن کے ہاتھ سے نکل کر دوسروں تک پہنچ جاتیں۔ اِسی وجہ سے اُن کے مکمل کلام کو جمع کرنا بھی آسان نہ تھا۔

اُستاد قمر جلالوی کی وفات کے بعد اُن کی صاحبزادی کنیز جلالوی اور دوسرے قَدر دانوں نے اُن کے مُنتَشِر کلام کو یکجا کرنے کی کوشش کی۔ اِس کے نتیجے میں ’رشکِ قمر‘ (۱۹۷۷ء)، ’اَوجِ قمر‘ (۱۹۷۷ء)، ’غمِ جاوداں‘ (۱۹۷۸ء کے مشترکہ نسخے میں)، ’عقیدتِ جاوداں‘ (سنِ اِشاعت غیر مُتَعَیَّن) اور ’رُوحِ قمر‘ (سنِ اِشاعت غیر مُتَعَیَّن) جیسے مجموعے سامنے آئے۔ ’تجلّیاتِ قمر‘ کا عنوان بھی اُن کے مطبوعہ کلام کے حوالے سے ملتا ہے۔ ’عقیدتِ جاوداں‘ میں حمد، نعت اور مَناقِب جبکہ ’غمِ جاوداں‘ میں سلام اور مَراثی کو جمع کیا گیا ہے۔

اُستاد قمر جلالوی کے چار مجموعوں کو یکجا کرکے علی شاعر نے ’کُلّیاتِ قمر جلالوی‘ کے عنوان سے بھی شائع کرایا ہے۔ گیارہ سو بیس صفحات پر مشتمل اِس کُلّیات میں اُن کی غزلیات، قطعات، حمد، نعت، مَناقِب، سلام اور مَراثی کو جمع کیا گیا ہے۔ یوں جس شاعر کا کوئی مجموعہ اُس کی زندگی میں شائع نہ ہوسکا، اُس کا کلام بعد میں ایک ضخیم کُلّیات کی صورت میں اُردو ادب کا حصّہ بن گیا۔

اُستاد قمر جلالوی کی مُلک گیر مَقبولِیّت میں ریڈیو پاکستان نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اِس ادارے کے پہلے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری نے اپنی ذاتی نگرانی میں اُن کی غزلیات، مَرثیے اور نوحے ریڈیو پاکستان کراچی سے نشر کروائے۔ ریڈیو پاکستان کراچی کے ریڈیائی مُشاعروں میں بھی اُنہیں باقاعدگی سے مدعو کیا جاتا تھا۔ ریڈیو پاکستان کے آرکائیو میں اُن کی اپنی آواز میں پڑھا ہوا کلام بھی صوتی ریکارڈنگز کی صورت میں محفوظ ہے۔

کراچی کی ایک اَدب دوست شخصیت عبدالرزّاق گلبرگوی نے اُن کے بارے میں ایک چشم دید واقعہ محفوظ کیا ہے: ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد ریڈیو پاکستان کراچی نے اپنے سامنے واقع جمشید ہال میں ایک مُشاعرہ مُنعقد کیا۔ عبدالرزّاق گلبرگوی کے مطابق، اُن کے پاس ’اِلسٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان‘ کا ایک شمارہ تھا، جس کے سرورق پر اُستاد قمر جلالوی کی تصویر شائع ہوئی تھی۔ تصویر میں اُستاد اچکن پہنے مائیکروفون کے سامنے اپنا کلام سنا رہے تھے۔ عبدالرزّاق گلبرگوی نے وہ رسالہ اُستاد کی خدمت میں پیش کیا اور درخواست کی کہ وہ اپنی تصویر پر دستخط کردیں۔

اُستاد نے تصویر دیکھی، مگر فوراً دستخط کرنے کے بجائے چند لمحے فکرِ سُخن میں مصروف ہوگئے۔ پھر رسالے پر فی البدیہہ یہ شعر لکھ دیا:

بہت تھی آرزو تم کو کلام سننے کی۔۔۔

قمر کو پڑھتے ہوئے آج تم نے دیکھ لیا

اِس کے بعد اُنہوں نے اپنے دستخط ثبت کردیے۔

یہ واقعہ نہ صرف اُستاد قمر جلالوی کی حاضِر دِماغی اور بَرجَستہ گوئی کی مثال ہے بلکہ اُس دور کے ریڈیائی مُشاعروں اور اَدبی ماحول کی ایک خوب صورت یادگار بھی ہے۔

اواخرِ عمری میں اُستاد قمر جلالوی یَرقان کے مرض میں مبتلا ہوئے اور اِسی بیماری کے سبب ۲۴ اکتوبر ۱۹۶۸ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ اُنہیں کراچی کے علی باغ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اُن کی لوحِ مزار پر اُنہی کا اپنا یہ شعر کَندہ ہے:

ابھی باقی ہیں پتّوں پر جلے تنکوں کی تحریریں

یہ وہ تاریخ ہے، بجلی گری تھی جب گُلستاں پر

اُستاد قمر جلالوی کو اِس دُنیا سے رُخصت ہوئے نصف صدی سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، لیکن وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ اُن کا کلام، زبان کی سَلاست، سوز و گُداز اور مخصوص تَرَنُّم کے سبب آج بھی اُردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہے اور آنے والی نسلوں کو اُن کی یاد دلاتا رہے گا۔

ریڈیو پاکستان اُردو کے اِس عظیم شاعر کو اُن کی ۵۸ویں برسی پر خَراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔

تحریر: سعید احمد شیخ ، ڈی جی ریڈیو پاکستان