”میں نے اپنی فلم ’چترلیکھا‘ کی مُوسیقی ترتیب دینے کے لیے اُستاد جھنڈے خان کا اِنتخاب کیا؛ اُن کی چھوٹی چھوٹی داڑھی تھی، عِمامہ باندھتے تھے اور نہایت مذہبی اِنسان تھے۔
جب میں نے اُن سے درخواست کی کہ وہ میری فلم کے تمام گانوں کی دُھنیں ’راگ بھیروی‘ ہی میں ترتیب دیں تو خان صاحب ہچکچائے اور مجھ سے کہنے لگے کہ آخر ایک شخص ایک ہی طرح کے کتنے رَس گُلّے کھا سکتا ہے؟ مٹھائی میں کچھ تَنوُّع بھی تو ہونا چاہیے۔
میں نے جواب دیا کہ یہ رَس گُلّے بنانے والے حلوائی پر مُنحصر ہے۔ آپ ایک عظیم اُستاد اور ماہر حلوائی ہیں، اِس لیے آپ یہ کام نہایت عُمدگی سے انجام دے سکیں گے۔
خان صاحب کمرے سے نکل کر نماز پڑھنے چلے گئے۔ جب وہ واپس آئے تو اُنہوں نے کہا: ’میں نے اپنے مالک کے حُضور درخواست پیش کی ہے۔ مجھے اِس مشکل اِمتحان کو قبول کرنے کا اِشارہ ملا ہے، کیونکہ جب میں گانوں کی دُھنیں ترتیب دے رہا ہوں گا تو وہی میرا مالک میرے ساتھ موجود ہوگا۔‘
خان صاحب پہلے ہی آغا حشر کاشمیری کے اسٹیج ڈراموں کے لیے بہترین مُوسیقی ترتیب دینے کے حوالے سے بڑی شُہرت رکھتے تھے۔ اُنہوں نے میری فلم ’چترلیکھا‘ کے لیے نہایت خوب صورت دُھنیں ترتیب دیں، اور وہ سب کی سب راگ بھیروی میں تھیں۔“
یہ اِقتباس برِّصغیر پاک و ہند کے مشہور فلم ساز کیدار شرما کی خودنوشت ’دی وَن اینڈ لونلی کیدار شرما: این اینکڈوٹل آٹوبائیوگرافی‘ سے لیا گیا ہے، جس میں اُنہوں نے ۱۹۴۱ء کی اپنی فلم ’چترلیکھا‘ کے لیے مُوسیقار اُستاد جھنڈے خان کے اِنتخاب کا واقعہ بیان کیا ہے۔
برِّصغیر کی نامور گلوکارہ شمشاد بیگم نے ۱۹۴۳ء کی فلم ’پگلی‘ کے لیے اُستاد جھنڈے خان کی ترتیب دی ہوئی دُھنوں پر گیت گائے؛ وہ بھی اُن کی فَنّی مہارت اور مذہبی رُجحان کی بہت مُعترف تھیں۔
اپنے ایک اِنٹرویو میں شمشاد بیگم نے بتایا: ”وہ کسی مولوی جیسے دکھائی دیتے تھے، نہایت مذہبی اور پابندِ نماز اِنسان تھے۔ فلموں میں آنے سے پہلے اسٹیج کے لیے مُوسیقی ترتیب دیا کرتے تھے۔ جب میں نے اُن کی مُوسیقی میں گایا تو اُن کی عُمر تقریباً اسّی برس تھی۔ وہ بڑے باصلاحیت مُوسیقار تھے اور نہایت مشکل دُھنیں بنایا کرتے تھے۔ اُن کی مُوسیقی میں گانا کوئی ہنسی کھیل نہیں تھا۔ اُس زمانے کے مُوسیقار گلوکاروں کی سُہولت کے لیے اپنی دُھنوں میں کوئی تبدیلی نہیں کرتے تھے۔ ہمیں اُن کی ہدایات کے مُطابق ہی گانا پڑتا تھا۔ گلوکار کی خاطر نہ گیت کے اَلفاظ بدلے جاتے تھے اور نہ دُھن میں کوئی رَدّوبدل کیا جاتا تھا۔“
آج انہی اُستاد جھنڈے خان کی ۷۴ویں برسی ہے۔ اپنے دینی رُجحان اور فَن کی پُختگی سے ایک دُنیا کو مُتأثر کر دینے والے یہ عظیم مُوسیقار خاکِ گوجرانوالہ میں آسودۂ خواب ہیں۔ اُن کا اِنتقال آج ہی کے دن، ۱۱ اکتوبر ۱۹۵۲ء کو ہوا تھا۔
اُستاد جھنڈے خان کا اصل نام میاں غلام مصطفیٰ تھا۔ وہ ۱۸۶۶ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد کے نام اور خاندان کے بارے میں معلومات پوری صحت کے ساتھ دستیاب نہیں ہیں۔
تاہم ایک دوسری اور قطعاً مُنفرد روایت کے مطابق وہ ریاست جموں و کشمیر کے گاؤں کوٹلی اوکھلاں میں ایک برہمن خاندان میں پیدا ہوئے۔ اپنے گھر کے مشکل مالی حالات کے باعث اُنہیں اپنا آبائی علاقہ چھوڑنا پڑا اور وہ مختلف علاقوں میں گھومتے رہے۔ اِسی جہاں گَردی کے دوران اُن کی ملاقات ایک فقیر سے ہوئی، جس کے ہاتھ پر اُنہوں نے اِسلام قبول کرلیا اور غلام مصطفیٰ نام اختیار کیا۔
میاں غلام مصطفیٰ کے ’جھنڈے خان‘ کے نام سے مشہور ہونے کے بارے میں بھی ایک دلچسپ روایت بیان کی جاتی ہے۔ اِس روایت کے مطابق وہ دُبلے پتلے اور دراز قد تھے۔ اُن کی اِسی جسمانی ساخت کے باعث کسی نے اَزراہِ تَفنُّن اُنہیں ’جھنڈا‘ کہنا شروع کردیا۔ رفتہ رفتہ یہی نام اُن کی پہچان بن گیا۔ جب اُنہوں نے مُوسیقی کے میدان میں قدم رکھا تو اُس زمانے کے مُوسیقاروں میں اپنے نام کے ساتھ ’خاں‘ لگانے کے رواج کے مطابق وہ ’جھنڈے خاں‘ کہلانے لگے۔ بعدازاں مُوسیقی میں اُن کی مہارت اور فَنّی مرتبے کے اِعتراف میں اُن کے نام کے ساتھ ’اُستاد‘ کا اِضافہ ہوا اور وہ ’اُستاد جھنڈے خاں‘ کے نام سے مشہور ہوگئے۔
اُستاد جھنڈے خان کو بچپن ہی سے مُوسیقی کا شوق تھا۔ وہ درگاہوں اور خانقاہوں میں ہونے والی محافلِ سَماع اور قَوّالی میں جایا کرتے تھے، جہاں گھنٹوں قَوّالوں کو سنتے رہتے۔ اِن محفلوں میں مسلسل شرکت اور مُوسیقی سننے کے شوق نے رفتہ رفتہ اُنہیں سُر اور تال کی باریکیوں سے آشنا کردیا۔ مُوسیقی سے یہی لگاؤ اُنہیں لاہور لے آیا، جہاں اُنہوں نے اِس فَن کی باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا آغاز کیا۔
لاہور میں، ممکنہ طور پر ۱۸۸۵ء کے بعد، قیام کے دوران اُنہوں نے پارسی تھیٹر کی ایک کمپنی کا ڈرامہ دیکھا، جس کی مُوسیقی نے اُنہیں بے حد مُتأثر کیا۔ اِس کمپنی کے مُوسیقار سید میر قدرت علی حیدرآبادی تھے۔ اُستاد جھنڈے خان نے اُن سے ہارمونیم بجانا سیکھنا شروع کیا۔ یہی اُن کی مُوسیقی کی باقاعدہ تعلیم کا اِبتدائی مرحلہ تھا۔
۱۸۸۰ء کے بعد کے عشروں میں پارسی تھیٹر برِّصغیر کے بڑے شہروں کی تفریحی اور ثقافتی زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا تھا۔ اِن ڈراموں میں مُکالموں کے ساتھ گیت، غزلیں اور سازوں کی مُوسیقی بھی شامل ہوتی تھی۔ اِس ماحول نے اُستاد جھنڈے خان کو مُوسیقی کے ایک ایسے عملی میدان سے مُتعارف کرایا جہاں کلاسیکی راگوں کی تعلیم کے ساتھ اسٹیج کی ضروریات کو سمجھنا بھی اہم تھا۔
سید میر قدرت علی حیدرآبادی سے اِبتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اُستاد جھنڈے خان کے دل میں مُوسیقی کی مزید تعلیم حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ اِس مقصد کے لیے اُنہوں نے غالباً ۱۸۹۰ء کے لگ بھگ بمبئی کا رُخ کیا، جہاں بھنڈی بازار کے علاقے میں کلاسیکی مُوسیقی کے تین ممتاز اُستاد، چھجّو خاں، نذیر خاں اور خادم حسین خاں، اپنی مخصوص طرزِ تعلیم کی وجہ سے شُہرت حاصل کرچکے تھے۔ اِن تینوں بھائیوں کی شاگردی اُستاد جھنڈے خان کی فَنّی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔
بھنڈی بازار گھرانے کے بانی تین بھائی، اُستاد چھجّو خاں، اُستاد نذیر خاں اور اُستاد خادم حسین خاں تھے۔ اُن کا تعلق ضلع بجنور سے تھا۔ یہ تینوں بھائی روزگار کی تلاش میں بمبئی آئے اور بھنڈی بازار کے علاقے میں سُکونت اختیار کرکے مُوسیقی کی تعلیم دینے لگے۔ تینوں اپنے زمانے کے ممتاز مُوسیقار تھے۔ چھجّو خاں کو دُھرپد، دَھمار اور ہوری میں مہارت حاصل تھی، نذیر خاں سارنگی، خیال گائیکی اور لَے کاری کے ماہر تھے، جبکہ خادم حسین خاں اپنی گائیکی میں سُوت، مینڈ اور گَمَک پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔
اِن بھائیوں کے مخصوص اندازِ گائیکی اور سخت طریقۂ تعلیم نے مُوسیقی کے ایک نئے گھرانے کی بنیاد رکھی، جو اُن کی رہائش گاہ کی نِسبت سے ’بھنڈی بازار گھرانہ‘ کہلایا۔ اگرچہ اِس گھرانے کو دوسرے مشہور مُوسیقی گھرانوں جیسی عوامی شُہرت حاصل نہ ہوسکی، لیکن اِس کے جن دو شاگردوں نے اِس کا نام مُوسیقی کی تاریخ میں نمایاں کیا، وہ انجنی بائی مالپیکر اور اُستاد جھنڈے خان تھے۔
اُستاد جھنڈے خان اِس گھرانے کے قابل ترین شاگردوں میں شمار ہوئے۔ اُن کی ترتیب دی ہوئی دُھنوں نے ثابت کیا کہ کلاسیکی مُوسیقی کی سخت تربیت تھیٹر اور فلم کے لیے بھی کتنی کارآمد ثابت ہوسکتی ہے۔
اُستاد جھنڈے خان کو اپنے تینوں اَساتذہ سے بے پناہ عقیدت تھی۔ ایک مرتبہ مشہور مُوسیقار فیروز نظامی نے اُن سے اِن اَساتذہ کی گائیکی کے بارے میں دریافت کیا تو اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بھرّائی ہوئی آواز میں کہنے لگے: ”بیٹا! اِن لوگوں کے گانے کی تعریف کے لیے اَلفاظ نہیں ملتے۔ آج اِن لوگوں کا گانا سُہانا خواب معلوم ہوتا ہے۔ بس یہ سمجھ لو کہ میرے اُستاد عِلم کا سَمندر تھے اور میں اُن کے مقابلے میں صرف ایک حقیر قطرہ ہوں۔“
اُس زمانے میں ہندوستان کے مختلف شہروں میں پارسی تھیٹر کی کمپنیاں نہایت مقبول تھیں۔ اِن کے ڈراموں میں اداکاری اور مُکالموں کے ساتھ مُوسیقی کو بھی غیرمعمولی اہمیت حاصل تھی۔ اِس لیے اِن کمپنیوں کو ایسے مُوسیقاروں کی ضرورت رہتی تھی جو کلاسیکی مُوسیقی پر عُبور رکھنے کے ساتھ اسٹیج کی ضروریات کو بھی سمجھتے ہوں۔
اُستاد جھنڈے خان نے ’جوبلی تھیٹریکل کمپنی‘، ’نیو الفریڈ تھیٹریکل کمپنی‘ اور ’پارسی الفریڈ تھیٹریکل کمپنی‘ سمیت مختلف تھیٹر کمپنیوں کے لیے مُوسیقی ترتیب دی۔ اِن کمپنیوں کے ساتھ وابستگی نے اُنہیں اپنے فَن کے اِظہار کے وسیع مواقع فراہم کیے۔ وہ راگوں کی کلاسیکی ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے ایسی دُھنیں بناتے تھے جو ڈرامے کی صورتِ حال سے مُطابقت رکھتی تھیں اور عام سامعین کو بھی مُتأثر کرتی تھیں۔
اِسی دور میں اُردو ڈرامے کے مشہور مُصنّف آغا حشر کاشمیری کی شُہرت اپنے عُروج پر تھی۔ آغا حشر کے ڈراموں میں زبان کی چاشنی، پُراثر مُکالموں، شاعری اور مُوسیقی کا خاص اِمتزاج پایا جاتا تھا۔ اُستاد جھنڈے خان نے اُن کے ڈراموں کے لیے بھی مُوسیقی ترتیب دی۔ اِس کام نے اُنہیں اُردو تھیٹر کے نمایاں مُوسیقاروں میں جگہ دلائی اور وہ اسٹیج کی مُوسیقی کے ایک تجربہ کار اُستاد کے طور پر پہچانے جانے لگے۔
۱۹۳۱ء ہندوستانی فلمی صنعت کی تاریخ میں ایک اہم سال تھا۔ اِسی برس ۱۴ مارچ کو ہندوستان کی پہلی بولتی فلم ’عالم آرا‘ بمبئی میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ اِس فلم کی کامیابی نے فلم سازی کا انداز ہی بدل دیا۔ اب پردۂ سیمیں پر اداکاروں کی آوازیں سنائی دینے لگی تھیں اور گیت فلموں کا ایک لازمی حصہ بنتے جارہے تھے۔ اِس تبدیلی نے اُن مُوسیقاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے جو پہلے پارسی تھیٹر کی کمپنیوں سے وابستہ تھے۔
اِسی سال اُستاد جھنڈے خان بمبئی کی مشہور فلم ساز کمپنی ’رنجیت مووی ٹون‘ سے وابستہ ہوئے۔ اِس کمپنی کے بانی چندولال شاہ تھے، جنہوں نے خاموش فلموں کے زمانے ہی میں فلم سازی کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرلیا تھا۔ اُستاد جھنڈے خان نے ’رنجیت مووی ٹون‘ کی پہلی بولتی فلم ’دیوی دیویانی‘ (۱۹۳۱ء) کی مُوسیقی ترتیب دی۔ یوں اُن کی فَنّی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا اور وہ ہندوستانی بولتی فلموں کے اِبتدائی مُوسیقاروں میں شمار ہونے لگے۔
’رنجیت مووی ٹون‘ سے وابستگی کے بعد اُستاد جھنڈے خان کی فلمی سرگرمیوں میں تیزی آگئی۔ ۱۹۳۲ء میں اُنہوں نے ’رادھا رانی‘، ’ستی ساوتری‘، ’شیل بالا‘، ’چار چکرم‘ اور دوسری فلموں کے لیے مُوسیقی ترتیب دی۔ اگلے برس، یعنی ۱۹۳۳ء میں، ’بھولا شکار‘، ’بھول بھلیاں‘، ’مس ۱۹۳۳‘، ’پردیسی پریتم‘ اور ’وشو موہنی‘ جیسی فلموں سے اُن کا نام وابستہ ملتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب فلمی مُوسیقی ابھی اپنی مُستقل شناخت بنا رہی تھی اور اُس پر کلاسیکی مُوسیقی، غزل، قَوّالی اور پارسی تھیٹر کی روایات کا گہرا اثر تھا۔
۱۹۳۴ء میں اُن کی مُوسیقی سے آراستہ فلموں میں ’ویر ببروواہن‘، ’تارا سندری‘ اور ’دخترِ ہند‘ شامل تھیں۔ ۱۹۳۵ء میں اُنہوں نے ’بھارت کی بیٹی‘ سمیت دوسری فلموں کے لیے دُھنیں ترتیب دیں، جبکہ ۱۹۳۶ء میں ’آنسوؤں کی دُنیا‘ اور ۱۹۳۹ء میں ’پیامِ حق‘ کی مُوسیقی سے بھی اُن کا نام وابستہ ملتا ہے۔ بعض فلموں میں اُنہوں نے دوسرے مُوسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔ اِن فلموں سے اندازہ ہوتا ہے کہ بولتی فلموں کے اِبتدائی برسوں سے لے کر اگلی دہائی کے آغاز تک وہ مُسلسل فلمی صنعت میں سرگرم رہے۔
اُستاد جھنڈے خان کی فَنّی اہمیت صرف اُن کی اپنی ترتیب دی ہوئی دُھنوں تک محدود نہیں تھی۔ اُن کے ساتھ کام کرنے والے نوجوان مُوسیقاروں میں نوشاد علی، غلام محمد اور ہیمنت کمار جیسے نام بھی ملتے ہیں، جنہوں نے بعد میں ہندوستانی فلمی مُوسیقی میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔ اِن مُوسیقاروں کی اُن سے وابستگی کا ذکر اُن کے معاونین کے طور پر ملتا ہے۔ اِس اعتبار سے اُستاد جھنڈے خان اُس نسل کے نمائندہ مُوسیقار تھے جس نے کلاسیکی مُوسیقی اور پارسی تھیٹر کی روایات کو نئی فلمی صنعت تک مُنتقل کرنے کے ساتھ آنے والی نسل کے لیے بھی راہیں ہموار کیں۔
۱۹۴۱ء میں کیدار شرما کی فلم ’چترلیکھا‘ نمائش کے لیے پیش ہوئی، جس کی مُوسیقی اُستاد جھنڈے خان نے ترتیب دی تھی۔ یہ فلم اُن کی فَنّی زندگی کا ایک نہایت اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔ اِس کے گیتوں میں ’تم جاؤ بڑے بھگوان بنے‘، ’نیل کمل مسکائے‘ اور ’سیاں سانورے بھئے باورے‘ خاص طور پر مقبول ہوئے۔
۱۹۴۲ء میں فلم ’راوی پار‘ کی مُوسیقی سے اُن کا نام وابستہ ملتا ہے، جبکہ ۱۹۴۳ء میں ’پاگلی‘ اور ’شہنشاہ اکبر‘ اُن کے فلمی سفر کے آخری دور کی نمایاں فلمیں تھیں۔ ’شہنشاہ اکبر‘ میں اُن کی کلاسیکی تربیت نمایاں طور پر سامنے آئی۔ اِس فلم کے گیت ’جاگ جاگ من بھج بنواری‘، ’شیام نہیں آئے‘ اور ’من درشن کا ابھلاشی‘ میں راگ اور تال کی روایت سے اُن کی گہری وابستگی دیکھی جاسکتی ہے۔ اِس فلم کی مُوسیقی میں اُنہوں نے گیتوں کے موضوع اور جذباتی کیفیت کے مُطابق کلاسیکی اندازِ گائیکی اور تال کے مختلف تجربات کیے۔
’شہنشاہ اکبر‘ کے بعد اُستاد جھنڈے خان کی فلمی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات محدود ہوجاتی ہیں۔ اگرچہ اُن کی مُوسیقی سے آراستہ بعض دیگر فلموں اور غیرنمائش شدہ منصوبوں کا ذکر بھی ملتا ہے، لیکن اُن کے فلمی سفر کے آخری برسوں کی مکمل تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ چند برس بعد تقسیمِ ہند نے اُن کی زندگی کا رُخ بدل دیا اور وہ پاکستان آگئے۔
پاکستان آنے کے بعد اُستاد جھنڈے خان نے گوجرانوالہ کے محلّہ توتیاں والا میں سُکونت اختیار کی۔ اِس شہر کے قریب واقع لاہور اُن دنوں مُوسیقی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں کا ایک بڑا مرکز تھا، جہاں ۱۹۳۸ء سے قائم ریڈیو اسٹیشن بھی قیامِ پاکستان کے بعد ریڈیو پاکستان کا حصہ بن چکا تھا۔ بعض روایات کے مطابق اُستاد جھنڈے خان نے قیامِ پاکستان کے اِبتدائی برسوں میں ریڈیو پاکستان لاہور کے مُوسیقی کے بعض پروگراموں میں بھی شرکت کی، تاہم اِن پروگراموں کی تاریخوں اور تفصیلات کا مُستند ریکارڈ دستیاب نہیں ہوسکا۔
ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل سید ذوالفقار علی بخاری اُستاد جھنڈے خان کے فَن کے بڑے قدردان تھے۔ بخاری صاحب خود بھی مُوسیقی کا گہرا عِلم اور ذوق رکھتے تھے۔ بعض سوانحی حوالوں میں ملتا ہے کہ وہ اُستاد جھنڈے خان سے مُوسیقی کے مختلف پہلوؤں پر گھنٹوں گفتگو کیا کرتے تھے۔ اِن گفتگوؤں سے اُستاد جھنڈے خان کے وسیع عِلم اور کلاسیکی مُوسیقی پر اُن کی غیرمعمولی دسترس کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔
گوجرانوالہ میں اُستاد جھنڈے خان سے ذاتی واقفیت رکھنے والوں میں وہاں کی بلدیہ کے کونسلر اعجاز میر بھی شامل تھے۔ اُنہی کے حوالے سے یہ روایت سامنے آتی ہے کہ اُستاد جھنڈے خان پیدائشی مسلمان نہیں تھے بلکہ اپنی اِبتدائی زندگی میں ایک فقیر کے ہاتھ پر اِسلام قبول کرنے کے بعد اُنہوں نے غلام مصطفیٰ نام اختیار کیا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ اعجاز میر نے یہ واقعہ خود اُستاد جھنڈے خان کی زبانی سنا تھا یا اُنہیں کسی دوسرے ذریعے سے اِس کا عِلم ہوا تھا۔
مختلف تذکروں میں اُستاد جھنڈے خان کی دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کی موجودگی کا ذکر ملتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق وہ اپنی ایک بیٹی کو ستار بجانا سکھایا کرتے تھے، لیکن کبھی کبھار اپنے مذہبی رُجحان کے باعث مُوسیقی کی تعلیم دینے سے کنارہ کش ہوجاتے۔ کچھ عرصے بعد دوبارہ بیٹی کو ستار سکھانا شروع کردیتے تھے۔ یہ روایت اُن کی زندگی میں مذہبی رُجحان اور مُوسیقی سے گہری وابستگی کے درمیان پائی جانے والی کشمکش کی نشان دہی کرتی ہے۔
اُن کے بیٹے کے بارے میں بھی معروف مُوسیقار نوشاد علی سے منسوب ایک دلچسپ واقعہ ملتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک اجنبی نوجوان نوشاد کے پاس آیا اور پوچھا، ”کیا آپ مجھے جانتے ہیں؟“ نوشاد نے لاعلمی ظاہر کی تو اُس نوجوان نے کہا، ”میں اُستاد جھنڈے خان کا بیٹا ہوں۔“
اُستاد جھنڈے خان نے ۱۱ اکتوبر ۱۹۵۲ء کو گوجرانوالہ ہی میں وفات پائی۔ اُنہیں اِسی شہر کے ’بڑے قبرستان‘ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اُن کی قبر بے نشان ہے اور کسی شناختی کتبے کی عدم موجودگی کے باعث آج اُس کی دُرست جگہ کی نشان دہی بھی ممکن نہیں رہی۔ اِسی طرح اُن کی اولاد کا بھی کوئی اَتا پتا معلوم نہیں، یا کم از کم اُن کے بارے میں کوئی مُستند معلومات دستیاب نہیں ہوسکیں۔
اُستاد جھنڈے خان کی فَنّی زندگی کا سلسلہ اُن کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہوا۔ نوشاد علی، غلام محمد، شیام سندر اور ہیمنت کمار جیسے مُوسیقاروں نے اُن کے ساتھ کام کرتے ہوئے مُوسیقی کے جو اَسرار و رُموز سیکھے تھے، اُنہیں آنے والے برسوں میں اپنے فَن کو نکھارنے اور مُوسیقی کی خدمت کے لیے بروئے کار لایا۔ یوں اُستاد جھنڈے خان کا فَنّی وَرثہ اُن کی وفات کے بعد بھی اِن مُوسیقاروں کے ذریعے زندہ رہا۔
آج گوجرانوالہ کے ’بڑے قبرستان‘ میں اُن کی آخری آرام گاہ کی نشان دہی ممکن نہیں، لیکن پاک و ہند کی مُوسیقی کی تاریخ سے اُن کا تذکرہ کبھی مَحو نہیں ہوسکتا۔
مُوسیقی کے میدان میں اپنے فَن کے جھنڈے گاڑنے والے اُستاد جھنڈے خان واقعی مُنفرد اور بے مِثل تھے۔ ریڈیو پاکستان اُن کی چوہتّرویں برسی کے موقع پر اُن کی گراں قدر فَنّی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان