Sunday, 11 October 2026, 03:56:29 am
 
اے صاحبِ ہفت اقلیم ! سُن ذرا، مغل شہزادے مرزا کامران کی داستانِ حیات کا ایک پوشیدہ ورق کھولتی تحریر۔
October 10, 2026

حج و عُمرہ کا انتظام و انصرام قریب قریب چار صدیوں (۱۵۱۷ء تا ۱۹۱۶ء) تک سلطنتِ عُثمانیہ کے ہاتھوں میں رہا ہے۔ حج چونکہ اسلام کا ایک بنیادی رُکن ہے، اس لیے تُرک انتظامیہ کے ہاں اس کی تیاری بھی بڑے اہتمام سے کی جاتی تھی۔

عُثمانی سلاطین کا بندوبستِ حج و عُمرہ اپنے زمانے کا ایک انتہائی مُنظّم نظام تھا، جہاں ایک تو ہر ہر معاملہ ضبطِ تحریر میں لایا جاتا تھا اور دوسرے، نظام کی نگرانی قابل ترین افسر شاہی کے سپرد تھی۔

حرمینِ شریفین کے انتظامی معاملات دیکھنے کی ترتیب یہ تھی کہ سلطنتِ عُثمانیہ کے دارالخلافہ اِستنبول (پرانا نام قُسطنطنیہ) سے حج و عُمرہ سے متعلق تجاویز و احکامات قاہرہ (مصر) پہنچتے، جہاں تعینات گورنرِ مصر، بطور خادمِ حُجّاج و مُعتمرین، عُثمانی عُمّال (سرکاری اہلکاروں) کے ذریعے انہیں حجازِ مُقدّس میں عملی جامہ پہناتا تھا۔

سلطنتِ عُثمانیہ کی جانب سے حجازِ مُقدّس کی انتظامی نگرانی کا یہ موضوع بڑا طویل اور کئی ایک حوالوں سے بڑی اہمیت کا حامل ہے، تاہم ہم بین السطور اس نگرانی کے زمانے میں سولہویں صدی عیسوی کے چار برسوں (۱۵۵۵ء تا ۱۵۵۸ء) کے دوران صفحاتِ شُہود پر منتقل ہونے والی محض دو تحریروں کو اپنا موضوعِ سُخن بناتے ہیں۔

پہلی تحریر سلطنتِ عُثمانیہ کے ’دفترِ مُہمّہ‘ (عُثمانی دیوانِ سُلطان کے اہم احکامات اور فیصلوں کے اندراج کی کتاب) میں عُثمانی تُرکی زبان میں درج ایک مختصر عبارت ہے، جس کا اُردو ترجمہ کچھ اس طرح ہے:

’’۱۴ذوالقعدہ ۹۶۳ھ (مطابق ۱۸ ستمبر ۱۵۵۶ء)، مرزا کامران نے کعبۂ شریف جانے کا ارادہ کیا اور سُلطانی اجازت کی درخواست کی، چنانچہ اسے مکہ جانے کی اجازت عطا کردی گئی۔‘‘

دوسری تحریر سلطنتِ عُثمانیہ کے مکہ مُکرّمہ کے ’دفترِ مُخَلَّفات‘ (مرحومین کے ترکے اور متروکات کے اندراج کی کتاب) میں محفوظ فارسی زبان کی ایک طویل عبارت کا ابتدائی حصہ ہے، جس کا اُردو ترجمہ کچھ یوں بنتا ہے:

’’مرحومہ سلیمہ خاتون، دُخترِ شاہ حسین مرزا، سُلطانِ ولایتِ سندھ، جو اس سے قبل مدینہ مُنوّرہ میں وفات پاچکی تھیں۔‘‘

تقریباً پونے پانچ سو سال پرانی ان دونوں تحریروں تک ہماری رسائی دو وجوہات سے ممکن ہوئی ہے؛ اوّل: تُرکیہ (تُرکی) کی موجودہ حکومت نے حالیہ زمانے میں سلطنتِ عُثمانیہ کے چھ سو سالہ محفوظات (آرکائیول ریکارڈز) کو تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے طالب علموں اور محققین کے لیے قابلِ رسائی بنایا ہے، اور دوم: تُرک محققین نے خود بھی ان محفوظات کے مختلف پہلوؤں پر انگریزی زبان میں تحقیقی مضامین لکھنا شروع کردیے ہیں۔

سولہویں صدی عیسوی کے حج و عُمرہ سے متعلق ہزاروں تحریروں میں سے صرف ان دو کو موضوعِ سُخن بنانے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ بالترتیب تاریخِ ہند اور تاریخِ سندھ کے دو مشہور کرداروں، مرزا کامران (پسرِ ظہیرالدین محمد بابر، بانیِ سلطنتِ مُغلیہ) اور ماہ چوچک بیگم (دُخترِ شاہ حسن ارغون، حاکمِ سندھ) سے متعلق ہیں۔

یہ بھی عین ممکن ہے کہ ان دو تحریروں سے متعلق تفصیل کے منظرِ عام پر آنے کے بعد پاک و ہند کے جدید محققین اور تاریخ دانوں کو مُغل اور سندھ کی تاریخ کے کچھ حصے دوبارہ لکھنے پڑیں۔

مرزا کامران ہندوستان میں مُغلیہ سلطنت کے بانی، ظہیرالدین محمد بابر کا منجھلا بیٹا تھا۔ ۲۶ دسمبر ۱۵۳۰ء کو اپنے باپ کی وفات کے بعد اس نے اپنے بڑے بھائی ہمایوں کی بادشاہت قبول کرنے کے بجائے کابل اور قندھار میں اپنی آزاد حکمرانی کا اعلان کردیا؛ اپنے نام کا خطبہ پڑھوایا، سکّے جاری کروائے اور پنجاب میں اپنے اقتدار کو وسعت دی، اگرچہ لاہور پر اس کا اختیار بابر کی زندگی ہی میں قائم ہوچکا تھا۔ اُس نے بعدازاں دہلی اور آگرہ کی طرف بھی پیش قدمی کی۔ (بحوالہ: ’تاریخِ ہندوستان، عہدِ اوّلینِ سلاطینِ تیموریہ‘، جلد دوم، ص: ۱۰۹)

کامران اور ہمایوں کے درمیان اقتدار کی رسّاکشی مختلف وقفوں کے ساتھ ۱۵۳۰ء سے ۱۵۵۳ء تک، یعنی تئیس برس، جاری رہی۔ باہمی لڑائیوں میں ہزاروں فوجی کام آئے اور مُغل سلطنت کا رُعب و دبدبہ بھی قریب قریب ختم ہوکر رہ گیا۔

اسی دوران ۲۶ جون ۱۵۳۹ء کو چوسہ اور ۱۷ مئی ۱۵۴۰ء کو قنوج کی لڑائیوں میں شیر شاہ سوری کے ہاتھوں ہمایوں کی شکست نے ہندوستان میں مُغل اقتدار کا خاتمہ کردیا اور تختِ دہلی پر شیر شاہ سوری متمکن ہوگیا۔ مُغل مؤرخین اس افغان اقتدار کی بنیادی وجہ مرزا کامران کو قرار دیتے ہیں۔

اسی خانہ جنگی کی ایک کڑی میں مرزا کامران ۹۵۳ ہجری (بمطابق ۱۵۴۶ء) میں سندھ پہنچا، جہاں کے حکمران شاہ حسن ارغون کی بیٹی کے لیے اس نے رشتہ بھیجا۔ ماہ چوچک بیگم اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی اور صاحبِ علم و فن تھیں۔ شاہ حسن ارغون کی اس رشتے پر آمادگی کے بعد ۹۵۳ہجری، مطابق ۱۵۴۶ء، میں پاٹ کے مقام پر شادی کی تقریب منعقد ہوئی۔

شادی کے بعد مرزا کامران تقریباً تین ماہ اپنے سُسر شاہ حسن ارغون کا مہمان بن کر اُنہی کے پاس مقیم رہا۔ بعدازاں شاہ حسن ارغون نے ایک ہزار سواروں کے ہمراہ اسے کابل کے لیے رخصت کیا۔ یہ مرزا کامران کی ساتویں اور آخری شادی تھی۔ (بحوالہ: شبستان بقا، تحقیقی مقالہ بعنوان ’دیوانِ مرزا کامران کی تنقیدی تدوین، فارسی متن، مقدمہ اور حواشی کے ساتھ‘، پی ایچ ڈی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ۲۰۰۵ء، ص: ۴۲)

۲۰نومبر ۱۵۵۱ء کی رات ننگرہار کے علاقے جریار میں مرزا کامران کے لشکر نے ہمایوں کے پڑاؤ پر شب خون مارا۔ اس لڑائی میں دونوں کا چھوٹا بھائی مرزا ہندال مارا گیا، جس سے کامران کے خلاف مُغل اُمرا کی ناراضی شدید ترین ہوگئی۔ اسی دوران مرزا کامران کچھ عرصہ شیر شاہ سوری کی وفات کے بعد اُس کے جانشین بننے اور تختِ دہلی پر بیٹھنے والے اسلام شاہ سوری کے اتحادی کے طور پر اُس کے ہاں بھی مقیم رہا۔

۱۵۵۳ء میں جب مرزا کامران کو گرفتاری کے بعد ہمایوں کے سامنے پیش کیا گیا تو مُغل اُمرا نے اس کی مسلسل بغاوتوں اور مرزا ہندال کی ہلاکت کے پیشِ نظر اس کے قتل پر اصرار کیا، تاہم ہمایوں نے اسے قتل کروانے کے بجائے اس کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا کر نابینا کروا دیا۔ اس واقعے کی تاریخ ۷ رمضان ۹۶۰ ہجری، مطابق ۱۷ اگست ۱۵۵۳ء، بیان کی جاتی ہے۔

نابینا ہونے کے بعد مرزا کامران نے اپنے بھائی اور بادشاہِ ہند ہمایوں سے حج کی اجازت طلب کی، جو اسے مرحمت ہوئی، اور یوں روایات کے مطابق وہ چلمہ کوکہ نامی ایک مُغل درباری کے ہمراہ سفرِ حج پر روانہ ہوا۔ اپنے سفر کے پہلے مرحلے میں وہ اپنے سُسر شاہ حسن ارغون کے پاس سندھ پہنچا، جس نے ابتدا میں اسے بکھر کے قریب دریائے سندھ کے جزیرے ’شاد بیلہ‘ میں ٹھہرایا۔ بعدازاں اس کی گزر بسر اور باورچی خانے کے اخراجات کے لیے پرگنہ ’بٹورہ‘ کی آمدنی مقرر کردی اور رہائش کے لیے ’فتح باغ‘ کا انتخاب کیا، جو ٹھٹھہ سے تقریباً تیس کروہ شمال مشرق میں، دریائے رین کے دائیں کنارے پر واقع ایک پُرفضا مقام تھا۔ (بحوالہ: محمودالحسن صدیقی، ’سندھ میں ارغونوں اور ترخانوں کی تاریخ‘، ص: ۸۵)

حج کے لیے سفینے (بادبانی جہاز) کی روانگی کا وقت آیا تو شاہ حسن ارغون نے اپنی بیٹی ماہ چوچک بیگم کو نابینا شوہر کے ہمراہ اتنے طویل سفر پر جانے سے روکا، لیکن وہ حج کے لیے مُصِر رہی۔ اس نے اپنے باپ کو یاد دلایا کہ جب مرزا کامران بینا تھا تو اسی نے اپنی بیٹی کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا تھا؛ اب نابینا ہوجانے کے بعد وہ اپنے شوہر کا ساتھ کیسے چھوڑ سکتی تھی؟ بالآخر شاہ حسن ارغون نے بیٹی کے عزم کے سامنے سرِ تسلیم خم کیا اور دونوں کو مال و اسباب دے کر رخصت کردیا۔

مرزا کامران اپنی بیوی کے ہمراہ ٹھٹھہ کے قریب لاہری بندر سے بادبانی بحری جہاز پر حجازِ مُقدّس کے لیے روانہ ہوگیا۔ مُغل اور سندھی تواریخ کے روایتی بیانات کے مطابق دونوں نے حج ادا کیا اور مکہ مُکرّمہ میں چند برس قیام کیا۔ انہی روایات کے مطابق مرزا کامران کی وفات وقوفِ عرفات کے دوران، یعنی ۹ ذوالحجہ ۹۶۴ ہجری (بمطابق ۱۵۵۷ء)، بیان ہوئی ہے۔ مرزا کامران کی وفات کے سات ماہ بعد اس کی بیوی ماہ چوچک بیگم بھی انتقال کرگئی، جیسا کہ میر محمد معصوم بکھری نے اپنی کتاب ’تاریخِ معصومی‘ میں لکھا ہے:

’’بعد از فوتِ میرزا کامران، ماه چوچک بیگم هفت ماه حیات یافته، بعد از آن به رحمتِ ایزدی پیوست۔‘‘

(ترجمہ: مرزا کامران کی وفات کے بعد ماہ چوچک بیگم سات ماہ زندہ رہیں اور پھر رحمتِ ایزدی سے جا ملیں۔)

تاہم تُرکیہ میں موجود عُثمانی محفوظات (آرکائیول ریکارڈ) مرزا کامران، اس کی بیوی ماہ چوچک بیگم اور اُن کے سفرِ حج کے ساتھیوں سے متعلق ایک قدرے مختلف کہانی پیش کرتے ہیں۔

ان محفوظات سے سامنے آنے والی شہادتوں کے مطابق نابینا مرزا کامران اپنی بیوی اور اُس کی تین خواتین خادماؤں کے ہمراہ نومبر ۱۵۵۴ء سے پہلے کسی مہینے میں حجازِ مُقدّس پہنچا، جہاں اسی سال نومبر کے دوسرے عشرے میں اُس نے حج کی سعادت حاصل کی۔ بعداز حج اُس کی بیوی اپنی خادمہ گُل رُخ کے ہمراہ روضۂ رسول ﷺ کی زیارت کے لیے مدینہ مُنوّرہ حاضر ہوئی، جہاں ممکنہ طور پر طاعون کی بیماری کے سبب وہ ۴ جمادی الآخر ۹۶۲ ہجری (بمطابق ۲۶ اپریل ۱۵۵۵ء) کو وفات پاگئی۔ اُس کی خادمہ بھی چند دنوں کے فرق سے وہیں مدینہ مُنوّرہ میں فوت ہوگئی۔

مرزا کامران اس کے بعد بھی قریب اڑھائی برس زندہ رہا۔ اس دوران اُس نے اپنی بیوی کے ہمراہ کیے گئے پہلے حج کے علاوہ دو مزید حج ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اپنے مجموعی طور پر تیسرے حج کے لیے اُس نے عُثمانی سلطان سے ایک مخصوص اجازت نامہ بھی حاصل کیا، جو ممکنہ طور پر اُس کے نابینا ہونے کے سبب سفر، سواری اور دوسری ضروری سہولتوں کے حصول کے پیشِ نظر تھا؛ عُثمانی سلطنت بادشاہوں اور سلاطین کے علاوہ نابیناؤں اور معذوروں کو بھی ایسے مخصوص اجازت نامے جاری کرتی تھی۔

عُثمانی محفوظات میں مرزا کامران کی وفات کا کوئی اندراج سامنے نہیں آیا۔ اُس کی بیوی کی موت کی درست تاریخ کا اندراج بھی اس لیے محفوظ رہ سکا کہ وہ مقروض فوت ہوئی تھیں۔

سلیمہ خاتون نے ۱۵۵۴ء کے اواخر یا ۱۵۵۵ء کے اوائل میں مکہ مُکرّمہ میں قیام کے دوران ثنیہ بنت قایتبائی نامی ایک معزز خاتون سے ۱۶۴۰ پَرے (’’پَرہ‘‘ اُس دور کی عُثمانی کرنسی کا نام تھا) قرض لیے۔ یہ خاتون سابق مملوک سلطان، الملک الاشرف قایتبائی، کی بیٹی تھیں اور ’بنتُ الامیری‘ کے نام سے معروف تھیں۔ دفتر کے اندراج سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں خواتین کے درمیان مالی معاملات تھے اور یہ قرض قاضی کی توثیق کے ساتھ لیا گیا تھا۔ (دفترِ مُخَلَّفات، ورق ۹-الف)

سلیمہ خاتون اس قرض کی ادائیگی سے پہلے ہی ۱۵۵۵ء میں مدینہ مُنوّرہ میں وفات پاگئیں۔ بعدازاں مرزا کامران بھی ۱۵۵۷ء میں وفات پاگیا۔ ’بنتُ الامیری‘ کی درخواست پر عُثمانی انتظامیہ نے متروکات کے تصفیے کی کارروائی کی، جس کے دوران پہلے مدینہ مُنوّرہ کے ’دفترِ وفیات‘ سے سلیمہ خاتون کی موت کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔ اس کے بعد اُن کے چھوڑے ہوئے مال و اسباب کی باقاعدہ فہرست مرتب ہوئی، قیمتیں لگائی گئیں اور واجبات کا حساب کیا گیا۔

چھوٹی موٹی اشیا، جنہیں دفتر میں ’خُرداوات‘ کہا گیا ہے، اُن میں سے قریب چالیس فی صد فروخت کردی گئیں اور حاصل ہونے والی رقم سے متعلقہ اخراجات اور واجبات ادا کیے گئے۔ حساب کتاب مکمل ہونے کے بعد باقی ماندہ نقد رقم جدہ روانہ کردی گئی، جبکہ جو سامان فروخت نہیں ہوا تھا، اسے امیرُالحج کے توسط سے قاہرہ (مصر) کی جانب بھیج دیا گیا۔

یوں عُثمانی محفوظات اور سرزمینِ پاک و ہند پر مرتب ہونے والی کتبِ تاریخ کے مابین درج ذیل اختلافات سامنے آتے ہیں:

*اول؛ شاہ حسن ارغون کی اکلوتی بیٹی کا نام:*

عُثمانی محفوظات میں شاہ حسن ارغون کی اس اکلوتی بیٹی کا نام ’سلیمہ خاتون‘ درج ہے، جبکہ سندھ کی تاریخی روایات میں وہ ’ماہ چوچک بیگم‘ کے نام سے معروف ہیں۔ یہ قرینہ موجود ہے کہ ’سلیمہ خاتون‘ اُن کا اصل یا خاندانی نام رہا ہو اور ’ماہ چوچک بیگم‘ اُن کا ثانوی یا القابی نام ہو۔ سلیمہ خاتون کے ’ماہ چوچک بیگم‘ کے نام سے معروف ہونے کی ایک ممکنہ وجہ تیموری اور مُغل خاندانوں کی وہ روایت تھی، جس کے تحت شاہی خواتین کو کسی شہزادے یا بادشاہ سے نکاح کے بعد اپنے ذاتی یا خاندانی نام کے علاوہ عُرفی یا القابی نام بھی دیا جاتا تھا۔

یہ روایت بابر سے بھی پہلے اُس کے خاندان میں موجود تھی۔ بابر نے اپنی یادداشتوں میں اپنے چچا سلطان احمد مرزا کی بیٹی رابعہ سلطان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ ’قراگوز بیگم‘ کے نام سے معروف تھیں۔ اسی خاندان کی صالحہ سلطان کو ’آق بیگم‘ کہا جاتا تھا۔ خود بابر کی یوسف زئی بیوی بی بی مبارکہ بھی مُغل حرم میں ’افغان آغاچہ‘ کے نام سے معروف ہوئیں۔

ان تاریخی مثالوں کی روشنی میں یہ قرینہ خاصا مضبوط ہوجاتا ہے کہ ’سلیمہ خاتون‘ شاہ حسن ارغون کی بیٹی کا اصل یا خاندانی نام رہا ہو، جبکہ مرزا کامران کے حرم میں آنے کے بعد وہ ’ماہ چوچک بیگم‘ کے نام سے معروف ہوئی ہوں۔ سندھی تاریخی روایت نے بعدازاں اسی معروف نام پر اکتفا کیا، جس کے نتیجے میں اُن کا دوسرا نام تاریخی حافظے سے اوجھل ہوگیا۔

چوچک اُس عہد کے تیموری، مُغل اور ارغون خاندانوں میں معروف نام تھا۔ شہنشاہ ہمایوں کی ایک بیوی کا نام بھی ’ماہ چوچک بیگم‘ تھا۔ یہ نام صرف خواتین تک محدود نہیں تھا؛ سندھ کی تاریخی روایت میں سلطان محمود خان کے رَضاعی بھائی ’بابا چوچک‘ کا ذکر بھی ملتا ہے۔

’چوچک‘ تُرکی الاصل لفظ ہے، جس کے معنی چھوٹا، نوخیز اور کومل بیان کیے جاتے ہیں۔ تُرکی کی علاقائی لغات میں اس لفظ کی املا ’جُجُک‘ یا ’چُجُک‘ بھی ملتی ہے۔ گنجشک (چڑیا) کو بھی اُس کی نزاکت کے سبب چوچک کہہ دیا جاتا ہے۔ (بحوالہ: تُرک دِل قُرُومُو، ’تُرکیہ دے خلق آغزِندان دَرْلَمہ سوزلُوغُو‘، جلد سوم، صفحات ۱۰۲۱ تا ۱۰۲۴)

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حجازِ مُقدّس پہنچ کر ایک مُغل شہزادی اور ایک سلطان کی بیٹی نے اپنا القابی نام کیوں کر ترک کیا ہوگا؟ اس سوال کا سادہ سا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی طرح اپنا شاہی حسب نسب اور اُس سے وابستہ امتیازات ہندوستان میں چھوڑ کر آئی تھیں اور یہاں اپنے القابی نام ’ماہ چوچک بیگم‘ کے بجائے ’سلیمہ خاتون‘ کے نام سے پہچانی جانا چاہتی تھیں۔

*دوم؛ چلمہ کوکہ کی سفرِ حج میں معیت:*

ابوالفضل علّامی کی ’آئینِ اکبری‘ میں درج روایت کے مطابق مرزا کامران کے رَضاعی بھائی ہمدم کا بیٹا، چلمہ بیگ کوکہ (خانِ عالم)، بھی مرزا کامران کے ساتھ حج پر گیا تھا۔ (بحوالہ: ’آئینِ اکبری‘، جلد اوّل، انگریزی ترجمہ ایچ۔ بلاخمن، نظرثانی شدہ ایڈیشن ۱۹۲۷ء، صفحات ۴۱۱–۴۱۲) تاہم عُثمانی دستاویزات اس کی موجودگی کی تصدیق نہیں کرتیں۔

’دفترِ مُخَلَّفات‘ کے اندراجات کے مطابق سلیمہ خاتون (ماہ چوچک بیگم) نے مکہ مُکرّمہ میں اپنے نابینا شوہر اور تین خادماؤں کے ساتھ ایک کشادہ کرائے کے مکان میں رہائش اختیار کی۔ ایک خادمہ کا نام گُل رُخ تھا، جبکہ دوسری دو کے ناموں کے بجائے اُن کے بارے میں صرف یہ درج ملتا ہے کہ وہ سیاہ رنگت کی حامل تھیں۔ سلیمہ خاتون نے اپنے مکان کی نگرانی اور دروازے کی حفاظت کے لیے شعبان نامی ایک مقامی شخص کو بھی مقرر کیا، جو عموماً مکان کے دروازے پر ہی موجود رہتا تھا۔

عُثمانی دستاویزات میں تین خادماؤں، حتیٰ کہ دربان شعبان تک کا ذکر موجود ہے، مگر چلمہ بیگ کوکہ کا نام کہیں نہیں ملتا۔ اگر وہ واقعی مرزا کامران کے ساتھ مستقل طور پر مقیم ہوتا تو توقع تھی کہ ان تفصیلی اندراجات میں کہیں نہ کہیں اُس کا نام بھی سامنے آتا۔ اس بنا پر اُس کے سفرِ حجاز میں شریک ہونے کی روایت بھی محلِ نظر ہے۔

*سوم؛ سلیمہ خاتون (ماہ چوچک بیگم) کی مرزا کامران سے قبل وفات:*

عُثمانی دستاویزات میں بڑی صراحت کے ساتھ سلیمہ خاتون کی وفات کی تاریخ ۲۶ اپریل ۱۵۵۵ء اور مرزا کامران کے لیے حج کے اجازت نامے (پروانے) کے اِجرا کی تاریخ ۱۸ ستمبر ۱۵۵۶ء درج ملتی ہے۔

یوں میر محمد معصوم بکھری اور اُن کی تقلید میں دیگر مؤرخین کا یہ دعویٰ قطعی طور پر غلط ثابت ہوتا ہے کہ ماہ چوچک بیگم مرزا کامران کی موت کے سات ماہ بعد اس دنیا سے رخصت ہوئیں؛ وہ اپنے شوہر سے پہلے، مدینہ مُنوّرہ میں، ممکنہ طور پر طاعون کی بیماری کے سبب وفات پاگئیں۔

مُغل کتبِ تاریخ میں مرزا چلمہ بیگ کوکہ (خانِ عالم) کے مرزا کامران کی وفات کے بعد بھی زندہ رہنے اور اکبر کے عہد میں فوجی مہمات میں شریک ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ ’اکبرنامہ‘ کے مطابق وہ دسمبر ۱۵۷۲ء میں گجرات کی فوجی مہم میں بھی شریک تھا۔ (بحوالہ: ابوالفضل علّامی، ’اکبرنامہ‘، جلد سوم، انگریزی ترجمہ ہنری بیورج، صفحات ۱۶–۱۷؛ نیز اشاریہ، ذیلِ خانِ عالم یا چلمہ بیگ)

اگر وہ واقعی مرزا کامران کے سفرِ حج کا ساتھی ہوتا تو توقع تھی کہ ابوالفضل کے ہاں نہ صرف چلمہ کے توسط سے پہنچنے والی براہِ راست معلومات کی بدولت کامران کی موت کی درست تفصیلات موجود ہوتیں بلکہ وہ یہ بھی لکھتا کہ ماہ چوچک بیگم اُس سے پہلے وفات پاچکی تھیں۔ وہ مرزا کامران کو ملنے والے عُثمانی اجازت نامے کو بھی گھما پھرا کر ہمایوں کی عُثمانی سلطان سے خط و کتابت کے ذریعے ہونے والی کامیاب سفارت کاری اور بھائی کی بھائی کے لیے ایسی محبت کا اظہار قرار دیتا، جس میں ہزاروں میل کی دُوری کے باوجود بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی کے لیے متفکر تھا۔

عُثمانی محفوظات کا سب سے دل پذیر، مگر دل کو غمگین کردینے والا حصہ سلیمہ خاتون (ماہ چوچک بیگم) کے تَرکے کی اُس فہرست سے متعلق ہے، جسے اُن کی اور اُن کے شوہر کی وفات کے بعد قرض کی ادائیگی اور مَتروکات کے تصفیے کی خاطر مرتب کیا گیا تھا۔

سلیمہ خاتون کے تَرکے میں موجود بائیس کتابوں میں سے آٹھ قرآنِ کریم کے مکمل نسخے، منتخب قرآنی اَجزاء یا قرآنی دعاؤں اور آیات کے مجموعے تھے، جبکہ باقی چودہ کتابیں فارسی اور تُرکی زبانوں کے مذہبی، ادبی اور صوفیانہ موضوعات سے متعلق تھیں۔ یہ سب مَخطوطات تھے، یعنی چھاپہ خانے کے بجائے قلم سے لکھے ہوئے نسخے۔

قرآنِ کریم کے چار مکمل نسخوں میں سے ایک نہایت عمدہ خطِ نَسخ میں لکھا گیا تھا۔ اس کے سرورق پر طلائی آرائش، سُرخ اور نیلے رنگ کی نقش نگاری اور خوب صورت تزئین موجود تھی۔ اسے سُرخ مخمل کے جُزدان میں محفوظ رکھا گیا تھا۔

دوسرے تین مکمل نسخے بھی عمدہ کتابت کے حامل تھے۔ سلیمہ خاتون کی وفات کے بعد مکہ مُکرّمہ کے قاضی کے حکم سے یہ تینوں نسخے مسجدُ الحرام کے مقامِ حنفی میں اُن کے ایصالِ ثواب کے لیے تلاوت کی غرض سے مختص کردیے گئے۔

دو دوسرے قرآنی نسخے ’کلامِ قدیم‘ کے عنوان سے درج تھے۔ ان کے ساتھ تسمے لگے ہوئے تھے، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں گلے میں لٹکانے یا کسی جگہ آویزاں کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہوگا۔ البتہ یہ واضح نہیں کہ ان میں مکمل قرآنِ کریم تھا یا منتخب آیات۔

ایک مجموعہ ’اَنعامِ شریف‘ کے نام سے تھا، جس میں سورۂ اَنعام کے علاوہ سورۂ یٰسین، سورۂ مُلک اور دعائیں شامل تھیں۔ دوسرے کا عنوان ’بعض خواصِ قرآنِ کریم‘ تھا، جس میں قرآنی آیات اور اَسمائے اِلٰہی سے متعلق مخصوص دعائیں اور وظائف جمع کیے گئے تھے۔

قرآنی نسخوں کے بعد سب سے زیادہ توجہ کھینچنے والی کتاب ’دیوانچہ‘ (از مرزا کامران) تھی۔ یہ مرزا کامران کے کلام کا ایک مختصر مجموعہ تھا۔ عُثمانی دفترِ مُخَلَّفات میں اس کتاب کے ساتھ خاص طور پر درج ہے کہ اس کا مصنف مَتوفیہ کا شوہر تھا۔

اس مختصر اندراج کی تاریخی اہمیت غیرمعمولی ہے۔ یہ ایک طرف سلیمہ خاتون کی شناخت مرزا کامران کی بیوی کے طور پر قائم کرتا ہے، تو دوسری طرف اُس نابینا شہزادے کے شاعرانہ ذوق کو بھی ہمارے سامنے لے آتا ہے، جو کبھی سلطنت کے لیے جنگیں لڑتا رہا تھا اور بغاوت کی پاداش میں بینائی سے محروم کردیا گیا تھا۔

اس تَرکے میں ’شاہ و گدا‘ (از بدرالدین محمد ہلالی چغتائیؒ) بھی موجود تھی۔ یہ فارسی مثنوی ’شاہ و درویش‘ کے نام سے بھی معروف ہے اور عشق و تصوّف کے مضامین پر مشتمل ہے۔ سلیمہ خاتون کے پاس موجود نسخہ خوب صورت خطِ تعلیق میں لکھا گیا تھا اور اس میں آرائش بھی تھی۔

ہلالی چغتائیؒ تیموری فرمانروا سلطان حسین بایقرا کے عہد کے معروف شاعر تھے۔ انہوں نے اپنی یہ مثنوی حسین بایقرا کے بیٹے بدیع الزمان مرزا کے نام منسوب کی تھی۔ یوں سلیمہ خاتون کے کتب خانے میں موجود یہ کتاب اُس علمی و ادبی ماحول کی یادگار بھی تھی جس سے بابر اور اس کے خاندان کی تہذیبی نسبت قائم تھی۔

مولانا عبدالرحمٰن جامیؒ کی دو کتابیں بھی اس مجموعے میں شامل تھیں۔ ایک ’چِہِل کلمہ‘ (از مولانا عبدالرحمٰن جامیؒ) تھی، جسے ’چِہِل حدیث‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کی چالیس احادیث کو فارسی زبان میں منظوم کیا گیا تھا۔

دوسری ’سُبحۃُ الاَبرار‘ (از مولانا عبدالرحمٰن جامیؒ) تھی، جو جامیؒ کے معروف مجموعۂ مثنویات ’ہَفت اَورنگ‘ میں شامل ہے۔ اس میں اخلاق، روحانیت اور تصوّف کے مضامین بیان ہوئے ہیں۔ عُثمانی فہرست کے مطابق اس کا نسخہ مُصوّر تھا اور اس کی جلد پرانی ہوچکی تھی۔

ایک اور فارسی کتاب ’حُسن و دل‘ (منسوب بہ فتاحی نیشاپوریؒ) تھی۔ یہ حُسن، عشق اور انسانی باطن کے مضامین پر مشتمل ایک تمثیلی داستان ہے۔ اس کا نسخہ چھوٹے سائز کا تھا۔

’یوسف و زلیخا‘ اور ’لیلیٰ و مجنوں‘ کے عنوانات سے بھی دو کتابیں موجود تھیں۔ پہلی عمدہ خطِ تعلیق میں لکھی گئی تھی اور دوسری کی کتابت بھی خوب صورت تھی۔

ان دونوں داستانوں پر فارسی اور تُرکی کے متعدد شاعروں نے طبع آزمائی کی ہے۔ ’یوسف و زلیخا‘ کی ایک معروف مثنوی مولانا جامیؒ کی بھی ہے، جبکہ ’لیلیٰ و مجنوں‘ کو نظامی گنجویؒ نے خاص شہرت بخشی۔ تاہم سلیمہ خاتون کے تَرکے میں درج ان نسخوں کے مصنفین کا نام واضح نہیں، اس لیے انہیں کسی ایک شاعر سے قطعی طور پر منسوب نہیں کیا جاسکتا۔

اس تَرکے میں ’فتوحُ الحرمین الشریفین‘ (از محی الدین لاریؒ) کی موجودگی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ یہ فارسی زبان میں حج اور حرمینِ شریفین سے متعلق ایک منظوم تصنیف تھی، جس میں مکہ مُکرّمہ، مدینہ مُنوّرہ اور مناسکِ حج کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔

تقریباً گیارہ سو اشعار پر مشتمل یہ کتاب محی الدین لاریؒ نے اپنے سفرِ حج کے بعد ۱۵۰۶ء میں مرتب کی تھی اور گجرات کے سلطان مظفر ثانی کی خدمت میں پیش کی تھی۔ عُثمانی فہرست کے مطابق سلیمہ خاتون کے پاس موجود اس کتاب کی جلد چھوٹی اور سُرخ رنگ کی تھی۔

دیگر کتابوں میں ’تُحفۃُ الصالحین‘، ’روضۃُ الصالحین‘، ’فال نامہ‘ اور ’کتابِ حال‘ شامل تھیں۔ ’تُحفۃُ الصالحین‘ منظوم تصنیف تھی، جبکہ ’روضۃُ الصالحین‘ کا نسخہ سُرخ جلد میں محفوظ تھا۔ ان دونوں کتابوں کے مصنفین کا تعین نہیں ہوسکا۔

’فال نامہ‘ فارسی زبان میں تھا اور اس نوعیت کی کتابوں میں عموماً فال نکالنے اور مستقبل کے بارے میں اشارے اخذ کرنے کے طریقے درج ہوتے تھے۔ ’کتابِ حال‘ میں فارسی دعائیں لکھی ہوئی تھیں اور اس کے لیے اعلیٰ معیار کا مُصوّر اِستنبولی کاغذ استعمال کیا گیا تھا۔

ایک کتاب ’جُنگِ بیاض‘ کے نام سے درج تھی۔ اس نوعیت کی بیاضوں میں عموماً مختلف شُعرا کا کلام اور بالخصوص تُرکی اشعار جمع کیے جاتے تھے۔ سلیمہ خاتون کے پاس موجود نسخہ سُرخ جلد میں تھا۔

اس کے علاوہ فارسی دعاؤں کی ایک چھوٹی کتاب، فارسی کا ایک مختصر مجموعہ اور ایک ایسا مَخطوطہ بھی موجود تھا جس کا نام عُثمانی فہرست میں ’کتابِ باریہات‘ جیسا پڑھا گیا ہے، مگر محقق اس کی درست شناخت نہیں کرسکا۔

ان کتابوں کے ساتھ چند تعویذ اور کتابیں رکھنے کے لیے استعمال ہونے والی اشیا بھی درج تھیں۔

کتابوں کے علاوہ سلیمہ خاتون کے تَرکے میں روزمرہ استعمال کی چیزیں بھی تھیں۔ ان میں آئینے، کنگھیاں، صابن، مِسواک، عِطریات، برتن، باورچی خانے کا سامان، ڈبے، قینچیاں اور دوسرے اوزار شامل تھے۔بعض آئینے خاصے قیمتی تھے۔ ایک آئینہ حلب کے شیشے سے بنا تھا، اس کا چوکھٹا سونے کا تھا اور اس میں بیس یاقوت جڑے ہوئے تھے۔ ایک دوسرے آئینے میں یاقوت اور فیروزے نصب تھے۔ صَندل کی لکڑی سے بنی ایک کنگھی بھی یاقوت اور فیروزوں سے آراستہ تھی۔

یہ محض آرائش کی اشیا نہیں تھیں بلکہ ایک ایسے گھرانے کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھیں جس نے سیاسی اقتدار تو کھودیا تھا، لیکن اپنی سابق تہذیبی عادات اور رہن سہن کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا تھا۔

گُل قند، شکر، گلاب، عُنّاب، لونگ، جائفل اور دارچینی جیسی اشیا بھی درج تھیں۔ گھر میں استعمال ہونے والے قیمتی پارچوں، پردوں، تکیوں، بچھونوں، جائے نمازوں اور دوسرے سامان کی بھی تفصیلی فہرست موجود ہے۔

ان مَتروکات میں خانۂ کعبہ کے غلاف کے ٹکڑے، بندوق کے بارود کی پیمائش کا آلہ، سبز رنگ کے ایک عَلَم کا سرا اور ایک مُنقّش و مُصوّر تختۂ نَرد بھی شامل تھا۔ نَرد آجکل کے بیک گیمَن سے مشابہ ایک قدیم کھیل تھا۔

سلیمہ خاتون کے تَرکے سے پانچ سو پچاس سے زیادہ قیمتی پتھر اور نگینے بھی نکلے؛ عقیق، عنبر، فیروزے، موتی، مَرجان، یاقوت اور زُمُرّد۔قیمتی پتھروں کو تولا گیا تو اُن کا مجموعی وزن تقریباً ۱۳۵ دِرہم، یعنی ۴۲۵ گرام سے کچھ زیادہ تھا۔ اس کے علاوہ سونے، چاندی اور جواہرات سے بنے بانوے بٹن تھے، جن کا مجموعی وزن تقریباً ۵۹۸ گرام تھا۔کنگن، ہار، بالیاں، بازوبند، انگوٹھیاں اور سر کے زیورات سمیت قریب چوّن زیورات الگ تھے، اور جنہیں تولا گیا، اُن کا وزن تقریباً ۱۶۷۰ گرام بنا۔

لیکن یہاں ان اعداد کو دیکھ کر یہ سمجھ لینا کہ ایک مال دار شہزادی ضرورت سے کہیں زیادہ ’زادِ راہ‘ اٹھا لائی تھی، اس پوری صورتِ حال کو الٹ کر دیکھنا ہوگا۔

یہ محض زادِ راہ نہیں تھا؛ یہ اُن کی باقی ماندہ زندگی کا سرمایہ تھا۔ یہ دونوں حجاز کسی کاروبار، ملازمت یا نئی جاگیر حاصل کرنے نہیں آئے تھے۔ مرزا کامران اپنی سلطنت اور بینائی دونوں کھوچکا تھا اور سلیمہ اپنے باپ شاہ حسن ارغون کا دربار، اپنا وطن اور سابق زندگی پیچھے چھوڑ آئی تھیں۔اُن کا حجاز آنا عام حاجیوں کی طرح چند ماہ کا سفر بھی نہیں تھا کہ حج کیا اور وطن واپس چلے گئے۔ اُن کے حالات سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے حرمین ہی کو اپنی باقی زندگی کا ٹھکانا سمجھ لیا تھا۔

سلیمہ اور کامران کو معلوم تھا کہ حجاز میں انہیں زندگی گزارنی ہے۔ وہاں اُن کی کوئی جاگیر نہیں تھی جس کا محصول ہر سال آتا، نہ مرزا کامران کوئی کاروبار کرنے آیا تھا، نہ شاہ حسن ارغون کی بیٹی بازار میں تجارت کرنے والی تھی۔دوسری طرف مکان چلانا تھا، گھرانے کے افراد کا کھانا، لباس اور دوسری ضروریات پوری کرنا تھیں، خُدّام رکھنے تھے، سفر کرنا تھا اور سواری موجود ہو تو اُس کے چارے اور نگہداشت پر بھی رقم خرچ ہونی تھی۔ یہ لوگ ایسے محتاج بھی نہیں تھے کہ مکہ و مدینہ کی گلیوں میں نکل کر صدقہ و خیرات مانگتے۔

لہٰذا وطن چھوڑتے وقت اپنے ساتھ سونا، جواہرات، زیورات اور قیمتی پارچے لانا شاہانہ نمود سے زیادہ ایک عملی ضرورت تھی۔زمین ساتھ نہیں لائی جاسکتی تھی، جاگیر کو صندوق میں بند کرکے بحری جہاز پر نہیں رکھا جاسکتا تھا، لیکن یاقوت، زُمُرّد، موتی اور سونا ہزاروں میل دُور لے جایا جاسکتا تھا۔ضرورت پڑی تو ایک نگینہ فروخت کیا، کچھ عرصہ گھر چلایا؛ پھر نقدی کی ضرورت ہوئی تو کوئی زیور یا قیمتی پارچہ بیچا۔ یوں بڑی قیمت کو بہت کم وزن میں محفوظ کرکے ساتھ لے جانا ایک بے وطن شاہی خاندان کے لیے سب سے موزوں مالی انتظام تھا۔

اسی لیے سلیمہ کے صندوقوں میں پڑے پانچ سو پچاس سے زیادہ قیمتی پتھروں کو محض اُن کی ’دولت‘ نہ سمجھنا چاہیے۔ یہ اُن کی آئندہ زندگی کے دن تھے جو سونے، موتیوں، یاقوتوں اور زُمُرّدوں کی صورت میں محفوظ تھے۔ اگر انہیں دس برس اور زندہ رہنا ہوتا تو یہی سرمایہ رفتہ رفتہ اُن کے مکان کا کرایہ، خوراک، خُدّام، لباس، سواری اور سفر کے اخراجات میں تبدیل ہوتا رہتا۔ اُن کی جلد وفات نے اس سرمائے کا بڑا حصہ جوں کا توں چھوڑ دیا۔

اور یہی حقیقت اُن کے قرض کو بھی سمجھاتی ہے۔سلیمہ نے بنتُ الامیری سے ۱۶۴۰ پَرے قرض لیے تھے۔ اُن کے پاس جواہرات موجود ہونے کے باوجود قرض لینا کوئی تضاد نہیں۔ سرمایہ موجود ہونا اور ہاتھ میں نقدی موجود ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔ ہر وقتی ضرورت کے لیے قیمتی خاندانی جواہرات بیچنا ضروری نہیں تھا۔ انہیں اپنے والد، سندھ کے حکمران شاہ حسن ارغون، سے مالی مدد پہنچنے کی امید بھی ہوسکتی تھی۔

اس لیے سلیمہ خاتون کے بارے میں زیادہ صحیح جملہ یہی ہوگا کہ وہ مقروض فوت ہوئی تھیں، مُفلِس نہیں۔

جب مرزا کامران کے اِکلوتے بیٹے ابوالقاسم مرزا کو، جسے شہنشاہ اکبر نے گوالیار کے قلعے میں قید کروا رکھا تھا، ۹۷۳ یا ۹۷۴ ہجری میں قتل کردیا گیا تو عہدِ اکبری کے مُؤرّخ اور ’ہَفت اِقلیم‘ کے مُصنّف امین احمد رازی نے آشفتہ دِلی کے ساتھ لکھا:

’’نماند از کامران نام و نشانی‘‘

(ترجمہ: کامران کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا۔)

لیکن کیا واقعی ایسا ہوا؟

مرزا کامران کا نام ہندوستان، سندھ اور انگریز مُؤرّخین کی کُتبِ تاریخ میں پہلے ہی محفوظ تھا۔ اب سلطنتِ عُثمانیہ کے تُرکیہ میں موجود محفوظات سے بھی اُس کی زندگی کے آخری ایّام کے تذکرے کی شہادتیں سامنے آرہی ہیں۔ تُرک مُحقّقین اُس کے سفرِ حج اور اُس کی وفاشعار بیوی سلیمہ خاتون (ماہ چوچک بیگم) کے حالات پر تحقیقی مضامین لکھ رہے ہیں۔ یوں مرزا کامران کا نام تاریخ کے اُن اَوراق سے بھی اُبھرتے سورج کی طرح نمودار ہورہا ہے جو صدیوں تک ہماری نگاہوں سے اوجھل رہے۔

اور صرف کُتبِ تاریخ ہی کیوں؟ لاہور میں دریائے راوی کے کنارے ’مرزا کامران کی بارہ دری‘، جس کے ایک حصے کو کبھی دریائے راوی کی طُغیانی نے مُنہدم کردیا تھا، اب پنجاب حکومت کی سرپرستی میں تعمیرِ نو، بحالی اور تزئین و آرائش کے آخری مراحل سے گزر رہی ہے۔

صدیوں کے نشیب و فراز کے باوجود اس بارہ دری کے در و دیوار آج بھی مرزا کامران کے نام سے منسوب چلے آرہے ہیں۔

اور نام و نشان مٹ بھی کیسے سکتا تھا؟

مرزا کامران اور اُس کی وفاشعار بیوی سلیمہ خاتون، جن میں سے ایک مکہ مُکرّمہ میں آسودۂ خاک ہوا اور دوسری مدینہ مُنوّرہ میں، بھلا کیسے بے نام و نشان ہوسکتے ہیں؟

اے صاحبِ ہَفت اِقلیم !

سُن ذرا !

وادیِ بَطحا میں سوالی بن کر جانے والے

کہاں نام و نشاں کھوتے ہیں؟

کیسے مٹ سکتے ہیں وہ نُقوش جنہیں

قُدرتِ اِلٰہ نے محفوظ بنا رکھا ہو؟

بے شک، اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

تحری: سعید احمد شیخ، ریڈیو پاکستان