۳۰ نومبر ۱۹۲۵ء کی خُنک رات، قونیہ میں مولانا جلال الدین رومؒ کی درگاہ میں پینتیس مَولوی درویش مقیم تھے اور احاطۂ مزار کے ساتھ جُڑے قدیم حُجروں میں اُن کی یہ آخری شب بسری تھی کیونکہ اگلے دن ان حُجروں پر تالے پڑ جانا تھے۔
مولانا جلال الدین محمد رومیؒ (۱۲۰۷–۱۲۷۳ء) ایک صوفیٔ صافی، عارف باللہ اور روحانی بزرگ ہو گزرے ہیں۔ آپ کا آبائی وطن بلخ تھا، مگر آپ نے زندگی کا بڑا حصہ قونیہ میں گزارا اور آپ وہیں مدفون ہیں۔ آپ کی مشہور تصنیف ’مثنویِ مولویِ معنوی‘ ہے، جبکہ ’کلیاتِ شمس‘ کے نام سے آپ کا ایک دیوانِ غزلیات بھی ہے۔
مصطفیٰ نظام الدین نے اُس شام بڑے بھاری دل کے ساتھ، دوسرے خادموں کے ساتھ مل کر، درگاہ کے مَطبخ (باورچی خانے) میں داداؤں (درویشوں) اور زائرین کے لیے کھانا بنوایا۔
مَولوی سلسلے میں درویش اور طریقت میں مرتبہ حاصل کرنے والے شخص کے لیے ’دادا‘ کا لقب استعمال ہوتا تھا۔
مصطفیٰ نظام الدین خود بھی ایک ’دادا‘ تھے اور اس کے ساتھ ساتھ، کیونکہ اُن کے مرحوم والد صلاح الدین چلبی درگاہ کے سَرطَبّاخ (باورچیوں کے منتظم) بھی تھے، تو اُنہیں اپنے والد کی وفات کے بعد یہ منصب بھی کسی تردد کے بغیر ورثے میں مل گیا تھا۔
مَولوی روایت میں سَرطَبّاخ کا کام صرف کھانا پکوانے کا انتظام و انصرام نہیں تھا بلکہ بڑے مَولوی خانوں میں یہ ایک اہم روحانی و انتظامی منصب بھی تھا جس کی ذمہ داریوں میں درویشوں کی تربیت کرنا بھی شامل تھا۔ [بحوالہ: وَلَد چلبی اِزبوداق، ’خانقاہ سے مجلس تک: ایک غیر معمولی چلبی کی یادداشتیں‘، استنبول، تیماش یاینلری، ۲۰۰۹ء]
سَماع خانے میں عشاء کی نماز کے بعد شروع ہونے والی محفلِ سَماع، جس میں ’مَولوی آئین‘ گایا جاتا تھا، اُس میں مصطفیٰ نظام الدین بطور ’آئین خواںِ ثانی‘ بھی شریک ہوتے تھے۔
مَولوی آئین پڑھنے والے گویّوں کی جماعت کا سربراہ ’سَرآئین خواں‘ کہلاتا تھا۔ سَماع کی محافل میں پہلے سَرآئین خواں مصرعہ پڑھتا اور پھر ’آئین خواںِ ثانی‘ اسے دُہراتا تھا، جس کے بعد باقی آئین خواں آواز ملا کر ایک اجتماعی آہنگ پیدا کرتے تھے۔ یوں آئین خوانی کا یہ معاملہ قریب قریب برِّصغیر میں قَوّالی کی محفل سے مماثلت رکھتا تھا؛ قَوّالی میں بھی مرکزی قَوّال کے اٹھائے ہوئے مصرعے کو ساتھ بیٹھا دوسرا قَوّال دہراتا اور پھر ہمنوا اُس میں اپنی آوازیں شامل کرتے ہیں۔
مصطفیٰ نظام الدین ’قُدومی‘ بھی تھے۔ ’قُدوم‘ چھوٹے نَقّاروں سے مشابہ دو طبلوں پر مشتمل ساز تھا، جس کی ضرب سَماع کی تال قائم رکھتی تھی، اور اسے بجانے والے کو ’قُدومی‘ کہا جاتا تھا۔
’مولوی آئین‘ دراصل مولویہ سلسلے کی محفلِ سَماع کا مخصوص موسیقائی طریقۂ کار ہے۔ اس میں عموماً مولانا رومؒ کی فارسی غزلیں یا اشعار مخصوص عثمانی و ترکی موسیقی کے مقامات اور آلات، بالخصوص نَے (بانسری سے مشابہ ساز) اور قُدوم، کے ساتھ گائے جاتے ہیں۔
درگاہ کے آخری کارکنوں کی محفوظ فہرست میں مصطفیٰ نظام الدین کے نام کے ساتھ اُن کے چاروں مناصب ایک ساتھ درج ملتے ہیں: سَرطَبّاخ، دادا، آئین خواںِ ثانی اور قُدومی۔ [بحوالہ: یعقوب شفق، ’مولانا درگاہ کے آخری کارکن‘، ماہنامہ ’ینی اِپیک یولو‘، شمارہ: ۲۲۶، قونیہ، دسمبر ۲۰۰۶ء، ص ص: ۵۱–۵۳۔]
۳۰نومبر ۱۹۲۵ء کی اس تاریخی رات نظام الدین دادا سمیت سبھی آئین خواں اور قُدومی اُداس، مضطرب اور بے یقینی کا شکار تھے، البتہ لمبے سفید ’تَنُّورے‘ اور مخصوص نمدی ٹوپی ’سِکّہ‘ پہنے مَولوی درویش اُس رات بھی معمول کے مطابق اپنا مخصوص سَماع کرتے رہے۔ شاید صاحبِ مزار کی روحانی صحبت نے اُنہیں اُس آخری رات تک بھی بے باک رکھا تھا۔
مولانا رومؒ خود بھی حالتِ وَجد میں سَماع اور گردش کیا کرتے تھے۔ بعد ازاں آپ کے سلسلے کے درویشوں میں بھی سَماع کے دوران گردش کی یہ روایت جاری رہی اور وقت کے ساتھ اس نے ایک باقاعدہ اور مروّج طریقۂ کار کی شکل اختیار کرلی۔
۳۰نومبر ۱۹۲۵ء کی رات مولانا رومؒ کی درگاہ میں دیکھا جانے والا یہ اضطراب تُرک مجلس کے منظور کردہ قانون نمبر ۶۷۷ کی وجہ سے پیدا ہوا تھا، جس کے تحت جمہوریہ تُرکی کی حدود میں درگاہیں، تکیے اور زاویے بند کردیے گئے تھے اور شیخی، درویشی، مریدی، دادا، چلبی اور بعض دوسرے طریقتی القاب اور ان سے وابستہ مناصب کی قانونی حیثیت بھی ختم کردی گئی تھی۔
وَلَد چلبی اِزبوداق کے مطابق قونیہ میں مولانا رومؒ کی صدیوں پرانی درگاہ کے اس قانون کی زد میں آنے کے اگلے دن ہی پینتیس داداؤں، یعنی مَولوی درویشوں، میں سے بعض اپنے اپنے گاؤں واپس چلے گئے اور بعض نے حَلَب کا رُخ کیا، جبکہ اَنقَرہ کے محمد دادا اکیلے وہیں رہ گئے۔ اُنہوں نے اپنی کتاب بعنوان ’یادداشتیں‘ میں اس پورے عہد کے خاتمے کو ’اب مَولویت تاریخ کا حصہ بن چکی تھی‘ کے طور پر بھی بیان کیا ہے۔ [بحوالہ: وَلَد چلبی اِزبوداق، ’یادداشتیں‘، استنبول، ترکیہ یاینے وی، ۱۹۴۶ء، ’زندہ تاریخیں‘، جلد چہارم، ص: ۶۷۔]
مولانا رومؒ کا مزار البتہ بند نہیں کیا گیا۔ سبز گنبد اپنی جگہ موجود رہا، مولانا رومؒ بھی وہیں آسودۂ خاک رہے، مگر اُن کے مزار کے گرد آباد ایک پوری خانقاہی دنیا ختم ہوگئی۔
مولانا رومؒ کی تیرہویں صدی کے آخری رُبع سے آباد چلی آنے والی درگاہ کے گرد قائم خانقاہی دنیا کے خاتمے کے پیچھے تُرکی کا وہ سیاسی، سماجی اور تہذیبی انقلاب تھا جو مصطفیٰ کمال اتاترک لے کر آئے تھے۔ اُن کی قیادت میں عثمانی سلطنت کے صدیوں پرانے سیاسی نظام کے خاتمے کے بعد ۲۹ اکتوبر ۱۹۲۳ء کو تُرکی کو جمہوریہ قرار دیا گیا، جس کے وہ پہلے صدر بنے۔
اپنے متعارف کردہ انقلاب کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے مصطفیٰ کمال کی سیاسی جماعت نے ۳ مارچ ۱۹۲۴ء کو قانون سازی کے ذریعے خلافت کا ادارہ ختم کرتے ہوئے آخری عثمانی خلیفہ عبدالمجید ثانی کو بھی ملک بدر کر دیا تھا۔ وہ تُرکی سے پہلے سوئٹزرلینڈ گئے اور بعد میں فرانس میں سکونت اختیار کی۔
نئی تُرک قیادت اپنی ریاست کو پرانی عثمانی ترتیب سے نکال کر ایک جدید قومی ریاست کی صورت دینا چاہتی تھی۔
اتاترک نئی تُرک ریاست کو مذہبی اداروں کے بجائے قومی حاکمیت، جدید قانون، سائنس اور عصری تمدن کی بنیاد پر استوار کرنا چاہتے تھے۔ اُن کا مؤقف تھا کہ تکیے اور خانقاہیں اپنے اصل روحانی مقصد سے ہٹ کر توہّمات، بے عملی اور بعض اوقات مذہب کے سیاسی استعمال کا ذریعہ بن چکی ہیں اور جدید تُرکی کی ترقی کی راہ میں ایسی صورتِ حال باقی نہیں رہنی چاہیے۔
اس وسیع تر اصلاحی عمل کے دوران ملک میں موجود خانقاہی ادارے، اُن کے تکیے اور زاویے بھی تبدیلی کی زد میں آئے اور انہیں بند کردیا گیا۔
تاہم تُرکی میں ہونے والی یہ تبدیلیاں صرف تُرکوں کا داخلی معاملہ نہیں تھیں بلکہ ہزاروں میل دُور برِّصغیر کے مسلمان بھی ان سے براہِ راست متاثر ہورہے تھے۔ وہ خلافتِ عثمانیہ کے ساتھ گہری دینی، جذباتی اور سیاسی وابستگی رکھتے تھے اور برِّصغیر کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد عثمانی خلیفہ کو عالمِ اسلام کی وحدت کی علامت سمجھتی تھی۔ اور صرف یہی نہیں، وہ اس خلافت کو اُس اسلامی سیاسی روایت کا تسلسل خیال کرتی تھی جس کی ابتدا عہدِ خلفائے راشدینؓ سے ہوئی تھی۔
خلافتِ عثمانیہ کی بنیاد ۱۵۱۷ء میں سلطان سلیم اوّل نے رکھی۔ بعد کے عثمانی سلاطین نے اپنے لیے ’خلیفہ‘ کا لقب اختیار کیا۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسے مقدس مقامات کی سرپرستی کے سبب اس خلافت کو عالمِ اسلام میں خاص مذہبی وقار حاصل تھا۔
پہلی جنگِ عظیم (۱۹۱۴ء تا ۱۹۱۸ء) میں عثمانی تُرکی، برطانیہ اور اُس کے اتحادیوں کے مقابلے میں جنگ میں شریک ہوا جبکہ برِّصغیر کے مسلمان عین اسی زمانے میں تاجِ برطانیہ کی رعایا تھے۔ یہ ایک مشکل صورتِ حال تھی، لیکن اس میں مزید بگاڑ اُس وقت آیا جب جنگ میں اتحادی طاقتیں فاتح ہوئیں اور برِّصغیر کے مسلمانوں میں یہ اندیشہ شدت اختیار کرگیا کہ فاتح طاقتیں عثمانی علاقوں کو تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ خلافت کو بھی بے اختیار یا ختم کردیں گی۔
اسی پس منظر میں برٹش انڈیا میں ۱۹۱۹ء میں ’تحریکِ خلافت‘ ایک منظم سیاسی تحریک کی صورت میں سامنے آئی۔ مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، مولانا ابوالکلام آزاد اور دوسرے مسلم رہنما اس کے نمایاں قائدین تھے۔ اُن کا مطالبہ تھا کہ جنگ کے بعد ہونے والے امن معاہدوں میں خلافتِ عثمانیہ، عثمانی خلیفہ کے اقتدار اور مسلمانوں کے مقدس مقامات سے وابستہ حقوق کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ [بحوالہ: محمد نعیم قریشی، ’ہندوستان میں تحریکِ خلافت، ۱۹۱۹ء–۱۹۲۴ء‘، پی ایچ ڈی مقالہ، اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز، جامعۂ لندن، ۱۹۷۳ء۔]
مہاتما گاندھی نے نہ صرف ’تحریکِ خلافت‘ کی حمایت کی بلکہ ۱۹۲۰ء میں اسے برطانوی حکومت کے خلاف اپنی ’تحریکِ عدم تعاون‘ کے ساتھ جوڑ دیا۔ سرکاری اداروں، عدالتوں اور تعلیمی اداروں کے بائیکاٹ سمیت عدم تعاون کا پروگرام رفتہ رفتہ ایک بڑی عوامی تحریک کی صورت اختیار کرنے لگا۔
لیکن محمد علی جناح کو گاندھی کے اس طریقِ سیاست، بالخصوص مذہبی جذبات اور عوامی عدم تعاون کو ایک وسیع سیاسی تحریک کی صورت دینے سے بنیادی اختلاف تھا۔ ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۰ء کو گاندھی کے نام اپنے ایک خط میں جناح نے اُن کے تجویز کردہ طریقِ کار کے نتائج کے بارے میں سخت تشویش ظاہر کی۔ جناح نے لکھا کہ گاندھی کا پروگرام بالخصوص ناتجربہ کار نوجوانوں اور ’جاہل اور اَن پڑھ‘ لوگوں کے تخیل کو اپنی گرفت میں لے رہا ہے اور اس کا نتیجہ ’مکمل بدنظمی اور انتشار‘ ہوگا۔ جناح نے یہ بھی لکھا کہ وہ اپنے ہم وطنوں کو ایک ایسی کھائی کے کنارے تک لے جاتے نہیں دیکھنا چاہتے جہاں وہ تباہ ہوجائیں۔ [بحوالہ: محمد علی جناح، مہاتما گاندھی کے نام خط، ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۰ء؛ منقولہ مجموعۂ مکاتیب و تقاریرِ جناح، جلد اوّل، ص: ۴۰۰۔]
تحریکِ خلافت کی سرگرمیاں ابھی جاری تھیں کہ ۱۹۲۰ء کے موسمِ گرما میں ’تحریکِ ہجرت‘ شروع ہوگئی۔ بعض علماء اور مذہبی حلقوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ برطانوی اقتدار کے تحت ہندوستان میں اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کے حالات باقی نہیں رہے اور مسلمانوں کو کسی آزاد مسلم ملک کی طرف ہجرت کرنی چاہیے۔ افغانستان ہمسایہ آزاد مسلم ملک تھا؛ چنانچہ دسیوں ہزار ہندوستانی مسلمان اپنے گھر بار، زمینیں اور کاروبار چھوڑ کر افغانستان کی طرف نکل پڑے۔ اُن میں سے بہت سوں کے لیے افغانستان ’دارالاسلام‘ تھا، جہاں وہ برطانوی اقتدار سے آزاد ہوکر زندگی بسر کرسکتے تھے۔
افغانستان ابتدا میں مہاجرین کو قبول کرتا رہا، لیکن اتنی بڑی تعداد کو سنبھالنا مشکل ہوگیا اور بالآخر افغان حکومت نے سرحد بند کردی۔ راستے میں اور افغانستان پہنچنے کے بعد بہت سے مہاجرین سخت مصائب کا شکار ہوئے۔ جن لوگوں نے ہندوستان میں اپنی زمینیں، مکانات اور کاروبار فروخت یا ترک کردیے تھے، اُن میں سے بہت سوں کو بالآخر خالی ہاتھ واپس لوٹنا پڑا۔
لیکن جس خلافت کو بچانے کے لیے برِّصغیر میں جلسے ہورہے تھے، گرفتاریاں دی جارہی تھیں اور ہزاروں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر افغانستان تک جاپہنچے تھے، اُس کے مستقبل کا فیصلہ بالآخر ہندوستان میں نہیں بلکہ خود تُرکی میں ہوگیا۔ ۳ مارچ ۱۹۲۴ء کو خلافت کے خاتمے کے ساتھ تحریکِ خلافت کا بنیادی مقصد ہی باقی نہ رہا اور برِّصغیر کی یہ غیر معمولی تحریک بھی رفتہ رفتہ اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔
مگر تُرکی میں تبدیلی کا عمل اُسی شد و مد سے جاری و ساری رہا۔ یکم ستمبر ۱۹۲۶ء کو سابق مَولوی درگاہ کو ’قونیہ آثارِ عتیقہ میوزیم‘ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ درگاہ میں موجود اشیاء کی درجہ بندی، مرمت اور نمائش کا کام شروع ہوا اور ۲ مارچ ۱۹۲۷ء کو اسے باقاعدہ طور پر عوام کے لیے کھول دیا گیا۔ درویشوں کے حُجرے، مَطبخ، موسیقی کے ساز، ملبوسات، قالین، خطاطی کے نمونے اور قیمتی مخطوطات، جو کبھی ایک زندہ خانقاہ کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے، اب تاریخ کے محفوظ آثار بن گئے تھے۔ [بحوالہ: ہاشم کارپوز، ’مولانا میوزیم‘، دائرۃ المعارفِ اسلام، تُرکی دیانت وقف، جلد: ۲۹، ۲۰۰۴ء۔]
درگاہ کے گرد ایک قدیم قبرستان بھی تھا، جسے ’حدیقۃ الارواح‘ یعنی ’روحوں کا باغ‘ کہا جاتا تھا۔ میوزیم کے قیام کے بعد اس احاطے کی نئی ترتیب کے دوران یہاں موجود متعدد قبریں ہٹانے اور زمین ہموار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اخبارات کے ذریعے اعلان کیا گیا کہ سابق درگاہ کے چار دروازوں کے اندر واقع باغات میں ایسی قبریں، جنہیں تاریخ یا فن کے اعتبار سے محفوظ رکھنا ضروری نہیں سمجھا گیا، ہٹا دی جائیں گی۔ جن خاندانوں کے عزیز وہاں مدفون تھے، اُنہیں اجازت دی گئی کہ وہ چاہیں تو اپنے متعلقین کی باقیات اور سنگِ مزار کسی دوسری مناسب جگہ منتقل کرلیں۔
ریکارڈ کے مطابق ۶ جون ۱۹۲۷ء سے ۵ جولائی ۱۹۳۲ء تک ۱۵۷ سنگِ مزار متعلقہ خاندانوں کے حوالے کیے گئے، جبکہ تاریخی اور فنی اہمیت کے حامل سنگِ مزار میوزیم میں محفوظ رکھے گئے۔ خالی ہونے والی جگہوں کو ہموار کرکے وہاں پھولوں کی کیاریاں، سبزہ زار اور راہداریاں بنادی گئیں۔
یوں صدیوں سے درگاہ کے گرد پھیلی ہوئی ’حدیقۃ الارواح‘ کی پرانی صورت یکسر بدل گئی۔ جو احاطہ کبھی درگاہ، درویشوں کے حُجروں اور قدیم قبروں پر مشتمل ایک زندہ خانقاہی دنیا کا حصہ تھا، وہ اب ایک باقاعدہ میوزیم کے احاطے میں ڈھل چکا تھا؛ یہاں انتظامی دفاتر اور تحقیق کی غرض سے آنے والوں کے لیے سہولتوں کی سبیل وضع ہورہی تھی۔
تُرکی میں آنے والی اِن تبدیلیوں کو مسلمان مفکر اور شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال گہری دلچسپی سے دیکھ رہے تھے، اِس لیے کہ اُن کے روحانی پیر مولانا رومؒ کا مزار اِسی مملکت کے ایک شہر قونیہ میں واقع تھا۔
اقبال کے ہاں مولانا رومؒ محض ایک پسندیدہ صوفی شاعر نہیں بلکہ روحانی رہنما اور ’پیر‘ کی حیثیت رکھتے تھے۔ اپنی فارسی مثنوی ’اَسرارِ خودی‘ میں وہ مولانا رومؒ سے حاصل ہونے والے روحانی فیض کا اعتراف اِن الفاظ میں کرتے ہیں:
پیرِ رومی خاک را اِکسیر کرد
از غُبارم جلوہ ہا تعمیر کرد۔۔
(ترجمہ: پیرِ رومی نے میری خاک کو اِکسیر بنادیا اور میرے غُبار سے جلوے تعمیر کردئیے۔)
مولانا رومؒ سے اقبال کا یہ تعلق صرف فارسی شاعری تک محدود نہیں رہا۔ ’بالِ جبریل‘ کی نظم ’یورپ سے ایک خط‘ میں اقبال اپنے آپ کو باقاعدہ اُس قافلۂ شوق کا ایک فرد قرار دیتے ہیں جس کے سالار مولانا رومؒ ہیں:
ہم خُوگرِ محسوس ہیں، ساحل کے خریدار
اِک بحرِ پُرآشوب و پُراسرار ہے رومیؔ
تُو بھی ہے اُسی قافلۂ شوق میں اقبالؔ
جس قافلۂ شوق کا سالار ہے رومیؔ۔۔
[بحوالہ: ’کلیاتِ اقبال (اُردو)‘، مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور، ص: ۴۴۱]
اقبال تصوف کے اِنکاری نہیں تھے، مگر وہ ایسی خانقاہی زندگی اور درویشی کے سخت ناقد تھے جو انسان کو حرکت، جدوجہد اور عملی زندگی سے کاٹ دے۔ اُن کے نزدیک محض خانقاہ میں بیٹھ جانا فَقر نہیں تھا بلکہ اُن کے تصورِ فَقر میں قوتِ عمل، خودی، جرأت اور زمانے کی مشکلات سے مقابلہ بھی بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔
’ضربِ کلیم‘ کی نظم ’فَقر و راہبی‘ میں وہ فَقر اور رُہبانیت کے اِسی بنیادی فرق کو نہایت صراحت سے بیان کرتے ہیں:
سکُوں پرستیِ راہب سے فَقر ہے بیزار
فقیر کا ہے سفینہ ہمیشہ طوفانی۔۔۔۔
یہ فَقر مردِ مسلماں نے کھو دیا جب سے
رہی نہ دولتِ سلمانی و سلیمانی۔۔۔۔
[بحوالہ:’کلیاتِ اقبال (اُردو)‘، مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور، ص: ۵۱۲]
’بالِ جبریل‘ میں بھی اقبال فَقر کی دو متضاد صورتوں میں امتیاز کرتے ہوئے ایک ایسے فَقر کو رد کرتے ہیں جو انسان کو مسکینی اور دِلگیری میں مبتلا کردے، جبکہ دوسرے فَقر کو قوت اور جہاں گیری سے وابستہ کرتے ہیں:
اِک فَقر سِکھاتا ہے صیّاد کو نخچیری۔۔۔
اِک فَقر سے کھُلتے ہیں اَسرارِ جہاں گیری
اِک فَقر سے قوموں میں مسکینی و دِلگیری
اِک فَقر سے مِٹّی میں خاصیّتِ اِکسیری۔۔
[بحوالہ: کلیاتِ اقبال (اُردو)، مطبوعہشیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور، ۱۹۷۳ء، ص: ۴۵۲]
یہی وجہ ہے کہ اقبال کی شاعری میں ایک طرف مولانا رومؒ کے لیے بے پناہ عقیدت ملتی ہے اور دوسری طرف وہ خانقاہی جمود پر نہایت سخت ضرب لگاتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ’اَرمغانِ حجاز‘ میں وہ کہتے ہیں:
نکل کر خانقاہوں سے اَدا کر رسمِ شبیّری۔۔۔۔
کہ فَقرِ خانقاہی ہے فقط اندوہ و دِلگیری۔۔۔۔۔
ترے دِین و اَدب سے آ رہی ہے بُوئے رُہبانی
یہی ہے مرنے والی اُمّتوں کا عالَمِ پیری۔۔۔۔
[بحوالہ: ’کلیاتِ اقبال (اُردو)‘، مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور، ص: ۶۸۰]
عین اِسی زمانے میں علامہ محمد اقبال اور تُرکی کے شاعر محمد عاکف اَرسوئے کے مابین رابطہ قائم ہوا۔ مارچ ۱۹۲۵ء میں محمد عاکف کے پاس ہندوستان سے اقبال کی دو منظوم کتابیں پہنچیں، جن میں سے ایک ’پیامِ مشرق‘ تھی۔
محمد عاکف اَرسوئے کے لیے ’پیامِ مشرق‘ محض ہندوستان سے آنے والا ایک فارسی مجموعۂ کلام نہیں تھا بلکہ یہ کتاب اُنہیں ایک ایسے شاعر سے متعارف کروانے کی سبیل بنی تھی جس کے اَفکار میں اُنہیں اپنے فکری اور روحانی اضطراب کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔
اِس اَمر کا اہم دستاویزی ثبوت عاکف کا ۸ مارچ ۱۹۲۵ء کا وہ خط ہے جو اُنہوں نے مصر سے اپنے قریبی دوست حافظ عاصم کو لکھا۔ عاکف نے لکھا کہ گزشتہ ہفتے اُنہیں ’ہندوستان کے اسلامی شاعر محمد اقبال‘ کی دو منظوم کتابیں ملی ہیں۔ اقبال کا نام اُن کے لیے بالکل نیا نہیں تھا؛ اِس سے پہلے وہ اَنقَرہ میں اُن کی ایک مختصر کتاب دیکھ چکے تھے، لیکن اب اُن کے ہاتھ اقبال کی باقاعدہ شعری کتابیں آئی تھیں، جن میں ’پیامِ مشرق‘ بھی شامل تھی۔
عاکف نے خاص طور پر لکھا کہ اقبال نے مولانا رومؒ کو بہت پڑھا ہے، اُن سے بہت محبت کرتے ہیں اور اُنہیں اپنا ’مُرشد‘ کہتے ہیں۔ ’پیامِ مشرق‘ کی غزلوں اور قطعات نے عاکف کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ اِسی خط میں اُنہوں نے ایک دلچسپ بات یہ بھی بتائی کہ استنبول میں ’سبیلُ الرشاد‘ کے دفتر آنے والے چند ہندوستانی مسلمانوں کے ہاتھ اُنہوں نے اپنی کتاب ’صفحات‘ کے نسخے اقبال تک پہنچانے کے لیے دیے ہیں۔[بحوالہ: محمد اُندر، ’محمد عاکف اور محمد اقبال‘، ’ملّی کُلتور‘، ش: ۵۷، مئی ۱۹۸۷ء، ص: ۵۱–۵۳]
محمد عاکف کے دوست ماہر اِز اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ وہ ’پیامِ مشرق‘ کو دو مرتبہ پڑھ چکے تھے اور اسے اتنا پسند کرتے تھے کہ اُنہوں نے ماہر اِز سے کہا کہ اب ہم دونوں اسے مل کر پڑھتے ہیں۔ اِس مقصد کے لیے منگل کا دن مقرر ہوا؛ ایک منگل عاکف اُن کے ہاں جاتے اور اگلے منگل ماہر اِز عاکف کے ہاں آتے۔ ماہر اِز فارسی متن پڑھتے اور عاکف سنتے۔ کہیں کسی شعر پر رُک جاتے، کہیں دوبارہ پڑھواتے اور کہیں بے اختیار مسکرا دیتے۔
پھر عاکف مصر چلے گئے، لیکن ’پیامِ مشرق‘ اُن کے ذہن سے نہیں نکلی۔ یکم فروری ۱۹۲۷ء کو مصر سے ماہر اِز کو لکھے گئے خط میں اُنہوں نے خاص طور پر اُس نسخے کے بارے میں پوچھا ’جسے ہم نے مل کر پڑھا تھا‘ اور کہا کہ اگر کتاب اُن کے پاس رہ گئی ہے تو اسے عمر رضا دوغرول کے حوالے کردیں تاکہ اُن تک مصر پہنچائی جاسکے۔[بحوالہ: ماہر اِز، ’برسوں کے نقوش‘، اِرفان یاینے وی، استنبول، ۱۹۷۵ء، ص: ۱۳۹]
فارسی کے عالم اور محمد عاکف کے ایک اور قریبی دوست، عبدُالوہّاب عزّام کے مطابق، قاہرہ میں اپنے قیام کے دوران عاکف نے اُن کے ساتھ اقبال کا کلام پڑھنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ عزّام لکھتے ہیں کہ عاکف ہی نے اُنہیں اقبال سے متعارف کروایا اور ایک روز ’پیامِ مشرق‘ اُنہیں پڑھنے کے لیے دی۔ بعد ازاں دونوں نے مل کر ’اَسرارِ خودی‘ پڑھی اور چند نشستوں میں اسے مکمل کیا؛ پھر ’رُموزِ بے خودی‘ کا بھی اِسی طرح مطالعہ کیا اور اسے دوبارہ پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ یوں اقبال عاکف کے لیے کسی دُور دراز ملک کے اجنبی شاعر نہیں رہے تھے بلکہ اُن کی فکری اور اَدبی دنیا کا حصہ بن چکے تھے۔
اور پھر یہ کہ اِن دونوں عظیم شاعروں کے مابین تعلق یک طرفہ نہیں تھا؛ علامہ محمد اقبال بھی محمد عاکف سے واقف تھے۔ اِس کی ایک دلچسپ شہادت یہ ہے کہ محمد عاکف کی ’صفحات‘ کا ایک پرانا نسخہ ۱۹۷۶ء تک علامہ اقبال کی ذاتی لائبریری میں موجود تھا۔ یہ وہی کتاب تھی جس کے بارے میں عاکف نے ۸ مارچ ۱۹۲۵ء کے اپنے خط میں لکھا تھا کہ استنبول میں ’سبیلُ الرشاد‘ کے دفتر آنے والے چند ہندوستانی مسلمانوں کے ہاتھ اُنہوں نے اِس کے نسخے اقبال تک پہنچانے کے لیے دیے تھے۔
تُرک محقق محمد اُندر کے مطابق ۱۹۳۰ء کے بعد، جب عاکف قاہرہ میں مقیم تھے، دونوں شاعروں کے درمیان خط و کتابت بھی ہوتی رہی۔ عاکف کے داماد عمر رضا دوغرول نے ۱۹۶۶ء میں قونیہ میں ’مولانا اور اقبال‘ کے موضوع پر ایک تقریر کے دوران اقبال کا محمد عاکف کے نام ایک فارسی خط بھی پڑھ کر سنایا تھا۔
خط کے متن میں اقبال تُرک قوم اور نئے تُرکی سے اپنی محبت کا اظہار کرتے اور تُرکی، بالخصوص قونیہ میں مولانا رومؒ کے مقام کی زیارت کی خواہش ظاہر کرتے ہیں۔ اِسی خط میں اقبال سے منسوب ایک خوب صورت تمثیل بھی ملتی ہے: دل کی گہرائیوں میں ایک گلستان، اُس کے وسط میں روشن آگ اور اُس آگ کی طرف بڑھتا ہوا پروانہ، اور یہ آگ مولانا رومؒ کی محبت ہے۔[بحوالہ: محمد اُندر، ’محمد عاکف اور محمد اقبال‘، ’ملّی کُلتور‘، ش: ۵۷، مئی ۱۹۸۷ء، ص: ۵۳، ڈیجیٹل ایڈیشن۔]
علامہ محمد اقبال کا تُرک شاعر محمد عاکف اَرسوئے سے متاثر ہونا اِس لیے بھی قابلِ فہم تھا کہ عاکف اپنے زمانے کے تُرکی کے ممتاز ترین شاعروں میں شمار ہوتے تھے۔ اِس حقیقت کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اُنہی کی لکھی ہوئی نظم ’اِستقلال مارشی‘ ۱۲ مارچ ۱۹۲۱ء کو تُرکی کے قومی ترانے کے طور پر منظور ہوئی۔ اِسی نسبت سے عاکف آج بھی تُرکی میں ’ملّی شاعر‘، یعنی قومی شاعر، کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔
دوسری طرف محمد عاکف کا اقبال کی شاعرانہ عظمت کو تسلیم کرنا، ہندوستان کے اِس شاعر کی طرف تُرکی کے اہلِ علم و اَدب کی توجہ مبذول کرانے میں اہم ثابت ہوا۔ تُرکی میں محمد عاکف کا اپنا علمی و اَدبی قد کاٹھ اتنا بڑا تھا کہ اُن کا اقبال کے لیے رَطبُ اللِّسان ہونا تُرک علمی و اَدبی حلقوں میں اقبال کے تعارف اور پذیرائی کا ایک مؤثر ذریعہ بن گیا۔
محمد عاکف اَرسوئے ۲۷دسمبر ۱۹۳۶ء کو استنبول میں وفات پاگئے اور اُنہیں اِدرنہ قاپی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں آج بھی اُن کی قبر موجود ہے۔ تقریباً سولہ ماہ بعد، ۲۱ اپریل ۱۹۳۸ء کو، اُن کے ممدوح علامہ محمد اقبال بھی اِس دنیا سے رخصت ہوگئے اور لاہور میں بادشاہی مسجد کے پہلو میں سپردِ خاک ہوئے۔
محمد عاکف کے بعد تُرکی میں اقبال شناسی کا بیڑا علی نہاد تارلان نامی ممتاز تُرک عالمِ اَدبیات، فارسی کے صاحبِ نظر محقق اور شاعر نے اٹھایا۔ وہ اقبال کی فارسی شاعری کے اہم تُرک مترجمین میں شامل ہوئے اور اُنہوں نے اقبال کے متعدد فارسی مجموعوں کو تُرکی زبان میں منتقل کیا۔ اقبال کے ساتھ قائم ہونے والا یہ علمی و اَدبی تعلق بالآخر اُنہیں خود لاہور تک بھی لے آیا۔
۲۳اپریل ۱۹۵۷ء کے دن علی نہاد تارلان، علامہ محمد اقبالؒ کی اُنیسویں برسی کے موقع پر پاکستان آئے؛ عبدالحمید عرفانی اور محمد باقر بھی اُن کے ساتھ تھے۔ وہ مزارِ اقبالؒ پر گئے اور ایک بے خودی کی سی کیفیت میں اُنہوں نے فارسی میں ایک نظم لکھی جس کا عنوان تھا: ’قونیۂ دوم—اقبالؒ کی قبر پر‘۔[بحوالہ: علی نہاد تارلان، ’مولانا‘، استنبول، ۱۹۷۴ء، ص: ۱۰۵–۱۰۸]
جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے، اِس نظم میں تارلان کے لیے پہلا قونیہ وہ تھا جہاں مولانا رومؒ آسودۂ خاک ہیں، مگر لاہور میں اقبالؒ کی قبر کے سامنے کھڑے ہوکر اُنہیں ایک دوسرا قونیہ دکھائی دیا؛ ہزاروں میل کے جغرافیائی فاصلے کے باوجود تارلان کی نگاہ میں دونوں ہستیاں ایک ہی روحانی سلسلے سے جڑی ہوئی تھیں۔
تُرک مآخذ بھی تارلان کی اِس نظم ’اِکنجی قونیہ‘ (دوسرا قونیہ) کا اختصاص کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔ علی نہاد تارلان نے اقبالؒ کی فارسی شاعری کو تُرک زبان میں منتقل کرنے اور تُرکی میں اقبال شناسی کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اُنہوں نے ’پیامِ مشرق‘، ’اَسرار و رُموز‘ اور اقبالؒ کے دوسرے فارسی کلام کے تراجم کیے۔ حکومتِ پاکستان نے اقبالؒ کے تراجم اور تُرکی میں اُن کے تعارف کے لیے انجام دی گئی خدمات کے اعتراف میں تارلان کو ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا۔
لاہور میں اقبالؒ کی قبر پر ’قونیۂ دوم‘ لکھنے کے آٹھ برس بعد علی نہاد تارلان نے اِس روحانی نسبت کو قونیہ میں ایک مستقل علامت دینے کا فیصلہ کیا۔ مولانا رومؒ کی درگاہ کے احاطے ’حدیقۃُ الارواح‘ میں اُنہوں نے ۱۲ دسمبر ۱۹۶۵ء کو دو شاعروں کے نام پر دو ’مقام‘ قائم کروائے: ایک عثمانی عہد کے معروف شاعر نفعی کے لیے اور دوسرا پاکستان کے شاعر اور مفکر محمد اقبالؒ کے لیے۔ مولانا میوزیم کے باغ میں اقبالؒ اور نفعی کے اِن ’مقامات‘ کی افتتاحی تقریب بھی منعقد ہوئی تھی۔
یہاں لفظ ’مقام‘ (makam) اِس پوری داستان کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ تُرکی میں اِس لفظ کا ایک مخصوص تدفینی اور زیارتی مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ معروف تُرک لغت نویس مہمت دوغان اپنی ’بُیوک تُرکچہ سوزلُک‘ میں ’مقام‘ کے معنوں میں کسی بلند مرتبہ شخصیت کی قبر کے ساتھ ساتھ اُس شخصیت کے نام پر قائم کی گئی تُربت یا زیارت گاہ کا مفہوم بھی بیان کرتے ہیں۔ اِس اعتبار سے ’مقام‘ کے لیے ضروری نہیں کہ جس شخصیت کے نام پر وہ قائم کیا گیا ہو، اُس کی میت بھی وہیں مدفون ہو۔ اقبالؒ کے قونیہ والے ’مقام‘ کی نوعیت بھی یہی ہے: وہ اُن کا حقیقی مدفن نہیں بلکہ اُن کے نام پر قائم علامتی مزار ہے۔[بحوالہ: مہمت دوغان، ’بُیوک تُرکچہ سوزلُک‘، انقرہ، ۲۰۰۱ء، ص: ۸۷۱۔]
نفعی سترہویں صدی کے عثمانی اَدب کے بڑے شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اصل نام عمر تھا اور ’نفعی‘ تخلّص کرتے تھے۔ قصیدہ گوئی کے ساتھ ساتھ اُن کی شہرت اُن کی نہایت تند و تیز ہجویہ شاعری کے باعث بھی تھی۔ سلطان مراد چہارم کے عہد میں اُنہیں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی، لیکن یہی بے باک ہجو اُن کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی اور ۱۶۳۵ء میں اُنہیں قتل کردیا گیا۔
نفعی کی قبر کا مقام معلوم نہیں؛ بعض روایات کے مطابق قتل کیے جانے کے بعد اُن کی میت سمندر بُرد کردی گئی تھی۔ علامہ محمد اقبالؒ کی طرح نفعی بھی مولانا رومؒ سے عقیدت رکھتے اور اُن کی مدح کہتے تھے۔ اِسی روحانی نسبت کے باعث تارلان نے اُنہیں بھی مولانا رومؒ کی بارگاہ میں ایک ’مقام‘ دیا۔ خود تُرک ماخذ نفعی کو ’جس کی قبر نہیں‘ قرار دیتے ہوئے اُن کے لیے ’مقام‘ قائم کیے جانے کا ذکر کرتا ہے، جس سے یہاں اِس اصطلاح کا مفہوم مزید واضح ہوجاتا ہے۔
نفعی کے سنگ پر اُن کا نام اور سنینِ حیات ۱۵۷۲ء–۱۶۳۵ء درج ہیں اور تحریر کا مفہوم ہے: ’روئے زمین پر جس کی قبر موجود نہیں، اُس عظیم تُرک شاعر نفعی کو اُن کے عزیز مُرشد مولانا کی بارگاہ میں یہ مقام دیا گیا۔‘
دوسرے سنگِ مرمر پر محمد اقبالؒ، ۱۸۷۳ء–۱۹۳۸ء درج ہے اور کتبے کا مفہوم ہے: ’پاکستان کے قومی شاعر اور مفکر محمد اقبالؒ کو اُن کے عزیز مُرشد مولانا کی بارگاہ میں یہ مقام دیا گیا۔‘
قونیہ میں علامہ اقبالؒ کا یہ ’مقام‘ ۱۹۶۵ء میں قائم ہوا، اور اُس وقت آپؒ کی تاریخِ پیدائش کا مسئلہ ابھی قطعی طور پر حل نہیں ہوا تھا۔ بیسویں صدی کے وسط تک پاکستان میں بھی ۱۸۷۳ء کو اقبالؒ کا سالِ پیدائش ماننے کی ایک مضبوط روایت موجود تھی۔ ۱۹۵۱ء میں بزمِ اقبال کی قائم کردہ کمیٹی نے دستیاب ریکارڈ کی تحقیق کے بعد ۲۲ فروری ۱۸۷۳ء کو تاریخِ پیدائش قرار دیا تھا۔ اِسی بنا پر عبدالمجید سالک نے ’ذکرِ اقبال‘ (۱۹۵۵ء) میں ۱۸۷۳ء لکھا، اور خود محکمہ ڈاک پاکستان نے ۱۹۵۸ء کے اقبالؒ یادگاری ڈاک ٹکٹ پر بھی ۱۸۷۳ء ہی چھاپا تھا۔
پھر معاملہ بدلا۔ ۱۹۵۸ء میں چیک محقق یان ماریک نے اقبالؒ کی اپنی فراہم کردہ معلومات کی طرف توجہ دلائی۔ اقبالؒ نے اپنے ڈاکٹریٹ کے کاغذات میں اپنی پیدائش ۳ ذوالقعدہ ۱۲۹۴ھ لکھی تھی، اگرچہ عیسوی سال کے حساب میں اُنہوں نے خود ۱۸۷۶ء لکھ دیا تھا۔ اِس ہجری تاریخ کی درست عیسوی تطبیق ۹ نومبر ۱۸۷۷ء بنتی ہے۔ بعد میں پاکستان میں قائم ہونے والی تحقیقی/سرکاری کمیٹیوں نے بھی اِسی نتیجے کو قبول کیا۔ اقبال اکادمی کے تحقیقی مواد میں بھی ۹ نومبر ۱۸۷۷ء ہی اختیار کیا گیا ہے۔ اِس تناظر میں اِس سنگِ مرمر کی تختی کی درستگی بھی ضروری ٹھہرتی ہے۔
اقبالؒ کا حقیقی مدفن لاہور میں بادشاہی مسجد کے پہلو میں ہے۔ قونیہ کا یہ ’مقام‘ آپؒ کا علامتی مزار اور تدفینی یادگار ہے؛ ایک ایسے شاعر کی یادگار جس نے مولانا رومؒ کو اپنا ’پیرِ رومی‘ کہا اور خود کو اُن کا ’مُریدِ ہندی‘ قرار دیا۔
علامہ محمد اقبالؒ نے اپنے بیٹے جاوید اقبال کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا:
پیرِ رومی را رفیقِ راہ ساز
تا خدا بخشد ترا سوز و گداز
(ترجمہ: پیرِ رومی کو اپنا رفیقِ راہ بنا، تاکہ خدا تجھے سوز و گداز عطا کرے۔)
اقبالؒ اپنی زندگی میں قونیہ نہ پہنچ سکے، مگر اُن کی وفات کے ستائیس برس بعد مولانا رومؒ کے مزار کے احاطے میں اُن کے نام کا ایک ’مقام‘، ایک علامتی مزار، وجود میں آگیا۔
رفیقِ راہ شاید ایسے ہی ہوتے ہوں گے۔
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان