کھیل کود کی عُمر میں شاعر بننے کی ٹھانی تو وہ اوّل اوّل "رَونق جمویؔ" بنے اور پھر "جعفر چمکوریؔ"۔
ضلع رُوپ نگر (انڈیا) کے شہر چمکور صاحب سے اِس قدر دِلی نسبت جُڑی کہ اپنے سکول کے لااُبالی کے زمانے کی پہلی شاعرانہ سَعی اُسی شہر کی مدح میں بروئے کار لائے
یہ ایسا عجب شہر چمکور ہے…کہ ثانی نہیں، جِس کا لاہور ہےپھر اِس "جعفر چمکوریؔ" کے کلام میں تَکلُّفاً غزلیں بھی شامل ہونے لگیںمِرے منہ پہ زُلفیں گرانے کو آجامِری بات بِگڑی بنانے کو آجا…تِری یاد کی گھنٹیاں بج رہی ہیں…مِرے دِل کی دُنیا بسانے کو آجا
وہ بی۔ اے۔ ایس۔ جے۔ ایس۔ خالصہ ہائی اسکول، چمکور صاحب (جو سِکھوں کے دسویں گُرو، گُرو گوبند سنگھ کے بیٹوں، صاحبزادہ اجیت سنگھ اور صاحبزادہ جوجھار سنگھ کی یاد میں قائم کیا جانے والا تعلیمی اِدارہ تھا) کے اب تک کے سب سے لائق طالبِ علم سمجھے جاتے ہیں۔
کمالِ قدرت دیکھیے کہ میٹرک پاس کرنے کے ایک دہائی کے اندر اندر جہاں وہ "جعفر چمکوریؔ" سے “قدرت اللہ شہاب (آئی۔ سی۔ ایس.)” بن گئے، وہاں اُن کا اِسی زمانۂ طالبِ علمی کا لکھا (اُن کا پہلا) افسانہ “چندراوتی”، “جِس نے پڑھا، وُہی اپنا آپ کھو بیٹھا” کی مُجسَّم شکل بیان کیا جاتا ہے۔
اِس بات سے کسی کو اِنکار نہیں کہ قدرت اللہ شہاب اِنڈین سول سروس کے وہ قابل افسر تھے جِن کے پاس ترقی کے سبھی گُن موجود تھے۔ اور اپنے اِنہی گُنوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اُنہوں نے ترقی بھی بہت خوب کی۔ باقی سب ترقیاں ایک طرف، اَدبی میدان میں اُن کی ترقی کا اندازہ صرف اِس بات سے لگائیے کہ اُن کے لکھے “شہاب نامہ” کا توڑ ابھی تک صفحاتِ شُہود پر ظاہر نہیں ہو سکا۔ اِس کتاب کے رَد میں لکھی سینکڑوں، ہزاروں تحریروں کے بعد آج بھی لوگ “شہابیے” بنتے اور اِس کتاب کی مدح سَرائی کرتے نظر آتے ہیں۔
قدرت اللہ شہاب 26 فروری 1917ء کو گلگت میں پیدا ہوئے۔ والد عبداللہ بسلسلہ روزگار جموں کشمیر نقل مکانی کر آئے تو ابتدائی تعلیم کا آغاز 1922ء میں جموں کے اکبر اسلامیہ ہائی اسکول سے کیا۔اسی دوران طاعون کی ہولناک وبا کے باعث خاندان کو جموں سے سری نگر منتقل ہونا پڑا۔ 1926ء میں وہ ضلع روپ نگر کے تاریخی قصبے چمکور پہنچے، جہاں بی۔ اے۔ ایس۔ جے۔ ایس۔ خالصہ ہائی اسکول میں داخل ہوئے اور 1933ء میں اسی ادارے سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ میٹرک کے بعد انہوں نے پرنس آف ویلز کالج، جموں میں داخلہ لیا، جہاں 1933ء سے 1937ء تک ایف۔ ایس۔ سی اور بی۔ اے کی تعلیم حاصل کی۔ طالب علمی کے اسی زمانے میں ایک بین الاقوامی مضمون نویسی کے مقابلے میں اوّل انعام حاصل کر کے اپنی غیر معمولی علمی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انگریزی ادب، خصوصاً شیکسپیئر، برنارڈ شا، جان کیٹس اور پرسی شیلے کا گہرا مطالعہ بھی اسی عرصے میں ان کی شخصیت کا حصہ بنا، جبکہ کیٹس اور شیلے کی نظموں کے اردو تراجم اور ان کے ابتدائی افسانے مختلف ادبی جرائد میں شائع ہونے لگے۔
1937ء میں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے گورنمنٹ کالج لاہور پہنچے، جہاں انگریزی ادبیات میں ایم۔ اے کیا۔ 1941ء میں ایم۔ اے مکمل کرنے کے فوراً بعد انڈین سول سروس (ICS) کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور ریاست جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے پہلے مسلمان بنے جنہیں اس اعلیٰ ترین سول سروس میں شمولیت کا اعزاز حاصل ہوا۔
1941ء میں انڈین سول سروس (ICS) میں شمولیت کے ساتھ ہی قدرت اللہ شہاب کی عملی زندگی کا ایک نیا باب شروع ہوا۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد انہوں نے برطانوی ہند میں مختلف انتظامی ذمہ داریاں انجام دیں اور اپنی غیر معمولی انتظامی صلاحیت، دیانت داری اور فیصلہ سازی کے باعث جلد ممتاز افسران میں شمار ہونے لگے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے اپنی خدمات نومولود مملکت کے لیے وقف کر دیں۔ ابتدا میں وزارتِ تجارت میں انڈر سیکریٹری مقرر ہوئے، پھر حکومتِ آزاد جموں و کشمیر کے پہلے سیکریٹری جنرل، ڈپٹی کمشنر جھنگ، ڈائریکٹر انڈسٹریز حکومتِ پنجاب، وفاقی سیکریٹری اطلاعات اور سیکریٹری تعلیم جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔ بعدازاں انہیں ہالینڈ میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے گورنر جنرل غلام محمد، صدر اسکندر مرزا اور صدر ایوب خان کے پرائیویٹ سیکریٹری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں، جس کے باعث انہیں ریاستی امور اور اقتدار کے ایوانوں کو قریب سے دیکھنے کا منفرد موقع ملا۔ سرکاری ملازمت سے علیحدگی کے بعد وہ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو (UNESCO) سے وابستہ ہوئے، جہاں مقبوضہ عرب علاقوں میں تعلیم اور ثقافت سے متعلق منصوبوں پر گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ایک بااصول، دیانت دار، فرض شناس اور صاحبِ کردار سول سرونٹ کی حیثیت سے قدرت اللہ شہاب کا نام آج بھی پاکستان کی انتظامی تاریخ میں نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔
قدرت اللہ شہاب کی اصل شہرت اگرچہ ایک ممتاز سول سرونٹ کی حیثیت سے ہوئی، مگر اردو ادب میں ان کا مقام اس سے کہیں زیادہ بلند ہے۔ وہ اپنے عہد کے اُن معدودے چند نثر نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سادہ، دل نشیں اور اثر آفریں اسلوبِ نگارش کو ایک نئی شناخت عطا کی۔ ان کی تحریروں میں سرکاری زندگی کے تلخ و شیریں تجربات، انسانی نفسیات، روحانی مشاہدات، معاشرتی اقدار اور قومی تاریخ ایک دوسرے میں اس طرح مدغم نظر آتے ہیں کہ قاری خود کو ان کے ساتھ چلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔
ان کی ادبی خدمات کا نقطۂ عروج “شہاب نامہ” ہے، جسے اردو زبان کی مقبول ترین خودنوشتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک سوانحِ حیات نہیں بلکہ برصغیر کی تقسیم، قیامِ پاکستان، ریاستی نظم و نسق، اقتدار کے ایوانوں اور ایک حساس ادیب کے باطنی سفر کی مستند داستان بھی ہے۔ اس کے علاوہ “یا خدا”، “نفسانے”، “ماں جی”، “سرخ فیتہ” اور متعدد افسانے اور مضامین بھی ان کے منفرد ادبی ذوق اور فکری گہرائی کے آئینہ دار ہیں۔
1959ء میں جب پاکستان رائٹرز گلڈ قائم ہوئی تو قدرت اللہ شہاب اس کے بانیوں میں شامل تھے اور اس کے پہلے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔ انہوں نے نہ صرف ادیبوں کو ایک مؤثر قومی پلیٹ فارم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ ملک میں ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور اہلِ قلم کی فلاح کے لیے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔
قدرت اللہ شہاب کی تحریروں کا امتیاز یہ ہے کہ ان میں زبان کی سادگی، بیان کی شگفتگی، مشاہدے کی گہرائی، کردار نگاری کی قوت اور روحانی تجربات کی صداقت ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال کے چار عشرے گزرنے کے باوجود ان کی کتابیں آج بھی اسی شوق سے پڑھی جاتی ہیں اور “شہاب نامہ” اردو ادب میں اپنی مثال آپ تصنیف سمجھی جاتی ہے۔
قدرت اللہ شہاب 24 جولائی 1986ء کو اِس جہانِ فانی کو الوداع کہہ گئے۔ اسلام آباد کے ایچ۔8 قبرستان میں اُن کی قبر پر آج بھی اُن کے معتقدین اور چاہنے والے (جنہیں قدرت اللہ شہاب کے بعض ناقدین “شہابیوں” کا نام دیتے ہیں) فاتحہ خوانی کے لیے حاضری دیتے ہیں۔ اُنہوں نے “شہاب نامہ” میں لکھا ہے:
“میں نے دنیا بھر کے درجنوں سربراہانِ مملکت، وزرائے اعظم اور بادشاہوں کو کئی کئی مرتبہ کافی قریب سے دیکھا ہے، لیکن میں کسی سے مرعوب نہیں ہوا، اور نہ ہی کسی میں مجھے اُس عظمت کا نشان نظر آیا جو جھنگ شہر میں شہید روڈ کے فٹ پاتھ پر بیٹھے پرانے، پھٹے پرانے جوتے گانٹھنے والے موچی میں دکھائی دیا تھا۔”
قدرت اللہ شہاب واقعی ایسے ہی تھے، کسی دُنیاوی منصب سے مرعوب نہ ہونے والے۔ وہ وفاقی سیکریٹری اطلاعات کے عہدے پر فائز رہے اور اِس حیثیت سے ریڈیو پاکستان بھی اُن کے انتظامی دائرۂ اختیار میں رہا۔ ریڈیو پاکستان کے صوتی خزانے میں اُن کا ایک انٹرویو آج بھی محفوظ ہے۔
ریڈیو پاکستان، حکومتِ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کے اِس سابق منتظمِ اعلیٰ، ممتاز بیوروکریٹ اور اُردو کے نامور ادیب، قدرت اللہ شہاب کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ اُن کی تحریریں آج بھی دلوں کو منور کرتی اور ذہنوں کو مِہمِیز دیتی ہیں۔
کچھ خوش نصیب قلم کار اپنے عہد سے آگے بھی زندہ رہتے ہیں ۔ قدرت اللہ شہاب اُنہی چند خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں۔
اللہ تعالیٰ اُنہیں اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین!
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان