بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کشمیر کے سیاسی تنازع سے فوجی طاقت اور جنگی طریقوں کے ذریعے نمٹنے کی بی جے پی حکومت کی پالیسی کی مذمت کی ہے۔
حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سری نگر میں جاری ایک بیان میں کشمیر کو جنوبی ایشیا کی دو جوہری طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعے کی بنیادی وجہ قرار دیا۔
انہوں نے بھارتی حکومت کی جانب سے اس سیاسی مسئلے سے فوجی طاقت اور وحشیانہ طریقے کے ذریعے نمٹنے کی کوشش پر افسوس کا اظہار کیا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا کہ کشمیری عوام، موجودہ مشکل صورتحال کے باوجود حق خود ارادیت کے اپنے مطالبے پر ثابت قدم اور اپنی سیاسی امنگوں کے لیے قربانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے تنازع کا حل نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں امن اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔
انہوں نے محاصرے اور تلاشی کی مسلسل کارروائیوں اور بھارتی فوجی و پولیس افسران کے مقبوضہ علاقے اور لائن آف کنٹرول کے ساتھ علاقوں کے دوروں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات بھارت کے کشمیر مخالف عزائم کی عکاسی کرتے ہیں اور نہتے عوام کو جنگ کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے کہا کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ حریت قیادت سمیت کشمیری سیاسی قیدی بدستور طویل عرصے سے زیرِ حراست ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی بی جے پی حکومت حریت تنظیموں کے آزادی اورامن پسند کارکنوں کو حراست میں لے کر ان کے عزم اور نصب العین سے وابستگی کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قید و بند کے مصائب کے باوجود حریت کارکن اپنے سیاسی مقصد کے لیے پرعزم ہیں اور رہائی کے بعد حق خود ارادیت کے لیے اپنی جدوجہد نئے جوش اور عزم کے ساتھ جاری رکھیں گے۔