کشمیری سیاسی تنظیموں نے اقوام متحدہ کی جانب سے جموں و کشمیر کو نقشوں میں مسلسل متنازع علاقہ قرار دینے کا خیرمقدم کیا ہے۔
جموں و کشمیر متحدہ کونسل اور عالمی امن تحریک سمیت مختلف تنظیموں نے اپنے بیانات میں اقوام متحدہ کے نقشہ نمبر4668 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نقشے میں جموں و کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیا گیا ہے جس میں کنٹرول لائن کو بین الاقوامی باؤنڈری کے بجائے Dotted لائن کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔
تنظیموں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چار ستمبر کو منظور کردہ قرارداد میں جموں وکشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس تنازع کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرانے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے۔
ادھر، سیاسی تجزیہ کاروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکام کی جانب سے اسلام سے قبل تہذیبوں کے بارے میں بیانیے پر زور دیئے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مقبوضہ وادی کے اسلامی ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق نے گریز کو صوفیائے کرام اور بزرگان دین کی سرزمین قرار دیا اور مقبوضہ وادی میں ایسی تقریبات کی روک تھام پر زور دیا۔