فائل فوٹو
کل جماعتی حریت کانفرنس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں سیاسی ناانصافی اور بھارتی ریاستی دہشت گری اور ہندوتوا کے مذموم عزائم کے خلاف متحد ہو کر اپنی آواز اٹھائیں۔
حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس ایڈووکیٹ نے سری نگر میں ایک بیان میں کہا کہ ہندوتوا مودی حکومت اس کی فوج اور نئی دلی میں موجود اس کے آلہ کاروں نے سیاسی آوازوں کو خاموش کرا دیا ہے صحافیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، جائیدادیں ضبط کر لی ہیں اور سیاسی قیدیوں کی غیرقانونی حراست کو طول دیا ہے۔
اُدھر، بھارتی فورسز نے مقبوضہ علاقے بھر میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں، جبکہ بھارتی آرمی چیف اور پولیس چیف نے وادی کشمیر اور جموں کے خطے میں کارروائیوں کی نگرانی کے لیے الگ الگ اجلاس کیے۔
ایک اور پیش رفت میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین نے تقریباً اکسٹھ ہزار یومیہ اجرت والے ملازمین کو مستقل کرنے کے مطالبے کے لیے کل مقبوضہ جموں و کشمیر اسمبلی کے گھیراؤ کا اعلان کیا ہے۔
یہ اعلان ڈیلی ویجرز فورم کے صدر سجاد احمد پرے نے سری نگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
نیویارک میں شدید بارش کے باوجود کشمیریوں نے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی تقریر کے دوران اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے باہر احتجاج کیا اور کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کے وعدوں کی تکمیل اور مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ اور آسیہ اندرابی سمیت سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے ایسے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر کو آزادی اور انصاف اور اقوام متحدہ کی قراردادیں درکار ہیں، یہی واحد حل ہے کے نعرے درج تھے۔