۷ فروری ۱۹۴۲ء، ہفتے کی رات کے دس بجے، آل انڈیا ریڈیو کے لاہور اسٹیشن سے اردو کا مشہور موسیقائی ناٹک (میوزیکل ڈراما) ’اِنْدَر سبھا‘ بَراہِ راست پیش کیا جا رہا ہے۔ آغا حسن امانت لکھنوی کے اس شہرۂ آفاق ناٹک (ڈرامے)، جسے ریڈیو کے لیے خصوصی طور پر امتیاز علی تاج نے اَزسرِنو لکھا ہے، کی موسیقی اُستاد جھنڈے خان نے ترتیب دی ہے، جبکہ اس کی پیش کش و تیاری میں ریڈیو لاہور کے پروڈیوسر محمود نظامی کے ساتھ تاج الدین کا نام بھی درج ہے۔(بحوالہ: آل انڈیا ریڈیو، دی اِنڈین لِسنر ، جلد ہفتم، شمارہ سوم، ۲۲ جنوری ۱۹۴۲ء، ص: ۴۹)
‘اِنْدَر سبھا’ کے لفظی معنی ویسے تو ’راجا اِندر کا دربار‘ ہیں، لیکن اس ناٹک کی کہانی ہندو دیومالا کے ایک کردار اِندر کے فرضی دربار، وہاں موجود پریوں اور دیوؤں کے گرد گھومتی ہے۔ سبز پری اور شہزادہ گُلفام اس کے مرکزی کردار ہیں۔ تاہم، اس ناٹک کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کے سبھی کردار روایتی نثری مکالموں کے بجائے شاعری کی زبان میں گفتگو کرتے ہیں، جسے سازوں اور گائیکی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
’اِنْدَر سبھا‘ ۱۸۵۵ء کے بعد سے ہندوستان بھر کا ایک مقبول موسیقائی ناٹک ہے، جس کی یہاں کی ناٹک شالاؤں (تھیٹروں) اور میلوں ٹھیلوں میں اَزحد مقبولیت کے سبب اب اِسے آل انڈیا ریڈیو کی انتظامیہ نے اپنے دیگر اسٹیشنوں کے ساتھ ساتھ لاہور اسٹیشن سے بھی پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ریڈیو پروڈیوسر محمود نظامی کو چونکہ موسیقائی ناٹکوں کی باریکیوں سے عملی آگاہی نہیں اور اِس کھیل کو بَراہِ راست نشر کرنے کے سبب اُن کے پاس غلطی کی گنجائش بھی نہیں، اِس لیے اُنہوں نے تاج الدین نامی ایک ’ناٹک شاستری‘ (ڈراما ڈائریکٹر) کو امرتسر سے خصوصی طور پر اس ناٹک کی پیش کش کے لیے بلوایا ہے۔ ایک ہی مائیکروفون کے سامنے کرداروں کو باری باری لانے کے نازک کام کے لیے اُسی نوعیت کی مہارت درکار تھی جو تاج الدین کے پاس ہے۔
ناٹک شالاؤں (ڈراما تھیٹروں) اور میلوں ٹھیلوں میں ’ناٹک ہانکنا‘ (ڈراما ڈائریکشن) بھی ایک باقاعدہ فن تھا۔ ناٹک شاستری (ڈراما ڈائریکٹر)، ناٹک پُستک (ڈراما اسکرپٹ) کے مطابق ناٹک مَنڈلی (ڈرامہ ٹیم) کے کرداروں کو پردے کے پیچھے سے اُن کی باری پر باقاعدہ ہانک کر آگے بھیجتا، مکالموں اور گیتوں کی ترتیب کا خیال رکھتا اور سازندوں کو اُن کے حصے کی آمد کا اشارہ کرتا تھا۔
تاج الدین پنجاب کے میلوں ٹھیلوں میں ناٹک مَنڈلیوں کے ساتھ کام کرنے کا ایک دہائی سے زیادہ کا تجربہ رکھتا ہے۔ یہ بتیس سالہ پختہ کار جوان موسیقائی ناٹک کے لوازمات اور اَسرار و رُموز سے کَمَا حَقُّہٗ واقف ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس موقع پر کون سا کردار کس گیت کے ساتھ سامنے آئے گا، کہاں صرف طبلہ یا کوئی دوسرا ساز بجے گا اور کس مقام پر موسیقی کی دُھن فوری طور پر بدلنی ہوگی۔
’اِنْدَر سبھا‘ ریڈیو اسٹیشن لاہور سے ۷ فروری ۱۹۴۲ء کی رات بخیر و خوبی نشر ہو جاتا ہے اور تاج الدین اپنا معاوضہ لے کر لاہور سے میلوں ٹھیلوں میں کام کرنے والی اپنی ناٹک مَنڈلی کی طرف لوٹ جاتا ہے۔
تقریباً ڈھائی ماہ بعد، ۲۸ اپریل ۱۹۴۲ء کو یہی تاج الدین ایک مرتبہ پھر آل انڈیا ریڈیو کے لاہور اسٹیشن پر شام ساڑھے چھ بجے ’دیہات کے لیے‘ کے عنوان سے نشر ہونے والے ایک پروگرام میں عوامی داستان گوئی، غالباً مرزا صاحبان کی داستان کے یکتارے پر کچھ اشعار سُنانے، کے لیے آتا ہے۔ (بحوالہ: آل انڈیا ریڈیو، دی اِنڈین لِسنر ، جلد ہفتم، شمارہ ہشتم، ۷ اپریل ۱۹۴۲ء، ص: ۸۱)
غالباً ’اِنْدَر سبھا‘ کی پیشکش میں تاج الدین کی فنی صلاحیتوں کا مظاہرہ ہی اس امر کا سبب بنا کہ اب اسے پروڈکشن میں شرکت کے بجائے ایک پروگرام میں بَراہِ راست اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کا موقع دیا گیا ہے۔تاہم ریڈیو لاہور کے اس پروگرام میں شمولیت کے بعد یہ بتیس سالہ نوجوان اپنی سیلانی طبیعت کے سبب پنجاب کے میلوں ٹھیلوں، ناٹک کی ٹولیوں اور موسیقائی محفلوں کی دنیا میں دوبارہ گم ہو جاتا ہے۔
وقت گزرتا ہے، یہاں تک کہ اگست ۱۹۴۷ء آ پہنچتا ہے۔ بٹوارے کے سبب ہندوستان کا جغرافیائی و سیاسی نقشہ بدل جاتا ہے۔ آل انڈیا ریڈیو کا لاہور اسٹیشن بھی اس تاریخی تبدیلی سے گزر کر پاکستان کے نئے نشریاتی نظام کا حصہ بن جاتا ہے۔ اب یہاں سے ریڈیو پاکستان کی نشریات جاری ہیں۔
یکم اکتوبر ۱۹۴۷ء کو جی۔ کے۔ فرید لاہور ریڈیو اسٹیشن کے ڈائریکٹر کا عہدہ سنبھالتے ہیں۔ اسی دور میں پشاور ریڈیو سے ایک نوجوان براڈکاسٹر حمید نسیم بھی تبادلہ کروا کر لاہور کے ریڈیائی ماحول کا حصہ بن جاتے ہیں۔ موسیقی کا عمدہ ذوق رکھنے والے حمید نسیم کے ساتھ انہی دنوں ایک ایسا واقعہ پیش آتا ہے، جسے وہ اپنی خودنوشت ’ناممکن کی جستجو‘ میں بڑی تفصیل اور جذباتی انداز میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
“ایک روز میں اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ سڑک کے اس پار مجھے ایک ملنگ نظر آیا۔ پتلا دُبلا۔ دراز قامت درویش۔ ایک لمبا کرتا پہنے جو اس کے ٹخنوں تک پہنچ رہا تھا۔ نیچے تہمد۔ دھاری داری۔ کانوں میں بڑے بڑے بالے۔ وہ کندھے پر ایک بڑا سا اکتارہ ٹکائے جا رہا تھا۔
میں نے اکتارے والے فقیر تو اپنے بچپن میں بہت دیکھے تھے مگر اس اکتارے کا تونبا ستار سے بڑا تھا۔ بالکل بڑے تانپورے کے تونبے جتنا۔ میرے دل نے کہا یہ تو کوئی فنکار فقیر ہے۔ میں لپک کر سڑک کی دوسری طرف اس فقیر کے پاس جا پہنچا۔ سلام کیا۔ فقیر نے بڑی بھاری مگر منجھی ہوئی آواز میں وعلیکم السلام کہا۔
میں نے بڑے ادب سے پوچھا سائیں جی! یہ ساز آپ بجاتے ہیں۔ اس نے کہا ہاں۔ میں نے دیکھا تو اکتارے کے بڑے تار کے نیچے تین چار طربوں جیسے تار تھے۔ میں نے کہا پل دو پل مجھے سنائیں گے۔ اس نے کہا کیوں نہیں۔
کھڑے کھڑے ساز کو بغل میں لیا اور گز کی جگہ لکڑی کا ایک ٹکڑا تار پر پھیرنا اور تار کو مضراب سے چھیڑنا شروع کیا۔ یوں معلوم ہوا سُر ننھی ننھی پریوں کی طرح ناچنے لگے ہیں۔ دھن قائم ہوئی تو سائیں نے ایک آدھ بول گلے سے بھی کہا۔ آواز میں گہری اداسی اور مٹھاس تھی۔ میں نے آنسو بڑی مشکل سے روکے۔
جلدی سے جیب سے سگرٹوں کا پیکٹ نکالا۔ پوچھا سائیں جی سگرٹ پیتے ہو۔ فرمایا پیتا ہوں۔ میں نے سگرٹ پیش کیا انھوں نے اسے ہونٹوں میں دبایا تو میں نے ماچس جلا کر سگرٹ سلگا دی۔
سائیں جی دو ایک کش لے چکے تو میں نے کہا سائیں جی میرے ساتھ ریڈیو سٹیشن چلیں گے؟ انھوں نے پوچھا کیوں؟ میں نے کہا کوشش کروں گا کہ آج آپ کا پروگرام ریڈیو سے ہو جائے۔ فرمایا تو پھر چلتا ہوں۔
میں نے ایک دور سے آتے ہوئے خالی تانگے والے کو اشارہ کیا۔ اس تانگہ میں سائیں جی کو پیچھے بٹھایا اور خود آگے بیٹھ گیا۔ ریڈیو سٹیشن پر پہنچ کر سائیں جی کو لے کر میوزک سٹوڈیو پہنچا۔
اس وقت وہاں استاد فلوسے خاں مرحوم سارنگی سُر کر رہے تھے۔ صادق علی مانڈو کلارنٹ نواز اور ایک طبلہ والا بیٹھے ضلع جگت میں مقابلہ فرما رہے تھے۔ میں نے استاد فلوسے خاں سے کہا۔ استاد جی یہ سائیں میرے ساتھ آئے ہیں اگر آپ اجازت دیں تو دو ایک منٹ کے لیے انھیں سن لیں۔
فلوسے خاں بڑے صاحبِ دل بزرگ تھے۔ پاک دل والے۔ سارنگی کی طربیں پوری سُر ہو جاتیں اور وہ انھیں چھیڑتے اور سُر کی پھوار سچی ہوتی تو آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگتے تھے۔ ان جیسا سچا درویش میں نے اپنی زندگی میں دو ایک بار ہی دیکھا تھا۔ پانچ وقت کا نمازی، بیشتر وقت باوضو رہنے والا ملنگ، بچے سے زیادہ معصوم۔ استاد نے کہا بسم اللہ سائیں جی۔ بسم اللہ۔
سائیں جی نے بڑے تار کے نیچے والے دو تین تار ملائے اور پھر ایک کافی کی دُھن بجانا شروع کی۔ آدھا منٹ بھی نہیں گزرا تھا کہ فلوسے خاں کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ صادق علی مانڈو اور طبلہ نواز کی آنکھیں بھی نَم ہو گئیں۔ کبھی کبھی سائیں آواز بھی لگا دیتے۔ آواز بہت رسیلی اور عمیق تھی۔
اُنھوں نے ایک جھالے کے ساتھ دُھن ختم کی تو فلوسے خاں نے اُٹھ کر اُن سائیں جی کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور کہا، سائیں جی آپ نے دل خوش کر دیا۔ بڑے دنوں بعد ایسا سچا سُر سنا ہے۔
میں نے سائیں جی کو وہیں بٹھایا اور جلدی سے ڈیوٹی روم جا کر فرید صاحب کو اُن کے گھر پر ٹیلی فون کیا۔ فرید صاحب کو بے وقت زحمت دینے کی معافی مانگ کر کہا کہ ایک نادرِ روزگار موسیقار ہاتھ لگ گیا ہے۔ پوچھا، مرد ہے یا عورت؟ میں نے کہا کہ ایک اَدھیڑ عمر کا فقیر ہے، جوگی نما۔ کہنے لگے، پھر؟
میں نے کہا، آپ کی اجازت ہو تو آج اسے بُک کر لوں۔ کہنے لگے، کس کی جگہ؟ میں نے بتایا کہ سازوں کی موسیقی کے دس دس منٹ کے دو چنک ہیں۔ فرمایا، تم دل میں مطمئن ہو تو میری اجازت ہے۔ میں نے کہا، فیس پورے پروگرام کی اَسّی روپے۔ بیس منٹ کے چالیس روپے ہوں گے۔ کہا، ٹھیک ہے۔
میں نے شکریہ ادا کیا۔ میوزک اسٹوڈیو سے سائیں جی، خانصاحب فلوسے خاں اور صادق علی مانڈو کو کینٹین لے گیا۔ وہاں اُن سب کو چائے پلائی۔ سائیں جی سے اُن کا نام پوچھا۔ فرمایا، ’مرنا‘۔ میں نے حیرت سے کہا، کیا؟ فرمایا، باؤ تم ’سائیں مرنا‘ کہہ لو۔ میں نے عرض کیا، سائیں جی اس مرنا کے کیا معنی ہیں؟ اُنھوں نے ایک قصہ سنایا۔ وہ قصہ میں نے پروگرام کی تعارفی اناؤنسمنٹ میں بیان کر دیا۔
اس رات لاہور میں ریڈیو سننے والوں کی آنکھوں میں نیند کی جگہ آنسوؤں نے لے لی۔ رات بھر ریڈیو اسٹیشن کے سارے ٹیلی فون بجتے رہے۔ سائیں مرنا اس ایک رات میں عظیم لوک فنکار بن گیا۔ فن کے اُفق پر ایک فلک تاب ستارہ طلوع ہوا جو برسوں تک پہلے دن کی آب و تاب کے ساتھ جگمگاتا اور دلوں کو روشنی دیتا رہا۔
اگلے دن فرید صاحب نے مجھے اپنے کمرے میں بلا کر سائیں مرنا کے پروگرام پر دِلی مبارک باد پیش کی اور اسٹیشن کی مقبولیت میں گراں قدر اضافہ کرنے پر میرا شکریہ ادا کیا، نیز پہلی اور آخری بار اپنے کمرے میں چائے پلائی۔"(بحوالہ: کبیر علی، ’سائیں مرنا اور اِکتارہ‘، ویب مجلہ ’جائزہ‘، ۲۰۱۹ء)
لیکن اس واقعے کا ایک اور تاریخی پہلو وہ ہے، جو آل انڈیا ریڈیو کے پروگرام رسالے ’دی اِنڈین لِسنر‘ میں موجود ہے اور جس سے حمید نسیم واقف نہیں تھے۔ وہ یہ کہ جس شخص کو وہ ایک مُنفرد حلیے میں، کندھے پر یکتارا اُٹھائے سڑک پر چلتے دیکھ کر ریڈیو اسٹیشن لے گئے تھے اور جسے اپنی دریافت سمجھ رہے تھے، وہ اُن کے لیے یقیناً نیا تھا، مگر لاہور ریڈیو کے لیے نیا نہیں تھا۔
یہ وہی تاج الدین تھا، جس کا نام ۷ فروری ۱۹۴۲ء کو موسیقائی ناٹک ’اِنْدَر سبھا‘ کی پروڈکشن میں محمود نظامی کے ساتھ، اور پھر ۲۸ اپریل ۱۹۴۲ء کو لوک روایات کے پروگرام میں درج ہو چکا تھا۔
فرق صرف اتنا تھا کہ اب تاج الدین ایک نئے نام، نئے حلیے اور اپنے مخصوص یکتارے، یوں کہہ لیں کہ اپنے حقیقی اور آخری سوانگ کے ساتھ، حمید نسیم کے سامنے کھڑا تھا۔
یہ شخص اب تاج الدین کے بجائے ’سائیں مرنا‘ تھا۔
پنجاب اور سندھ میں دُنیاوی رسم و رواج سے بے نیاز، سَیلانی طبیعت کے مالک فقیروں اور ملنگوں کو تکلّفاً ’سائیں‘ کہہ دیا جاتا ہے۔ چنانچہ جب سَیلانی طبع اور ملنگانہ حُلیے والے یکتارا نواز نے حمید نسیم کو اپنا نام ’مرنا‘ بتایا تو اُنہوں نے اُسی نام میں ’سائیں‘ کا اضافہ کرکے اُسے ریڈیو پر بطور ’سائیں مرنا‘ متعارف کروا دیا۔
آج، ۲۷ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو، پنجاب کے میلوں ٹھیلوں میں ناٹک ہانکنے اور عوامی گیت گانے والے تاج الدین سے، ملنگ کا حقیقی سوانگ دھار کر ’سائیں مرنا‘ بننے والے اس مُنفرد یکتارا نواز کی ۶۵ویں برسی ہے، جس نے اپنے مخصوص ساز اور دِل گُداز موسیقی سے لوک فن کی دنیا میں ایک الگ شناخت قائم کی۔
سائیں مرنا کا اصل نام تاج الدین تھا۔ وہ ۱۹۱۰ء میں متحدہ پنجاب کے ضلع امرتسر کے ایک گاؤں ’سنیسر کلاں‘ میں پیدا ہوئے (بحوالہ: عقیل عباس جعفری، ’پاکستان کرانیکل‘، ڈیجیٹل ایڈیشن)۔ ’انسائیکلوپیڈیا سندھیانا‘ میں اُن کے گاؤں کا نام ’منہیر‘ درج ہے۔ تاہم راقم الحروف کے مطابق، اُن کے گاؤں کا درست نام ’سَینسرا کلاں‘ ہے، جو ضلع امرتسر میں راجہ سانسی اور اجنالہ کے علاقے میں واقع ہے۔
تاج الدین کی ابتدائی تعلیم، خاندان اور موسیقی کی تربیت کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں، البتہ اِتنا معلوم ہوتا ہے کہ جوانی ہی سے وہ پنجاب کے میلوں ٹھیلوں، عوامی موسیقی کی محفلوں اور صوفی بزرگوں کے مزارات سے وابستہ ہوگئے تھے۔
بعض سوانح نگاروں نے تاج الدین کے موسیقی، میلوں ٹھیلوں اور ناٹک مَنڈلیوں وغیرہ کی طرف مائل ہونے کا سبب عشق میں ناکامی کو قرار دیا ہے، لیکن اس روایت کی کوئی مُستند تفصیل نہیں ملتی۔
تاج الدین گاتے بھی تھے اور یکتارا بھی بجاتے تھے۔ اُن کے لباس، وضع قطع اور سَیلانی طرزِ زندگی نے رفتہ رفتہ اُنہیں ایک ملنگ کی صورت دے دی، لیکن ساز پر اُن کی غیرمعمولی مہارت اور اس میں کی گئی اِختراعات اُن کے گہرے موسیقائی شعور کا پتا دیتی ہیں۔
تاج الدین نے اپنا نام ’مرنا‘ کیوں رکھا؟ اس کی ایک سینہ بہ سینہ چلی آنے والی روایت یہ ہے کہ وہ ایک مرتبہ ضلع جھنگ کے ایک صوفی بزرگ ’سائیں جیونا‘ کے میلے میں شریک ہوئے اور وہیں اُنہوں نے کسرِ نفسی کے اظہار کے لیے اپنا نام ’مرنا‘ رکھ لیا۔ پنجابی میں ’جیونا‘ کے معنی زندہ رہنے یا جینے کے ہیں، جبکہ ’مرنا‘ اس کی ضد ہے۔ گویا ایک طرف ’سائیں جیونا‘ تھے اور دوسری طرف تاج الدین نے خود کو ’مرنا‘ کہلوانا پسند کیا۔ اس روایت میں اُن کے نئے نام کی بنیاد کسی محبوب کی جدائی یا عشق میں ناکامی نہیں، بلکہ عاجزی اور خود کو کمتر ظاہر کرنے کا جذبہ ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد سائیں مرنا کا لاہور ریڈیو سے تعلق خاصا گہرا ہوگیا۔ وہ متعدد مرتبہ ریڈیو پاکستان کے موسیقی پروگراموں میں شریک ہوئے اور اُن کی بجائی ہوئی لوک دُھنوں کی ریکارڈنگز لاہور کے علاوہ دوسرے ریڈیو اسٹیشنوں سے بھی نشر ہوتی رہیں۔ افضل پرویز نے اپنی کتاب ’نواہائے راز: پاکستان کے سنگیت ساز‘ میں لکھا ہے کہ سائیں مرنا نے لاہور ریڈیو سے بے شمار پروگرام کیے اور اُن کی موسیقی کی ریکارڈنگز دوسرے اسٹیشنوں سے بھی بجائی جاتی تھیں۔ ریڈیو کے ساتھ اُن کا تعلق محض پروگرام پیش کرنے تک محدود نہ تھا، بلکہ اسٹیشن کے موسیقاروں، پروڈیوسروں اور موسیقی سے دلچسپی رکھنے والے براڈکاسٹروں کے ساتھ اُن کی یادیں بھی وابستہ ہیں۔
اُن یادوں میں ایک واقعہ خاص طور پر دلچسپ ہے۔ لاہور ریڈیو کے اسٹیشن ڈائریکٹر محمود نظامی کے زمانے میں سائیں مرنا کو ایک روز کے لیے ’آج کا فن کار‘ (آرٹسٹ آف دی ڈے) مقرر کیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت اُنہیں دن میں مختلف اوقات پر اپنا فن پیش کرنا تھا۔ مقررہ روز وہ ریڈیو اسٹیشن پہنچے، لیکن جب اُنہیں معلوم ہوا کہ آج کا دن خصوصی طور پر اُن کے نام ہے تو نہایت خوش ہوئے اور اچانک غائب ہوگئے۔ ریڈیو کے پروڈیوسر اُنہیں تلاش کرتے رہے، مگر وہ نہ ملے۔ مجبوراً دوسرے فن کاروں کے ذریعے پروگرام کا انتظام کرنا پڑا۔
تین روز بعد سائیں مرنا ایک نہایت خوب صورت، خصوصی طور پر تیار کروایا ہوا کُرتا پہن کر ریڈیو اسٹیشن پہنچے۔ محمود نظامی نے اُن سے غیرحاضری کی وجہ پوچھی تو سائیں نے جواب دیا کہ وہ اس اعزاز کے لیے خاص لباس بنوانے گئے تھے۔ محمود نظامی کی ناراضی پر وہ بھی خفا ہوگئے اور کہنے لگے کہ اب وہ ریڈیو کے لیے نہیں بجائیں گے، بلکہ باہر لان میں بیٹھ کر گھاس میں موجود کیڑے مکوڑوں کو اپنا یکتارا سنائیں گے۔ محمود نظامی نے اُن کی ناراضی کا ایک انوکھا حل نکالا۔ اُنہوں نے انجینئروں سے کہا کہ لان تک مائیکروفون اور کیبل پہنچا دیں۔ یوں سائیں مرنا لان میں بیٹھ کر اپنا یکتارا بجاتے رہے اور اُن کی موسیقی ریڈیو پر نشر ہوتی رہی۔
یہ واقعہ ریڈیو کے ایک پرانے کارکن کی یادداشت میں محفوظ ہے اور اس سے سائیں مرنا کے مزاج کے ساتھ ساتھ اُس زمانے کے ریڈیو پروڈیوسروں کی فن کاروں کے ساتھ معاملہ کرنے کی صلاحیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔
سائیں مرنا کا سب سے بڑا فنی یا تکنیکی کارنامہ روایتی یکتارے کی ساخت میں تبدیلی تھی۔ عام یکتارا ایک لمبی ڈانڈ، کدو کے تُونبے اور ایک بنیادی تار پر مُشتمل ہوتا تھا، لیکن سائیں مرنا نے اس سادہ لوک ساز کو ایک زیادہ پیچیدہ اور وسیع صوتی امکانات کے حامل ساز میں تبدیل کر دیا۔ اُنہوں نے یکتارے کی ڈانڈ کو زیادہ لمبا کیا، کدو کے روایتی تُونبے کی جگہ دھات کا بڑا تُونبا استعمال کیا اور باج کے مرکزی تار کے نیچے کئی اضافی تار لگا دیے، جو طَرَبوں کا کام کرتے تھے۔ اِن تبدیلیوں کے بعد اُن کا ساز عام یکتارے سے مختلف ہو کر وِچتر وِینا سے مُشابہ ہوگیا۔
افضل پرویز کے مطابق سائیں مرنا مرکزی تار کو لکڑی کے ایک ٹکڑے کی مدد سے چھیڑتے اور دوسرے ہاتھ کی اُنگلیوں سے طَرَبوں کو جھنجھناتے تھے۔ اس تکنیک سے ایک ہی بنیادی سُر کے گرد مختلف آوازیں، گونج اور موسیقائی تاثر پیدا ہوتا تھا۔ وہ محض ایک تار کو بجانے کے بجائے اس سے مختلف دُھنیں اور سُروں کا ایسا اِمتزاج پیدا کرتے تھے جو سننے والوں کو حیران کر دیتا تھا۔
’انسائیکلوپیڈیا سندھیانا‘ کے مطابق اس ساز کی اِختراع میں رَبابی گھرانے کے ایک بزرگ نے بھی سائیں مرنا کی مدد کی تھی۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنے تجربے پر اِنحصار نہیں کرتے تھے بلکہ دوسرے موسیقاروں کی فنی معلومات سے بھی فائدہ اُٹھاتے تھے۔ اپنے مخصوص یکتارے پر عُبور ہی نے اُنہیں اپنے زمانے کے دوسرے لوک سازندوں سے مُمتاز کیا۔
سائیں مرنا کے ہم عصر صوفی گلوکاروں میں سائیں اختر حسین بھی نمایاں تھے۔ اُن کا تعلق بھی امرتسر سے تھا اور وہ پنجاب اور سندھ کے صوفی بزرگوں کی کافیوں اور عوامی گیتوں کے لیے شُہرت رکھتے تھے۔ دونوں فن کاروں کی دنیا میں ایک قدر مُشترک تھی: دونوں نے اپنی موسیقی کا بڑا حصہ عوامی محفلوں، میلوں اور صوفیانہ ماحول میں گزارا اور دونوں نے بعد میں ریڈیو کی نشریات میں بھی حصہ لیا۔
سائیں مرنا اور سائیں اختر کی مشترکہ موسیقائی محفلوں اور جُگل بندی کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ایک عینی شاہد کے مطابق لاہور کے چوک مزنگ میں، لٹن روڈ کی طرف واقع ’تاج نان‘ نامی مشہور دکان کے باہر سائیں اختر اور سائیں مرنا پاس پاس بیٹھتے تھے۔ایک اتوار کو تاج نان کے مالک کے ایک موسیقی شناس دوست کی فرمائش پر دونوں فن کاروں نے اپنا فن پیش کیا۔ دکان کے باہر پندرہ بیس افراد جمع ہوگئے۔
سائیں مرنا نے اپنے مخصوص یکتارے پر دُھن چھیڑی تو سائیں اختر اپنی آواز سے اس کا جواب دینے لگے۔ کبھی سائیں اختر تان لگاتے اور کبھی سائیں مرنا یکتارے کے تاروں سے اس کے جواب میں موسیقائی جملہ ادا کرتے۔ یوں دونوں کے درمیان ساز اور آواز کا ایک دل نشین مکالمہ قائم ہوگیا۔ اس جُگل بندی کے دوران دکان کے کارندے بھی اپنا کام چھوڑ کر خاموش بیٹھ گئے، یہاں تک کہ تندور میں نان لگانے اور نکالنے والی سلاخوں کی جھنکار بھی بند ہوگئی۔ سائیں اختر، یکتارے کے ہر موسیقائی جملے کے جواب میں نئی تانیں کھینچتے رہے، جبکہ سائیں مرنا اپنے ساز سے اُن کا جواب دیتے رہے۔ مصنف کے بقول اُنہیں یاد نہیں کہ یہ جُگل بندی کتنی دیر جاری رہی، لیکن اس موسیقائی تجربے کا تاثر اُن کی یادداشت پر ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔ [بحوالہ: ایرج مبارک، ’حاضر (سائیں اختر) اور غائب (سائیں مرنا)‘، ویب مجلہ ’ہم سب‘، ۲۰ اگست ۲۰۱۶ء]
لاہور ریڈیو سے وابستگی اور موسیقی کی دنیا میں شُہرت حاصل کرنے کے باوجود سائیں مرنا نے مُستقل طور پر کسی بڑے شہر میں رہنا پسند نہیں کیا۔ وہ اکثر لاہور سے نکل جاتے اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں میلوں ٹھیلوں اور موسیقائی محفلوں میں شریک ہوتے رہتے۔ رفتہ رفتہ اُن کا تعلق لائل پور، جسے آج فیصل آباد کہا جاتا ہے، کے علاقے سے زیادہ گہرا ہوگیا۔وہ لائل پور کے کسی غیرمعروف مقام پر قیام کرتے تھے اور ریڈیو پاکستان کو جب اُنہیں کسی پروگرام کے لیے بُلانا ہوتا تو اُن کے معاہدے اور پروگرام کی اِطلاع وہاں کے چائے کے ایک ڈھابے کے پتے پر بھیجی جاتی تھی۔
زندگی کے آخری زمانے میں سائیں مرنا نے لائل پور کے قریب تحصیل جڑانوالہ کے دیہی علاقے کا رُخ کیا۔ اُن کی آخری رہائش اور تدفین کے ضمن چک ۱۲۲ جی بی، سکندر پور کے کا ذکر ملتا ہے۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں اُن کی زندگی کا آخری باب رقم ہوا۔
۲۷ اکتوبر ۱۹۶۱ء کو سائیں مرنا کی زندگی کا سفر تمام ہوا۔ اُن کی عمر تقریباً اِکیاون برس تھی۔وہ شخص جس نے اپنے مُنفرد ساز کے ساتھ پنجاب کے میلوں، مزاروں اور ریڈیو کے اسٹوڈیوز میں ہزاروں لوگوں کو اپنے سُروں کا اسیر بنایا تھا، بالآخر ایک گمنام قبر میں ہمیشہ کے لیے آسودہ خاک ہوگیا۔
سائیں مرنا کی موسیقی کا سب سے نمایاں وصف اُس کا سوز و گُداز تھا۔ اُن کے یکتارے سے نکلنے والی دُھنوں میں ایک ایسی پُراسرار اُداسی اور دل گُداز کیفیت تھی کہ کبھی وہ کسی بچھڑے ہوئے محبوب کی یاد معلوم ہوتیں اور کبھی زندگی کی تھکن سے چُور انسان کے لیے ’موت کی لوری‘ محسوس ہوتیں۔ اُن کا ساز گویا اُن جذبات کو زبان دیتا تھا جنہیں وہ خود الفاظ میں بیان نہیں کرتے تھے۔اُن کے اِنتقال کے بعد اُن کے بھائی سائیں دِتّہ قادری نے بھی اسی قسم کا یکتارا بنوایا اور بجانے کی کوشش کی، لیکن وہ اپنے بھائی جیسا موسیقائی تاثر پیدا نہ کر سکے۔
سندھی کے ممتاز شاعر شیخ ایاز اور اُردو کے معروف شاعر ثروت حسین سائیں مرنا کے مداحوں میں شامل تھے۔ شیخ ایاز کی سائیں مرنا کی موسیقی سے وابستگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں علی الصبح سائیں مرنا کے یکتارے کی دُھنیں سُنا کرتے تھے۔
شیخ ایاز سے منسوب ایک سندھی شعر میں بھی سائیں مرنا کے سُروں کی گونج اور اُن کی موسیقی کے دیرپا اثرات کا ذکر ملتا ہے:
وڄندا پيا واءُ ۾، سائينءَ مَرڻا سُر
ڪيئي صديون گهرَ، منھنجي رھندي سنڌ ۾۔
ترجمہ: ہواؤں میں سائیں مرنا کے سُر گونج رہے ہیں، اور اُن کی موسیقی کی بازگشت میری سندھ میں صدیوں تک باقی رہے گی۔(بحوالہ: شیخ ایاز، ’ڪَتين ڪَر موڙيا جڏهن‘، حصہ اوّل، ص: ۲۳۹)
اُدھر اُردو کے ممتاز شاعر ثروت حسین نے تو سائیں مرنا اور اُن کے یکتارے کو اپنی شاعری میں ایک مُستقل علامتی حیثیت دے دی۔ اُن کی نظم ’کاندھے پہ دھرے ساز‘ میں کندھے پر ساز اُٹھائے گلیوں سے گزرنے والے ایک مُسافر کی تصویر ملتی ہے۔ اس نظم کو سائیں مرنا کی سَیلانی زندگی کے پس منظر میں بھی پڑھا گیا ہے۔ ثروت حسین کی ایک دوسری نظم ’خودکشی کا فرشتہ‘ بھی انسانی دُکھ اور تنہائی کی کیفیات سے متعلق ہے۔
لیکن ثروت حسین کی سب سے اہم نظم ’جھٹ پٹے‘ ہے، جس کے عنوان کے نیچے اُنہوں نے واضح طور پر ’سائیں مرنا کی یاد میں‘ لکھا ہے۔ اس نظم میں وہ سائیں کی خاموشی، اُن کی اُنگلیوں، یکتارے کی گونج اور اُن کے اندر چھپے دُکھ کو شاعری کا موضوع بناتے ہیں۔ نظم کے ابتدائی مصرعے ہیں:
’مرنا تیری خامشی، بھید بھرا پاتال
اندر کا احوال، شاعر کا دل جانتا‘
سائیں مرنا ۱۹۶۱ء میں دُنیا سے رُخصت ہوگئے، لیکن ریڈیو پاکستان نے اُنہیں مُسلسل یاد رکھا ہے۔ اسلام آباد میں قائم ریڈیو پاکستان کے میوزیم میں جس طرح اُستاد امانت علی خان کا تانپورہ، رفیق غزنوی کی وِچتر وِینا، اُستاد شریف خان کا ستار، میاں حسین بخش کا طبلہ اور نتھو خان کی سارنگی محفوظ ہیں، بعینہٖ سائیں مرنا کا یکتارا بھی موجود اور محفوظ ہے۔ جس ادارے نے اُن کی زندگی میں اُن کے فن کو سامعین تک پہنچایا تھا، وہی ادارہ اب اُن کے ساز کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھے ہوئے ہے۔
سائیں مرنا کا یکتارا ریڈیو پاکستان کے لئے محض ایک ساز نہیں، بلکہ ایک ایسے فن کار کی زندگی بھر کی موسیقائی ریاضت اور تخلیقی ذہانت کی یادگار ہے، جس نے روایتی یکتارے کو نئی صورت دی، اُسے اپنے لہجے میں بولنا سکھایا اور پھر اُسی کی آواز میں اپنی پوری زندگی کا احوال بیان کرکے دُنیا سے رُخصت ہوگیا۔
ریڈیو پاکستان اس عظیم فن کار کو اُن کی ۶۵ویں برسی کے موقع پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان