Monday, 19 October 2026, 03:53:07 am
 
اُستاد اَللّٰہ بَخش: فطرت کے مظاہر کو پردۂ مصوّری پر منتقل کرنے والا عظیم مصوّر
October 18, 2026

اُستاد اَللّٰہ بَخش: فطرت کے مظاہر کو پردۂ مصوّری پر منتقل کرنے والا عظیم مصوّر

(برسی کی مناسبت سے تحریر)

فَنِّ مُصَوِّری کے کسی ناقد نے انہیں ’بابائے فطرت‘ کہا۔ بعد کے کئی مضامین میں بھی انہیں اسی لقب سے یاد کیا گیا۔ تاہم لغوی اعتبار سے یہ ترکیب درست نہیں بیٹھتی۔ اگر ناقد کا مقصود یہ تھا کہ انہیں مناظرِ فطرت کو رنگوں اور برش کے ذریعے پردۂ مصوّری پر منتقل کرنے والوں کا امام مانا جائے تو پھر انہیں ’بابائے فطرت نگاری‘ کہنا چاہیے تھا، نہ کہ ’بابائے فطرت‘۔

کسی اور ناقد نے کہا کہ وہ گھر سے پیسے کمانے نکلے تھے، شہرت کما کر لوٹے۔ الحمرا میں اُن کے نام سے ایک آرٹ گیلری ہے اور لاہور میوزیم میں اُن کے فن پارے بھی رکھے گئے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں آہستہ آہستہ بھلایا جا رہا ہے۔ آج اُن کی اڑتالیسویں برسی ہے اور یہ دن دبے پاؤں، خاموشی سے گزر رہا ہے۔

ریڈیو پاکستان اُستاد اَللّٰہ بَخش کا بڑا قدردان رہا ہے۔ ۱۹۶۴ء کا اُن کا ایک انٹرویو ریڈیو پاکستان لاہور کے آرکائیو میں موجود ہے، جس میں انہوں نے اپنی فنی زندگی کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالی تھی۔ ریڈیو پاکستان نے آج اُن کی برسی کے موقع پر بھی انہیں یاد رکھا ہے۔

آج اُستاد اَللّٰہ بَخش کی اڑتالیسویں برسی ہے؛ اُس عظیم مصوّر کا یومِ وفات جس نے پاکستان کے مظاہرِ فطرت اور رومانوی داستانوں کو پردۂ مصوّری پر منتقل کرکے امر کیا۔ وہ آج ہی کے دن، ۱۸ اکتوبر ۱۹۷۸ء کو فوت ہوئے تھے۔

اَللّٰہ بَخش ۱۸۹۲ء میں وزیرآباد میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد کرم دین ’مغل پورہ ریلوے ورکشاپ‘ میں رنگ ساز تھے اور ریل گاڑیوں پر رنگ و نقش نگاری کرتے تھے۔ اَللّٰہ بَخش سات برس کے تھے کہ اُن کے والد کا انتقال ہوگیا۔ یوں وہ کم سنی ہی میں اپنی بیوہ ماں کا سہارا اور بہنوں کے واحد مرد کفیل بن گئے۔ اسی ذمّے داری کے باعث اُنھوں نے روایتی تعلیم کے بجائے ریلوے پینٹر مستری نذیر محمد کے پاس کام سیکھنا شروع کیا۔

اَللّٰہ بَخش چند ماہ مستری نذیر محمد سے کام سیکھنے کے بعد لاہور کے مصوّر بابا عبداللہ کی شاگردی میں آگئے۔ بابا عبداللہ اپنے زمانے کے معروف مصوّر اور منی ایچر مصوّری، یعنی چھوٹی تصویریں باریک بینی سے بنانے کے فن، کے ماہر تھے۔ اُن کے دکان نما اسٹوڈیو ’عبداللہ اینڈ سنز‘ میں اَللّٰہ بَخش حروف لکھنے، رنگ پیسنے اور تصویروں کی نقل بنانے کی مشق کرتے تھے۔ چونکہ اُنھیں باقاعدہ اسکولی تعلیم نہیں ملی تھی، اس لیے اُنھوں نے بابا عبداللہ سے انگریزی حروفِ تہجی لکھنا بھی سیکھا۔ اُن کی شاگردی شروع کرنے کی عمر آٹھ برس بتائی جاتی ہے۔

اَللّٰہ بَخش نے والد کے نقشِ قدم پر ریلوے کے ڈبوں پر حروف لکھنے کا کام بھی کیا۔ روایت ہے کہ جتنی دیر میں دوسرے کاریگر ایک بوگی مکمل کرتے، وہ تین یا چار بوگیوں پر اپنا کام پورا کرچکے ہوتے تھے۔ کام کے بعد وہ تصویروں کی نقل بنا کر اپنی مشق جاری رکھتے؛ کبھی مشہور یورپی تصویروں کی نقل بناتے اور کبھی دوسرے مصوّروں کے کام کو دیکھ کر اپنا ہاتھ صاف کرتے، جیسے موسیقار روزانہ ریاض کرتا ہے۔

اَللّٰہ بَخش بارہ برس کی عمر تک کاریگری کا کام کرنے لگے تھے۔ ۱۹۱۳ء میں اُن کی پہلی تصویری نمائش ہوئی۔ اسی زمانے میں وہ آغا حشر کاشمیری کی تھیٹر کمپنی سے وابستہ ہوئے۔ تھیٹر کمپنیوں میں اُن کا کام ڈراموں کے لیے بڑے پردوں اور پسِ منظر پر محل، باغ، گلی، شہر اور دوسرے مناظر بنانا تھا؛ وہ سیٹوں اور تشہیری تختوں پر بھی نقش نگاری کرتے تھے۔ بعد کے برسوں میں حافظ آباد کی ایک تھیٹر کمپنی اور بمبئی کی ’منا جان تھیٹریکل کمپنی‘ سے بھی اُن کی وابستگی رہی۔

اَللّٰہ بَخش ۱۹۱۴ء میں بہتر روزگار کی تلاش میں بمبئی گئے۔ روایت کے مطابق، بمبئی سے لاہور آنے والے چند اداکاروں نے اُن کے بنائے ہوئے تھیٹر کے پردے دیکھے اور اُنھیں بمبئی جا کر قسمت آزمانے کا مشورہ دیا۔ وہاں اُنھوں نے تقریباً پانچ برس ’روپ نرائن فوٹوگرافک اسٹوڈیو‘ میں کیمرے سے کھینچی گئی تصویروں کی درستی اور پسِ منظر بنانے کا کام کیا۔

اَللّٰہ بَخش کے بمبئی پہنچنے سے متعلق ایک واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ ایک دکان پر مصوّری کا بورڈ دیکھ کر وہ اندر چلے گئے۔ دکان کے مالک نے پوچھا: ’’بھائی، کیا کرلیتے ہو؟‘‘ اُنھوں نے جواب دیا: ’’جو آپ کہیں۔‘‘ مالک نے ایک تصویر بنانے کو کہا تو اَللّٰہ بَخش نے پھرتی سے تصویر بنا کر اُس کے سامنے رکھ دی۔ اس واقعے کو اُن کی پیشہ ورانہ مصوّری کے آغاز سے جوڑا جاتا ہے۔

اَللّٰہ بَخش کے فوٹوگرافی اسٹوڈیو میں کام کے دوران بمبئی میں تصویروں کی مانگ کم ہوئی تو اُنھوں نے کرشن کی تصویر بنائی۔ روایت کے مطابق، اُنھیں معلوم ہوا کہ بمبئی کے ہندو دکاندار اپنی دکانوں میں کرشن کی تصویریں رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے ایک تصویر بنا کر اپنے ایک جاننے والے سے کہا کہ اس کے آرڈر حاصل کرے۔ شام تک پچاس آرڈر مل چکے تھے، جن کی مجموعی قیمت اُس زمانے میں پانچ ہزار روپے تھی۔ اُنھوں نے ایک ہفتے میں تمام تصویریں مکمل کردیں۔ بعد میں دکاندار سو روپے پیشگی دے کر تصویر کی بکنگ کرانے آنے لگے۔ اس کام کے بعد وہ ہندو دیوی دیوتاؤں اور مذہبی و اساطیری موضوعات پر بھی تصویریں بناتے رہے۔

اَللّٰہ بَخش ۱۹۱۹ء میں لاہور واپس آئے اور منشی محبوب عالم کے ’پیسہ اخبار‘ میں کمرشل آرٹسٹ کے طور پر کام شروع کیا؛ یہ وابستگی ۱۹۲۲ء تک رہی۔ کچھ عرصہ ’میو اسکول آف آرٹس‘ میں مصوّری کی تدریس بھی کی۔ کام اور مہارت کے باعث وہ اَللّٰہ بَخش سے ’اُستاد اَللّٰہ بَخش‘ کہلانے لگے۔

اَللّٰہ بَخش کو ۱۹۲۴ء میں مہاراجۂ جموں و کشمیر نے کورٹ پینٹر کی ملازمت کی پیشکش کی، مگر اُنھوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ بعد میں وہ مہاراجۂ پٹیالہ کے دربار میں ریاستی مصوّر رہے اور ۱۹۳۸ء میں لاہور واپس آگئے۔

اَللّٰہ بَخش نے لاہور واپس آنے کے بعد پہلے گوالمنڈی اور پھر مسلم ٹاؤن میں اپنا اسٹوڈیو قائم کیا۔ وہاں لوگ اُن سے مصوّری سیکھنے آتے تھے اور وہ فیس نہیں لیتے تھے۔ ۱۹۳۸ء سے ۱۹۴۷ء تک وہ ’کپور پرنٹنگ پریس‘ سے بھی وابستہ رہے۔

اَللّٰہ بَخش کے شاگردوں میں خلیفہ قمرالدین شامل تھے، جو ۱۹۳۲ء سے ۱۹۴۱ء تک اُن کے گھر رہے اور اُن سے مصوّری سیکھی۔ اُن کے بیٹے استاد عبدالعزیز بھی مصوّر تھے۔ اُن کے پوتے استاد عبدالمجید نے اپنے والد اور دادا سے مصوّری سیکھی، جب کہ اُن کے ایک اور پوتے عبدالخالق کا بھی مصوّری کے حوالے سے ذکر ملتا ہے۔

اَللّٰہ بَخش کو جدید لینڈ اسکیپ اور تشبیہی نقّاشی، یعنی فیگَریٹو پینٹنگ، کا ماہر مصوّر مانا جاتا ہے۔ اُنھیں ثقافتی مصوّر بھی کہا جاتا ہے۔ اُن کے کام میں فطرت کے مناظر، انسانی شکلیں اور مقامی ثقافت کے قصّے یکجا دکھائی دیتے ہیں۔

اَللّٰہ بَخش کی فنی زندگی کا ایک نمایاں پہلو ہندو اساطیر کے کرداروں کی مصوّری ہے۔ ایک مسلمان مصوّر کا کرشن اور دیگر ہندو دیوی دیوتاؤں کو کینوس پر پیش کرنا اُس عہد کا ایک حساس اور قدرے غیر معمولی پہلو تھا۔ فنِ مصوّری کی ایک ناقدہ نے اُن کے اس فنی رویّے کو اپنے لوگوں کی مشترک ثقافتی یادداشت سے ہم آہنگ ایک آزادانہ اظہار کے طور پر دیکھا ہے۔ (نیلوفر فرخ، ’اے ری ریڈنگ آف استاد اللہ بخش‘، کراچی کلیکٹو، ۲۸ ستمبر ۲۰۲۳ء)

اَللّٰہ بَخش نے پنجاب کی رومانوی داستانوں کے کرداروں کو بھی مصوّری کا موضوع بنایا۔ ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال اور مرزا صاحباں سے متعلق تصویروں میں محبت کے ساتھ جدائی، کرب اور انتظار کی کیفیات بھی دکھائی دیتی ہیں۔ سوہنی مہینوال کی ایک تصویر میں دریا کے کنارے مہینوال اور پانی میں ڈوبتی ہوئی سوہنی دکھائی گئی ہے۔ یہ تصویر ۱۹۲۳ء میں بنائی گئی تھی اور الحمرا آرٹ میوزیم میں رکھی گئی ہے۔ تھیٹر کے پردے بنانے کے اُن کے تجربے کا اثر اِن تصویروں کی منظر آرائی اور کرداروں کی ترتیب میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اَللّٰہ بَخش نے پنجاب کے زرخیز میدانی علاقوں اور روزمرّہ دیہی زندگی کو بھی اپنی تصویروں کا موضوع بنایا۔ کہیں کسان بیلوں کی جوڑی کے ساتھ ہل چلاتے ہیں، کہیں لڑکیاں کھیتوں میں گندم کاٹتی ہیں، اور کہیں جھیل کا کنارہ، پہاڑوں کا منظر یا اداس شام دکھائی دیتی ہے۔ سرسبز کھیت، کھلیان، شفاف بہتا پانی، کھانا لے کر جاتی ہوئی مٹیاریں، درختوں کی اوٹ میں ڈوبتا سورج اور کھیتوں میں چرتے جانور بھی اُن کے دیہی مناظر میں شامل ہیں۔ اُن کی حقیقت سے قریب تر پینٹنگز رنگوں، زندگی اور جیتے جاگتے لوگوں سے بھرپور تھیں۔

اَللّٰہ بَخش کے تصویری اسلوب میں قدرتی مناظر، انسانی شکلوں اور منظر آرائی کو خاص جگہ حاصل تھی۔ وہ آبی، روغنی، پوسٹر اور ٹیمپرا رنگوں کے علاوہ چاک اور پنسل سے بھی کام کرتے تھے۔ اُن کی خواتین کی تصویروں میں چہرے کی شادابی، آنکھوں کی چمک، خمدار زلفیں اور ہونٹوں کی مسکراہٹ جیسی جزئیات نمایاں ہوتی تھیں۔ پنجاب کے رنگین مناظر سے لے کر پتھریلے علاقوں اور پہاڑوں کی چوٹیوں تک، اُنھوں نے مختلف طرح کے مناظر پینٹ کیے۔ ایک مضمون میں ۱۹۱۰ء کی اُن کی ’مہاجر‘ نامی تصویر کے مشہور ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔

لاہور میوزیم میں اَللّٰہ بَخش کے کئی فن پارے موجود ہیں۔ ’طلسمِ ہوش رُبا‘ اُن کی معروف تصویروں میں سے ہے اور میوزیم کے مطابق یہ اُس کے معاصر مصوّری کے مجموعے کا اہم فن پارہ ہے۔ اس میں ڈرامائی روشنی اور بھرپور منظر آرائی نمایاں ہیں۔ بیلوں کی جوڑی والا منظر بھی اُن کے معروف کاموں میں شمار ہوتا ہے۔

اَللّٰہ بَخش کا شمار اُن فنکاروں میں ہوتا ہے جن کے فن اور کارکردگی کو اُن کی زندگی ہی میں سراہا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے ۱۹۶۳ء میں اُنھیں تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا۔ اُن کے انتقال کے تیرہ برس بعد، ۲۴ دسمبر ۱۹۹۱ء کو، حکومتِ پاکستان نے اُن کے پورٹریٹ اور ایک پینٹنگ سے مزیّن یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا؛ یہ اُن کی فنی خدمات کا اعتراف تھا۔

اَللّٰہ بَخش کو قریب سے جاننے والے اُنھیں نرم مزاج اور پُرسکون بیان کرتے تھے۔ اُن کے مطابق، اُن کی صحبت میں بیٹھنے والوں کو سکون اور خوشی محسوس ہوتی تھی۔ وہ گوال منڈی اور بعد میں مسلم ٹاؤن کے اپنے اسٹوڈیو میں مصوّری سیکھنے آنے والے شاگردوں سے معاوضہ نہیں لیتے تھے۔ اُن کی طبیعت میں غِنا اور بے نیازی تھی۔

اَللّٰہ بَخش کو زندگی کے آخری برسوں میں موتیا بند ہوا اور اُن کی بینائی کمزور ہوگئی۔ ۱۸ اکتوبر ۱۹۷۸ء کو لاہور میں اُن کا انتقال ہوا۔ اُنھیں قبرستان مسلم ٹاؤن، بلاک اے، مسجدِ بلال کے بالمقابل دفن کیا گیا۔

اُستاد اَللّٰہ بَخش کو ہم سے بچھڑے اڑتالیس برس بیت چکے ہیں، لیکن اُن کا فن آج بھی زندہ ہے۔ الحمرا میں اُن کے نام سے منسوب آرٹ گیلری اور لاہور میوزیم میں محفوظ اُن کے ’طلسمِ ہوش رُبا‘ سمیت دیگر فن پارے آج بھی اُن کے چاہنے والوں اور فن کے قدردانوں کو اُن کی یاد دلاتے ہیں۔

ریڈیو پاکستان اس عظیم مصوّر کو اُن کی برسی کے موقع پر خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے؛ یہ یادآوری اُن کے فن اور پاکستان کی شاندار ثقافتی روایت کی قدر شناسی کا پیغام بھی ہے۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان