اُڑنے کو تیار، دو سفید پرندے
ریاستِ بہاولپور کے منفرد شاہی علامتی نقش کا اَحوال
“مَیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ بادشاہ (جہانگیر) نے اپنے ایک کم سِن بیٹے (شہزادے) شہریار، جو سات برس کا بچّہ تھا، کو حکم دیا کہ وہ ہاتھی کے قریب چلا جائے تاکہ وہ اُسے اپنی سُونڈ سے اُٹھا لے۔
ہاتھی نے بھی ایسا ہی کیا اور شہزادے کو سُونڈ سے اُٹھا کر فِیل بان، جو آنکُس (لوہے کے آنکڑے) کے ذریعے اُسے قابو کر رہا تھا، کے حوالے کر دیا۔ شہزادے کے ساتھ ایسا کرنے کے بعد ہاتھی نے بہت سے دوسرے بچّوں کے ساتھ بھی یہی کیا۔
جب بادشاہ (جہانگیر) سفر کرتا ہے تو سَدھائے ہوئے کئی ہاتھی اُس کے ہمراہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنی شاہانہ شان کے اِظہار کے لیے بھی اُنہیں اپنی سواری کے آگے چلواتا ہے۔ اُنہیں پیتل کے اُبھرے ہوئے زیورات سے آراستہ کیا جاتا ہے، جبکہ بعض زیورات خالص چاندی یا سونے کے بنے ہوئے بھی ہوتے ہیں۔ اُن کے ساتھ مختلف گھنٹیاں بھی لٹکتی ہیں، جن کی آواز ہاتھی پسند کرتے ہیں۔ اُن پر عُمدہ پوشاکیں بھی ڈالی جاتی ہیں، جو قیمتی کپڑے یا مخمل، حتّیٰ کہ سونے اور چاندی کی تاروں والے قیمتی زَربَفت تک کی بنی ہوتی ہیں۔
مزید شاہانہ شان کے لیے اِن ہاتھیوں کے آگے ریشم کے پھریرے اُٹھائے جاتے ہیں۔ اِن پھریروں پر بادشاہ کا نشان نقش ہوتا: ایک بیٹھا ہوا شیر اور اُس کے عقب میں سورج، جس کا ایک حصّہ شیر کے جسم کے پیچھے چھپا دکھائی دیتا ہے۔”
یہ مشاہدات انگریز پادری ایڈورڈ ٹیری کے ہیں، جو اُس نے اپنی خود نوشت ’اے وائج ٹو ایسٹ انڈیا‘ میں درج کیے ہیں۔ اِس کتاب کے سبھی مشاہدات مُغل دربار اور ہندوستانی لوگوں کی بُود و باش اور رہن سہن سے متعلق ہیں۔
ٹیری، سَر تھامس رو (جو انگلستان کے بادشاہ جیمز اوّل کے سفیر کی حیثیت سے مُغل بادشاہ جہانگیر کے دربار میں رہا تھا) کے سفارتی مشن کے ساتھ ۱۶۱۶ء سے ۱۶۱۹ء تک بطور پادری وابستہ رہا تھا۔ اِس سفارت کا ایک اہم مقصد مُغل سلطنت میں انگریز تاجروں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے تجارتی مراعات اور شاہی سرپرستی حاصل کرنا تھا۔
ٹیری نے جہانگیر کی شاہی سواری کے آگے چلنے والے جس عَلَم یا ریشمی پھریرے کا ذکر کیا ہے، اُس طرح عَلَموں اور اُن پر بنے مخصوص نشانات کے ذریعے اپنی شناخت ظاہر کرنے کی روایت خود ٹیری کے اپنے یورپ میں بھی صدیوں سے موجود چلی آرہی تھی۔
صلیبی جنگوں (۱۰۹۵ء تا ۱۲۹۱ء) میں یورپ سے آنے والی عیسائی افواج بالعموم صلیب کے نشان والے عَلَموں کے ساتھ میدانِ جنگ میں اُترتی تھیں۔ تاہم اِن جنگوں میں شریک مختلف بادشاہوں اور اُمرا کے اپنے علیحدہ عَلَم اور نشان بھی ہوتے تھے۔ مثال کے طور پر، انگلستان کے بادشاہ رچرڈ اوّل کے ۱۱۸۹ء کے شاہی نشان پر ایک شیر دکھائی دیتا ہے۔ بعد کے سالوں میں اُس کے شاہی نشان پر ایک کی بجائے تین شیر نمودار ہوئے، جو آگے چل کر انگلستان کے شاہی نشان کی نہایت معروف علامت بنے۔
۱۸۵۸ء میں جب ہندوستان کا اِقتدار ایسٹ انڈیا کمپنی سے تاجِ برطانیہ کو منتقل ہوا، برٹش انڈیا بہت سی شاہی ریاستوں پر مشتمل سرزمین تھی؛ اِن میں سے ہر ایک کا اپنا حکمران خاندان، اپنی تاریخ، نَسَب، جغرافیہ اور مقامی روایات تھیں۔
لیکن اِن شاہی ریاستوں میں کچھ تو علامتوں اور نقوش والی شناخت سرے سے رکھتی ہی نہیں تھیں، جبکہ باقی اپنی شاہی علامات و نشانات کے اِستعمال کے معاملے میں کسی ایک مشترک ضابطے کی پیروی یا یکساں طرز کا سانچہ رکھنے کی روادار ہی نہیں تھیں۔
۱۸۷۶ء کا سال برٹش انڈیا کے اِنتظامی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی لایا؛ ’رائل ٹائٹلز ایکٹ ۱۸۷۶ء‘ کے تحت برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ کے شاہی اَلقاب میں ہندوستان کے لیے ’اِیمپریس آف انڈیا‘ کا لقب تجویز کیا گیا، جو ہندوستان میں ’قیصرۂ ہند‘ کے طور پر ترجمہ ہوا۔
اِس اہم تبدیلی کے بعد ملکہ کے اِس نئے شاہی لقب کے اِعلان کو ہندوستان میں غیر معمولی شان و شوکت کے ساتھ منانے کے لیے وائسرائے لارڈ لِٹن کے عہد میں دہلی میں ایک عظیم شاہی اِجتماع منعقد کرنے کی تیاری شروع ہوئی۔ اِس اِجتماع میں ہندوستان کے مختلف حصّوں سے راجوں، مہاراجوں، نوابوں اور دوسرے حکمرانوں کو جمع کیا جانا تھا، اور یکم جنوری ۱۸۷۷ء کو دہلی میں منعقد ہونے والے اِسی ’اِمپیریل اَسیمبلیج‘ (شاہی خاندانوں کے اِکٹھ) میں ملکہ وکٹوریہ کے نئے شاہی لقب ’قیصرۂ ہند‘ کے اِعلان کے ساتھ ساتھ ہندوستانی حکمرانوں اور ریاستوں کے لیے اُن کے منفرد شاہی علامتی نشانات یا نقوش کے اِعلان کی تجویز بھی سامنے آئی۔
۱۸۷۷ء کے اِس دربار کے طفیل برٹش انڈیا کا اِنتظامی اور شاہی ڈھانچا علامتی نشانوں کے ضمن میں یکسر بدلنے لگا تھا؛ اب ایک تو ہر شاہی ریاست کوئی نہ کوئی علامت یا نقش (insignia) اِختیار کرنے لگی تھی یا اُس کے پہلے سے موجود کسی کچّے پکّے نقش کو اب ایک مستقل پکّا سانچہ (standard format) ملنے لگا تھا۔ برٹش انڈیا اب ’ہِیرالڈری‘ (heraldry) کی طرف راغب ہونے لگا، جس کا اِشتیاق خود تاجِ برطانیہ نے پیدا کیا۔
“ہِیرالڈری” انگریزی زبان کی اِصطلاح ہے جس سے مراد علامتوں اور نقوش کا وہ باقاعدہ نظام ہے، جس کے تحت بادشاہ، شاہی خاندان اور اُمرا مخصوص علامات اور نشانات کے ذریعے اپنے جلال و جبروت اور اپنے زیرِ اِنتظام علاقوں کی خوبصورتی یا اِنفرادیت کا اِظہار کرتے ہیں۔
۱۸۷۷ء کا شاہی اِجتماع ملکۂ برطانیہ کے لیے محض ایک نئے لقب کے اِعلان کی تقریب نہیں تھا؛ مختلف علاقوں، خاندانوں، مذاہب اور روایات سے تعلق رکھنے والے حکمران، جو کبھی ایک دوسرے کے دشمن بھی رہے تھے، اب ایک ہی مقام پر جمع ہونے والے تھے۔ اُن میں سے ہر ایک کی اپنی جداگانہ شناخت تھی، لیکن اُن سب کو تاجِ برطانیہ کے زیرِ سایہ ایک مشترک شاہی نظام کے حصّے کے طور پر دکھانا تھا۔ چنانچہ اِس مقصد کے لیے باقاعدہ ہِیرالڈک نشان اور عَلَم مرتب کرنے کا منصوبہ اِختیار کیا گیا۔ اِس کام کے لیے رابرٹ ٹیلر کی خدمات حاصل کی گئیں۔
رابرٹ ٹیلر کیمبرج سے تعلیم یافتہ اور بنگال سول سروس کا افسر تھا، جسے ہِیرالڈری سے خصوصی دل چسپی تھی اور وہ ہندوستانی حکمرانوں کے لیے علامتی نشان مرتب کرنے کا تجربہ بھی رکھتا تھا؛ ۱۸۶۹ء–۷۰ء میں ملکہ وکٹوریہ کے بیٹے ڈیوک آف ایڈنبرا کے دورۂ ہندوستان کے موقع پر اُس نے ہندوستانی شہزادوں کے لیے عَلَم اور اُن پر شاہی نشان مرتب کیے تھے۔ بعد ازاں ۱۸۷۵ء–۷۶ء میں پرنس آف ویلز کے دورۂ ہندوستان کے موقع پر بھی ہندوستانی حکمرانوں کے لیے بڑی تعداد میں نشان اور عَلَم درکار ہوئے اور ٹیلر ایک مرتبہ پھر اِس کام سے وابستہ رہا تھا۔
چنانچہ مئی ۱۸۷۶ء میں جب دہلی کے آئندہ شاہی اِجتماع کی تیاریوں کے سلسلے میں ٹیلر کو ہندوستانی حکمرانوں اور ریاستوں کے لیے باقاعدہ ہِیرالڈک نشان اور عَلَم مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تو اُسے تقریباً اَسّی (۸۰) مزید نشان تیار کرنے تھے، کیونکہ وہ دس کے نشان پہلے ہی مختلف اوقات میں مرتب کرچکا تھا۔
اِن شاہی ریاستوں کے لیے علامتی نقش بنانے کا کام بھی کچھ آسان نہیں تھا؛ ٹیلر کے پاس وقت کم تھا، لہٰذا اُس نے ایک سادہ سا منصوبہ بنایا۔ اُس نے ہِیرالڈری کا ایک بنیادی اور تقریباً یکساں سانچہ تیار کیا، جس میں ڈھال (Shield)، اُس کے دونوں طرف حامی پیکر (Supporters)، بالائی نشان (Crest) اور شِعار (Motto) کے لیے جگہ مقرر تھی۔
اب ہر شاہی ریاست نے اپنی اِنفرادی شناخت کے لیے اِس سانچے کے اندر متعلقہ معلومات پُر کرنی تھیں؛ علامتوں اور نقوش کو اِس سانچے میں رکھنے کا کام ٹیلر نے کرنا تھا۔
ٹیلر نے ریاستوں سے متعلق معلومات اور تجاویز برطانوی ریزیڈنٹوں اور پولیٹیکل ایجنٹوں کے ذریعے حاصل کیں؛ کہیں حکمران یا دربار نے اپنی پسند کی علامت تجویز کی، کہیں کوئی خاکہ فراہم کیا گیا اور کہیں ریاست یا حکمران خاندان کی تاریخ، نَسَب، مذہبی روایت، مقامی داستانوں اور جغرافیائی خصوصیات سے مناسب علامت اَخذ کی گئی۔ شاہی ریاست ٹراونکور سے متعلق محفوظ مراسلت بھی اِس طریقۂ کار کی تصدیق کرتی ہے، جہاں ٹیلر نے ریزیڈنٹ کے ذریعے حکمران خاندان کی تاریخ اور اِمتیازی خصوصیات سے متعلق معلومات طلب کی تھیں۔
اِس عمل کی ایک دل چسپ مثال میواڑ کی ہے، جہاں سے ٹیلر کو باقاعدہ رنگین خاکہ بھیجا گیا۔ اُس میں چتوڑ اور میواڑ کے پہاڑی علاقے، دسہرے کے موقع پر پوجی جانے والی تلوار، رانا پرتاپ اور خاندان کے مذہبی سرپرست ایکلِنگ مہادیو تک کو علامتی صورت میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
یوں تاجِ برطانیہ کی یہ کارروائی محض برطانوی علامات اور نقوش کا نظام ہندوستانی ریاستوں پر مسلط کرنے کی نہیں تھی بلکہ شاہی ریاستوں سے حاصل ہونے والی مقامی علامات اور روایات کو بھی نئے ہِیرالڈک سانچے میں ڈھالا جانا تھا۔
ٹیلر نے اِس مختلف النوع مواد کو ایک ایسے مشترک بصری سانچے میں ڈھالا جسے برطانوی علامتی روایت کے قواعد کے مطابق پڑھا اور پہچانا جاسکتا تھا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں ہِیرالڈری اِس پورے منصوبے کی بنیادی زبان بن گئی۔
البتہ اِن نشانوں کو بڑے ریشمی عَلَموں کی عملی صورت دینے کا کام ٹیلر نے خود نہیں کیا۔ یہ ذمہ داری لاہور اسکول آف آرٹس کے سپرنٹنڈنٹ جان لاک وُڈ کِپلنگ کو سونپی گئی، جو بعد میں عالمی شہرت پانے والے ادیب رڈیارڈ کِپلنگ کے والد تھے۔ ٹیلر کے مرتب کردہ ہِیرالڈک نشان اِنہی عَلَموں پر منتقل کیے گئے، جنہیں دہلی کے شاہی اِجتماع کے موقع پر ہندوستانی حکمرانوں کو پیش کیا جانا تھا۔
یوں رابرٹ ٹیلر نے، پرانے اور نئے ملا کر، مجموعی طور پر نوّے ہندوستانی ریاستوں کے لیے ہِیرالڈک نشان مرتب کیے۔ اِن میں سے ۶۳ حکمرانوں کو یکم جنوری ۱۸۷۷ء کے ’اِمپیریل اَسیمبلیج‘ میں جان لاک وُڈ کِپلنگ کے تیار کردہ، اُن کے نشانوں سے آراستہ عَلَم پیش کیے گئے۔
اِن نشانوں کے بنیادی سانچے میں خاصی یکسانیت تھی، لیکن ڈھال پر بنائے گئے نقوش، اُس کے اوپر رکھا گیا تاجی نشان اور خصوصاً ڈھال کے دونوں جانب کھڑے کیے گئے حامی پیکر ریاست بہ ریاست بدلتے چلے جاتے تھے۔ یوں ایک ہی ہِیرالڈک سانچے میں ہندوستان کے مختلف علاقوں، حکمران خاندانوں اور مقامی روایات سے وابستہ جانوروں، پرندوں اور دوسری علامتوں کو جگہ ملتی گئی۔
مثلاً بڑودہ، جو آج بھارت کی ریاست گجرات میں وڈودرا کے نام سے جانا جاتا ہے، کے نشان میں ڈھال کے دونوں جانب دو ہاتھی حامی پیکر بنائے گئے۔ وسطی ہندوستان کی ریاست دِیواس کی دونوں شاخوں کے لیے بھی دو دو ہاتھی رکھے گئے؛ حیدرآباد دکن کے نظام کے نشان میں ڈھال کے دونوں جانب دو شیر تھے، جبکہ جوناگڑھ کے نواب کے لیے دو سفید شیر حامی پیکر بنائے گئے۔
ناہن یا سِرمور کی ریاست، جس کا علاقہ آج ہماچل پردیش میں شامل ہے، کے نشان میں ڈھال کے دونوں جانب دو تیندوے تھے، جبکہ گجرات کی سابق ریاست بانسدا کے دونوں حامی پیکر ریچھ تھے، جن کے کندھوں پر شعلوں کی علامت بنائی گئی تھی۔ یوں ایک ہی بنیادی ہِیرالڈک ساخت میں کہیں ہاتھی، کہیں شیر، کہیں تیندوے اور کہیں ریچھ کسی ریاست یا حکمران خاندان کی جداگانہ شناخت کا حصّہ بن رہے تھے۔
حامی پیکروں کے طور پر پرندوں کا اِستعمال بھی خاصا دل چسپ تھا۔ بالاسینور، جو موجودہ گجرات میں واقع ہے، کے نشان میں ڈھال کے دونوں جانب دو کبوتر رکھے گئے۔ اِسی علاقے کی ریاست لوناواڑا کے حامی پیکر دو سارس کُلنگ تھے۔ شمالی ہندوستان کی پہاڑی ریاست سُکیت، جس کا علاقہ آج ہماچل پردیش میں شامل ہے، کے لیے ۱۸۷۷ء کے نشان میں دو کوّے حامی پیکر بنائے گئے، جنہیں پَر اُٹھائے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
یہ بھی لازم نہیں تھا کہ ڈھال کے دونوں جانب ایک ہی نوع کے دو حامی پیکر ہوں۔ وسطی ہندوستان کی ریاست دَتیا، جس کا علاقہ آج مدھیہ پردیش میں ہے، اِس کی ایک واضح مثال تھی: اُس کی ڈھال کے ایک جانب شیر اور دوسری جانب سانبھر ہرن رکھا گیا تھا۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو یکساں جانور یا پرندے رکھنا ایک عام ہِیرالڈک ترتیب ضرور تھی، لیکن کوئی لازمی قاعدہ نہیں تھا۔
ٹیلر کے مرتب کردہ نشانوں میں پاکستان کا حصّہ بننے والی ریاست بہاولپور بھی شامل تھی۔
۱۸۷۷ء میں بہاولپور کے تخت پر نواب صادق محمد خان چہارم عباسی متمکن تھے۔ اُن کے لیے مرتب کیے گئے ہِیرالڈک نشان میں ڈھال کے دونوں جانب دو پیلیکن حامی پیکر بنائے گئے۔ اصل ہِیرالڈک عبارت میں اِنہیں “Two pelicans rousant, Argent, billed and membered Or” کہا گیا، یعنی: ’’دو سفید یا نقرئی پیلیکن، جن کے پَر اُٹھے ہوئے تھے اور چونچیں اور ٹانگیں سنہری دکھائی گئی تھیں۔‘‘
لیکن بہاولپور کے نشان کی اصل کہانی اِن دو پیلیکنوں کی شکل و صورت سے کہیں زیادہ دل چسپ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ٹیلر نے اُنہیں کس رنگ میں بنایا یا ہِیرالڈری کے کس قاعدے کے تحت ڈھال کے دونوں جانب کھڑا کیا؛ اصل سوال یہ ہے کہ بہاولپور کے لیے پیلیکن ہی کیوں منتخب کیے گئے؟
اِس سوال کے جواب کے ضِمن میں کہ ریاستِ بہاولپور نے پیلیکن پرندے کو اپنے علامتی نقش کے لیے کیوں منتخب کیا، چار وجوہات سامنے آتی ہیں۔
اوّل: ریاست کا حکمران عبّاسی خاندان چونکہ اپنے نَسَب کو عراق کے عبّاسی خاندان سے ملاتا تھا، جہاں پیلیکن کثرت سے پائے جاتے تھے، اِس لیے اِس پرندے کو ریاست کے نشان میں جگہ دی گئی۔ یہ وضاحت پیلیکن کو محض ہِیرالڈری کی کوئی اِتّفاقی یا آرائشی علامت قرار دینے کے بجائے براہِ راست حکمران خاندان کی عبّاسی اور عراقی نِسبت سے جوڑتی ہے۔
اُنیسویں صدی کے یورپی ماخذ بھی عراق اور بینُ النَّہرَین(دو دریاؤں، یعنی دِجلہ اور فُرات کے درمیان کے خطّے) کے آبی علاقوں میں پیلیکن کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہیں۔ دریائے دِجلہ و فُرات اور اُن سے وابستہ جھیلوں، دلدلوں اور نشیبی آبی علاقوں میں یہ پرندہ پایا جاتا تھا۔ برطانوی افسر اور سیّاح فرانسس راڈن چَیسنی نے ۱۸۳۵ء سے ۱۸۳۷ء کے درمیان دِجلہ و فُرات کے سروے کے لیے کی جانے والی اپنی مشہور مہم کے مشاہدات، جو بعد میں ۱۸۵۰ء میں ’دی ایکسپیڈیشن فار دی سروے آف دی رِوَرز یوفریٹیز اینڈ ٹائگرس‘ کے نام سے شائع ہوئے، میں علاقے کے پرندوں کا ذکر کرتے ہوئے بہت بڑی جسامت کے پیلیکنوں کی موجودگی بھی درج کی۔
اُنیسویں صدی کی دوسری سیّاحتی تحریروں میں بھی فُرات کے سفر کے دوران پیلیکنوں کے خاصی تعداد میں دکھائی دینے اور دلدلی جزیروں پر اُن کی کثرت کا ذکر ملتا ہے۔ اور صرف یہی نہیں، عراق اور عرب دنیا میں پیلیکن محض موجود ہی نہیں تھا بلکہ عربی علمی روایت بھی اِس پرندے سے واقف تھی۔
عربی میں پیلیکن کے لیے ’اَلْبَجَع‘ اور ’اَلْحَوْصَل‘ جیسے نام ملتے ہیں، جبکہ قدیم عربی حیوانی لُغت میں اُسے ’جَمَلُ الْمَاءِ‘، یعنی ’پانی کا اُونٹ‘ بھی کہا گیا۔ کمال الدین دَمیری نے چودھویں صدی عیسوی کی اپنی معروف کتاب ’حَیاۃُ الحَیَوان الکُبریٰ‘ میں ’جَمَلُ الْمَاءِ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا: ’اَلْبَجَعُ وَهُوَ الْحَوْصَلُ‘، یعنی جَمَلُ الْمَاءِ سے مراد بَجَع ہے اور یہی حَوْصَل ہے۔
اِس سلسلے میں ایک اور دل چسپ شہادت عراقی عالمِ لُغت فادر اَنستاس ماری الکرمَلی کی ۱۹۳۸ء میں شائع ہونے والی کتاب ’نشوء اللغة العربية ونموها واكتهالها‘ سے ملتی ہے۔ پیلیکن کے مختلف عربی نام بیان کرتے ہوئے الکرمَلی لکھتے ہیں کہ عراق کے عوام اِس پرندے کو ’نُعَیْجُ الْمَاءِ‘ بھی کہتے ہیں۔
اِسی کتاب میں الکرمَلی پیلیکن کے ساتھ وابستہ ایک قدیم تمثیلی روایت بھی نقل کرتے ہیں۔ اُن کے مطابق اِس پرندے کے متعلق یہ تصوّر پایا جاتا تھا کہ وہ اپنے بچّوں کی خاطر ’يَشُقُّ صَدْرَهُ شَقًّا لِيُطْعِمَ فِرَاخَهُ، أَوْ لِيُغَذِّيَهَا مِنْ دَمِهِ‘ (ترجمہ: وہ اپنے بچّوں کو کھلانے کے لیے اپنا سینہ چیر دیتا ہے، یا اپنے خون سے اُنہیں غذا دیتا ہے)۔
اِسی روایت کی ایک اور صورت یعقوب اوجین مَنّا کی ۱۹۰۰ء میں شائع ہونے والی آرامی لُغت ’دلیل الراغبین فی لغۃ الآرامیین‘ میں ملتی ہے، جہاں پیلیکن کے بارے میں یہ قصّہ نقل کیا گیا ہے کہ اگر اُس کا کوئی بچّہ مَر جائے تو وہ اپنا سینہ چیر کر اُس پر اپنا خون چھڑکتا ہے اور اُسے دوبارہ زندگی مل جاتی ہے۔
یہی تمثیل مسیحی روایت میں پیلیکن کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب قربانی کی علامت بنانے کا سبب بنی اور یورپی ہِیرالڈری میں اِس مخصوص صورت کو ’پیلیکن اِن ہر پائٹی‘ کہا گیا۔ تاہم بہاولپور کے نشان میں رابرٹ ٹیلر نے دونوں پیلیکنوں کو ’اِن ہر پائٹی‘ نہیں بلکہ ’راؤزنٹ‘ لکھا تھا، یعنی اُن کے پَر اُٹھے ہوئے تھے۔ اِس لیے قربانی کی یہ روایت پیلیکن کے عمومی علامتی مفہوم کو سمجھنے میں تو مدد دیتی ہے، مگر اِسے مسیحی روایت سے اَخذ شدہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
دوم: اُسی زمانے میں پیلیکن بہاولپور کے دریاؤں تک بھی پہنچ رہا تھا۔ ریاست کا وسیع علاقہ دریائے سَتلُج، چناب اور سِندھ کے دریائی نظام سے وابستہ تھا اور اِس کا آبی ماحول نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے لیے موزوں تھا۔ انگریز طبیب، مصوّر اور سیّاح جیمز ایٹکنسن جب ۱۸۳۹ء میں دریائی راستے سے بہاولپور کی طرف بڑھ رہا تھا تو اُس نے اپنے ۱۸۴۲ء میں شائع ہونے والے سفرنامے ’دی ایکسپیڈیشن اِنٹو اَفغانستان‘ میں لکھا کہ بہاولپور پہنچنے سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے ’برف کی طرح سفید پیلیکنوں کے بڑے بڑے غول دکھائی دینے لگے‘۔
یوں ایک ہی پرندہ حکمران خاندان کے منسوب آبائی وطن اور اُس کی موجودہ ریاست، دونوں کے جغرافیے سے وابستہ تھا۔ ایک طرف عراق میں دِجلہ و فُرات اور اُن سے وابستہ دلدلی علاقے تھے اور دوسری طرف بہاولپور کا اپنا دریائی خطّہ، جہاں سفید پیلیکنوں کے غول اُترنے کا چشم دید ثبوت موجود تھا۔ اگر بہاولپور کے نشان کے لیے کسی ایسے پرندے کی تلاش تھی جو عبّاسی خاندان کی عراقی نِسبت کی طرف بھی اِشارہ کرے اور خود ریاست کے قدرتی ماحول سے بھی اجنبی نہ ہو تو پیلیکن اِن دونوں نسبتوں کو بیک وقت اپنے اندر سمیٹتا تھا۔
سوم: پیلیکن کے اِنتخاب کے پس منظر میں ایک تیسرا شخص بھی قابلِ توجّہ ہے: کرنل چارلس چیری مِنچن، جو ریاستِ بہاولپور کا پولیٹیکل ایجنٹ رہا تھا۔ نواب صادق محمد خان چہارم کی کم سِنی کے زمانے میں بہاولپور کے نظم و نسق میں برطانوی عمل دخل بہت گہرا تھا اور ریاست کا اِنتظام پولیٹیکل ایجنسی اور مجلسِ نیابت کے ذریعے چلایا جارہا تھا جس کا مدارالمہام یہی کرنل منچن تھا۔اسی نے “منچن آباد” شہر بھی آباد کیا۔
مِنچن بہاولپور کے سیاسی و اِنتظامی معاملات سے طویل عرصے تک وابستہ رہا اور ریاست کے اِنتظامِ حکومت، آب پاشی اور دوسرے معاملات سے براہِ راست واقف تھا۔ اِس لیے ۱۸۷۶ء میں جب رابرٹ ٹیلر ہندوستانی ریاستوں کے ہِیرالڈک نشان مرتب کرنے کے لیے پولیٹیکل افسروں اور ریاستی درباروں سے معلومات اور تجاویز حاصل کررہا تھا تو یہ سوال اہم ہوجاتا ہے کہ بہاولپور کے نشان کے اِنتخاب میں مِنچن یا اُس وقت کی پولیٹیکل ایجنسی کا کتنا عمل دخل تھا۔
مِنچن کا خاندانی پس منظر آئرلینڈ سے تھا اور پیلیکن یورپی، بالخصوص مسیحی، علامتی روایت میں کوئی نامانوس علامت نہیں تھا۔ اِس لیے یہ اِمکان پیش کیا جاسکتا ہے کہ بہاولپور اور اُس کے ماحول سے گہری واقفیت رکھنے والا یہ برطانوی افسر اِس پورے عمل میں پیلیکن کے اِنتخاب کا ایک ممکنہ واسطہ رہا ہو۔ تاہم ایسی اصل مراسلت سامنے آنے تک، جس میں مِنچن کے کردار کی تصدیق ہو، اِسے ایک تاریخی قرینہ ہی سمجھنا چاہیے، ثابت شدہ واقعہ نہیں۔
چہارم: پیلیکن سے وابستہ اپنے بچّوں کی خاطر اپنا خون تک بہا دینے کی قدیم تمثیل بہاولپور کے شاہی نشان کو ایک ایسا مفہوم بھی دیتی تھی جسے حکمران اور رعایا کے باہمی تعلق پر منطبق کیا جاسکتا تھا: ایسا حکمران جو اپنی رعایا کی نگہداشت اور فلاح کے لیے ایثار اور قربانی کو اپنا وصف سمجھے۔
اِن دو پیلیکنوں کے ریاستی شناخت میں رَچ بس جانے کا پتا اُن اَشیا سے چلتا ہے جن پر بہاولپور کا نشان اِستعمال ہونے لگا۔ نوابوں کے لیے تیار ہونے والی ذاتی اور شاہی اَشیا پر بھی یہی نشان دکھائی دیتا ہے۔ نواب صادق محمد خان چہارم سے منسوب اُنیسویں صدی کے اَواخر کی ایک نفیس طلائی گھڑی کے بیرونی حصّے پر بہاولپور کا شاہی نشان بنایا گیا، جس میں ڈھال کے دونوں جانب پیلیکن موجود ہیں۔ اِسی طرح بہاولپور کے شاہی اِستعمال کے لیے یورپ میں تیار ہونے والی کراکری اور چینی کے برتنوں پر بھی ریاست کا نشان نمایاں کیا گیا۔
اِس علامت کا اِستعمال محل تک محدود نہیں رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سرکاری مطبوعات، ڈاک سے متعلق مواد اور ریاستی اِداروں کے نشانات میں بھی پیلیکن کی مختلف صورتیں دکھائی دینے لگیں۔ تعلیمی اِداروں نے اِسی علامتی روایت کو اپنایا، جبکہ ریاستی اَفواج سے وابستہ علامتی مواد میں بھی پیلیکن کو جگہ ملی۔ یوں رابرٹ ٹیلر کے مرتب کردہ نشان کے دو حامی پیکر رفتہ رفتہ ریاستِ بہاولپور کی اِجتماعی بصری شناخت کا حصّہ بنتے چلے گئے۔
پیلیکن اور بہاولپور کا یہ تعلق ریاست کی سرحدوں سے باہر بھی ایک دل چسپ صورت میں سامنے آیا۔ ۱۹۵۱ء میں اَمیرِ بہاولپور کی طرف سے لندن کے سینٹ جیمز پارک کے لیے پیلیکن پیش کرنے کی پیش کش برطانوی پارلیمان تک پہنچی اور برطانوی حکومت نے یہ تحفہ قبول کرلیا۔ اُس وقت ٹیلر کے بہاولپور کی ڈھال کے دونوں جانب دو پیلیکن بنانے کو تقریباً پون صدی گزر چکی تھی۔
یوں ۱۸۷۶ء–۷۷ء کے ایک ہِیرالڈک منصوبے سے شروع ہونے والی یہ علامت کاغذ پر بنے ایک نشان تک محدود نہ رہی۔ وہ شاہی گھڑی پر کندہ ہوئی، کراکری پر اُبھری، سرکاری اور اِدارہ جاتی اِستعمال میں آئی اور ریاستی اَفواج کی علامتی دنیا تک پہنچی۔ جس پرندے کے اِنتخاب میں عراق کی عبّاسی نِسبت، بہاولپور کا اپنا دریائی ماحول اور ایثار و قربانی سے وابستہ قدیم تمثیلی روایت مختلف معنوی تہیں پیدا کرتی تھیں، اُسی پرندے کو بہاولپور نے اپنے مسلسل اِستعمال سے بالآخر ایک مقامی ریاستی علامت بنادیا۔
اور شاید یہی کسی علامتی نشان کی اصل قوّت ہوتی ہے کہ اُس کے اندر تاریخ کے کئی زمانے ایک ہی تصویر میں جمع ہوجاتے ہیں۔ ایڈورڈ ٹیری نے سترھویں صدی میں جہانگیر کی سواری کے آگے ایک ریشمی پھریرے پر شیر اور سورج دیکھا تھا؛ ڈھائی صدیاں بعد ٹیری ہی کے ہم وطنوں نے ہندوستان کی شاہی ریاستوں کی شناخت کو اپنی ہِیرالڈک زبان میں ڈھالا تو بہاولپور کی ڈھال کے دونوں جانب دو سفید پیلیکن کھڑے ہوگئے۔
پھر وقت گزرتا گیا، حکمران بدلے، سلطنتیں ختم ہوئیں اور ریاستی نظام بھی بدل گیا، مگر یہ دو پرندے بہاولپور کی تاریخی شناخت میں باقی رہے۔ علامتیں کبھی کبھی اَلفاظ سے زیادہ دیر زندہ رہتی ہیں؛ اور بہاولپور کے یہ دو پیلیکن آج بھی اپنی خاموش زبان میں اُس تاریخ کا ایک حصّہ سناتے ہیں۔
وفا کا اِستعارہ چاہے اَساطیری یا دیومالائی ہی کیوں نہ ہو، وفا کی نِسبت اپنے ساتھ جُڑ جانے سے معتبر تو بن ہی جاتا ہے۔
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان