Thursday, 01 October 2026, 03:47:52 am
 
ڈِتو کُہاوڑ کا چانڈکا
September 30, 2026

ڈِتو کُہاوڑ کا چانڈکا

جس کی زمین سے موہنجودڑو کی تہذیب کا خزانہ باہر نکلا

"میں نے شاہدادپور کے قریب ایک باغ میں چار فٹ قطر والے چکی کے دو بڑے پاٹ پڑے دیکھے۔ مقامی روایت یہ ہے کہ یہ ڈِتو کہاوڑ کی چکی ہوا کرتی تھی جو چانڈکا کا ’حاتم طائی‘ مانا جاتا تھا؛ اُس کے بارے میں مشہور تھا کہ اُس کے دروازے سے کوئی غریب بھوکا نہیں جاتا تھا۔

اللہ تعالیٰ کی ذات ڈِتو کہاوڑ کی سخاوت سے اتنا خوش ہوئی کہ وہ اپنے ایّامِ زندگی میں جب اِس چکی میں مُٹھی بھر اناج ڈالتا تو اُس کے پاس اِمداد کے لیے آنے والے سائلوں کی طلب کے مطابق اِس چکی سے آٹا نکل آتا تھا۔

مقامی لوگ اب بھی چکی کے اِن پاٹوں کو مُقدّس سمجھتے ہیں، اِن کے قریب ننگے پاؤں جاتے اور اِس جگہ کو صاف سُتھرا رکھتے ہیں۔

چانڈکا کے اِس علاقے کے کچھ حصوں میں ویرانی اِس قدر ہے کہ میں نے یہاں دیگر جنگلی جانوروں کے علاوہ دو شیر بھی دیکھے۔

یہاں چانڈکا میں میاں شاہل محمد کلہوڑو کا مزار ہے؛ لوگ بتاتے ہیں کہ مُغل حُکّام نے اسے صُلح کے بہانے بکھر بلایا اور وہاں قتل کردیا۔ قتل کے بعد اُس کا سر اُڑ کر شاہدادپور میں اُس مقام تک آن پہنچا جہاں اب اِس کا مقبرہ ہے، جبکہ اُس کے مُرید اُس کا دھڑ وہاں سے اُٹھا کر اِس مقام پر لے آئے۔

چانڈکا میں کھوجی بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں؛ تقریباً ہر گاؤں میں ایک کھوجی رکھا جاتا ہے اور اُنہیں بچپن ہی سے اِس فن کی تربیت دی جاتی ہے۔ یہ لوگ اپنے کام میں اِس قدر ماہر ہوتے ہیں کہ بہتے ہوئے پانی، نئے جوتے ہوئے کھیت، کھڑی فصل، سخت صحرائی زمین، بھرے ہوئے قصبوں اور شاہراہوں تک قدموں کے نشانات کا تعاقب کرتے چلے جاتے اور بالآخر مُجرم کو کھوج نکالتے ہیں۔

گرمیوں کے موسم میں یہاں کے لوگ لکڑی کے کھمبوں پر اونچے مچان باندھتے اور ان کے اُوپر سوتے ہیں۔ چانڈکا میں مختلف جسامت کی ۳۹۲ بستیاں اور گاؤں ہیں۔

شاہدادپور یہاں کا کبھی ایک اہم اور آباد مقام تھا۔ ۱۸۳۹ء میں افغانستان کی طرف فوجی پیش قدمی کے دوران لارڈ کین کی فوج نے یہاں سے رَسَد حاصل کی تھی۔ لیکن جب میں ستمبر ۱۸۴۶ء میں یہاں پہنچا تو قصبہ کھنڈر بن چکا تھا اور یہاں صرف ایک بوڑھا ہندو رہ گیا تھا۔ یہاں کی آبادیوں کے اُجڑنے میں کوئی زیادہ وقت نہیں لگتا۔”

یہ اِقتباسات ایسٹ اِنڈیا کمپنی کے اَفسر لیفٹیننٹ ہیو جیمز کی ’رِپورٹ آن دی پُرگنہ آف چانڈُوکا آن اَپر سِندھ‘ میں قَلَم بَند مِلتے ہیں۔ اِس رِپورٹ کے مُتعدِّد عَینی مُشاہدات ۱۸۴۶ء کے ہیں، جبکہ ۳۱ دسمبر ۱۸۴۷ء کو مُکمَّل ہونے کے بعد حُکومت کے سامنے پیش کی گئی۔ بعد میں یہ ۱۸۵۵ء میں سَرکاری طور پر شائع بھی ہوئی اور اِس کی نَقل آج بھی بَرٹِش لائبریری کے سَرکاری ریکارڈز میں مَحفوظ ہے۔

۱۸۴۳ء میں سَر چارلس نیپئر کے ہاتھوں سِندھ کی فَتح کے بعد یہ عِلاقہ ایسٹ اِنڈیا کمپنی کے براہِ راست اِنتظام میں آگیا۔ کسی نئے عِلاقے پر سِیاسی اور فَوجی اِختیار قائم ہوجانے کے بعد کمپنی کے اَفسران اِس کا اِنتظام و اِنصرام چلانے کے لیے اِس طرح کی رِپورٹس کی تیّاری کو ضَروری اَمر سمجھتے تھے۔ زَمین کی نَوعیّت کیا ہے، دَریا اور نَہریں کہاں ہیں، کون سی بَستیاں آباد اور کون سی ویران ہیں، راستے کِدھر جاتے ہیں، زِراعت اور مَحصُولات کی کیا صُورت ہے اور مَقامی آبادی کِس طرح زِندگی گُزارتی ہے—یہ سب مَعلومات نَوآبادیاتی اِنتظامیہ کے لیے عَمَلی اَہمیّت رکھتی تھیں۔

ہیو جیمز کی رِپورٹ اِسی وَسیع اِنتظامی عَمل کی ایک مِثال ہے جِس میں وَسیع خِطّے کے جُغرافیے، نَہروں، جَنگلات، آباد اور ویران بَستیوں اور سابقہ آبادی کے آثار کا خاصا تَفصیلی بَیان مَوجود ہے۔

ہیو جیمز کی ۱۸۴۷ء کی اِس رِپورٹ نے دیگر اَنگریز اَفسروں کو نہ صِرف اِس عِلاقے کے بارے میں سَرکاری مَعلومات جَمع کرنے کی تَرغیب دی بلکہ اُنہیں اِس عِلاقے کے بارے میں بُنیادی مَعلومات بھی فَراہم کیں۔ چُنانچہ ۱۸۵۰ء کی دَہائی میں کیپٹن جے۔ میکڈونلڈ کی نِگرانی میں سِندھ میں نَقشاتی سَروے کا جو وَسیع سِلسلہ شُروع ہوا، اُس میں شِکارپور کَلکٹریٹ کے مُختلف اَضلاع بھی شامل تھے؛ لاڑکانہ ضِلع کا باقاعدہ نَقشاتی سَروے کا کام ۱۸۶۰ اور ۱۸۶۱ کے دَرمیان مُکمَّل کیا گیا۔

اِس سَروے کے نَقشے میں وَکرو، حَسن واہن، بگّی، بَندی، شاہ جَمال، اَبڑا پوترا، غازی ڈیرو اور ڈَبلی جیسی بَستیوں کے قریب ایک نُمایاں ٹیلے کی بھی نِشاندہی کی گئی۔ یہی وہ مَقام تھا جِسے آج دُنیا موئنجودڑو کے نام سے جانتی ہے۔

اُس وَقت نہ موئنجودڑو کی کُھدائی ہوئی تھی، نہ وادیٔ سِندھ کی تَہذیب کا تَصوّر مَوجود تھا اور نہ نَقشہ سازوں کو مَعلوم تھا کہ جِس ٹیلے کو وہ اپنے نَقشے پر مُنتقل کررہے ہیں، اُس کے نیچے ہزاروں بَرس پُرانے ایک عَظیم شَہر کے آثار دَفن ہیں۔

اِس دَوران اَنگریز حُکومت کا قائم کردہ مَحکمۂ جَنگلات (فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ)، جو سِندھ میں اپنے اِنتظامی ڈھانچے کے ساتھ کام کرنے لگا تھا، وہ بھی چانڈکا (لاڑکانہ) میں مَوجود اِن ویران ٹیلوں پر مُشتمل عِلاقے باگی کے جَنگلاتی خِطّے (جو بعد میں گجی ڈیرو فاریسٹ بلاک کا حِصّہ بنے) کا ۱۸۸۷ء میں سَروے کرنے پہنچ گیا۔ اِس سَروے میں بھی اِس ویران ٹیلے کی نِشاندہی کی گئی۔

۱۹۰۱ء کے تَعلّقہ لب دریا، ضِلع لاڑکانہ کے لینڈ رِجسٹر میں اِس ٹیلے کو سَرکاری زَمین قرار دے کر، کیونکہ اِس پر کسی فَرد کا حَقِّ مِلکیّت یا مِلکیّتی دَعویٰ نہیں تھا، سَروے نمبر ۹۷۰ کے تحت اِس کا رَقبہ ۵۶۱ ایکڑ اور ۱۰ گُنٹھے درج کیا گیا۔ اِس زَمانے کے زَمینی پَیمائش کے نِظام میں ایک ایکڑ کے چالیسویں حِصّے کو ’’گُنٹھا‘‘ کہا جاتا تھا۔

مَحکمۂ مال کے ریکارڈ میں اِس جگہ کا نام ’’موئن جو دڑو‘‘ (مَرے ہوئے لوگوں کا ٹیلہ) درج کیا گیا۔ یہ وہ پہلی سَرکاری دَستاویز ہے جِس میں اِس جگہ کا اپنے اِس مَخصوص نام کے ساتھ ذِکر ملتا ہے۔

۱۹۰۱ء میں ’’سَروے آف اِنڈیا‘‘ کی ایک ٹیم بھی ضِلع لاڑکانہ میں آ پہنچی جِس کی نِگرانی دو بَرطانوی اَفسروں، میجر ایس۔ جی۔ برارڈ اور سی۔ ایف۔ ارسکین، کررہے تھے جبکہ عَمَلی کام سے وابَستہ اَفراد میں آر۔ وارک، مُنشی رَحمت اللہ، بابو دھنی رام اور مُتعدِّد سَب سَروئیر شامل تھے۔

موئنجودڑو کا نَقشہ عبدالواحد اور علائے احمد نے تیار کیا، جبکہ کِتابت کی حَد تک انور علی اور علائے احمد شریکِ کار بنے۔

’’سَروے آف اِنڈیا‘‘ کی اِدارہ جاتی اِبتدا ۱۷۶۷ء سے شُمار کی جاتی ہے، جب جیمز رینل کو بنگال کا سَروئیر جَنرل مُقرّر کیا گیا۔ اِس سَروے نِظام کا بُنیادی مَقصد ہِندوستان کی زَمینوں، دَریاؤں، پَہاڑوں، راستوں، آبادیوں اور دُوسری جُغرافیائی خُصوصیّات کی پَیمائش کرکے مُستند سَرکاری نَقشے تیار کرنا تھا۔

اِس لیے اگر دیکھا جائے تو ضِلع لاڑکانہ کا سَروے کرنے والے سَروے آف اِنڈیا کے نَقشہ ساز بھی کسی قَدیم تَہذیب کی تَلاش میں نہیں نکلے تھے؛ وہ مَحض اپنی مَعمول کی کارروائی کے طور پر یہاں کی زَمین، راستوں، بَستیوں اور نَشیب و فَراز کو ناپ کر سَرکاری نَقشے پر مُنتقل کررہے تھے۔

سَروے آف اِنڈیا کی ٹیم نے موئنجودڑو کے ٹیلوں کو نَقشے پر مُنتقل کیا اور نِچلے ٹیلوں پر ’X‘ کا نِشان لگایا۔ نَقشاتی زَبان میں ’X‘ کا یہ نِشان ’’ڈیزرٹڈ سائٹ‘‘ یعنی کسی مَتروک یا اُجڑے ہوئے مَقام کی عَلامت تھا۔

اِن ٹیلوں میں سے بُلند ترین ٹیلے کو بھی نَقشہ سازوں نے نَظرانداز نہیں کیا بلکہ اُسے پَیمائش کے ایک اَہم نُقطے کے طور پر اِستعمال کرتے ہوئے نَقشے پر وہاں ’ٹرائینگولیشن اسٹیشن ۲۲۷‘ درج کردیا۔

ٹرائینگولیشن اسٹیشن دَراصل زَمین پر ایسا مُتعیّن نُقطہ ہوتا تھا جِس کی جُغرافیائی پوزیشن مُثلّثی پَیمائش کے ذَریعے نِہایت دُرستگی سے مَعلوم کی جاتی اور پھر اِسی مَعلوم نُقطے کو بُنیاد بنا کر اَردگِرد کے دُوسرے مَقامات کا مَحلِّ وُقوع مُتعیّن کرکے نَقشہ تیار کیا جاتا تھا۔ اِس مَقصد کے لیے دُور سے دِکھائی دینے والی بُلند جگہیں خاص طور پر مَوزوں سَمجھی جاتی تھیں۔

یوں جِس بُلند ٹیلے کے نیچے ہزاروں بَرس پُرانا ایک شَہر دَفن تھا، وہ سَروے آف اِنڈیا کے نَقشہ سازوں کے لیے فِی الحال اَردگِرد کے عِلاقے کو ناپنے کا ایک کارآمد پَیمائشی نُقطہ تھا۔

یوں ۱۹۱۰ء کے سِندھ کے سَرکاری گَزٹ تک پہنچتے پہنچتے اِس مَقام کی دو سَرکاری شِناختیں سامنے آچکی تھیں؛ مَحکمۂ مال کے ریکارڈ میں اِس کا مَقامی نام ’موہنجودڑو‘ پہلے ہی درج ہوچکا تھا، جبکہ سَروے آف اِنڈیا کے نَقشے میں ’’X‘‘ کی عَلامت کے ذَریعے اِسے ایک مَتروک بَستی کے طور پر دِکھایا جاچکا تھا۔

یہی وَجہ ہے کہ ۱۹۱۰ء کے سَرکاری گَزٹ میں یہ مَقام باقاعدہ ’ڈیزرٹڈ سائٹ آف موہن جو دڑو‘ یعنی ’موہن جو دڑو کا مَتروک مَقام‘ کے طور پر درج ہوا۔

گَزیٹئر چھپنے کے دس سال بعد آرکیالوجیکل سَروے آف اِنڈیا (اے ایس آئی) کے ویسٹرن سَرکل کے سُپرنٹنڈنٹ ڈی۔ آر۔ بھنڈارکر اِن ٹیلوں کا مُعائنہ کرنے پہنچے۔ اُنہوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا کہ وہ اِس مَقام کے بارے میں کچھ خاصے پُرکشش تَذکرے سُن چکے تھے۔

بھنڈارکر ایک باقاعدہ ماہرِ آثارِ قَدیمہ اور کُتبوں کے عالِم تھے، مگر اِن ٹیلوں کو دیکھنے کے باوجود وہ اُن کی اَصل قَدامت تک نہ پہنچ سکے اور ایک بڑے مُغالطے کا شِکار ہوگئے۔ یہاں دِکھائی دینے والی اینٹیں اُنہیں نِسبتاً جَدید طَرز کی مَحسوس ہوئیں اور اُن پر اُنہیں کوئی تَراشیدہ یا نَقش دار آثار بھی دِکھائی نہ دیے جو اُنہیں اِس مَقام کی غَیرمعمولی قَدامت کی طرف مُتوجّہ کرتے۔

مزید یہ کہ جِن مَقامی لوگوں سے وہ مِلے، اُنہوں نے بھی یہی کہا کہ یہ ایسی بَستی کے کھنڈرات ہیں جو کوئی دو سو بَرس پہلے تک آباد تھی۔

چُنانچہ وہ اپنے سَطحی مُشاہدے اور مَقامی لوگوں کی باتیں سُن کر اِن ٹیلوں کے نیچے چھپی اَصل تاریخ کو پہچانے بغیر واپس چلے گئے۔

قِسمت کے کھیل دیکھیں کہ ایک ماہرِ آثارِ قَدیمہ اِس مَقام تک پہنچ چکا اور اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھا بھی، مگر موئن جو دڑو کے راز تک نہ پہنچ پایا۔

بھنڈارکر تو واپس چلے گئے، مگر چند ہی بَرس بعد حالات نے ایک دِلکش پَلٹا کھایا اور ایک دُوسرا ماہرِ آثارِ قَدیمہ، مَحض ایک اِتفاق کے نَتیجے میں، اِنہی ٹیلوں کے سامنے آن کھڑا ہوا۔

۱۹۱۷ء میں سِندھ کے کَمشنر سَر ہنری اِسٹیولی لارنس نے بِذریعہ سَرکاری مُراسلہ آرکیالوجیکل سَروے آف اِنڈیا کے ایک اَفسر راکھل داس بنرجی کو سِندھ آنے کی دَعوت دی تاکہ وہ یہاں مَوجود قَدیم کھنڈرات اور تاریخی مَقامات کا مُعائنہ کریں اور حُکومت کو تَجویز دیں کہ اِن میں سے کِن مَقامات کو ۱۹۰۴ء کے ’قانونِ تَحفّظِ آثارِ قَدیمہ‘ کے تحت مَحفوظ قرار دیا جانا چاہیے۔

راکھل داس بنرجی، جِنہیں آر۔ ڈی۔ بنرجی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بنگال سے تَعلّق رکھنے والے ہِندوستانی مُؤرّخ اور ماہرِ آثارِ قَدیمہ تھے۔ وہ پریذیڈنسی کالج کلکتہ سے تاریخ میں آنرز اور ۱۹۱۱ء میں کلکتہ یونیورسٹی سے تاریخ میں ایم۔ اے کرنے کے بعد پہلے کلکتہ کے اِنڈین میوزیم کے شُعبۂ آثارِ قَدیمہ سے وابستہ رہے اور بعد میں آرکیالوجیکل سَروے آف اِنڈیا کے اَفسر بنے۔ ۱۹۱۷ء میں اُنہیں تَرقّی دے کر اے ایس آئی کے ویسٹرن سَرکل کا سُپرنٹنڈنگ آرکیالوجسٹ مُقرّر کیا گیا۔

یوں دِلچسپ اِتفاق یہ ہوا کہ ویسٹرن سَرکل کے جِس ڈی۔ آر۔ بھنڈارکر کو چند بَرس پہلے موئن جو دڑو کے ٹیلے گُمراہ کرکے واپس بھیج چکے تھے، اُسی سَرکل میں اب راکھل داس بنرجی اُن کے جانشین بن کر آچکے تھے۔

بنرجی سِندھ کے قَدیم مَقامات کا مُعائنہ کرنے نکلے۔ عَین مُمکن تھا کہ وہ ایک ایسی جگہ کی طرف خُصوصی تَوجّہ ہی نہ دیتے جِس کے بارے میں چند بَرس پہلے اُن کا پیش رَو ماہرِ آثارِ قَدیمہ یہ رائے قائم کرکے جاچکا تھا کہ یہ کوئی بہت زیادہ قَدیم مَقام نہیں۔ لیکن ایک اِتفاق اُنہیں وہاں تک لے گیا۔

بنرجی شِکار کے بڑے شَوقین تھے۔ سِندھ کے جَنگلاتی عِلاقوں میں اُن دِنوں کیونکہ شِکار عام دَستیاب تھا لہذا وہ اَکتوبر ۱۹۱۷ء میں کَندھے پر بَندوق رکھ کر اور گھوڑے پر سَوار ہوکر چِیتل یعنی دھبّے دار ہِرن کے شِکار کے لیے نکلے۔ قِسمت اُنہیں راستہ بھٹکا کر باگی کے جَنگلات کی اُس طرف لے گئی جہاں موئن جو دڑو کے ٹیلے مَوجود تھے۔

گوکہ بنرجی وہاں اِتفاقاً ایک شِکاری کی حَیثیّت سے پہنچے تھے، مگر ایک تَربیت یافتہ ماہرِ آثارِ قَدیمہ کی حَیثیّت سے اُن کی نَظریں ٹیلوں اور اُن کے آس پاس کی زَمین کا بَغور مُشاہدہ کررہی تھیں۔ وہ گھوڑے سے اُترے اور ٹیلوں کے اَردگِرد بکھری چیزوں کو غَور سے دیکھنے لگے۔ اِسی دَوران اُن کی نَظر زَمین پر پڑے پَتھر کے ایک مَعمولی سے ٹکڑے پر آکر ٹھہر گئی۔

کسی عام آدمی کے لیے شاید وہ مَحض ایک پَتھر تھا، مگر بنرجی کے لیے نہیں؛ اُنہیں یاد تھا کہ ۱۹۰۳ء میں ہِندوستان کے مُمتاز ماہرِ اَرضیات سَر تھامس ہالینڈ نے اُنہیں اِسی نَوعیّت کے پَتھریلے اَوزار دِکھا کر بتایا تھا کہ یہ ہزاروں سال پہلے مُستعمل ہوا کرتے تھے۔

بنرجی نے زَمین سے مِلنے والے اِس قَدیم پَتھر کو پہچان لیا تھا کہ یہ دَراصل قَدیم پَتھریلا اَوزار، ’سکریپر‘ (Scraper)، تھا۔ اِس قِسم کے اَوزار دھاتی اَوزاروں کے عام اِستعمال سے بہت پہلے سے رائج تھے۔ قَدیم دَور کے اِنسان اِن سے جانوروں کی کھالیں صاف کرنے، گوشت اور چَربی کو کُھرچنے اور لکڑی پر مُختلف نَوعیّت کا کام کرنے کے لیے اِستعمال کرتے تھے۔

اب بنرجی کے سامنے ایک اَہم سَوال کھڑا ہوگیا۔ اگر اِن ٹیلوں پر اِس نَوعیّت کا قَدیم پَتھریلا اَوزار مَوجود تھا تو کیا یہ واقعی مَحض دو سو بَرس پُرانی کسی اُجڑی ہوئی بَستی کے کھنڈرات تھے؟ یا پھر اِن ٹیلوں کی تاریخ اِس سے کہیں زیادہ، شاید ہزاروں بَرس، پیچھے جاتی تھی؟

بنرجی اِس پَتھریلے اَوزار کو اپنے ساتھ لے کر سِندھ کے دُوسرے قَدیم مَقامات کے مُعائنے کیلئے روانہ ہوگئے، لیکن موئن جو دڑو اُن کے ذِہن سے مَحو نہ ہوسکا۔

دو سال کے بعد یعنی دسمبر ۱۹۱۹ء میں بنرجی اپنے سَرکاری دَورے کے دَوران ایک مَرتبہ پھر اِن ٹیلوں پر پہنچے اور اِس بار اِس مَقام کا زیادہ باقاعدگی سے مُعائنہ کیا۔

اِن ٹیلوں میں سب سے نُمایاں وہ بُلند ٹیلہ تھا جِس کے اُوپر ایک قَدیم بُدھ اِسٹوپا کے آثار مَوجود تھے۔ سَطح پر دِکھائی دینے والی اِس عِمارت کا تَعلّق بُدھ عَہد سے تھا، اِس لیے بَظاہر اُنہیں یہی مَحسوس ہوتا تھا کہ یہ مَقام کبھی بُدھ مَت کے پَیروکاروں کیلئے اَہم رہا ہوگا۔

مگر بنرجی کے ذِہن میں ۱۹۱۷ء میں مِلنے والا پَتھریلا سکریپر ایک مُختلف سَوال پہلے ہی پَیدا کرچکا تھا: کیا اِس بُدھ اِسٹوپا کے نیچے اِس سے کہیں زیادہ قَدیم آثار مَوجود ہوسکتے ہیں؟ اِس سَوال کا جَواب زَمین کو کھودے بغیر مِلنا مُمکن نہ تھا۔

بنرجی نے اَگلے دو سال اِس ٹیلے کی کُھدائی کیلئے لائحۂ عَمل بنانے، مَجاز مَحکموں سے اِجازت نامے لینے، ضَروری دَفتری کاغذی کارروائیوں اور وَسائل کی دَستیابی میں صَرف کیے۔ دسمبر ۱۹۲۲ء سے مارچ ۱۹۲۳ء تک اُن کی نِگرانی میں مُختلف مَقامات پر کُھدائی شُروع ہوئی۔ اِنہی میں بُلند ٹیلے پر قائم بُدھ اِسٹوپا کا عِلاقہ بھی شامل تھا۔

کُھدائی کے دَوران اِسٹوپا کے بُلند چَبوترے کی مَشرقی دِیوار کے نیچے سے مِٹّی اور مَلبہ ہٹایا جارہا تھا کہ اِس کام کے نِگران اور بنرجی کے ایک ماتحت اَہلکار، این۔ ایس۔ چِکتے، کو اِس خَندق سے دو چھوٹی سی مُہریں مِلیں۔

اِن مُہروں پر بنی ہوئی تَصویری عَلامات اور تَحریری نِشانات دیکھتے ہی مُعاملہ بدل گیا، کیونکہ اِسی قِسم کی مُہریں کچھ عَرصہ پہلے دَیا رام ساہنی کی ہڑپہ کی کُھدائی سے بھی سامنے آچکی تھیں۔ بنرجی نے اپنی رِپورٹ میں چِکتے کے ہاتھ اِن دو مُہروں کے مِلنے کو خود ایک ’حادثاتی کامیابی‘ اور غَیرمعمولی اَہمیّت کی دَریافت قرار دیا۔

موئن جو دڑو کے ٹیلوں نے بالآخر وہ نِشانی چِکتے نامی اَہلکار کے حَوالے کردی جو اُسے ہڑپہ سے جوڑنے والی تھی۔

موئن جو دڑو سے مِلنے والی اِن دو مُہروں کی اَہمیّت اِس لیے بھی غَیرمعمولی تھی کہ پنجاب میں، موئنجودڑو سے سَینکڑوں مِیل دُور، ہڑپہ کے قَدیم ٹیلوں سے بھی اِسی قِسم کی مُہریں سامنے آچکی تھیں۔

’آرکیالوجیکل سَروے آف اِنڈیا‘ کے ایک اور ہِندوستانی ماہرِ آثارِ قَدیمہ، دَیا رام ساہنی، ۱۹۲۱ء سے ہڑپہ میں کُھدائی کررہے تھے؛ اُنہیں بھی وہاں سے بَیل سے مُشابہ جانور کی تَصویر اور چھ عَجیب و غَریب تَحریری نِشانات والی مُہریں مِلی تھیں۔

اب صُورتِ حال نِہایت دِلچسپ ہوگئی۔ ایک طرف پنجاب میں ہڑپہ تھا اور دُوسری طرف سِندھ میں موئن جو دڑو؛ دونوں مَقامات کے دَرمیان سَینکڑوں مِیل کا فاصلہ تھا، مگر زَمین کے نیچے سے نکلنے والی مُہریں ایک ہی زَبان بولتی ہوئی مَحسوس ہورہی تھیں۔ اِن دونوں مَقامات سے سامنے آنے والے آثار کی مُماثلت نے آرکیالوجیکل سَروے آف اِنڈیا کے ڈائریکٹر جَنرل سَر جان مارشل کی تَوجّہ بھی اپنی طرف کھینچ لی۔

اب سَوال صِرف یہ نہیں رہا تھا کہ موئن جو دڑو کِتنا پُرانا ہے۔ اِس سے کہیں بڑا سَوال سامنے آچکا تھا: آخِر پنجاب کے ہڑپہ اور سِندھ کے موئن جو دڑو میں ایک ہی قِسم کی مُہریں اور ایک ہی ناقابلِ فَہم تَحریر کیوں مِل رہی ہے؟

جَواب حَیران کُن تھا۔

یہ دو اَلگ تھلگ قَدیم بَستیاں نہیں تھیں۔ اِن کے آثار ایک ایسی تَہذیبی دُنیا کی طرف اِشارہ کررہے تھے جِس کا وُجود اُس وَقت تک ہِندوستان کی مَعلوم قَدیم تاریخ میں پہچانا ہی نہیں گیا تھا۔

بالآخر ۲۰ ستمبر ۱۹۲۴ء کو آرکیالوجیکل سَروے آف اِنڈیا کے ڈائریکٹر جَنرل سَر جان مارشل نے لَندن کے ہَفت روزہ اَخبار ’اِلسٹریٹڈ لَندن نیوز‘ میں ’فَرسٹ لائٹ آن اے لانگ فَرگاٹن سِوِلائزیشن‘ کے عُنوان سے دُنیا کے سامنے اِس غَیرمعمولی دَریافت کا اِعلان کردیا۔

سَر جان مارشل کا یہ اِعلان شائع ہوتے ہی ہڑپہ اور موئن جو دڑو سے مِلنے والی پُراسرار مُہروں کی تَصویریں پہلی مَرتبہ دُنیا بھر کے ماہرینِ آثارِ قَدیمہ کے سامنے پہنچ گئیں۔ اور پھر حَیرت اَنگیز طور پر جَواب آنے میں بھی زیادہ دَیر نہ لگی۔

مارشل کا مَضمون شائع ہونے کے صِرف ایک ہَفتے بعد، ۲۷ ستمبر ۱۹۲۴ء کے شُمارے میں مَعروف مُستشرق اور ماہرِ آثارِ قَدیمہ اے۔ ایچ۔ سیس نے اپنے مَضمون میں اِس اَمر کی طرف تَوجّہ دِلائی کہ اِسی قِسم کی ایک مُہر میسوپوٹیمیا—بُنیادی طور پر مَوجودہ عِراق—میں بھی مِل چکی ہے۔ یہ اِطّلاع غَیرمعمولی اَہمیّت رکھتی تھی کیونکہ میسوپوٹیمیا کے قَدیم شَہروں اور اُن کے مُختلف اَدوار کی تاریخ اُس وَقت تک بڑی حَد تک مَعلوم ہوچکی تھی۔

چُنانچہ اگر ہڑپہ اور موئن جو دڑو سے مِلنے والی مُہروں جیسی کوئی مُہر ایسے میسوپوٹیمیائی آثار میں مِل رہی تھی جِن کا زَمانہ ہزاروں بَرس پہلے کا مُتعیّن کیا جاچکا تھا تو اِس سے یہ قَوی اِمکان پَیدا ہوگیا کہ سِندھ اور پنجاب کے اِن پُراسرار شَہروں کی تاریخ بھی مَحض چند سو بَرس نہیں بلکہ ہزاروں بَرس پیچھے جاتی ہے۔

اِس کے بعد سی۔ جے۔ گیڈ اور سِڈنی اِسمتھ جیسے ماہرین نے بھی میسوپوٹیمیا سے مِلنے والی مُہروں کا ہڑپہ اور موئن جو دڑو کی مُہروں سے تَقابل کیا۔ اب رَفتہ رَفتہ ایک حَیرت اَنگیز تَصویر اُبھرنے لگی تھی: سِندھ کے کِنارے آباد اِس نامَعلوم تَہذیب کے لوگوں کا کسی نہ کسی صُورت میں میسوپوٹیمیا کی دُنیا سے رابطہ رہا تھا۔

وہ مَعمولی سا پَتھریلا سکریپر، جِس نے ۱۹۱۷ء میں باگی کے جَنگلات میں بنرجی کو چونکایا تھا، جِس سَوال کا نُقطۂ آغاز بنا تھا، اُس کا جَواب اب سات بَرس بعد دُنیا کے دُوسرے سِرے سے آنے لگا تھا۔

موئن جو دڑو دو سو بَرس پُرانی کوئی اُجڑی ہوئی بَستی نہیں تھا۔ اِس کے ٹیلوں کے نیچے ایک ایسی قَدیم شَہری تَہذیب دَفن تھی جِس کا عُروج تِیسری ہزار سالہ قَبلِ مَسیح میں ہوا اور جو مِصر اور میسوپوٹیمیا کی قَدیم تَہذیبوں کی ہَم عَصر تھی۔

جب موئن جو دڑو کی غَیرمعمولی قَدامت کے شَواہد مَضبوط ہونے لگے تو ’آرکیالوجیکل سَروے آف اِنڈیا‘ نے یہاں کُھدائی کا دائرہ وَسیع کردیا۔ بنرجی کے اِبتدائی کام کے بعد ۱۹۲۴–۲۵ء میں کے۔ این۔ دِکشت نے موئن جو دڑو میں کُھدائی آگے بڑھائی۔ اَگلے مَوسم، ۱۹۲۵–۲۶ء میں آرکیالوجیکل سَروے آف اِنڈیا کے ڈائریکٹر جَنرل سَر جان مارشل نے خُود یہاں ہونے والے کام کی نِگرانی کی۔ بعد کے بَرسوں میں اَرنسٹ جے۔ ایچ۔ میکے نے کُھدائی کو مزید وَسیع کیا اور زَمین کے نیچے چھپے ہوئے شَہر کے بڑے بڑے حِصّے ایک ایک کرکے سامنے آنے لگے۔

مِٹّی ہٹتی گئی تو اینٹوں کی ایک دِیوار دُوسری دِیوار سے، ایک مَکان دُوسرے مَکان سے اور ایک گَلی دُوسری گَلی سے جُڑتی چلی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے واضِح ہونے لگا کہ یہ بے تَرتیب جھونپڑیوں پر مُشتمل کوئی مَعمولی قَدیم آبادی نہیں تھی بلکہ باقاعدہ مَنصوبہ بَندی کے ساتھ تَعمیر کیا گیا ایک بڑا شَہر تھا۔

پَکّی اینٹوں سے بنے مَکانات، سیدھی گَلیاں، گھروں کے اَندر کُنویں اور غُسل کی جگہیں اور گَندے پانی کے نِکاس کے لیے اینٹوں سے بنی ڈھکی ہوئی نالیاں سامنے آئیں۔ پانی کی فَراہمی اور نِکاسی کا مَربوط اِنتظام اِس شَہر کی تَرقّی یافتہ شَہری مَنصوبہ بَندی کی گَواہی دے رہا تھا۔

اِسی دَوران بُلند ٹیلے کے عِلاقے میں اینٹوں سے بنا ایک غَیرمعمولی حَوض بھی سامنے آیا، جِسے بعد میں ’گریٹ باتھ‘ کا نام دیا گیا۔ اِس کے دونوں سِروں پر پانی میں اُترنے کے لیے سِیڑھیاں، اَطراف میں راستے اور اِس سے مُلحَق کَمرے مَوجود تھے، جبکہ حَوض کو پانی کے رِساؤ سے مَحفوظ رکھنے کے لیے اِس کی تَعمیر میں خاص اِہتمام کیا گیا تھا۔ اِس کا اَصل مَذہبی، رَسمی یا سَماجی مَقصد آج بھی قَطعی طور پر مَعلوم نہیں، مگر اِس کی تَعمیر نے واضِح کردیا کہ موئن جو دڑو کے مِعمار پانی، اینٹ اور شَہری تَعمیرات کی پَیچیدہ تَکنیکوں سے پُوری طرح واقِف تھے۔

اب وہ ٹیلے، جِنہیں کبھی دو سو بَرس پُرانی اُجڑی ہوئی بَستی سَمجھ لیا گیا تھا، اپنے اَندر سے ایک پُورا شَہر نِکال رہے تھے۔

اور اِس شَہر کی گَلیاں بتارہی تھیں کہ موئن جو دڑو مَحض قَدیم نہیں تھا؛ یہ اپنے عَہد کا ایک نِہایت مُنظّم شَہری مَرکز تھا۔

چُونکہ اِس نَو دَریافت شُدہ تَہذیب کی مُہروں پر کَندہ تَحریر پڑھی نہیں جاسکی تھی اور اِس کا اَصل نام مَعلوم نہیں تھا، اِس لیے ماہرینِ آثارِ قَدیمہ نے اِسے اِس کے جُغرافیائی مَحلِّ وُقوع اور اَہم دَریافت شُدہ مَقامات کی نِسبت سے ’تَہذیبِ سِندھ‘، ’وادیٔ سِندھ کی تَہذیب‘ اور ’ہڑپائی تَہذیب‘ جیسے نام دیے۔ بعد کی تَحقیق سے اِس تَہذیب کے مُختلف اَدوار بھی مُتعیّن کیے گئے، جِن میں اِس کے شَہری عُروج کا زَمانہ، جِسے ’پُختہ ہڑپائی دَور‘ کہا جاتا ہے، تَقریباً ۲۶۰۰ قَبلِ مَسیح سے ۱۹۰۰ قَبلِ مَسیح کے دَرمیان تَسلیم کیا جاتا ہے۔

لیفٹیننٹ ہیو جیمز نے ۱۸۴۶ء میں جِس چانڈکا کا ذِکر کرتے ہوئے ڈِتو کہاوڑ کو اِس کی سَخاوت کے باعِث ’چانڈکا کا حاتم طائی‘ قَرار دیا تھا، اُسی چانڈکا کی سَرزَمین سے ہزاروں بَرس پُرانی ایک عَظیم تَہذیب دَریافت ہوچکی تھی۔

ڈِتو کہاوڑ کے بارے میں رِوایت تھی کہ اِس کے ہاتھوں چَکّی میں ڈالا ہوا مُٹھی بھر اَناج ضَرورت مَندوں کے لیے فَراوانی بن کر نِکلتا تھا۔ قُدرت کی نَیرنگی دیکھیے کہ اُسی چانڈکا کی زَمین نے اپنے سِینے سے ایک ایسا خَزانہ اُگل دیا جِس نے بَرِّصغیر کی مَعلوم تاریخ ہی بدل دی۔

ہیگل ہِندوستان کو ایک ایسی قَدیم دُنیا سَمجھتا تھا جو صَدیوں سے جُمود کا شِکار تھی، جبکہ جیمز مِل جیسے بااَثر یورپی مُفکّر ہِندوستانی مُعاشرے کو تَہذیبی تَرقّی کے نِچلے دَرجے پر رکھتے تھے۔ مگر چانڈکا کی مِٹّی نے اپنے اَندر سے ساڑھے چار ہزار بَرس پُرانی ایک عَظیم شَہری تَہذیب کے آثار نِکال کر دُنیا کے سامنے رکھ دیے، جو اِس خِطّے کی قَدامت اور عَظمت کی ایک بالکل مُختلف داستان سُنا رہے تھے۔

گویا ڈِتو کہاوڑ ہی چانڈکا کا اَکیلا حاتم طائی نہیں تھا؛ چانڈکا کی زَمین بھی سَخی نِکلی۔

اِس نے دُنیا کو موئن جو دڑو دے دیا۔

درج بالا مضمون میں مذکور برطانوی و یورپی افسروں، ماہرین اور اہلِ علم کے نام انگریزی رسم الخط میں یوں ہیں:

* لیفٹیننٹ ہیو جیمز (Lieutenant Hugh James)

* سر چارلس نیپئر (Sir Charles Napier)

* لارڈ کین / سر جان کین (Lord Keane / Sir John Keane)

* کیپٹن ڈونلڈ میکڈونلڈ (Captain Donald Macdonald)

* جیمز رینل (James Rennell)

* میجر ایس۔ جی۔ برارڈ (Major S. G. Burrard)

* سی۔ ایف۔ ارسکین (C. F. Erskine)

* آر۔ وارک (R. Warwick)

* سر ہنری اسٹیولی لارنس (Sir Henry Staveley Lawrence)

* سر تھامس ہالینڈ (Sir Thomas Holland)

* سر جان مارشل (Sir John Marshall)

* ارنسٹ جے۔ ایچ۔ میکے (Ernest J. H. Mackay)

* اے۔ ایچ۔ سیس (A. H. Sayce)

* سی۔ جے۔ گیڈ (C. J. Gadd)

* سڈنی اسمتھ (Sidney Smith)

* ہیگل (Georg Wilhelm Friedrich Hegel)

* جیمز مل (James Mill)

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی،ریڈیو پاکستان