Sunday, 18 October 2026, 04:00:03 am
 
اُچے بُرج لہور دے
October 17, 2026

مَیں، مَہاراجَہ (دُلیپ سِنگھ) اور بائیس خادِمائیں سَمَن (بُرج) میں قَید ہیں۔ باقی تمام مُلازِمین کو بھی بَرخاست کر دیا گیا ہے۔ ہم نِہایت بے بَسی کی حالت میں ہیں۔ یہاں تک کہ پانی اور کھانا بھی اندر آنے کی اِجازَت نہیں دی جاتی۔ اَب جبکہ تُم ہمیں اِس طرح ستا رہے ہو تو اِس کے بجائے بہتر ہے کہ تُم ہمیں پھانسی ہی دے دو۔

اَگر تُم ہمارے ساتھ اِنصاف کرو تو بہت اَچھی بات ہے، وَرنہ مَیں لَندن کے صَدر دَفتر میں اَپیل کروں گی۔ یہاں تک کہ ایک لاکھ پَچاس ہزار رُوپے کا جو وَظیفہ مُقَرَّر کیا گیا تھا، وہ بھی کِسی نے اَدا نہیں کیا۔ چار مہینوں میں جو اَکاوَن ہزار رُوپے مَیں نے خَرچ کیے ہیں، وہ مَیں نے اپنے زیوَرات فَروخت کرکے مِسّر میگھ راج کو اَدا کیے ہیں۔ مَیں نے کبھی کِسی سے کِسی چیز کی بھیک نہیں مانگی۔ اپنے زیوَرات بیچ کر مَیں اپنا گُزارہ کر رہی تھی۔ تُم نے بِغیر کِسی قُصور کے مجھے رُسوا کیوں کیا؟ مَنگلاں کا کیا قُصور تھا کہ اُسے بھی نِکال دیا گیا؟

مَہاراجَہ آج میرے پاس آیا اور بہت دیر تک پُھوٹ پُھوٹ کر روتا رہا۔ اُس نے کہا کہ بِشَن سِنگھ اور گُلاب سِنگھ اُسے ڈَرا رہے تھے۔ اَگر خوف کی وجہ سے مَہاراجَہ کو کُچھ ہو گیا تو پِھر مَیں کیا کروں گی؟ اُسے بتایا گیا کہ صاحِب (اَنگریز سَرکار) کا حُکم ہے کہ وہ شالامار میں قِیام کرے۔ جب اُس نے یہ سُنا تو وہ بہت بُری طرح رویا۔ ہمارے ساتھ جو سُلوک کیا جا رہا ہے، اَیسا سُلوک کِسی بھی شاہی خاندان کے ساتھ نہیں کیا گیا۔"

یہ اِقتِباس مَہاراجَہ رَنجیت سِنگھ کی بیوہ اور پنجاب کے آخری سِکھ حُکمران مَہاراجَہ دُلیپ سِنگھ کی والِدہ، مَہارانی جِند کور، کے اُس تاریخی خَط کا اُردو تَرجَمہ ہے، جو اُنہوں نے ۱۴ اَگست ۱۸۴۷ء یا اُس کے ایک دو روز بعد لاہور کے شاہی قِلعے کے مُثَمَّن بُرج، المَعرُوف سَمَن بُرج، میں نَظَربَندی کے دَوران بَرطانوی ریزیڈنٹ کَرنل ہِنری لارَنس کے نام لِکھا تھا۔ (بحوالہ: سردار گنڈا سنگھ، ’تھری لیٹرز آف مہارانی جند کور‘، ’جرنل آف انڈین ہسٹری‘، جلد ۴۲، شمارہ ۱، اپریل ۱۹۶۴ء، ص: ۲۶۸–۲۷۱)

مَہارانی جِند کور، جِنہیں پنجابی میں مائی جِنداں بھی کہا جاتا ہے، ۱۸۳۵ء میں مَہاراجَہ رَنجیت سِنگھ کی بیوی بنی تھیں۔ اُن کے والِد مُنّا سِنگھ لاہور دَربار میں شاہی شِکاری کُتّوں کی دیکھ بھال کے نِگراں تھے۔ ۱۸۳۸ء میں اُن کے ہاں دُلیپ سِنگھ پیدا ہوئے۔

مَہاراجَہ رَنجیت سِنگھ ۲۷ جون ۱۸۳۹ء کو وفات پا گئے، جِس کے بعد لاہور کی حُکومت اُن کے بڑے بیٹے کھڑک سِنگھ کے ہاتھ آئی۔ اکتوبر ۱۸۳۹ء میں اُنہیں اِقتِدار سے ہٹا دیا گیا اور اُن کے بیٹے کُنْوَر نونہال سِنگھ نے عملاً حُکومت سَنبھالی۔ ۵ نومبر ۱۸۴۰ء کو نونہال سِنگھ کی وفات کے بعد اُن کی والِدہ، مَہارانی چند کور، نومبر ۱۸۴۰ء سے جنوری ۱۸۴۱ء تک تخت کی دعوے دار رہیں اور مختصر عرصے کے لیے اِقتِدار میں آئیں۔ جنوری ۱۸۴۱ء میں شیر سِنگھ مَہاراجَہ بنے۔ وہ ۱۵ ستمبر ۱۸۴۳ء کو قتل ہوئے، جِس کے بعد دُلیپ سِنگھ کو ۱۸ ستمبر ۱۸۴۳ء کو، محض پانچ برس کی عُمر میں، پنجاب کا مَہاراجَہ قرار دیا گیا۔

کم سِن بیٹے کی تخت نَشینی کے بعد مَہارانی جِند کور عَمَلاً ریاست کی سَرپَرَست اور لاہور دَربار کی ایک بااَثَر شَخصِیَّت بن گئیں۔ تاہم پہلی اَنگریز سِکھ جَنگ میں شِکَست اور دِسمبر ۱۸۴۶ء کے مُعاہِدۂ بَھَیروال کے بعد اُن کی سَرپَرَستی خَتم کر دی گئی اور ریاست کا اِنتِظام بَرطانوی ریزیڈنٹ کے ماتَحت کونسل آف رِیجَنسی کے ذَریعے چلایا جانے لگا۔

اَگست ۱۸۴۷ء میں بَرٹش ایسٹ اِنڈیا کمپنی کے حُکّام نے مَہارانی جِند کور کو شہزادے سے جُدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اِس فیصلے پر عَمَل دَرآمد کے پہلے مرحلے میں اُنہیں اور اُن کے بیٹے دُلیپ سِنگھ کو شاہی قِلعے کے مُثَمَّن بُرج میں نَظَربَند کیا گیا تھا۔

’مُثَمَّن‘ عَربی زَبان کا لَفظ ہے، جِس کے مَعنی آٹھ پہلوؤں یا آٹھ گوشوں والی شَکل کے ہیں، جبکہ ’بُرج‘ قِلعے کی فَصیل کے ایک بُلند اور مَضبوط حِصّے کو کہا جاتا ہے۔ مُثَمَّن بُرج لاہور کے شاہی قِلعے کے شُمال مَغربی کونے میں واقِع آٹھ پہلوؤں والی عِمارت ہے۔

مَہارانی جِند کور نے اپنے خَط میں اِس جگہ کا نام ’سَمَن‘ لِکھا۔ اِس کی ایک توجیہہ یہ ہو سکتی ہے کہ دو صَدیاں گُزر جانے کے بعد ’مُثَمَّن‘ کا لَفظ ہی اپنی اِختِصاری صُورت ’سَمَن‘ میں بَدل چُکا تھا۔ تاہم بعض مُحَقِّقین کے نزدیک ’سَمَن‘ فارسی زَبان کا ایک علیحدہ اور مُستَقِل لَفظ ہے، جِس کے مَعنی چَنبَیلی کے ہیں۔ مُمکِن ہے کہ شاہی قِلعے کے اِس حِصّے میں کبھی چَنبَیلی کا باغ رہا ہو اور اُسی کی نسبت سے یہ حِصّہ اِس نام سے موسوم ہوا ہو۔ پنجاب والڈ سِٹی اَتھارٹی بھی اِسے اَنگریزی میں ’جاسمِن ٹاور‘، یعنی چَنبَیلی کا بُرج، کے مَعنی میں بیان کرتی ہے۔ تاہم آگرہ، دہلی اور وزیرآباد وغیرہ کے قِلعوں میں بھی مُثَمَّن بُرج ہونے کے باعث، اِس بُرج کے نام کو صِرف چَنبَیلی سے ماخوذ سمجھنا درست معلوم نہیں ہوتا۔ باقی واللہ اَعلَم بِالصَّواب!

اِس نام کے بارے میں معمار جیمز فرگوسن نے ۱۸۷۶ء میں لکھا کہ لاہور قلعے کے شمالی محاذ کے مغربی سرے پر ’سَمَن بُرج‘ واقع ہے، جس کے شاہی حصے میں شیش محل اور نولکھا پویلین شامل ہیں۔ حاشیے میں اُنہوں نے لکھا کہ ’سَمَن‘ غالباً ’مُثَمَّن‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی آٹھ پہلوؤں والا ہیں؛ روایت کے مطابق اِس مقام پر ایک بلند آٹھ پہلوؤں والا بُرج تھا۔(بحوالہ: جیمز فرگوسن، ’ہسٹری آف انڈین اینڈ ایسٹرن آرکیٹیکچر‘، جلد دوم، لندن: جان مرے، ۱۸۷۶ء، ص :۳۵۶، حاشیہ:۳)

کبھی اِس مُثَمَّن بُرج کی شُمالی سَمت دَریائے راوی بہتا تھا۔ اِس بُلند مَقام سے دَریا، اُس کے کِناروں اور دُور تک پَھیلے قُدرتی مَناظِر کا نَظارہ کیا جا سکتا تھا۔ شِیش مَحَل بھی اِسی بُرج سے مُلحَق عِمارت ہے۔

ُثَمَّن بُرج سے مُلحَقہ کَمرے مُغل شاہی رِہائش، آرام اور خَلوَت کے لیے تَعمیر کیے گئے تھے؛ اُن کی تَعمیر و آرائش کئی اَدوار میں ہوئی: بعض تَعمیرات جَہانگیر کے عَہد میں شُروع ہوئیں، جبکہ مَزید تَعمیرات شاہجہاں کے عَہد میں ہوئیں۔ تاہم مُثَمَّن بُرج کا دَروازہ، جو شاہی اَحاطے کا نِجی داخِلی راستہ تھا، ۱۰۴۱ ہِجری، مُطابِق ۱۶۳۱–۳۲ء میں شاہجہاں کے حُکم سے تَعمیر ہوا؛ دَروازے کے کَتبے پر مِعمار عَبدُالکریم، المَعرُوف مَعمور خان، کا نام اور سالِ تَعمیر ۱۰۴۱ ہِجری دَرج ہے۔

لاہور کے شاہی قِلعے پر قَبضہ شہر پر اِختیار کی ایک اَہَم عَلامَت تھا۔ مُغل اِقتِدار کے کمزور ہونے کے بعد لاہور کا اِقتِدار کئی ہاتھوں میں بَدلا، جِس کے سبب یہ قلعہ بھی کئی حاکِموں کی نِشست گاہ رہا۔ ۱۷۵۸ء میں مَرہٹوں نے قِلعے پر قَبضہ کیا، ۱۷۵۹ء میں دُرّانیوں نے اُسے واپس لے لیا، اور ۱۷۶۵ء میں سِکھ مِثلوں نے اِس پر اپنا قَبضہ جمایا۔ بِالآخِر رَنجیت سِنگھ نے ۱۷۹۹ء میں شاہی قِلعے کو اپنے قَبضے میں لے کر لاہور پر اپنے اِقتِدار کی مُہرِ تَصدیق ثَبت کی۔

رَنجیت سِنگھ نے پنجاب کے حاکِم کی حَیثِیَّت سے لاہور کو اپنی سَلطَنَت کا دارُالحُکومت بنایا اور مُثَمَّن بُرج، اُس سے مُلحَق شِیش مَحَل اور شاہی اَحاطے کو اپنی رِہائش اور دَرباری مَصرُوفِیَّتوں کے لیے مُنتَخَب کیا۔

۱۸۳۱ء میں اَنگریز سَیّاح اور اَفسَر اَلیگزینڈر بَرنز کو مَہاراجَہ کے رِہائشی حِصّے میں جانے کا مَوقع مِلا۔ اُس کے بَیان کے مُطابِق گُزَرگاہوں میں شَمعیں روشن تھیں اور اُن کے قریب رنگین پانی سے بھری بوتلیں رکھی گئی تھیں، جو روشنی کی رنگینی اور آرائش میں اِضافہ کرتی تھیں۔ مَہاراجَہ کی خواب گاہ میں چاندی کی کُرسیاں رکھی تھیں۔ کَمرے کے ایک سِرے پر مَوجود پَلنگ کے ڈَھانچے، سُتونوں اور پایوں پر سونا چَڑھا ہوا تھا۔ اُس کا سائبان بھی سونے کی چادَر کا بنا تھا اور پَردے کَشمیری شالوں کے تھے۔ قریب ہی سونے کی ایک گول کُرسی رکھی تھی۔ شَمع دان بھی سونے کے تھے اور صَحن کی طرف زَرد رَیشَم کا پَردہ پڑا تھا۔(بحوالہ: الیگزینڈر برنس، ’ٹریولز اِنٹو بخارا‘، جلد اوّل، لندن: جان مرے، ۱۸۳۴ء، ص ۲۹–۳۰)

تاہم یہ گَردِشِ اَیّام کا سِتَم تھا کہ جِس شاہی اَحاطے میں کبھی کم عُمر مَہارانی جِند کور، مَہاراجَہ رَنجیت سِنگھ کی بیوی کی حَیثِیَّت سے رہتی تھیں، اُسی اَحاطے کے ایک کونے، ’سَمَن بُرج‘، میں وہ اَب نَظَربَند تھیں۔

مائی جِنداں سے مَنسُوب حَویلی قِلعے کے ایک دُوسرے حِصّے میں تھی۔ وہ اِس سے چند قدموں کے فاصلے پر ہونے کے باوجود اُن کی دَسترَس سے کوسوں دُور تھی۔ شاہی آسائِشوں کی جگہ بے بَسی نے لے لی تھی؛ وہ اپنے زیوَرات بیچ کر گُزارہ کرنے اور اپنے کم سِن بیٹے کی سَلامَتی کے لیے فَریاد کرنے پر مَجبُور تھیں۔ اُن کی رازدار خادمہ، مَنگلاں ماچھن، تک کو اُن سے دُور کر دیا گیا تھا

تَقْدِیر کا لِکھا کون ٹال سکتا ہے؟

۱۹اَگَست ۱۸۴۷ء کو کم سِن مَہاراجَہ دُلیپ سِنگھ کو لاہور قِلعے سے نِکال کر شالامار باغ پہنچا دیا گیا، جبکہ مَہارانی جِند کور کو لاہور سے شِیخوپورہ کے قِلعے میں نَظَربَند کر دیا گیا۔ یوں لاہور قِلعے کے شِیش مَحَل میں اُٹھکھیلیاں کرنے والے ماں بیٹا نہ صرف اُس پُرعیش جگہ سے، بلکہ ایک دوسرے سے بھی جُدا ہو گئے۔(بحوالہ: سردار گنڈا سنگھ، ’تھری لیٹرز آف مہارانی جند کور‘، ’جرنل آف انڈین ہسٹری‘، جلد ۴۲، شمارہ ۱، اپریل ۱۹۶۴ء، ص ۲۶۸–۲۷۱)

اَولیاء کا شہر مُلتان، سِکھ سَلطَنَت کا ایک اَہَم مَرکَز تھا۔ مَہاراجَہ رَنجیت سِنگھ نے مُلتان فتح کرنے کے بعد دیوان ساوَن مَل کو وہاں کا حاکِم مُقَرَّر کیا تھا۔ ۲۹ سِتمبر ۱۸۴۴ء کو ساوَن مَل کی وَفات کے بعد اُن کے بیٹے دیوان مُول راج نے یہ عُہدہ سَنبھالا۔

‎دیوان مُول راج نے جونہی پنجاب میں ایسٹ اِنڈیا کمپنی کا بڑھتا ہوا اَثَرورُسوخ دیکھا، ۱۸۴۷ء کے آخِر میں اپنے عُہدے سے اِستِعفا دے دیا۔ نئے بَرطانوی ریزیڈنٹ سر فریڈرک کَری نے اِستِعفا قَبول کر لیا اور سردار کاہَن سِنگھ مان کو مُلتان کا نیا گورنر نامزد کیا۔ کاہَن سِنگھ لاہور دَربار کے ایک جَنَرل اور سابق فوجی اَفسَر تھے۔

‎اَپریل ۱۸۴۸ء میں کاہَن سِنگھ، بَرطانوی اَفسَر پیٹرک وینز ایگنیو اور لیفٹیننٹ ولیم اینڈرسن کے ساتھ مُلتان پہنچے تاکہ نئے گورنر کو باضابطہ طور پر عُہدہ سَنبھالنے میں مدد دیں۔ ۱۹ اَپریل کو اِقتِدار کی حَوالگی کے موقع پر ہَنگامہ پھوٹ پڑا اور حملہ آوروں نے ایگنیو اور اینڈرسن کو قَتل کر دیا۔ مُول راج نے بَرطانوی اَفسَروں کے قَتل کا حُکم دیا تھا یا نہیں، اِس بارے میں تاریخی بیانات قَطعی نہیں؛ تاہم اِس واقعے کے بعد بَغاوت پھیل گئی اور مُول راج کو چار و ناچار اِس کی قِیادت سَنبھالنی پڑی۔

بَنّوں میں تعینات بَرطانوی سِیاسی اَفسَر ہَربَرٹ ایڈورڈز نے بَغاوت دبانے کے لیے مقامی پٹھان دستے جمع کیے۔ وہ ڈیرہ فتح خان کے راستے دریائے سِندھ عُبور کرکے ۲۵ اَپریل کو لَیّہ پہنچا۔ اِسی دَوران سِکھ فوج کا یورپی نژاد جَنَرل ہِنری چارلس وین کورٹ لینڈ بھی ایڈورڈز کا حامی بن گیا اور مُلتان کے مغرب میں واقع سِکھ علاقوں کی طرف بڑھا۔ اُس نے مقامی بلوچ اور پٹھان دستوں کے ساتھ ڈیرہ غازی خان کے قریب سِکھ فوج کو شِکَست دے کر شہر پر قَبضہ کر لیا۔ یوں مُول راج کو ڈیرہ غازی خان کی جانب سے ممکنہ کُمَک بھی نہ مِل سکی۔(بحوالہ: ہربرٹ بی۔ ایڈورڈز، ’اَ یئر آن دی پنجاب فرنٹیئر اِن ۱۸۴۸–۴۹‘، جلد اوّل، لندن: رچرڈ بینٹلی، ۱۸۵۱ء)

ایڈورڈز مُلتان کی طرف پیش قدمی کرتا ہوا شُجاع آباد کے نَواحی مقام کِنَیری پہنچا۔ دریائے چَناب کے قریب ۱۸ جون ۱۸۴۸ء کو مُول راج کی فوج اور ایڈورڈز کے لشکر کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ اِس موقع پر بَہاوَلپور کے نواب کی فوج نے بھی ایڈورڈز کے لشکر کا ساتھ دیا۔ ۳ جولائی کو سَدّوسام کے معرکے میں نوابِ بہاولپور کی فوج نے ایک بار پھر ایڈورڈز کا ساتھ دیا؛ اِس مدد کے نتیجے میں مُول راج کی فوج کو پیچھے ہٹ کر مُلتان کے قِلعے میں پناہ لینی پڑی۔ ’ڈوبتے کو تِنکے کا سہارا‘ کے مِصداق، اِس نازک مرحلے پر بَہاوَلپور کے عَبّاسی سپاہ کی کمک اَنگریزوں کے لیے نہایت اَہَم ثابت ہوئی۔

‎اَگَست ۱۸۴۸ء میں جَنَرل وِش کی بَرطانوی فوج نے مُلتان کا مُحاصَرہ کیا۔ لاہور دَربار کی سِکھ فوج کا ایک دستہ بھی مُحاصَرہ کرنے والوں میں شامِل تھا، مگر سِتمبر میں اُس کے کمانڈر شیر سِنگھ اٹّاری والا نے بَغاوت کر دی اور اپنے سپاہیوں سمیت سِکھ مزاحمت میں شامِل ہو گیا۔ اِس کے بعد اَنگریزوں کو مُحاصَرہ اُٹھانا پڑا۔ دِسمبر میں تازہ کُمَک آنے پر مُحاصَرہ دوبارہ شروع ہوا۔ ۲ جنوری ۱۸۴۹ء کو شہر پر آخِری حملہ کیا گیا؛ شدید گولہ باری اور لڑائی کے بعد دیوان مُول راج نے ۲۲ جنوری کو قِلعہ حَوالے کرکے ہتھیار ڈال دیے۔

‎مُلتان کی بَغاوت دوسری اَنگریز سِکھ جَنگ (سیکنڈ اینگلو سکھ وار) کا آغاز بنی، اور رفتہ رفتہ یہ جَنگ پنجاب کے دوسرے علاقوں تک پھیل گئی۔ ۲۲ نومبر ۱۸۴۸ء کو رام نگر، ۱۳ جنوری ۱۸۴۹ء کو چلیانوالہ، اور ۲۱ فروری ۱۸۴۹ء کو گجرات کے قریب بڑے معرکے ہوئے۔ گجرات میں سِکھ فوج کی شِکَست کے بعد اُس کے باقی دستوں نے ۱۴ مارچ کو راولپنڈی میں ہتھیار ڈال دیے۔

جب سِکھ مزاحمت شِکَست کھا گئی تو ایسٹ اِنڈیا کمپنی نے پنجاب کے مقامی اِقتِدار کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ پہلی اَنگریز سِکھ جَنگ کے بعد کمپنی نے دُلیپ سِنگھ کو نام کا مَہاراجَہ برقرار رکھا تھا اور ریاست کا اِنتِظام بَرطانوی ریزیڈنٹ اور ریجَنسی کونسل کے ذریعے چلایا جا رہا تھا؛ اب یہ بندوبست بھی ختم کر دیا گیا۔ ۲۹ مارچ ۱۸۴۹ء کو لاہور میں دَربار کے دوران گورنر جَنَرل لارڈ ڈلہوزی کا پنجاب کے اِلْحاق کا اعلان پڑھ کر سُنایا گیا۔ اُسی روز دُلیپ سِنگھ سے ایک دستاویز پر دَستخط لیے گئے، جس کے ذریعے اُن کا تخت اور سَلطَنَت ختم کر دیے گئے اور پنجاب ایسٹ اِنڈیا کمپنی کی قلمرو میں شامِل ہو گیا۔

‎پنجاب کے اِلْحاق کے بعد دُلیپ سِنگھ کو فتح گڑھ لے جایا گیا، جہاں وہ بَرطانوی سَرْجَن جان لوگن کی نِگَرانی میں رہے۔ ۱۸۵۳ء میں اُنہوں نے عیسائیت قبول کی اور ۱۸۵۴ء میں اُنہیں اِنْگلستان مُنتَقِل کر دیا گیا۔ مَہارانی جِند کور کو شِیخوپورہ سے پہلے بنارس اور پھر چُنار کے قِلعے میں نَظَربَند کیا گیا۔ اَپریل ۱۸۴۹ء میں وہ خادِمہ کا بھیس بدل کر چُنار سے فرار ہوئیں اور نیپال پہنچیں، جہاں وَزیرِاَعظم جنگ بہادر رانا نے اُنہیں پناہ دی۔

ماں بیٹے کی جُدائی تیرہ برس سے زیادہ جاری رہی۔ جنوری ۱۸۶۱ء میں دُلیپ سِنگھ اور مَہارانی جِند کور کلکتہ میں دوبارہ ملے اور پھر اِنْگلستان چلے گئے۔ مَہارانی یکم اَگَست ۱۸۶۳ء کو لندن میں وَفات پا گئیں۔ دُلیپ سِنگھ اُن کی میّت ہندوستان لائے؛ ۱۸۶۴ء میں ناسِک کے پنچ وٹی علاقے میں دریائے گوداوری کے کنارے اُن کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ اُن کی راکھ ۱۹۲۴ء میں لاہور لائی گئی اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی کے احاطے میں رکھی گئی۔

دُلیپ سِنگھ نے ۱۸۸۶ء میں ہندوستان واپس آنے کی کوشش کی، مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ وہ ۱۸۹۳ء میں پیرس میں وفات پا گئے۔ عیسائیت قبول کرنے کے بعد اُن کی تدفین مسیحی رسومات کے مطابق انگلستان کے ایلوِڈن گرجا گھر کے قبرستان میں کی گئی۔

قدرت کے کھیل دیکھیے کہ مُلتان کے قریب ہونے والے سَدّوسام کے مَعْرَکے میں جِس رِیاستِ بَہاوَلپور کے سِپاہیوں نے اَنگریزوں کا ساتھ دیا تھا، اُسی رِیاست کے ایک شہزادے کا اَنجام چند ہی برس بعد لاہور کے شاہی قِلعے کے مُثَمَّن بُرج سے آ وابَستہ ہوا۔

نواب محمد بَہاوَل خان سوم نے ۱۸۴۷ء–۱۸۴۸ء میں مُلتان کے خِلاف اَنگریزوں کی مُہِم میں تَعاوُن کیا تھا۔ اُن کی وَفات کے بعد اُن کے بیٹے شہزادہ سعادت یار خان نے ۱۸۵۲ء میں صادق محمد خان سوم کا لَقَب اِختیار کرکے تخت سَنبھالا۔ لیکن ۲۰ فروری ۱۸۵۳ء کو اُن کے بڑے بھائی حاجی خان نے داؤدپوترا سرداروں کی مدد سے اُنہیں مَعزول کر دیا اور خود فتح محمد خان کے نام سے حُکمران بن گئے۔ (بحوالہ: ’پنجاب اسٹیٹس گزٹیئرز: بہاولپور اسٹیٹ‘، ۱۹۰۸ء)

صادق محمد خان نے اَنگریزوں سے مدد مانگی، مگر گورنر جَنَرل نے فیصلہ کیا کہ بَہاوَلپور کے اندرونی اِقتدار کی کَشْمَکَش میں مُداخلت کمپنی کے مُعاہِدوں کا تَقاضا نہیں۔ فتح محمد خان نے بَرطانوی مُعاہِدوں کو تَسلیم کیا تو اَنگریزوں نے اُن کی حُکمرانی بھی قَبول کر لی۔

بَرطانوی ثالثی سے صادق محمد خان اور اُن کے وارِثوں نے بَہاوَلپور کے تخت سے دست بَرداری کی دَستاویز پر دَستخط کیے۔ بدلے میں اُنہیں بَرطانوی عَلاقے میں پَناہ اور گُزر بسر کے لیے بَہاوَلپور کے خَزانے سے ماہانہ ۱۶۰۰ روپے وَظیفہ مُقَرَّر ہوا۔ پہلے اُنہیں خاندان سمیت مُلتان میں بَرطانوی حِفاظت میں رکھا گیا؛ پھر مُلتان کے کَمِشنر مائیکل ایجورتھ کی نِگَرانی میں لاہور مُنتَقِل کیا گیا۔

مُعاہِدے کے ایک سال کے اندر صادق محمد خان نے پنجاب کے چیف کَمِشنر کو خَط لکھا کہ وہ تخت کا دَعویٰ کبھی نہیں چھوڑیں گے، اور اُنہیں بَہاوَلپور واپس جا کر مَسند حاصِل کرنے کی اِجازت دی جائے۔ چونکہ بَرطانوی حُکومت نے دست بَرداری کے مُعاہِدے کی ضَمانت دی تھی، اِس لیے گورنر جَنَرل نے اُنہیں سخت نِگَرانی میں رکھنے کا حُکم دیا۔ یوں وہ لاہور قِلعے میں قَیدی بنے؛ بَہاوَلپور گزٹیئر اُن کی قَید کا مَقام مُثَمَّن، یعنی سَمَن بُرج، بتاتا ہے۔ (بحوالہ: ’پنجاب اسٹیٹس گزٹیئرز: بہاولپور اسٹیٹ‘، ۱۹۰۸ء )

عَبّاسیانِ بَہاوَلپور کے خاندانی نَسَب نامے کے مُطابِق وہیں ۱۸۶۱ء میں اُن کی وَفات ہوئی اور لاہور کے کُڑی باغ میں نواب سعادت خان کے مَقبَرے کے اَحاطے میں اُنہیں دَفن کیا گیا۔ وَفات کے سال پر مَآخِذ میں اِختِلاف ہے: بعض ۱۸۶۲ء اور ایک سَرکاری تاریخی تَالیف ۱۸۶۳ء بتاتی ہے۔

مَہارانی جِند کور، دُلیپ سِنگھ اور صادِق خان سوم کی لاہور کے شاہی قِلعے کے مُثَمَّن بُرج سے جُڑی داستانیں اِس حقیقت کا واضح ثُبوت ہیں کہ یہ عالَمِ ہَست و بود نیرنگیوں کی دُنیا ہے۔ تاہم، اِنہی داستانوں جیسی دِل کو چھلنی کر دینے والی ایک اَور داستان مُغل بادشاہ شاہجہاں کی بھی ہے، جو آگرہ کے شاہی قِلعے کے مُثَمَّن بُرج میں آٹھ سال (۱۶۵۸ء–۱۶۶۶ء) قَید رہے۔

جب شاہجہاں آگرہ اور لاہور کے قِلعوں میں مُثَمَّن بُرج تَعمیر کروا رہا ہوگا تو یقیناً اُس کے ذہن کے کِسی گوشے میں بھی یہ خیال نہیں آیا ہوگا کہ وہ خود بھی اِنہی میں سے ایک، یعنی آگرہ کے قِلعے کے اُسی مُثَمَّن بُرج میں، نَظَربَند ہو کر اپنی زِندگی کے آخِری آٹھ سال ایک قَیدی کی حَیثِیَّت سے گُزارے گا۔

اِسی طرح مَہاراجَہ رَنجیت سِنگھ کے ذہن میں بھی یہ بات نہ آئی ہوگی کہ اُس کی وَفات کے چند ہی برس بعد اُس کی رِیاست کا شیرازہ بِکھر جائے گا، اور اُس کی چاندی کی بنی کُرسیوں اور سونے سے بنے پَلنگ والی خواب گاہ کے مُتَّصِل مَقام پر اُس کی لاڈلی بیوی مَہارانی جِند کور اور اُس کا سب سے چھوٹا بیٹا دُلیپ سِنگھ عَمَلی اِقتِدار سے مَحروم کیے جانے کے بعد نَظَربَند کر دئیے جائیں گے۔

جِس وَقت نواب بَہاوَل خان سوم کی فوج اَنگریزوں کی مدد کے لیے بَہاوَلپور سے مُلتان روانہ ہوئی، اُن کے بیٹے سَعادَت یار خان (جو بعد میں صادِق مُحمّد خان سوم کہلائے) اندازاً تیس برس کے ایک عاقِل، بالِغ اور زمانے کے گرم و سرد چَشیدہ اِنسان تھے۔ اپنی رِیاست کی فوج کو بَرطانوی فوج کی مدد کے لیے روانہ ہوتے دیکھ کر بھی اُنہوں نے کبھی نہ سوچا ہوگا کہ ایک روز یہی اَنگریز اُنہیں قَیدی بنا کر لاہور کے قِلعے میں رکھیں گے، جہاں وہ اپنے اَجداد کی قَبروں سے بہت دُور، کُڑی باغ میں مَدفون ہوں گے۔

مگر چَشمِ فَلَک نے یہ سب مَنظَر دیکھے۔ مُثَمَّن بُرج اپنے آٹھ گوشوں سمیت آج بھی دیکھنے والی آنکھوں اور سُننے والے کانوں کو یہ پیغام دیتا دِکھائی دیتا ہے:

رہے رَب کا نام،

جو غَیب بھی ہے اور حاضِر بھی،

اوّل بھی ہے اور آخِر بھی،

اور صِرف اُسی کے اِقتِدار کو کوئی زَوال نہیں۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان