شہزادہ محمد خان
شیخ سعدی شیرازی کو ملتان میں اِقامت کی دعوت دینے والے سلطان غیاثُ الدِّین بَلبَن کے بیٹے کی داستان
۱۲۷۰ء کی دہائی میں ملتان کے صوبیدار شہزادہ محمد خان، جو سلطانِ ہند غیاثُ الدِّین بَلبَن کا بڑا بیٹا تھا، کا خصوصی قاصد ملکِ فارس کے شہر شیراز میں وہاں کے باسی شیخ مُصلِحُ الدِّین سعدی شیرازی کے پاس پہنچا۔ قاصد کے پاس موجود پروانے میں تحریر تھا کہ اگر فارسی زبان و ادب کے یہ عظیم شاعر اور ‘گُلِستان’ و ‘بُوستان’ کے مصنف ملتان میں اُن کے ہاں مستقل اِقامت اِختیار کرلیں تو یہاں اُن کے لیے نہ صرف ایک خانقاہ تعمیر کی جائے گی بلکہ اُس کے جملہ اَخراجات کو پورا کرنے کے لیے حسبِ ضرورت زرعی زمینوں کی آمدنی بھی وقف کردی جائے گی۔ قاصد کے ہاتھ شیخ سعدی کے سفر کے اَخراجات بھی بھجوائے گئے تھے۔
تاہم شیخ سعدی، جو اُس وقت عمر کے آخری حصے میں تھے، نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ اَب اُن کے لیے شیراز سے ملتان کا طویل اور دُشوار گزار سفر ممکن نہیں رہا۔
ملتان کا صوبیدار شیخ سعدی کے اِس اِنکار سے مایوس نہیں ہوا۔ اُس نے کچھ عرصے بعد ایک دوسرا قاصد ملتان سے شیراز کے لیے روانہ کیا۔ شیخ سعدی نے اِس بار بھی ملتان آنے سے معذرت کی، تاہم ضیاءُ الدِّین بَرنی کی روایت کے مطابق اُنہوں نے اَپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے کچھ اَشعار اور معذرت نامہ شہزادے کے لیے روانہ کردیا۔ (بحوالہ: ضیاءُ الدِّین بَرنی، ‘تاریخِ فیروز شاہی’، انگریزی ترجمہ بحوالہ ایلیٹ و ڈاؤسن، جلد سوم، ص: ۱۱۱)
ایک اَور روایت میں شیخ سعدی کا شہزادے کے لیے اَپنی کتاب ‘گُلِستان’ کا اَپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے نسخے کے بھجوانے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اُس عہد میں کتابیں چھاپہ خانوں میں نہیں بلکہ ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں۔ مصنفین، خُوش نویس اور نَسّاخ کتابوں کی نقلیں تیار کرتے تھے اور کسی صاحبِ اِقتدار یا علم دوست شخصیت کو اَپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر پیش کرنا ایک گِراں قدر علمی و ادبی تحفے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اِس لیے شیخ سعدی کی جانب سے اَپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی کتاب بھیجنا بھی شہزادے کے لیے ایک نہایت قیمتی ادبی اِعزاز تھا۔
فارسی ادب کے ایک عظیم مصنف کو ملتان میں مستقل قیام کی دعوت دینا، اُس کے لیے خانقاہ تعمیر کرنے کی پیشکش کرنا اور دیہات کی آمدنی وقف کرنے کا اِرادہ ظاہر کرنا بتاتا ہے کہ سلطان غیاثُ الدِّین بَلبَن کا یہ بیٹا، شہزادہ محمد خان، ملتان کو علم و ادب کی ایک بڑی آماجگاہ بنانا چاہتا تھا۔
صرف یہی نہیں، فارسی شعر و ادب کے دو اَور بڑے کردار، امیر خُسرو اور امیر حسن سِجزی، بھی اِسی دور میں ملتان میں شہزادہ محمد خان کے دربار سے وابستہ تھے۔ شہزادہ اُن کی شاعری سنتا، اُن کی حوصلہ اَفزائی کرتا اور اُنہیں اِنعامات و عطیات سے نوازتا تھا۔
امیر خُسرو کا اَصل نام ابوالحسن یمینُ الدِّین تھا۔ وہ ۱۲۵۳ء میں پٹیالی میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد تُرک نژاد تھے اور والدہ کا تعلق ہندوستان سے تھا۔ فارسی زبان کے اِس عظیم شاعر کو بعد میں ‘طوطیِ ہند’ کے لقب سے شہرت ملی۔ خُسرو نے اَپنی جوانی میں سلطان بَلبَن کے خاندان سے وابستگی اِختیار کی۔ پہلے بُغرا خان کے ساتھ رہے اور بعد میں شہزادہ محمد خان کے دربارِ ملتان سے وابستہ ہوگئے، جہاں اُنہیں شاعری اور علمی مجالس کے لیے ایک سازگار ماحول میسر آیا۔
امیر حسن کا نام نجمُ الدِّین حسن تھا۔ اُن کی پیدائش تقریباً ۱۲۵۴ء میں ہوئی اور وہ فارسی شاعری میں اَپنے نرم، سادہ اور دل نشین اَسلوب کے لیے مشہور ہوئے۔ اُن کے والد کا لقب علاءُ الدِّین تھا، جس کی نسبت سے وہ امیر حسن علاء کہلائے۔ بعد میں حضرت نظامُ الدِّین اولیا کی مجالس کے ملفوظات ‘فوائدُ الفؤاد’ مرتب کرکے بھی اُنہوں نے غیرمعمولی شہرت حاصل کی۔ بعض سوانحی روایات کے مطابق امیر حسن کو شہزادہ محمد خان کے دربارِ ملتان میں ‘دوات دار’ کا منصب بھی حاصل تھا۔
شہزادے کی ملتان میں منعقد ہونے والی محافل اور مجالس میں امیر خُسرو اور امیر حسن سِجزی جیسی ہستیوں کے علاوہ کئی عُلما، صُوفیا اور اہلِ دانش بھی شریک رہتے۔ اِن محافل اور مجالس کا اَنداز بھی منفرد ہوتا؛ کبھی اِن میں فردوسی کا ‘شاہنامہ’ پڑھا جاتا اور کبھی نظامی گنجوی کی مثنویوں اور حکیم سَنائی اور خاقانی کے اَشعار کے محاسن پر بحث ہوتی۔ کبھی کُتُبِ تصوف میں موجود علمی نُکتوں پر گفتگو ہوتی اور کبھی بات علمِ موسیقی کی باریکیوں کی طرف نکل پڑتی۔ تاہم وہ شہزادہ اہلِ علم اور شعر و ادب کی اِن سبھی مختلفُ الموضوع محافل و مجالس کے ایک شائستہ مزاج اور فیاض سرپرست کی حیثیت سے مشہور تھا۔
غیاثُ الدِّین بَلبَن کا یہ بیٹا حقیقی معنوں میں مجموعۂ اَوصاف تھا۔ ضیاءُ الدِّین بَرنی نے اُس کی شخصیت کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ نرم خُو، بہادر، باصلاحیت، صاحبِ علم، عمدہ اَوصاف سے آراستہ اور علم و ادب کا سرپرست تھا۔
تاہم یہ شہزادہ صرف ایک علم دوست اور بحث مباحثے سُننے والی شخصیت نہیں تھا بلکہ وہ حقیقی معنوں میں ایک مردِ میدانِ کارزار بھی تھا؛ ایک جَری، دلیر اور بے باک سپہ سالار، جو میدانِ جنگ میں اَپنی فوج کے قلب میں رہتا اور اَپنے گھوڑے کو ایڑ لگا کر دشمن کی صفوں کے اَندر سب سے پہلے گھستا ہوا بے جِگری سے لڑتا تھا۔ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا شوقین یہ شہزادہ شہادت کو اَپنا مطلوب و مقصود سمجھتا تھا۔ سلاطینِ دہلی میں شاید ہی کوئی اَور ایسا جَری نوجوان گزرا ہو۔
غیاثُ الدِّین بَلبَن ۱۲۶۶ء میں سلطان ناصرُ الدِّین محمود کی وفات کے بعد دہلی کے تخت پر بیٹھا تھا۔ اُس وقت ملتان، لاہور، اُچ اور سندھ کے علاقے صوبہ ملتان کا حصہ تھے اور ایک تُرک اَمیر شیر خان، جو بَلبَن کا رشتے دار تھا، یہاں کا صوبیدار تھا۔ ۱۲۶۹ء کے لگ بھگ شیر خان کا اِنتقال ہوا تو منگولوں کے حملوں کے پیشِ نظر بَلبَن نے فیصلہ کیا کہ مغربی سرحدوں کی حفاظت اور اِنتظام کسی ایسے شخص کے سپرد کیا جائے جس کی وفاداری اور قابلیت پر اُسے مکمل اِعتماد ہو۔ اُس کی نظر اَپنے بڑے بیٹے، اِسی شہزادہ محمد خان، پر ٹھہری۔
منگول یا تاتاری وسطی ایشیا کے وسیع میدانوں میں آباد وہ مختلف خانہ بدوش قبائل تھے جنہیں تیرھویں صدی کے آغاز میں چنگیز خان نے ایک طاقتور فوجی اور سیاسی قوت میں متحد کردیا تھا۔ ۱۲۰۶ء میں چنگیز خان کی قیادت میں قائم ہونے والی منگول سلطنت نے دیکھتے ہی دیکھتے چین، وسطی ایشیا، خراسان اور ایران کے وسیع علاقوں کو اَپنی فتوحات کی لپیٹ میں لے لیا۔
منگول فوجوں کی اَصل طاقت اُن کے برق رفتار گھڑسوار دستے، تیراندازی کی غیرمعمولی مہارت، منظم فوجی حکمتِ عملی اور دُور دراز علاقوں تک تیزی سے پہنچنے کی صلاحیت تھی۔ اُن کی فتوحات کے نتیجے میں وسطی ایشیا کے کئی قدیم شہر تباہ ہوئے اور وہاں کے حکمران، عُلما، صُوفیا اور عام باشندے یا تو بڑی تعداد میں قتل ہوئے یا اَپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ علاقوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
ہندوستان کی جانب منگولوں کی پہلی بڑی پیش قدمی ۱۲۲۱ء میں ہوئی، جب چنگیز خان خوارزم شاہی حکمران جلالُ الدِّین مِنکبُرنی کا تعاقب کرتے ہوئے دریائے سندھ تک پہنچا۔ جلالُ الدِّین نے دریائے سندھ عبور کرکے ہندوستان کی طرف پناہ لی، تاہم چنگیز خان نے اِس موقع پر ہندوستان کے اَندر مستقل فوجی پیش قدمی نہیں کی۔
بعد کے عشروں میں منگول سلطنت مختلف خانیتوں میں تقسیم ہوگئی، لیکن ہندوستان کی طرف اُن کے حملوں کا سلسلہ قریب قریب ہر دوسرے سال جاری رہا۔ اِن حملوں کے پس منظر میں سرحدی علاقوں پر اِقتدار قائم کرنے، دولت اور مالِ غنیمت حاصل کرنے اور تجارتی راستوں پر تسلّط جمانے جیسے مقاصد کارفرما تھے۔ پہلے پہل دہلی پر قبضے کی اُن کی خواہش صرف اَپنی دھاک بٹھانے کی حد تک تھی، لیکن پے در پے ناکامیوں کے بعد دہلی اُن کے لیے ضد اور چِڑ بھی بن گئی۔
سلطنتِ دہلی، وسطی ایشیا سے آنے والے اِن حملہ آوروں کی پیش قدمی کے پیشِ نظر، ملتان اور لاہور کو اِس لیے خاص اَہمیت دیتی تھی کہ یہ دونوں شہر دفاعی محاذ کی پہلی صف میں واقع تھے۔
ضیاءُ الدِّین بَرنی نے شہزادہ محمد خان کی تقرری کی قطعی تاریخ درج نہیں کی، تاہم تاریخی واقعات کی ترتیب سے اَندازہ ہوتا ہے کہ یہ تقرری تقریباً ۱۲۶۹ء یا ۱۲۷۰ء میں ہوئی۔
شہزادہ محمد خان کو ایک مضبوط فوج، جنگی سازوسامان اور تجربہ کار مشیروں کے ساتھ ملتان روانہ کیا گیا۔ اِسی دفاعی حکمتِ عملی کے تحت نہ صرف بہترین فوجی دستے شہزادے کے ہمراہ بھیجے گئے بلکہ سرحدی علاقوں کے اُن قلعوں کی بھی مرمت کی گئی جو منگولوں کے سابقہ حملوں میں نقصان اُٹھا چکے تھے۔
یوں شہزادہ محمد خان کی ذمہ داری محض ایک صوبے کا اِنتظام چلانا نہیں تھی بلکہ منگولوں کے مقابل سلطنتِ دہلی کی مغربی سرحدوں کو محفوظ رکھنا بھی تھا۔ شہزادے کا پہلا بڑا اِمتحان ۱۲۷۹ء میں آیا، جب منگول فوجوں نے دریائے بیاس عبور کرکے سلطنتِ دہلی کی حدود کی طرف پیش قدمی کی۔
اِس منگول خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے سلطان بَلبَن نے تین مختلف مقامات سے لشکر روانہ کیے۔ شہزادہ محمد خان ملتان سے اَپنی فوج لے کر نکلا، بَلبَن کے دوسرے بیٹے بُغرا خان کو سمانہ سے روانہ کیا گیا، جبکہ ملک مبارک دہلی سے ایک تیسرے لشکر کی قیادت کرتے ہوئے آگے بڑھا۔
اِن تینوں فوجوں نے دریائے بیاس کے محاذ پر منگولوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کی۔ منگول حملہ آوروں کو شکست ہوئی اور اُن کی پیش قدمی روک دی گئی۔ اِس کامیابی نے شہزادہ محمد خان کی ذاتی دلیری، حربی حکمتِ عملی اور میدانِ جنگ میں قائدانہ صلاحیتوں پر مہرِ تصدیق ثبت کی اور مغربی سرحدوں کے دفاع میں اُس کے کردار کو نمایاں کیا۔
اَپنے جملہ اَوصاف کے سبب شہزادہ محمد خان اَپنے والد کا بڑا چہیتا بھی تھا۔ وہ ۱۲۷۰ء کے بعد تقریباً ہر سال ایک مرتبہ دہلی جاکر اَپنے والد سے مشورہ کرتا، اُسے سرحدی حالات سے آگاہ کرتا اور اُس کی ہدایات پر عمل کرتا تھا۔ بَلبَن نے اَپنی زندگی ہی میں اُسے اَپنا ولی عہد (تخت پر بیٹھنے کا حق دار) بھی مقرر کردیا تھا۔
قدرت کے کھیل بھی کیا عجیب ہیں! اِس باکمال شہزادہ محمد خان کی عمر کا سورج ابھی نصفُ النہار پر ہی پہنچا تھا کہ وہ منگولوں کے خلاف جیتی ہوئی ایک جنگ کے بعد ہونے والی ایک اِتفاقی جھڑپ کے سبب راہیِ ملکِ عدم ہوگیا۔ ۱۲۸۴ء یا ۱۲۸۵ء کے اِس عجیب و غریب واقعے میں سلطنتِ دہلی نے صرف اَپنا ایک نہایت جَری سپہ سالار نہیں بلکہ مستقبل کا سلطان بھی کھو دیا۔ کُتُبِ تاریخ میں اِس واقعے کی تاریخ ۲۹ ذی الحجہ ۶۸۳ ہجری (بمطابق مارچ ۱۲۸۵ء) بیان ہوئی ہے۔
تیمر یا تَمَر خان نامی ایک منگول سردار کی قیادت میں آنے والے لشکر نے ۱۲۸۵ء کے اوائل میں پنجاب کے سرحدی علاقوں، لاہور اور دیپالپور وغیرہ، کی طرف پیش قدمی کی۔ اِس لشکر کی تعداد تیس ہزار بتائی گئی ہے، تاہم اِس تعداد کو قطعی نہیں سمجھا جاسکتا، کیونکہ قرونِ وسطیٰ کی تاریخی کتابوں میں فوجوں کی تعداد اکثر تخمینے یا مبالغے کے ساتھ بیان ہوتی ہے۔
شہزادہ محمد خان کو منگولوں کی اِس پیش قدمی کی خبر ملی تو اُس نے مقابلے کی تیاری کی۔ بعض روایات کے مطابق اُس کے مشیروں نے اُسے مشورہ دیا کہ وہ خود کو خطرے میں ڈالنے کے بجائے ملتان میں مقیم رہے اور فوج کو جنگ کرنے کے لیے روانہ کردے۔ لیکن شہزادے نے یہ مشورہ قبول نہیں کیا؛ اُس کے نزدیک دشمن کے سامنے خود جانے سے پہلوتہی برتنا ایک سپہ سالار کے شایانِ شان نہیں تھا۔
شہزادہ محمد خان کی اِس بے جِگری اور دلیری کا ایک مؤثر بیان شہزادے کے ساتھ ملتان ہی میں مقیم امیر خُسرو کے ہاں ملتا ہے، جنہوں نے اَپنے فارسی مرثیے میں شہزادہ محمد خان کی بہادری، جنگ کے واقعات اور اُس کی موت کے اَلمیے کو نہایت پُرسوز اَنداز میں بیان کیا۔ خُسرو کے مطابق جب شہزادے نے دشمن سے مقابلے کا فیصلہ کیا تو اُس نے اَپنی موجودہ فوج ہی کو کافی سمجھا اور مزید لشکر کا اِنتظار نہ کیا۔ شہزادے کی اِس جُرأت کو امیر خُسرو ایران کے نامور پہلوان رُستم کی شجاعت سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
آنچه حاضر بود لشکر، لشکری دیگر نجست
زانکه رستم را نشاید منّت لشکر کشید۔۔
(ترجمہ: جو لشکر موجود تھا، اُس کے علاوہ شہزادے نے کوئی دوسرا لشکر طلب نہیں کیا، کیونکہ رُستم جیسے بہادر کو کسی دوسرے لشکر کا اِحسان اُٹھانا زیب نہیں دیتا۔)
امیر خُسرو مزید لکھتے ہیں:
چون خبر کردندش از دشمن بدان قوّت که داشت
بیمحابا خشم در سر کرد و رایت برکشید۔۔۔۔۔۔
(ترجمہ: جب شہزادے کو دشمن کی قوت کے بارے میں خبر دی گئی تو اُس نے بے خوف و خطر غصے میں آکر عَلَمِ جنگ بلند کردیا۔)
اِن اَشعار سے شہزادے کی جنگجویانہ طبیعت کا نقش سامنے آتا ہے کہ دشمن کی کثرتِ تعداد بھی اُسے مرعوب نہ کرسکی؛ اُس نے نہ اَپنی فوج کی کمی کو بہانہ بنایا، نہ کمک کے اِنتظار میں وقت ضائع کیا۔ امیر خُسرو کے نزدیک وہ بجا طور پر رُستم جیسی جُرأت رکھنے والا سپہ سالار ثابت ہوا۔
شہزادے کی اِس آخری جنگ کا دوسرا نہایت اَہم ماخذ امیر حسن علاء سِجزی کا مرثیہ ہے۔ امیر حسن اور امیر خُسرو تقریباً ہم عمر اور ایک دوسرے کے دوست تھے۔ دونوں شہزادہ محمد خان کے دربارِ ملتان سے وابستہ تھے۔ امیر حسن کے لکھے ہوئے مرثیے کی اَہمیت محض ادبی نہیں بلکہ تاریخی بھی ہے، کیونکہ اِس میں جنگ کے حالات، مقام اور تاریخ کے ایسے اِشارے ملتے ہیں جنہیں بعد کے مؤرخین نے اَپنے بیانات میں اِستعمال کیا ہے۔ اِس مرثیے کا متن بعد میں یحییٰ سرہندی کی ‘تاریخِ مبارک شاہی’ میں بھی محفوظ ہوا ہے۔
تاہم اِس معرکے، جس میں شہزادہ محمد خان نے جامِ شہادت نوش کیا، کے ضمن میں سب سے پیچیدہ سوال اِس کے مقام اور محلِ وقوع کا ہے۔ مسلم اور منگول فوج کے مابین جنگ ملتان سے کتنے فاصلے پر اور کس مقام پر لڑی گئی، اِس بارے میں تاریخی مآخذ ایک واضح اور متفقہ جواب نہیں دیتے۔ امیر حسن کے مرثیے میں ‘بر مقامِ باغِ سبز’ اور ‘بر کنارِ آبِ لاہور’ کے اَلفاظ درج ملتے ہیں۔ ‘تاریخِ مبارک شاہی’ میں ‘باغِ نیر’ اور دیگر روایات میں ‘ہند جترالی’، ‘منڈی کلاپی’ اور ‘دریائے لاہور’ جیسے نام بھی سامنے آتے ہیں۔ امیر حسن نے اُس مقام کے ‘ڈھنڈ’ (دریائی پانی کے رُک کر ایک جھیل کی شکل اِختیار کرنے کا مقام) اور دوآبے (دو دریاؤں کے درمیان واقع علاقہ) سے متصل ہونے کا بھی ذکر کیا ہے۔
اِسی طرح بعض جدید مؤرخین جنگ کو دریائے راوی کے قریب رکھتے ہیں، جبکہ بعض اِسے ملتان کے نواح سے متعلق واقعہ قرار دیتے ہیں۔ جدید مؤرخ پیٹر جیکسن نے امیر حسن کی روایت کی بنیاد پر جنگ کا مقام باغِ نیر، دریائے راوی اور ایک قدیم آبی گزرگاہ کے سنگم کے قریب بتایا ہے۔
لیکن کسی قدیم مقام کا نام معلوم ہوجانا اور اُسے آج کے نقشے پر یقینی طور پر شناخت کرلینا دو مختلف باتیں ہیں۔ دریاؤں کے راستے بدلتے رہے ہیں، قدیم بستیاں اُجڑتی اور نئی بستیاں آباد ہوتی رہی ہیں، جبکہ بہت سے مقامی نام صدیوں کے دوران تبدیل ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ شہزادہ محمد خان اور تَمَر خان کے درمیان آخری جنگ کا عین مقام اَب تک قطعی طور پر متعین نہیں کیا جاسکا۔
اِسی طرح شہزادہ محمد خان کی موت کی کیفیت کے بارے میں بھی روایات مختلف ہیں۔ بعض مؤرخین کے مطابق اُس نے منگولوں کے خلاف نہایت بہادری سے جنگ کی اور عین میدانِ کارزار کے درمیان ہی شہید ہوا۔ تاہم کچھ دیگر روایات کے مطابق جنگ کے دوران جب اُس کی اَفواج نے منگولوں کو منتشر کردیا اور اُن کے مختلف دستے پسپا ہوتے ہوئے منگولوں کے تعاقب میں نکل گئے تو شہزادہ اَپنی فوج کے ایک نسبتاً چھوٹے دستے، جو تقریباً پانچ سو سپاہیوں پر مشتمل تھا، کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لیے رُکا۔ اِسی دوران منگولوں نے اَچانک حملہ کردیا اور شہزادہ دشمن کے نرغے میں آگیا۔
شہزادے کی شہادت کے بارے میں ایک اَور قابلِ توجہ روایت مرزا مقبول بیگ بدخشانی کی ‘ادب نامۂ ایران’ میں بھی ملتی ہے۔ اِس کتاب میں امیر خُسرو کے ‘مرثیۂ مولتان’ کا پس منظر بیان کرتے ہوئے ذکر کیا گیا ہے کہ نماز کی اَدائیگی کے دوران، جب شہزادہ حالتِ سجدہ میں تھا، اُس کی گردن میں ایک تیر آ لگا، جس کے سبب اُس نے شہادت پائی۔
اِس جنگ میں شہزادے کے دربار سے وابستہ دو ممتاز شاعر، امیر خُسرو دہلوی اور امیر حسن علاء سِجزی، بھی منگولوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ امیر خُسرو کی اَسیری کا ایک اَہم ماخذ اُن کے دیوان ‘غُرّۃُ الکمال’ کا دیباچہ ہے، جس میں اُنہوں نے اَپنی گرفتاری اور اَسیری کے مصائب کا ذکر کیا ہے۔ اُن کے بیان کے مطابق ایک منگول سپاہی اُنہیں اَپنے گھوڑے کے ساتھ باندھ کر پیدل چلاتا رہا۔ اِس دوران اُنہیں شدید تکلیف اور خوف کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر اُنہیں اُس سپاہی کی گرفت سے نکلنے اور واپس آنے کا موقع مل گیا۔ بعض تذکرہ نگاروں نے امیر خُسرو کی اَسیری کی مدت دو سال بیان کی ہے، تاہم دوسرے محققین کے نزدیک وہ بہت جلد اِس قید سے نکل آئے تھے۔ امیر حسن کی گرفتاری کا ذکر بھی بعض سوانحی روایات میں ملتا ہے، تاہم اُس کی تفصیلات کُتُبِ تاریخ میں پوری طرح واضح نہیں ہیں۔
لیکن شہزادہ محمد خان کے سانحۂ اِرتحال کا سب سے گہرا اَثر دہلی کے شاہی محل پر پڑا۔ غیاثُ الدِّین بَلبَن، جس نے اَپنی طویل سیاسی زندگی میں بغاوتوں، سازشوں اور منگول حملوں کا نہایت سختی سے مقابلہ کیا تھا، اَپنے محبوب بیٹے کی موت کے صدمے سے نہ سنبھل سکا۔ جس شہزادے کو وہ اَپنی سلطنت کا وارث اور اَپنے بڑھاپے کا سہارا سمجھتا تھا، اُس کی اَچانک شہادت نے اِس بوڑھے سلطان کی زندگی ہی بدل ڈالی۔
ضیاءُ الدِّین بَرنی نے ‘تاریخِ فیروز شاہی’ میں بَلبَن کے غم کی نہایت دَردناک کیفیت بیان کی ہے۔ اُس کے مطابق سلطان دن کے وقت اَپنے شاہی فرائض اَنجام دیتا، دربار منعقد کرتا اور اُمورِ سلطنت کی نگرانی کرتا تھا۔ وہ اَپنے وزیروں اور اَمیروں کے سامنے اَپنے غم کا اِظہار نہیں کرتا تھا، لیکن رات کو جب اَپنے خلوت خانے میں تنہا ہوتا تو اُس کا ضبط ٹوٹ جاتا۔ وہ اَپنے بیٹے کو یاد کرکے زار و قطار روتا، اَپنے کپڑے پھاڑتا اور سر پر خاک ڈالتا تھا۔
اِس بوڑھے سلطان کے لیے یہ محض ایک بیٹے کی موت نہیں تھی۔ شہزادہ محمد خان اُس کی سلطنت کی اُمیدوں کا مرکز تھا۔ وہ ایک ایسا جانشین تیار کرچکا تھا جس نے میدانِ جنگ میں اَپنی شجاعت، سرحدوں کے دفاع میں اَپنی صلاحیت اور علم و ادب کی سرپرستی میں اَپنی شائستگی کا ثبوت دیا تھا۔ اَب اُس کی وفات کے ساتھ ہی بَلبَن کی برسوں کی محنت اور مستقبل کی منصوبہ بندی بھی بکھر گئی تھی۔
شہزادہ محمد خان کی شہادت کے بعد اُسے ‘خانِ شہید’ کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔ بَلبَن نے اُس کے بیٹے کیخسرو کو ملتان کی صوبیداری اور مغربی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی۔ یوں ملتان، جہاں محمد خان نے تقریباً چودہ پندرہ برس گزارے تھے، اَب اُس کے بیٹے کے زیرِ اِنتظام آگیا۔
تاہم سلطنتِ دہلی کی جانشینی کا مسئلہ اِس قدر آسان نہیں تھا۔ بَلبَن کا دوسرا بیٹا بُغرا خان اُس وقت بنگال کے علاقے لکھنوتی میں حکمران تھا۔ سلطان نے اُسے دہلی طلب کیا تاکہ وہ اَپنے باپ کے بعد سلطنت کی ذمہ داریاں سنبھال سکے۔ بُغرا خان دہلی آیا بھی، لیکن وہ اَپنے والد کے سخت گیر شاہی نظم و ضبط اور دربار کی پابندیوں کے تحت زندگی گزارنے پر آمادہ نہ تھا۔ چنانچہ کچھ عرصے بعد وہ دہلی چھوڑ کر دوبارہ لکھنوتی کی طرف روانہ ہوگیا۔
بَلبَن کے لیے یہ ایک اَور صدمہ تھا۔ بڑا بیٹا دنیا سے جاچکا تھا اور چھوٹا بیٹا اُس کے قریب رہ کر سلطنت سنبھالنے پر تیار نہیں تھا۔ بالآخر اُس نے شہزادہ محمد خان کے بیٹے، یعنی اَپنے پوتے کیخسرو، کو اَپنا جانشین نامزد کردیا۔
لیکن تقدیر کو کچھ اَور ہی منظور تھا۔ شہزادہ محمد خان کی شہادت کے تقریباً دو برس بعد، ۱۲۸۷ء میں، غیاثُ الدِّین بَلبَن بھی اِس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ اُس کی وفات کے ساتھ ہی دہلی کے دربار میں جانشینی کی کشمکش شروع ہوگئی۔ بعض بااَثر اَمیروں نے بَلبَن کی وصیت اور کیخسرو کی نامزدگی کو نظرانداز کرتے ہوئے بُغرا خان کے بیٹے کیقباد کو تختِ دہلی پر بٹھا دیا۔
یوں شہزادہ محمد خان کی شہادت نے نہ صرف بَلبَن کو اُس کے محبوب بیٹے سے محروم کیا بلکہ سلطنتِ دہلی کی جانشینی کا وہ سلسلہ بھی بدل دیا جس کی بنیاد سلطان نے اَپنی زندگی میں رکھی تھی۔ کیخسرو، جسے بَلبَن نے اَپنے بعد سلطنت کا وارث مقرر کیا تھا، تخت سے محروم رہ گیا۔
کیخسرو کا اَنجام بھی اَپنے باپ سے کچھ کم اَلمناک نہیں تھا۔ بعد کی تاریخی روایات کے مطابق اُسے دہلی طلب کیا گیا، لیکن راستے میں روہتک کے قریب قتل کردیا گیا۔ یوں شہزادہ محمد خان کی نسل سے وابستہ سلطنتِ دہلی کی جانشینی کی اُمید بھی ختم ہوگئی۔
تاریخ کا یہ کیسا اَلمیہ تھا کہ جس شہزادے نے منگولوں کے مقابلے میں اَپنی جان دے کر سلطنتِ دہلی کی سرحدوں کا دفاع کیا، اُس کے بیٹے کو اُسی سلطنت کی سیاست نے نگل لیا!
شہزادہ محمد خان کی شہادت کا واقعہ تو تاریخ کے صفحات میں کسی نہ کسی طور محفوظ ہے، لیکن اُس کی آخری آرام گاہ کہاں ہے؟ یہ سوال آج بھی پوری طرح حل نہیں ہوسکا۔ ایک ایسا شہزادہ جس کی زندگی، علم دوستی، شجاعت اور شہادت کو اُس عہد کے دو ممتاز شاعروں نے اَپنی تحریروں میں محفوظ کیا، اُس کی قبر کا مقام یقین کے ساتھ متعین نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم قرائن کی روشنی میں دو اِمکانات سامنے آتے ہیں۔
پہلا اِمکان یہ ہے کہ شہزادے کو ملتان ہی میں سپردِ خاک کردیا گیا ہو۔ اُس زمانے میں ملتان سے دہلی تک کا سفر کئی دنوں پر محیط تھا۔ جنگ کے حالات، شہزادے کی اَچانک شہادت اور اُس کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال کو سامنے رکھا جائے تو ملتان یا اُس کے نواح میں تدفین کا اِمکان خاصا مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ تاہم کسی مستند قبر، کتبے یا واضح تاریخی بیان کے بغیر اِسے قطعی حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
دوسرا اِمکان یہ ہے کہ شہزادے کی اِبتدائی تدفین ملتان میں ہوئی ہو اور بعد میں اُس کی باقیات دہلی منتقل کی گئی ہوں۔ اِس سلسلے میں سلطان شمسُ الدِّین اِلتتمش کے فرزند ناصرُ الدِّین محمود کی مثال قابلِ ذکر ہے، جن کا اِنتقال ۱۲۲۹ء میں بنگال کے علاقے لکھنوتی میں ہوا تھا، جبکہ دہلی میں سلطان غاری کے نام سے اُن کا مشہور مقبرہ ۱۲۳۱ء میں تعمیر ہوا۔ اُن کی باقیات دہلی منتقل کیے جانے کی روایت بھی ملتی ہے۔ اِس مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ دُور دراز علاقے میں وفات پانے والے کسی شاہی فرد کی دہلی میں تدفین ناممکن نہیں تھی، اگرچہ اِس سے شہزادہ محمد خان کی میت کی منتقلی ثابت نہیں ہوتی۔
دہلی کے علاقے مہرولی میں سلطان غیاثُ الدِّین بَلبَن کے مقبرے کے قریب ایک قدیم عمارت کو شہزادہ محمد خان، یعنی خانِ شہید، کا مقبرہ کہا جاتا ہے۔ اِس عمارت کی نسبت شہزادے سے اِتنی مشہور ہوئی کہ بعض تاریخی اور سیاحتی تذکروں میں بھی اِسے اِسی نام سے بیان کیا گیا ہے۔ تاہم کسی عمارت کا صدیوں سے ایک نام سے معروف ہونا اور اُس کی تاریخی شناخت کا مستند شواہد سے ثابت ہونا دو الگ باتیں ہیں۔ اِس مقام پر کوئی ایسا واضح اور قابلِ اِعتماد کتبہ یا دوسری فیصلہ کن شہادت سامنے نہیں آتی جس کی بنیاد پر یقین کے ساتھ کہا جاسکے کہ شہزادہ محمد خان یہیں دفن ہے۔
اِس سلسلے میں جاپانی مؤرخ ماتسو آرا کی تحقیق خاص اَہمیت رکھتی ہے، جس نے دہلی کے غلام خاندان کے آخری عہد کے مقابر کا تفصیلی مطالعہ اَپنے تحقیقی مقالے ‘دی ٹومبز آف دی لیٹر سلیو ڈائینسٹی اِن دہلی — ہسٹاریکل اسٹڈیز آن دی سائٹس اینڈ مانیومنٹس اِن دی دہلی سلطنت پیریڈ (تھری)’ میں پیش کیا۔ یہ مقالہ ٹوکیو یونیورسٹی کے تحقیقی مجلے ‘میموئرز آف دی اِنسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل کلچر’ کی جلد ۳۵ میں فروری ۱۹۶۵ء کو صفحات ۱ تا ۶۲ پر شائع ہوا۔
ماتسو آرا نے دہلی کے اِس عہد کے مقابر، اُن کی تعمیراتی خصوصیات، تاریخی پس منظر اور روایتی شناختوں کا تنقیدی مطالعہ کیا۔ اِس نوعیت کی تحقیق اِس بنیادی مسئلے کی طرف توجہ دلاتی ہے کہ دہلی کی بعض قدیم عمارتوں، بشمول خانِ شہید سے منسوب مقبرے، کی روایتی شناختوں کو مستند تاریخی اور آثارِ قدیمہ کے شواہد کی روشنی میں پرکھنا ضروری ہے۔
شہزادہ محمد خان کی شہادت پر امیر خُسرو نے جو مرثیہ کہا، اُس میں صرف ایک بہادر شہزادے کی موت کا دکھ نہیں بلکہ اُس شہر کے غم کی تصویر بھی موجود ہے جس کی سرزمین پر وہ شہید ہوا تھا۔ شاعر کے نزدیک شہزادے کی شہادت نے گویا پنجاب کے پانچ دریاؤں کے ساتھ غم کا ایک اَور پنج آب پیدا کردیا:
بس کہ آبِ چشمِ خلقی شد روان از چار سوئے
پنج آبِ دیگر اندر مولتان آمد پدید۔۔۔۔۔۔۔
(ترجمہ: لوگوں کی آنکھوں سے چاروں طرف اِس قدر آنسو بہے کہ گویا ملتان میں ایک اَور پنج آب وجود میں آگیا۔)
شہزادہ محمد خان کی آخری آرام گاہ کا راز اَب تک تاریخ کی خاموشی میں پوشیدہ ہے، لیکن اِس شہید شہزادے کا ملتان سے رشتہ کسی قبر یا مقبرے کا محتاج نہیں۔ وہ ملتان کی تاریخ میں زندہ ہے؛ اہلِ قلم کی ملتان سے متعلق تحریروں میں زندہ ہے؛ اہلِ ملتان کے دلوں میں زندہ ہے؛ وہ امیر خُسرو کی شاعری میں زندہ ہے؛ امیر حسن سِجزی کے مرثیے میں زندہ ہے؛ ‘خانِ شہید’ کے لقب کے ساتھ زندہ ہے؛ اَپنی ‘کافر کُش’ تلوار کے ذکر کی صورت میں زندہ ہے۔
شہید کہاں مرتے ہیں؛ اُنہیں مردہ کہنا بھی درست نہیں۔ وہ زندہ ہوتے ہیں؛ سرزمینِ ملتان پر اَپنی جان، جان آفریں کے سپرد کرنے والا شہزادہ محمد خان بھی زندہ ہے۔
مآخذ و مراجع:
اِس تحقیقی مضمون کی تیاری میں درجِ ذیل تاریخی مآخذ، ادبی متون اور جدید تحقیقی تصانیف سے اِستفادہ کیا گیا ہے یا اُن میں محفوظ روایات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
۱۔ ضیاءُ الدِّین بَرنی، ‘تاریخِ فیروز شاہی’۔
۲۔ امیر خُسرو دہلوی، ‘دیوانِ غُرّۃُ الکمال’، بالخصوص دیباچہ اور شہزادہ محمد خان کی شہادت پر فارسی مرثیہ۔
۳۔ امیر حسن علاء سِجزی، شہزادہ محمد خان کی شہادت پر فارسی مرثیہ، جس کا متن ‘تاریخِ مبارک شاہی’ میں بھی محفوظ ہے۔
۴۔ یحییٰ بن احمد سرہندی، ‘تاریخِ مبارک شاہی’۔
۵۔ مرزا مقبول بیگ بدخشانی، ‘ادب نامۂ ایران’۔
۶۔ ایچ ایم ایلیٹ اور جان ڈاؤسن (H. M. Elliot & John Dowson)، ‘The History of India as Told by Its Own Historians’، جلد سوم، ۱۸۷۱ء۔
۷۔ پیٹر جیکسن (Peter Jackson)، ‘The Delhi Sultanate: A Political and Military History’، کیمبرج یونیورسٹی پریس (Cambridge University Press)، ۱۹۹۹ء۔
۸۔ جاپانی مؤرخ ماتسو آرا (Matsuo Ara)، ‘The Tombs of the Later Slave Dynasty in Delhi: Historical Studies on the Sites and Monuments in the Delhi Sultanate Period (III)’، تحقیقی مجلہ ‘Memoirs of the Institute of Oriental Culture’، یونیورسٹی آف ٹوکیو، جلد ۳۵، فروری ۱۹۶۵ء
تحریر: سعید احمد شیخ ،ڈی جی ریڈیو پاکستان