Wednesday, 30 September 2026, 03:36:12 am
 
نسیم بیگم: جس کی آواز نے گیتوں کو امر کر دیا
September 29, 2026

نسیم بیگم: دُنیائے موسیقی کی نَسیمِ بادِ بہاری

(برسی کی مناسبت سے خصوصی تحریر)

مَعروف نَغمہ نِگار وارِث لُدھیانوی کے بارے میں ایک دِلچسپ واقعہ زَبان زَدِ عام ہے؛ ایک رات وہ تاخیر سے گھر لوٹ رہے تھے کہ پولیس کے ایک ناکے پر اُنہیں آوارہ گَردی کے الزام میں دَھر لیا گیا۔ معاملہ پہلے اُنہیں حوالات میں بند کیے جانے اور پھر مُتعلّقہ دَفعات کے تحت اُن کے خلاف پَرچے کے اِندراج تک جا پہنچا۔

وارِث لُدھیانوی کو جب اپنے بچاؤ کی کوئی اور صورت دِکھائی نہ دی تو تھانیدار سے پوچھا:

’’پُتّر، تیرا وِیاہ ہویا اے؟‘‘

تھانیدار نے جواب دیا کہ ہاں، اور اِس تھانے میں تعینات قریب قریب سبھی پولیس مُلازمین شادی شُدہ ہیں۔

وارِث لُدھیانوی نے کہا، ’’پھر تم سب کی شادیوں پر ایک گِیت ضرور گایا گیا ہوگا:

دِیساں دا راجا میرے بابُل دا پیارا

اَمڑی دے دِل دا سہارا

نی وِیر میرا گھوڑی چڑھیا۔‘‘

تھانیدار نے فوراً کہا، ’’ہاں، یہ گِیت تو ضرور گایا گیا تھا، مگر تمہارا اِس گیت سے کیا تعلق؟‘‘

وارِث لُدھیانوی مُسکرائے اور بولے: ’’یہ گِیت میرا لکھا ہوا ہے؛ میں گِیت نِگار وارِث لُدھیانوی ہوں۔‘‘

اِتنا سُننا تھا کہ تھانیدار کا رویّہ یکسر بدل گیا۔ اُس نے پہلے وارِث لُدھیانوی کو حوالات سے باہر نکالا اور پھر تانگا منگوا کر ایک سپاہی کی ہمراہی میں اُنہیں عِزّت و اِحترام کے ساتھ بحفاظت گھر پہنچوایا۔

وارِث لُدھیانوی فخر کے ساتھ اپنے تعارف کے لیے جس گِیت کا سہارا لے رہے تھے، اُسے عوامی گِیت بنانے اور گھر گھر پہنچانے والی آواز نَسیم بیگم کی تھی۔

وہی جَواں مَرگ نَسیم بیگم، جن کی موت پر دُنیا بھر میں اُن کے چاہنے والوں کی آنکھیں اَشک بار ہوئیں۔ وہ صرف پینتیس برس کی عُمر میں اِس دُنیائے فانی سے رُخصت ہوئی تھیں۔ ایک ایسی عُمر، جس میں بیشتر فنکار پُختگیِ فَن کے ساتھ فَن کی نئی بُلندیوں کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں، نَسیم بیگم مَنوں مِٹّی تلے جا سوئیں۔

اپنی اِس مُختصر زندگی کے باوجود نَسیم بیگم پاکستانی فلمی موسیقی کو اِتنے لازوال نَغمے دے گئیں کہ پاکستان کی فلمی موسیقی کی تاریخ اُن کے ذِکر کے بغیر مُکمّل ہو ہی نہیں سکتی۔

آج اُنہی نَسیم بیگم کی ۵۵ ویں بَرسی ہے۔ وہ ۱۹۷۱ء میں ۲۹ ستمبر ، یعنی آج ہی کے دِن، ہمیشہ کے لیے دُنیا سے رُخصت ہوگئی تھیں۔

زندگی نے اُنہیں صرف پینتیس برس دئیے، مگر اُن کی آواز کو شاید عُمر کی کوئی حد نہ مل سکے۔

نَسیم بیگم ۲۴ فروری ۱۹۳۶ء کو اَمرتسر میں پیدا ہوئیں۔ اُن کی والدہ ’بَدھاں‘ کے نام سے معروف ایک مُغَنِّیَہ تھیں؛ یہ اُن کا اصل نام تھا یا گائیکی کی دُنیا میں معروف نام، اِس بارے میں کوئی مُستند تفصیل دَستیاب نہیں۔ اِسی طرح نَسیم بیگم کے والد کا نام اور اُن کے بہن بھائیوں کی تعداد بھی عام دَستیاب سَوانِحی تذکرہ جات میں محفوظ نہیں رہ سکی۔

بَٹوارے کے وقت نَسیم بیگم کی عُمر صرف گیارہ برس تھی۔ اُن کا خاندان اَمرتسر سے ہِجرت کرکے لاہور آگیا۔ بعض رِوایات میں یہ تذکرہ بھی ملتا ہے کہ وہ صرف اپنی والدہ کے ہمراہ لاہور آئی تھیں۔

موسیقی کا شوق چونکہ اُن کی گھُٹّی میں پڑا تھا، اِس لیے اُن کی والدہ نے بھی اُن کی حَوصلہ اَفزائی کی۔ نوعُمری ہی میں اُنہیں اپنے عہد کی مُمتاز مُغَنِّیَہ اور اداکارہ مُختار بیگم کی شاگردی میں ڈال دیا گیا۔ مُختار بیگم آغا حشر کاشمیری کی اہلیہ اور معروف غزل گائیکہ فریدہ خانم کی بڑی بہن تھیں۔ نَسیم بیگم نے اُن سے کلاسیکی اور نیم کلاسیکی موسیقی، راگ داری اور آواز کے اُتار چڑھاؤ کے اَسرار سیکھے۔

نَسیم بیگم کے بعض سَوانِحی حوالوں میں اُستاد عاشق علی خان سے بھی اُن کی تَربیت کا ذِکر آتا ہے۔ کچھ تذکرہ نگاروں کے مطابق مُختار بیگم نے نَسیم بیگم کو اپنی لَے پالَک بیٹی کی طرح بھی رکھا تھا اور وہ اُنہیں اور فریدہ خانم کو برابر بٹھا کر تَربیت دیتی تھیں۔

نَسیم بیگم کی شادی نوعُمری ہی میں لاہور کے معروف ناشرِ کُتب ، دِین محمد سے ہوئی۔ شادی کا قطعی سال دَستیاب مُعتبر ریکارڈ میں درج نہیں ملتا۔ دِین محمد لاہور کے معروف ناشرِ کُتب تھے اور اِشاعتِ کُتب سے متعلق کاروباری حضرات میں  ایک نُمایاں نام سمجھے جاتے تھے۔

نَسیم بیگم کے ہاں تین بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ اُن کی زندگی کا سب سے اَلمناک دن ۲۹ ستمبر ۱۹۷۱ء کا تھا، جب وہ اپنے چھٹے بچے، جو ایک بیٹا تھا، کی وِلادت کے دوران یونائیٹڈ کِرسچین ہسپتال، لاہور میں دِماغ کی شِریان پھٹ جانے کے سَبب صرف پینتیس برس کی عُمر میں اِنتقال کرگئیں۔

نَسیم بیگم کو لاہور کے تاریخی میانی صاحب قبرستان میں سُپردِ خاک کیا گیا، اور یوں دُنیائے موسیقی کی یہ نَسیمِ بادِ بَہاری ابھی پوری طرح اپنی لَطافت بکھیر بھی نہ پائی تھی کہ اَجَل کا ایک تُند جھونکا اُسے اپنے ساتھ لے کر عالَمِ بالا کی وُسعتوں میں گُم ہوگیا۔

نَسیم بیگم نے اپنی باقاعدہ فَنّی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا۔ گو کہ کلاسیکی موسیقی کی باقاعدہ تربیت اُنہیں موسیقی کے اَسرار و رُموز سے آشنا کروا چکی تھی، تاہم ریڈیو پاکستان نے اُنہیں مائیکروفون، تلفّظ، ادائیگی اور پیشہ وَرانہ گائیکی کے تقاضوں سے کَماحَقّہ روشناس کروایا۔ کئی ایک موسیقی کے محققین کی رائے ہے کہ ریڈیو پاکستان پر اُن کے تعارف کے بعد ہی فلمی موسیقاروں کی توجّہ اُن کی طرف مبذول ہوئی۔

فلمی گائیکی میں اُن کا پہلا قدم ۱۹۵۶ء میں پڑا، جب موسیقار بابا جی غلام احمد چشتی نے پنجابی فلم ‘گُڈّی گُڈّا’ میں اُن سے گیت گوایا۔ دو برس بعد، ۱۹۵۸ء میں موسیقار میاں شہریار نے اُن کی آواز کی وُسعت اور سُروں پر گرفت سے متاثر ہوکر فلم ‘بے گناہ’ کے لیے اُنہیں منتخب کیا۔ اِسی فلم کا گیت ‘نینوں میں جَل بھر آئے، روٹھ گیا مورا پیار’ اُن کی پہلی بڑی عوامی پہچان بنا اور پھر اُن کے لیے فلمی دُنیا میں کامیابی کے دروازے کُھلتے چلے گئے۔

نَسیم بیگم کے فَنّی سفر میں اصل بڑا موڑ ۱۹۶۰ء کی فلم ‘سہیلی’ سے آیا۔ موسیقار اے حمید اور نغمہ نگار فیّاض ہاشمی کے اِشتراک سے بننے والے ‘ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے’، ‘ہم نے جو پھول چُنے’، ‘کہیں دو دِل جو مل جاتے’ اور ‘مُکھڑے پہ سہرا ڈالے’ جیسے گیتوں نے اُنہیں صفِ اوّل کی پلے بیک گلوکاراؤں میں لا کھڑا کیا۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات کی انگریزی زبان میں شائع شدہ سرکاری کتاب ‘پاکستان سنیما ہاؤس ۱۹۴۷ء تا ۲۰۲۳ء’ میں بھی فلم ‘سہیلی’ اور اِن گیتوں کا خصوصی ذِکر موجود ہے۔(بحوالہ: ‘پاکستان سنیما ہاؤس ۱۹۴۷ء تا ۲۰۲۳ء’، ص: ۵۹)

‘سہیلی’ کے بعد نَسیم بیگم کا سفر کامیابی سے کامیابی کی طرف بڑھتا گیا۔ فلم ‘شام ڈھلے’ کا ‘سو بار چمن مہکا، سو بار بہار آئی’، فلم ‘شہید’ کا نغمہ ‘اِس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو’، فلم ‘باجی’ کا مشہور گیت ‘چندا توری چاندنی میں’، فلم ‘حویلی’ کا ‘میرا بچھڑا بلم گھر آگیا’، فلم ‘لُٹیرا’ کا ‘نگاہیں ہوگئیں پُرنم’، فلم ‘اِک تیرا سہارا’ کا ‘اے دِل کسی کی یاد میں’، فلم ‘زرقا’ کا ‘میں پھول بیچنے آئی’ اور فلم ‘گھونگھٹ’ کا ‘چھن چھن چھن موری پائل کی دُھن’ اُن کے یادگار نغمے قرار دیے جا سکتے ہیں۔

نَسیم بیگم کے نَغموں میں سولو گیت اور دوگانے، دونوں شامل ہیں؛ اُن کی سولو گائیکی کا سب سے نُمایاں وَصف اُن کی آواز کا سُوز اور جَذباتی گہرائی تھی۔ وہ دُکھی اور رُومانوی گیتوں میں اِتنا ڈوب کر گاتی تھیں کہ اُن کی آواز سے جھلکتا درد مَصنوعی محسوس نہیں ہوتا تھا؛ آواز کا اُتار چڑھاؤ، لفظ کی اَدائیگی اور سُر کی پُختگی مل کر ایسا تَاَثُّر پیدا کرتے تھے کہ گیت فلمی منظر سے نکل کر سامع کے ذاتی تَجرِبے کا حصّہ بن جاتا تھا۔ ‘ہم بھول گئے ہر بات’، ‘ہم نے جو پھول چُنے’، ‘اِس بے وفا کا شہر ہے’، ‘سو بار چمن مہکا’ اور ‘نگاہیں ہوگئیں پُرنم’ اِسی وَصف کی مثالیں ہیں۔

نَسیم بیگم کی آواز اور گائیکی کو محض اُداسی تک محدود کردینا بھی اُن کے فَن کے ساتھ نااِنصافی ہوگی؛ کلاسیکی موسیقی کی مضبوط بُنیاد کے باعث وہ مشکل بَندش، رَقصیہ گیت، غزل اور ہلکے پھلکے فلمی نَغمے بھی یکساں مَہارت سے گاتی تھیں۔ ‘چندا توری چاندنی میں’ اور ‘میرا بچھڑا بلم گھر آگیا’ جیسے گیت اُن کی کلاسیکی تَربیت اور سُروں پر گرفت کی عُمدہ مثالیں ہیں۔

نَسیم بیگم دوگانا گاتے ہوئے اپنی اِنفرادی شناخت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ ساتھی گلوکار کی آواز کے ساتھ حیرت انگیز ہَم آہنگی بھی پیدا کرلیتی تھیں۔ اُنہوں نے سلیم رضا، منیر حسین، احمد رشدی، مہدی حسن اور مسعود رانا سمیت اپنے عہد کے کئی بڑے گلوکاروں کے ساتھ دوگانے گائے۔

فلم ‘سہیلی’ کا سلیم رضا کے ساتھ گایا ہوا ‘کہیں دو دِل جو مل جاتے، بگڑتا کیا زمانے کا’ اِس فَن کی نُمایاں مثال ہے۔ اِسی طرح فلم ‘اولاد’ میں منیر حسین کے ساتھ ‘تم ملے، پیار ملا، اب کوئی اَرمان نہیں’ اُن کے مَقبول دوگانوں میں شمار ہوتا ہے۔

نَسیم بیگم کے دوگانوں میں عموماً اُن کی آواز دوسری آواز پر غالب آنے کے بجائے اُس کے ساتھ مُکالمہ کرتی محسوس ہوتی تھی؛ یہی توازن اُن کے دوگانے کی ایک نُمایاں خوبی تھا۔

نَسیم بیگم کا فَن صرف اُردو فلموں تک محدود نہیں تھا۔ اُن کی فلمی زندگی کا آغاز ہی پنجابی فلم ‘گُڈّی گُڈّا’ سے ہوا تھا اور بعد میں اُنہوں نے ‘کرتار سنگھ’، ‘تیس مار خان’، ‘میرا ویر’، ‘چن ویر’، ‘چن پُتّر’ اور ‘مُکھڑا چن ورگا’ سمیت متعدد پنجابی فلموں کے لیے آواز دی۔

پنجابی گائیکی میں ‘دِیساں دا راجا’ اُن کی آواز میں ایسا مقبول ہوا کہ فلمی گیت کی حُدود سے نکل کر شادی بیاہ کی عوامی رِوایت کا حصّہ بن گیا۔ فلم ‘تیس مار خان’ میں اُن کا گایا ہوا شوخ اور مترنّم گیت ‘مَیری جھانجھر چھن چھن چھنکے’ اپنے زمانے میں خاصا مقبول ہوا۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات کی انگریزی زبان میں شائع شدہ سرکاری کتاب ‘پاکستان سنیما ہاؤس ۱۹۴۷ء تا ۲۰۲۳ء’ میں بھی اِسے اُن گیتوں میں شمار کیا گیا ہے جو اُس وقت ریڈیو پاکستان پر کثرت سے نشر ہوتے تھے۔ فلم ‘کرتار سنگھ’ میں زبیدہ خانم کے ساتھ اُن کا پنجابی دوگانا ‘ماہی نے تینوں لے جانا نی گوریے’ بھی اُن کی پنجابی گائیکی اور دوگانا گانے کی صلاحیت کی ایک خوب صورت مثال ہے۔

اِسی طرح ۱۹۷۰ء کی فلم ‘چن پُتّر’ میں بابا جی اے چشتی کی موسیقی میں اُن کا گایا ہوا ‘سانوں وی لے چل نال وے، باؤ سوہنی گڈی والیا’ اپنی شوخی، سادہ بولوں اور عوامی دُھن کے سبب زَبان زَدِ عام ہوا۔ یوں اُردو گائیکی کی طرح پنجابی فلمی موسیقی میں بھی نَسیم بیگم کی آواز نے اپنے لیے ایک الگ اور دیرپا مقام پیدا کیا۔

نَسیم بیگم اپنے گائے ہوئے مِلّی نَغمے ‘اے راہِ حق کے شَہیدو’ کی وجہ سے بھی اَمر ہوچکی ہیں؛ اِس نَغمے کے بول مُشیر کاظمی کے تھے۔ نَسیم بیگم نے اِسے ایسے سوز و گُداز سے گایا کہ یہ وقت کے ساتھ شُہدائے وَطن کو خِراجِ عَقیدت پیش کرنے کی ایک قومی علامت بن گیا۔

دَستیاب تَحقیقی ریکارڈ کے مطابق اِس نَغمے کا اِبتدائی ریڈیو وَرژن ۱۹۶۵ء کی جَنگ کے دوران سامنے آیا۔ بعداَزاں ۱۹۶۶ء میں اِسے فلم ‘مادرِ وَطن’ میں شامل کیا گیا، جہاں موسیقی سلیم اِقبال کی تھی۔ نِصف صَدی سے زیادہ عَرصہ گزرنے کے باوجود ‘اے راہِ حق کے شَہیدو’ آج بھی شُہدائے وَطن کی یاد کے ساتھ وابستہ ہے اور نَسیم بیگم کی آواز کو قومی حافِظے میں زِندہ رکھے ہوئے ہے۔

نَسیم بیگم کا فلمی کیریئر چودہ برس پر مُحیط رہا۔ اُن کے گائے ہوئے گیتوں کی مَجموعی تَعداد کے بارے میں مُختلف ذَرائع میں فرق ملتا ہے؛ بعض مُعتبر ذَرائع اُن کے فلمی گیتوں کی تَعداد پانچ سو سے زائد بتاتے ہیں، جبکہ بعض تَفصیلی پاکستانی تَذکروں میں یہ تَعداد ساڑھے سات سو کے لگ بھگ درج ہے۔ اِس لیے مُحتاط طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ نَسیم بیگم نے اپنی مُختصر فَنّی زندگی میں ساڑھے تین سو سے زائد فلموں کے لیے پانچ سو سے ساڑھے سات سو کے درمیان گیت گائے۔

نَسیم بیگم اُن خوش قسمت فنکاروں میں شامل ہیں جن کی فَنّی عظمت کا اِعتراف اُن کی زندگی ہی میں ہونے لگا تھا۔ اُنہوں نے بہترین خاتون پلے بیک گلوکارہ کے طور پر چار نگار ایوارڈ حاصل کیے۔ پہلا نگار ایوارڈ ۱۹۶۰ء میں فلم ‘شام ڈھلے’، دوسرا ۱۹۶۱ء میں فلم ‘شہید’، تیسرا ۱۹۶۳ء میں فلم ‘باجی’ اور چوتھا ۱۹۶۴ء میں فلم ‘لُٹیرا’ کے لیے اُن کے حصّے میں آیا۔ یوں صرف پانچ برس کے عرصے میں چار مرتبہ بہترین خاتون پلے بیک گلوکارہ قرار پانا اُس دور کی فلمی موسیقی میں اُن کی غیر معمولی مقبولیت اور فَنّی مقام کا واضح ثبوت تھا۔

اُن کی فَنّی خدمات کو سرکاری سطح پر بھی سراہا گیا اور ۱۹۶۵ء میں صدرِ پاکستان کی جانب سے اُنہیں تمغۂ حسنِ کارکردگی عطا کیا گیا۔ یوں صرف اُنتیس برس کی عُمر میں وہ ملک کے ایک بڑے قومی اعزاز کی حقدار بھی بن چکی تھیں۔

نسیم بیگم اپنے چاہنے والوں اور موسیقی کے قدر دانوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں ۔ آج بھی پنجاب کے طُول و عَرض میں جب شادی بیاہ کی کسی محفل میں سَکھیاں ‘دِیساں دا راجا میرے بابل دا پیارا’ گاتی ہیں تو رَمز شناس فوراً بھانپ لیتے ہیں کہ اِس لازوال گیت کے خالق وارث لُدھیانوی اور اِسے اپنی آواز سے گھر گھر پہنچانے والی گائیکہ نَسیم بیگم تھیں۔

وہ حقیقتاً دُنیائے موسیقی کی نَسیمِ بادِ بہاری تھیں؛ خوشیوں کو سمیٹ کر آنگنوں میں داخل ہونے والی نَسیمِ بادِ بہاری۔ اِس کا ثبوت آج بھی اُن گھروں میں ملتا ہے جہاں شادی کی خوشیوں کے موقع پر سَکھیاں ڈھولک بجاتی، اُنہی بولوں کو دہراتی اور ‘دِیساں دا راجا’ گاتی ہیں۔ گویا نَسیم بیگم کی آواز آج بھی اُن آنگنوں میں خوشی بن کر اُترتی ہے۔

نَسیم بیگم کا ریڈیو پاکستان سے بھی گہرا فَنّی تعلق رہا اور اُنہوں نے اپنے باقاعدہ فَنّی سفر کا آغاز بھی ریڈیو پاکستان لاہور ہی سے کیا تھا۔ اُن کی ۵۵ویں بَرسی کے موقع پر ریڈیو پاکستان اپنی اِس سابق وابستہ فنکارہ کی گراں قدر فَنّی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اُنہیں خِراجِ تحسین  پیش کرتا ہے۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان