بھارتی پولیس کے ایک شعبے کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر نے آج بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں متعدد مقامات پر چھاپے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
سی آئی کے ٹیموں نے سینئر پولیس افسران کے ہمراہ سری نگر، گاندربل اور اسلام آباد اضلاع میں ریاض احمد بیگ، سید قلندر شاہ اور گلزار احمد راتھر کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے۔
یہ چھاپے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت مارے گئے، جس کے دوران جائیداد کی دستاویزات، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات ضبط کر لئے گئے۔
ادھر ضلع راجوری کے گمبھیر مغلاں اور ڈوریمل کے جنگلات میں بھارتی فورسز کی جانب سے شروع کیے گئے محاصرے اور تلاشی کا وسیع آپریشن مسلسل 36 ویں روز بھی جاری رہا۔
بھارتی حکام نے اعتراف کیا کہ دشوار گزار علاقے، گھنے جنگلات، گہری کھائیاں اور ناہموار سنگلاخ پہاڑ آپریشن کے لیے سنگین چیلنجز کا باعث ہیں۔
طویل آپریشن نے علاقے کو ایک ورچوئل ملٹری زون میں تبدیل کر دیا ہے، جس سے مقامی باشندوں کی روزمرہ کی زندگیوں میں شدید مشکلات اور خلل پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے باسٹھ ویں اجلاس کے موقع پر ایک سیمینار میں مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ جبر اور امن ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن کیلئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خودارادیت دیا جانا ضروری ہے۔