وفاقی وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ حکومت ذمہ دارانہ مالی نظم و ضبط اور جامع ساختی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو پائیدار اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کی راہ پر گامزن کر رہی ہے۔
لاہور میں پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن اور لاہور ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے اشتراک سے منعقدہ چار روزہ قومی ٹیکس سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ متوازن، ذمہ دارانہ اور ترقی دوست ہے، جس کا مقصد سرمایہ کاری، برآمدات، صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔
خرم شہزاد نے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو نمایاں ریلیف دیا گیا ہے، جبکہ کاروباری برادری اور برآمد کنندگان کی مسابقت بڑھانے، ٹیرف اصلاحات، معیشت کی دستاویزی شکل کو فروغ دینے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے مثر اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی صورتحال کا اعتراف عالمی سطح پر بھی کیا جا رہا ہے، جس کا اظہار بہتر خودمختار کریڈٹ ریٹنگ، آئی ایم ایف پروگرام کے کامیاب جائزوں، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور عالمی مالیاتی اداروں کی مثبت آرا سے ہوتا ہے۔
مشیرِ خزانہ نے کہا کہ نیا ٹیکس آپریٹنگ ماڈل روایتی افسر پر مبنی نظام کو ڈیٹا پر مبنی، ٹیکنالوجی سے آراستہ، فیس لیس، شفاف اور جوابدہ نظام میں تبدیل کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ماڈل سے ٹیکس دہندگان کو زیادہ آسان، تیز اور قابلِ پیش گوئی خدمات فراہم ہوں گی، جبکہ ٹیکس چوری کے خلاف کارروائیاں ڈیٹا اور شواہد کی بنیاد پر مزید مثر بنائی جائیں گی۔
انہوں نے ٹیکس بار ایسوسی ایشنز اور ٹیکس ماہرین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹیکس اصلاحات کی کامیابی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل مشاورت اور تعاون ناگزیر ہے۔
سیمینار میں ٹیکس پالیسی، مالی سال 2026-27 کے بجٹ، فیس لیس ٹیکس انتظامیہ، ڈیجیٹلائزیشن اور براہِ راست و بالواسطہ ٹیکسوں سے متعلق مختلف تکنیکی اجلاس بھی منعقد ہوئے، جن میں ملک بھر سے ٹیکس ماہرین، وکلا، چارٹرڈ اکانٹنٹس اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔