کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں حالات معمول پر ہونے اور امن کے بھارتی دعوے حقیقت سے بہت دور ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس ایڈووکیٹ نے سری نگر میں ایک بیان میں کہا کہ مودی حکومت عالمی برادری کو گمراہ کرنے اور مقبوضہ علاقے کی سنگین صورتحال چھپانے کے لیے معمول کے حالات کی جھوٹی تصویر پیش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو روزانہ کی بنیاد پر فوجی جبر، چھاپوں، محاصرے، تلاشی کی کارروائیوں اور گرفتاریوں کا سامنا ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر فوج کی تعیناتی نے مقبوضہ علاقے کو بڑی فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے اور کشمیری عوام کی زندگیاں اجیرن کر دی ہیں۔
حریت کانفرنس نے کہا کہ بھارت کا معمول کے حالات سے متعلق پروپیگنڈا کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت سے انکار کو چھپا نہیں سکتا۔
ادھر مقبوضہ علاقے میں بی جے پی حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں بھاری اضافے کے خلاف سری نگر میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے کیے گئے دو الگ الگ مظاہروں میں مظاہرین نے عوام پر بھاری بلوں اور اسمارٹ میٹرز کے اضافی چارجز کا بوجھ ڈالنے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے بھی مودی حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں بھاری اضافے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے کشمیری عوام اور مقامی کاروباری برادری کے خلاف سازش قرار دیا۔
بھارتی حکام نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں بھارتی فوج کا فیلڈ ٹیکٹیکل ہیڈکوارٹرز قائم کرنے کے لیے کئی دیہات کو خالی کرنے کے احکامات دیے ہیں۔
کندی کیگام اور پنزگام کے علاقے خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ ضلع میں فوجی سازوسامان بھیجا جا رہا ہے اور اضافی فوجی نفری تعینات کی جا رہی ہے۔
مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ فوجی تعیناتی میں اضافے کے باعث رہائشیوں کے لیے زندگی مزید مشکل ہوتی جا رہی ہے۔