بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے ضلع اسلام آباد میں دو مقامات پر چھاپے مارے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
این آئی اے کی ٹیموں نے سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور پولیس اہلکاروں کے ہمراہ بجبہاڑہ میں ایک عمارت اور ڈورو کے گاؤں کریری میں تلاشی کی کارروائی کی۔
بی جے پی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے فوج اور تحقیقاتی اداروں کو من مانے چھاپوں، تلاشی کی کارروائیوں اور جھوٹے مقدمات کے اندراج کے ذریعے کشمیریوں کو ہراساں اور خوف زدہ کرنے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سری نگر میں ایک بیان میں مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی جیلوں میں غیر قانونی طور پر قید کشمیریوں کی حالتِ زار پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بھارت پر ان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے حریت رہنماؤں سمیت تین ہزار سے زائد کشمیریوں کو جھوٹے مقدمات میں قید کر رکھا ہے۔
ادھر بھارتی فوج ضلع کپواڑہ میں اپنے بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو کور ہیڈکوارٹر میں تبدیل کر رہی ہے۔
کپواڑہ قصبے سے تقریباً 15 کلومیٹر دور کنڈی-کیگام اور پانزگام میں فوجی بریگیڈ کے ڈپو قائم کیے جا رہے ہیں۔
اردگرد کے علاقوں کے رہائشیوں کو اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور مزاحمت یا اعتراض کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ بھارت جموں و کشمیر میں اپنے غیر قانونی فوجی قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے پہلے ہی دس لاکھ سے زائد فوجی تعینات کر چکا ہے۔