پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی کارروائی کو قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ سمجھا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کے خلاف حوثیوں کی مسلسل دھمکیوں کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے کی سلامتی، آزادانہ جہاز رانی اور عالمی تجارت کو خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی جہازوں سمیت پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کوئی بھی حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا اور اس کا فوری جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے حق دفاع کے تحت ہر ضروری اقدام کرے گا۔
ترجمان نے مشرق وسطیٰ اور خلیج کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی پاکستان کی اپیل کو دہرایا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری کے فروغ کے لیے پاکستان کے سفارتی رابطے جاری ہیں۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدوں سمیت تمام دوطرفہ معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔
کابل میں پاکستان کی کارروائیوں کے حوالے سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹ پر تبصرہ کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے اسے سختی سے مسترد کر دیا اور کہا یہ افسوسناک بات ہے کہ کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر اس طرح کے سنگین الزامات لگا دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت تحریکِ طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور ذیلی گروہوں سمیت مختلف دہشتگرد تنظیموں کو تخریبی کارروائیوں کے لئے بدستور سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ذمہ دار ملک اس وقت خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا جب اس کے شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو بار بار نشانہ بنایا جا رہا ہو۔
یورپی یونین کی پانچویں جی ایس پی رپورٹ کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ یہ جائزہ، ستائیس بین الاقوامی کنونشنز کی پاسداری کے معاملے پر موجودہ 'جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت حتمی نگرانی کی رپورٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان جی ایس پی فریم ورک کی بنیاد پر طے شدہ عالمی معاہدوں پر موثر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔