مُنیر حسین
دھیمے سُروں کی گائیکی میں اپنا لوہا منوانے والا منفرد گلوکار
(برسی کی مناسبت سے خصوصی تحریر)
۶ دسمبر ۱۹۵۶ء کے دِن میلبورن اولمپکس میں پاکستان نے اپنی تاریخ کا پہلا اولمپک تمغہ جیتا۔ پاکستان کا پہلی بار اولمپک وِکٹری اسٹینڈ پر کھڑا ہونا ایک تاریخ ساز لمحہ تھا، جِس پر پورا مُلک خوشی سے جُھوم اُٹھا۔ ویسے تو پوری پاکستانی ٹیم ہی اِس ٹورنامنٹ میں بہت اچھا کھیلی تھی، تاہم فائنل میچ میں فُل بیک مُنیر کی کارکردگی ایسی نمایاں رہی کہ وہ دیکھتے ہی دیکھتے پاکستانیوں کی آنکھ کا تارا بن گئے۔
دو برس بعد، ۱۹۵۸ء کے ٹوکیو ایشین گیمز میں پاکستان نے ہاکی میں سونے کا تمغہ جیت لیا۔ یہ ایک اور بڑی کامیابی تھی اور اِس ٹورنامنٹ میں بھی فُل بیک مُنیر کے کھیل کا خوب چرچا رہا۔ وہ فُل بیک تھے، مگر پینلٹی کارنر لگانے میں اُنہیں خاص مہارت حاصل تھی۔ جنوبی کوریا کے خلاف اُنہوں نے مسلسل پانچ پینلٹی کارنر گول کرکے تہلکہ مچا دیا۔
فُل بیک مُنیر کا تعلُّق چونکہ لاہور سے تھا، اِس لیے لاہور سے چھپنے والے اخبارات و رسائل نے اُن کے اِنٹرویو شائع کیے، اُن کی تعریف میں مضامین لکھے اور اُنہیں ایک شاندار کھلاڑی کے طور پر پیش کیا۔ اِس کے ساتھ ساتھ زِندہ دِلانِ لاہور نے اپنی نِجی محافل اور تقریبات میں بھی اُن کی خوب مدح سرائی اور پذیرائی کی، جِس کے وہ بجا طور پر مُستحق بھی تھے۔
فُل بیک مُنیر کی ناموَری کے اِنہی دِنوں میں اُن کا ایک ہم نام اور ہم شہر، گلوکار مُنیر، بھی پاکستانی فلمی صنعت میں وارِد ہوا۔ دِھیمی، ہلکی مگر بے پناہ سُریلی آواز کے مالک اِس مُنفرد گائیک کے پہلے ہی گیت چونکا دینے والے تھے۔ اِبتدائی متأثر کُن گیتوں کے بعد بھی اُس نے جو کچھ گایا، وہ اپنی مثال آپ تھا۔
حق تو یہ بنتا تھا کہ لاہور کے اخبارات و رسائل اِس مُنیر کے بھی اِنٹرویو شائع کرتے، اِس پر مضامین لکھتے اور اِسے بھی ایک شاندار گلوکار کے طور پر پیش کرتے۔ زِندہ دِلانِ لاہور پر بھی یہ لازم بنتا تھا کہ وہ ہاکی کے فُل بیک مُنیر کی طرح اِس پر بھی تعریفوں کے ڈونگرے برساتے، اس کی مدح سرائی اور پذیرائی کرتے مگر وہ بد قسمتی سے اُس داد وتحسین سے بڑی حد تک محروم ہی رہا جِس کا وہ حقیقی طور پر حقدار تھا۔
اگر آپ ۱۹۵۷ء اور ۱۹۵۸ء کے اخبارات کی فائلیں دیکھیں تو آپکو بخوبی اندازہ ہوجائیگا کہ لاہور سے تعلُّق رکھنے والے یہ دونوں مُنیر تقریباً ایک ہی زمانے میں دو مختلف میدانوں میں قِسمت آزمائی کے لیے داخِل ہوئے؛ دونوں میدان ہی عوام الناس کے پسندیدہ تھے ، مگر اپنے اپنے مُقدّر کی بات ہے کہ ہاکی کے میدان کا مُنیر تو دیکھتے ہی دیکھتے شُہرت میں بہت آگے نکل گیا، جبکہ موسیقی کے میدان کا مُنیر، اپنے جوہر کے باوجود، شُہرت و نام وَری کے معاملے میں قدرے پیچھے رہ گیا۔
یہ نہیں کہ موسیقی کے میدان والے مُنیر کے پاس ہُنر کی کوئی کمی تھی؛ وہ صرف اِس لیے پیچھے رہ گیا کہ شُہرت کے لیے جو جتن کرنے پڑتے ہیں، وہ اُن سے کُلّی طور پر عاری تھا۔ نہ وہ کسی شوبِز رپورٹر کے پیچھے بھاگا اور نہ کسی ریکارڈنگ کمپنی کے مالک کے تَرلے کرنے کا مُکلّف ٹھہرا۔
کچھ واقفانِ حال یہ بھی کہتے ہیں کہ موسیقی کے میدان والے مُنیر کو شاید شُہرت کی طلب ہی نہ تھی۔ وہ سادہ لوح اِنسان تھا اور اپنے کام سے کام رکھتا تھا۔ پھر اُس کے اپنے ہی خاندان میں چاروں طرف موسیقی کے اِتنے بڑے بڑے نام موجود تھے کہ اُن کی موجودگی میں وہ اپنے لیے نام و نُمود کی خواہش کرتا بھی تو کیسے کرتا۔
اگر دیکھا جائے تو یہ ہاکی کے میدان والے مُنیر کے برابر ہی گُن رکھتا تھا؛ بلکہ ہاکی کا مُنیر تو صرف فُل بیک تھا، ایک مُتعیّن پوزیشن پر کھیلنے والا کھلاڑی، جبکہ موسیقی کے میدان کا یہ مُنیر، اُس کے برعکس، ہر پوزیشن پر خوب کھیلتا تھا۔ وہ اُردو اور پنجابی، دونوں زبانوں کے گیت یکساں رَوانی اور مہارت سے گاتا تھا؛ سولو گیت ہو یا دوگانا، دونوں ہی میں وہ پوری سُہولت کے ساتھ اپنی جگہ بنا لیتا تھا۔
وہ موسیقی کے میدان کا آل راؤنڈر تھا؛ موسیقار اور فلمی ہدایت کار نے اُسے جِس پوزیشن پر کھلایا، اُس نے وہیں اپنا کھیل دکھایا۔ کسی کو اِس کھلاڑی کا جوہر پرکھنا ہو تو اُس کی پہلی پنجابی فلم ’نوراں‘ کا ’پنچھی تے پردیسیا، آ کے تُر جاندے…‘ سُن لے، یا پھر اُس کی اِبتدائی اُردو فلم ’سات لاکھ‘ کے ’قرار لُوٹنے والے، تُو قرار کو ترسے‘ میں اُس کی آواز کا جادو دیکھ لے۔
یہ دونوں گیت ۱۹۵۷ء کے ہیں اور دونوں میں ایک ہی آواز کے دو بالکل مُختلف رنگ سُنائی دیتے ہیں۔ ایک گیت اُردو میں ہے اور سولو ہے، جبکہ دوسرا پنجابی میں ہے اور دوگانا۔ گویا اپنی گائیکی کے سفر کے آغاز ہی میں مُنیر نے ثابت کردیا تھا کہ زبان بدلے یا گیت میں اُس کی پوزیشن، اُس کے کھیل پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
آج میدانِ موسیقی کے اِسی آل راؤنڈر کھلاڑی، مُنیر حُسین، کی اِکتیسویں برسی ہے۔ وہ ۲۷ ستمبر ۱۹۹۵ء کو اِس دُنیا سے رُخصت ہوئے تھے۔
مُنیر حُسین ۱۹۳۰ء میں لاہور کے ایک موسیقار گھرانے میں پیدا ہوئے؛ اُن کی والدہ عظیم موسیقار رشید عطرے کی بہن تھیں، جبکہ موسیقار صفدر حُسین اُن کے خالہ زاد اور وجاہت عطرے ماموں زاد بھائی تھے۔
دوسرے لفظوں میں، مُنیر حُسین نے آنکھ ہی ایک ایسے ماحول میں کھولی، جہاں سُر، ساز اور راگ روزمرّہ زِندگی کا حصّہ تھے۔ اُن کے والد اور دادا موسیقاروں کے رَبابی گھرانے سے تعلُّق رکھتے تھے۔ رَبابی اُن مسلمان موسیقار خاندانوں کو کہا جاتا تھا، جو رَباب نامی ساز بجانے اور اُس کے ساتھ گانے میں مہارت رکھتے تھے۔
پنجاب میں سِکھ حُکومت کے دَوران رَبابی، سِکھ مذہبی موسیقی کے ساتھ خاص طور پر وابستہ ہوگئے؛ وہ گُرو گرنتھ صاحب کے کلام کو مُقرّرہ راگوں میں گانے کی روایت کے اَمین سمجھے جاتے تھے۔ کلاسیکی راگوں سے دیرینہ وابستگی نے اِن خاندانوں میں سُر، تال اور راگ داری کا ایسا ماحول پیدا کردیا تھا، جِس میں موسیقی محض پیشہ نہیں، بلکہ نسل در نسل مُنتقل ہونے والا ہُنر بن گئی تھی۔
مُنیر حُسین کو بھی اپنے خاندان کے اِسی موسیقانہ ماحول کے سبب سُر اور ساز گویا وِرثے میں ملے۔ اُنہوں نے شروع ہی میں کلاسیکی موسیقی کی تربیت حاصل کی، تاہم دستیاب حوالوں میں اُن کے کسی باقاعدہ اُستاد کا نام واضح طور پر سامنے نہیں آتا۔ البتہ اُن کی اِبتدائی زِندگی کے بارے میں یہ تذکرہ ضرور ملتا ہے کہ رشید عطرے نے اُن کی آواز اور گائیکی کو نِکھارنے میں خاصا کردار ادا کیا اور فلمی گائیکی کے تقاضوں کے مطابق اُن سے باقاعدہ رِیاض بھی کرایا۔
مُنیر حُسین نے اپنی عملی زِندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے گائیکی کے ذریعے کیا۔ تاہم اُن کے اِس اِبتدائی دَور کی ریکارڈنگز دستیاب نہیں۔ اِس کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اُن دِنوں ادارے میں آڈیو ریکارڈنگز کو باقاعدگی سے محفوظ رکھنے کا نِظام ابھی پوری طرح قائم نہیں ہوا تھا۔
۱۹۵۶ء میں مُنیر حُسین نے فلمی دُنیا کا رُخ کیا۔ اُنہیں یہاں تک پہنچانے میں اُن کے خالہ زاد بھائی، موسیقار صفدر حُسین، کا بڑا حصّہ تھا، جِنہوں نے ۱۹۵۷ء میں اُنہیں فلمی گائیکی کا موقع دیا۔ یوں گھر کی موسیقی فلمی پردے تک پہنچی اور مُنیر حُسین کا باقاعدہ فلمی سفر شروع ہوا۔
فلمی دُنیا میں مُنیر حُسین کا داخِلہ ایسے وقت ہوا، جب یہاں خواجہ خورشید انور، رشید عطرے، ماسٹر عنایت حُسین، جی اے چشتی، صفدر حُسین اور اے حمید کے ناموں کا ڈنکا بجتا تھا۔ اِن نابغوں کے سامنے کسی خام فنکار کا اپنی جگہ بنانا ویسے بھی آسان نہ تھا۔ رشید عطرے کا بھانجا ہونے کی نِسبت نے مُنیر حُسین کے لیے اِس دُنیا کا دروازہ ضرور کھولا، لیکن اُس دُنیا میں مُستقل قیام کے لیے آواز اور ہُنر اُن کا اپنا تھا۔
اِس میں کوئی شک نہیں کہ مُنیر حُسین کو اپنے فنی کیریئر کے آغاز ہی میں رشید عطرے اور صفدر حُسین جیسے خونی قرابت دار موسیقاروں کی سرپرستی میسر آئی، تاہم بعد میں خواجہ خورشید انور، اے حمید اور ماسٹر عنایت حُسین سمیت اُس عہد کے دوسرے اہم موسیقاروں نے بھی اُن سے گیت گوائے۔ یہ اِس بات کا بَیّن ثبوت تھا کہ اُن کے اندر وہ جوہر موجود تھا، جِس نے اتنے بڑے نام وَر موسیقاروں کو بھی اُن سے گیت گوانے پر آمادہ کیا۔
مُنیر حُسین اِس اعتبار سے بھی خوش قِسمت تھے کہ اُنہیں پاکستانی فلمی موسیقی کے ایک زَرّیں دَور کے بڑے موسیقاروں کی بنائی ہوئی دُھنیں گانے کا موقع ملا۔ اگر وہ خوش گُلو تھے تو اُنہیں قِسمت سے موسیقار بھی بہت خوب ملے۔
مُنیر حُسین کی فلمی گائیکی کا آغاز ہی اُن کی ہمہ جہتی کا پتا دے رہا تھا۔ ۱۹۵۷ء کی پنجابی فلم ’نوراں‘ میں اُنہوں نے ایک یا دو نہیں، بلکہ پانچ گیت گائے؛ اِن میں چار دوگانے نور جہاں کے ساتھ تھے اور ایک گیت اُنہوں نے سولو گایا۔ ’پنچھی تے پردیسیا، آ کے تُر جاندے…‘ اور ’اِک چیز گواچی دِل کولوں، جِہنوں نَین نِمانے لبھدے نیں…‘ جیسے گیتوں میں اُن کی آواز کا پنجابی رنگ پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آیا۔ یوں اِبتدائی فلموں ہی میں یہ بات واضح ہوگئی کہ مُنیر حُسین ایک ایسی آواز تھے، جو سولو اور دوگانے، دونوں میں اپنی الگ پہچان قائم کرسکتی تھی۔
اُسی زمانے میں اُردو فلم ’سات لاکھ‘ کا ’قرار لُوٹنے والے، تُو قرار کو ترسے‘ مُنیر حُسین کی اُردو فلمی گائیکی کی مُستقل پہچان بن گیا۔ اِس گیت کے بول سیف الدین سیف کے تھے اور موسیقی رشید عطرے نے ترتیب دی تھی۔ دستیاب تذکروں کے مطابق رشید عطرے نے مُنیر حُسین کو محض رِشتہ داری کی بِنا پر مائیک کے سامنے لا کھڑا نہیں کیا تھا؛ اِس گیت کی ریکارڈنگ سے پہلے اُن سے تقریباً دو ماہ تک باقاعدہ مشق اور رِیاض کرایا گیا۔ شاید اِسی محنت کا نتیجہ تھا کہ جب یہ گیت ریکارڈ ہوا تو ایک نئے گلوکار کی آواز میں وہ پُختگی سُنائی دی، جو عموماً ایک طویل فنی سفر کے بعد پیدا ہوتی ہے۔
مُنیر حُسین کا فلمی دُنیا میں داخِلہ واقعی شاندار تھا؛ ایک طرف ’سات لاکھ‘ کا ’قرار لُوٹنے والے، تُو قرار کو ترسے‘ اُن کی اُردو گائیکی کا حوالہ بن رہا تھا تو دوسری طرف پنجابی فلموں میں اُن کی آواز تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی تھی۔ فلم ’مکھڑا‘ میں وارث لدھیانوی کا لکھا ہوا ’دِلا ٹھہر جا، یار دا نظارہ لَین دے‘ آیا تو مُنیر حُسین کی گائیکی کا ایک اور رنگ سامنے آگیا۔ اِس گیت کی موسیقی بھی رشید عطرے نے ترتیب دی تھی اور یہ نغمہ آگے چل کر مُنیر حُسین کی فنی عظمت اور نام وَری کے بڑے حوالوں میں شمار ہوا۔
یوں اِبتدا ہی میں ملنے والی کامیابیوں نے مُنیر حُسین کے لیے فلمی موسیقی کے مزید دروازے کھول دیے؛ اب اُن کی آواز صرف اپنے خاندان کے موسیقانہ ماحول تک محدود نہیں رہی تھی، بلکہ وہ لاہور کے فلمی سٹوڈیوز سے نِکل کر سنیما گھروں اور وہاں سے ہزاروں سامعین تک پہنچنے لگی تھی۔
مُنیر حُسین کے حصّے میں اچھی دُھنوں کے ساتھ ساتھ اچھی فلمیں بھی آئیں؛ ایسی فلمیں جو کئی کئی مہینے سنیما گھروں کی زینت بنی رہیں اور اُن کی شُہرت میں اضافے کا سبب بنیں۔ اِن فلموں میں ’نوراں‘، ’سات لاکھ‘، ’مکھڑا‘، ’ہیر‘، ’کوئل‘، ’نیا زمانہ‘، ’عالم آرا‘، ’ناجی‘، ’جھومر‘، ’ساتھی‘، ’گلفام‘، ’گُلبدن‘، ’سلمیٰ‘، ’شہید‘، ’اولاد‘، ’دامن‘، ’چوڑیاں‘، ’آشیانہ‘، ’توبہ‘ اور ’ہیر رانجھا‘ وغیرہ نمایاں ہیں۔
مُنیر حُسین کی ایک بڑی اِنفرادیت یہ بھی رہی کہ وہ مُسلسل دو دہائیوں تک اُردو اور پنجابی، دونوں زبانوں کی فلموں کی ایک جانی پہچانی آواز بنے رہے۔ دونوں زبانوں کی فلموں کے پوسٹروں پر اُن کا نام یکساں تواتر سے نظر آنا اُن کی فنی وُسعت کا بَیّن ثبوت تھا۔ اُردو اور پنجابی کے الگ الگ مزاج میں اِس قدر سُہولت سے گانا قدرت کی ایک مُنفرد عطا تھی، جو اِس سادہ لوح گلوکار کے حصّے میں آئی تھی۔
خواجہ خورشید انور کی موسیقی میں فلم ’کوئل‘ کا ’رِم جھِم رِم جھِم پڑے پھوار‘ مُنیر حُسین کی آواز کے نرم اور رومانوی پہلو کا خوب صورت نمونہ تھا۔ اِس گیت میں اُن کی آواز شور پیدا کیے بغیر سامع کے دِل میں اُترتی محسوس ہوتی ہے۔ یہی دِھیما پن اُن کی گائیکی کی ایک مُنفرد پہچان بھی تھا۔
فلم ’شہید‘ میں فیض احمد فیض کی نظم ’نِثار میں تیری گلیوں پہ اے وطن کہ جہاں‘ مُنیر حُسین کی آواز میں سامنے آئی تو اُن کی گائیکی کا ایک بالکل مُختلف رُخ دکھائی دیا۔ یہاں نہ عاشقانہ شوخی تھی اور نہ پنجابی لوک گیت کی بے ساختگی؛ یہاں آواز کو شعر کے دَرد، احتجاج اور سنجیدگی کا بوجھ اُٹھانا تھا۔ مُنیر حُسین نے اِس نظم کو گاتے ہوئے اپنی آواز کو شعر پر حاوی نہیں ہونے دیا، بلکہ شعر کی کیفیت کو اپنی آواز کا حصّہ بنا لیا۔
فلم ’ہیر رانجھا‘ میں نور جہاں کے ساتھ گایا ہوا ’ونجھلی والڑیا‘ مُنیر حُسین کے پنجابی دوگانوں کا ایک اور اہم حوالہ ہے۔ خواجہ خورشید انور کی موسیقی اور احمد راہی کے بولوں میں پنجاب کی مِٹّی، لوک داستان اور موسیقی ایک دوسرے میں گھلتے محسوس ہوتے ہیں، اور مُنیر حُسین کی آواز اِس سارے ماحول میں اُسی مِٹّی کی آواز معلوم ہوتی ہے۔
اِسی فلم کا ’تیری خیر ہووے، ڈولی چڑھ جان والیے‘ بھی اُن کے یادگار نغموں میں شمار ہوتا ہے۔ رُخصتی، جُدائی اور پنجابی لوک روایت کی جو کیفیت اِس گیت میں موجود ہے، مُنیر حُسین کی آواز اُسے محض ایک فلمی نغمہ نہیں رہنے دیتی۔ اُن کی ادائیگی میں ایک ایسی سادگی تھی جو گیت کے جذبات کو بناوٹ سے محفوظ رکھتی تھی۔
مُنیر حُسین کی آواز صرف رومان اور لوک رنگ تک محدود نہیں تھی۔ فلم ’توبہ‘ کی قوالی ’نہ ملتا گر یہ توبہ کا سہارا، ہم کہاں جاتے‘ اُن کی گائیکی کے ایک بالکل الگ رنگ کی مثال ہے۔ یہاں اُنہیں قوالی کے مخصوص آہنگ، اجتماعی گائیکی اور اُس کے اُتار چڑھاؤ کے ساتھ چلنا تھا، اور مُنیر حُسین نے اِس میدان میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دِلایا۔
اُن کے اُردو فلمی نغموں میں ’جو دِل کو توڑتے ہیں‘ بھی قابلِ ذِکر ہے۔ دَرد آمیز گیتوں میں مُنیر حُسین کی آواز کی ایک خاص خوبی یہ تھی کہ وہ جذبات کو چیخ میں تبدیل نہیں کرتے تھے؛ اُن کا دَرد دِھیما رہتا تھا، مگر شاید اِسی لیے زیادہ گہرا محسوس ہوتا تھا۔
’زِندگی تُم سے مِلی‘ اُن کے رومانوی نغموں میں ایک اور خوب صورت اضافہ تھا۔ اِس طرح کے گیتوں میں مُنیر حُسین لفظوں کو غیر ضروری طور پر کھینچنے یا اپنی آواز کا مظاہرہ کرنے کے بجائے دُھن اور شعر کو آگے رکھتے تھے۔ اُن کی آواز گیت کے ساتھ چلتی تھی، گیت سے آگے نِکلنے کی کوشش نہیں کرتی تھی۔
اِسی طرح ’اے میری زِندگی‘ میں بھی اُن کی آواز کا نرم اور جذباتی رُخ نمایاں ہوا۔ مُنیر حُسین غمگین گیت کو ضرورت سے زیادہ بوجھل کیے بغیر اُس کی کیفیت سامع تک پہنچانے کا ہُنر رکھتے تھے۔ اُن کے ہاں جذبات آواز کی بلندی سے نہیں، بلکہ ادائیگی کی نرمی سے پیدا ہوتے تھے۔
فلم ’عید مبارک‘ کا ’ہم کو دُعائیں دو‘ اُن کی گائیکی کے ایک اور رنگ کی یاد دِلاتا ہے۔ ایسے گیت میں لفظ، موقع اور دُھن تینوں کی اپنی ضرورت ہوتی ہے، اور مُنیر حُسین اپنی آواز کو اُسی ضرورت کے مطابق ڈھالنے کا ہُنر جانتے تھے۔ اِسی لیے اُن کے فلمی ذخیرے کو محض چند رومانوی نغموں تک محدود کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
مُنیر حُسین کی اصل خوبی یہ تھی کہ گیت کا مزاج بدلتے ہی وہ اپنی آواز کا مزاج بھی بدل لیتے تھے۔ سولو گیت میں وہ پوری دُھن کا وزن اپنے کندھوں پر سنبھال لیتے تھے اور دوگانوں میں، جہاں نور جہاں، زبیدہ خانم یا نسیم بیگم جیسی تگڑی گلوکارائیں سامنے ہوتیں، وہ اپنی دِھیمی، ہلکی مگر سُریلی آواز کے ساتھ اپنی الگ شناخت بھی قائم رکھتے تھے۔
مُنیر حُسین، سلیم رضا یا مسعود رانا کی طرح ساتھی گلوکار کی آواز پر غالب آنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ بس اپنے حصّے کا گاتے تھے اور خوب گاتے تھے۔ شاید یہی خوبی اُنہیں موسیقاروں کے لیے ایک قابلِ اعتماد پلے بیک سنگر بناتی تھی۔
اُن کی ایک اور بڑی خوبی زبان پر گرفت تھی۔ پنجابی گیت گاتے تو اُن کی آواز میں پنجاب کی مِٹّی کی خوشبو محسوس ہوتی اور اُردو گیت میں آتے تو تلفظ، ادائیگی اور لہجہ گیت کے اُردو مزاج میں ڈھل جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ موسیقار اُنہیں کسی ایک زبان یا کسی مخصوص طرز کے گیت تک محدود نہیں سمجھتے تھے۔
دستیاب فلمی ریکارڈ کے مطابق مُنیر حُسین نے ۱۶۳ فلموں کے لیے ۲۱۷ گیت گائے۔ اُن کا فلمی سفر تقریباً اڑتیس برس پر مُحیط رہا اور اِس طویل عرصے میں اُردو اور پنجابی، دونوں فلموں میں اُن کی آواز سُنائی دیتی رہی۔ اِن اعداد سے زیادہ اہم اُن کے گیتوں کا تنوّع تھا۔ رومان، دَرد، لوک رنگ، نظم، قوالی اور دوگانا—موسیقار نے اُنہیں جِس پوزیشن پر کھلایا، موسیقی کے میدان کا یہ آل راؤنڈر وہیں اپنا کھیل دکھا گیا۔
فلمی گائیکی کے ساتھ ساتھ مُنیر حُسین کا ریڈیو سے تعلُّق بھی برقرار رہا۔ ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران وہ اُن فنکاروں میں شامل تھے جو باقاعدگی سے ریڈیو پاکستان لاہور پہنچتے اور اپنے فن کے ذریعے قومی حوصلے کو مہمیز دیتے رہے۔ دستیاب تذکروں میں مُنیر حُسین اور سلیم رضا کے اِس جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور میں مِلّی اور جنگی نغمے ریکارڈ کروانے کا بیان ملتا ہے۔
’’ہر کمالے را زوالے‘‘ کے مصداق ۱۹۷۰ء کے بعد کے برسوں میں مُنیر حُسین کے فلمی گیتوں کی تعداد بتدریج گھٹنے لگی۔ ایک طرف فلمی موسیقی کا مزاج بدل رہا تھا اور دوسری طرف نئی سے نئی آوازیں بھی سامنے آرہی تھیں، چنانچہ مُنیر حُسین کے حصّے میں آنے والے گیت آہستہ آہستہ کم ہونے لگے۔ اُن کے فنی سفر کے اِس اُتار کو ایک مثال سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے: ۱۹۷۶ء میں اُن کے حصّے میں پانچ فلموں کے صرف پانچ گیت آئے اور اُن میں ایک بھی سولو گیت نہیں تھا۔ کبھی پوری دُھن کا وزن اپنے کندھوں پر سنبھالنے والے اِس گلوکار کے لیے اب فلمی موسیقی میں جگہ سِمٹنے لگی تھی۔
اگلے برسوں میں یہ دائرہ مزید محدود ہوتا چلا گیا۔ فلمی مواقع کم ہوئے، مگر مُنیر حُسین نے گانا نہیں چھوڑا۔ وہ پاکستان ٹیلی وژن پر پروڈیوسر رفیق احمد وڑائچ کے ایک موسیقی کے پروگرام میں شریک ہوتے رہے۔ عین اُنہی دِنوں فُل بیک مُنیر بھی، اب ہاکی کمنٹیٹر مُنیر ڈار کی حیثیت سے، پی ٹی وی پر سُنائی دینے لگے تھے۔ قِسمت نے اِن دونوں ہم نام مُنیروں کو ایک بار پھر ایک ہی ادارے کی راہداریوں میں لا کھڑا کیا تھا۔
مُنیر حُسین نے زِندگی کے آخری برس گمنامی اور عِلالت میں لاہور ہی میں گزارے۔ ۲۷ ستمبر ۱۹۹۵ء کو وہ اِسی شہر میں اِنتقال کرگئے اور مومن پورہ قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔
مُنیر حُسین کو اِس دُنیا سے رُخصت ہوئے اِکتیس برس بیت چکے ہیں، مگر اُن کی آواز آج بھی اُن کے گیتوں کی صُورت میں زِندہ ہے؛ ایسے شاندار گیت جِنہیں سُنتے ہی دِھیمی، سُریلی اور بے ساختہ گائیکی والا وہ فنکار ایک بار پھر چشمِ تصوّر کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے، جو اپنے ہم نام فُل بیک مُنیر سے کہیں زیادہ ہُنرمند تھا، مگر وہ شُہرت اور نام وَری حاصل نہ کرسکا جِس کا وہ بجا طور پر مُستحق تھا۔
تاہم موسیقی کی دُنیا کا یہ ہیرا ریڈیو پاکستان کے لیے آج بھی اَنمول ہے۔ ہیروں کی قدر جوہری تو کرتے ہی ہیں، باقیوں کا کیا؟
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان