Thursday, 27 August 2026, 11:47:44 am
 
پاکستان نے ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اورورچوئل اثاثہ جات کے تحفظ کیلئے شفاف ریگولیٹری نظام متعارف کرا دیا
August 22, 2026

پاکستان نے ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے کو باضابطہ ریگولیٹری نظام میں لانے کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے لائسنسنگ ریگولیشنز جاری اور لائسنسنگ پورٹل فعال کردیا ہے۔

پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے مطابق نئے ضوابط کے تحت ورچوئل اثاثہ جات سروس فراہم کرنے والوں کے لیے باقاعدہ لائسنسنگ نظام نافذ کردیا گیا ہے۔

اتھارٹی کے مطابق ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے تحت 10 مختلف لائسنس کیٹیگریز متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں ایکسچینج، کسٹوڈی، بروکر ڈیلر، ایڈوائزری، قرض دینے اور لینے کی خدمات، ڈیریویٹو، اثاثہ جاتی انتظام، منتقلی و تصفیہ، ٹوکن اجرا اور مائننگ سے متعلق خدمات شامل ہیں۔

PVARA کے مطابق پاکستان میں پہلے سے ورچوئل اثاثہ جات کی خدمات فراہم کرنے والے آپریٹرز کو 5 ستمبر 2026 تک نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (NOC) کے لیے درخواست دینا ہوگی۔

قانون کے تحت مقررہ مدت کے بعد بغیر درخواست کے ورچوئل اثاثہ جات کی خدمات جاری رکھنا جرم تصور ہوگا۔

وزیر مملکت اور PVARA کے چیئرمین بلال بن ثاقب کے مطابق نئے ریگولیٹری فریم ورک کا مقصد صارفین کے اثاثوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنا اور ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے کو ذمہ دار اور قابلِ نگرانی نظام میں لانا ہے۔ نئے ضوابط کے تحت لائسنس یافتہ اداروں کو صارفین کے اثاثوں کو اپنے اثاثوں سے الگ رکھنے سمیت مختلف حفاظتی تقاضوں کی پابندی کرنا ہوگی۔

بلال بن ثاقب نے ورچوئل اثاثہ جات کے سروس فراہم کرنے والوں پر زور دیا کہ وہ لائسنس حاصل کرکے باقاعدہ بینکاری نظام سے منسلک ہوں۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی PVARA سے لائسنس یافتہ اداروں اور مخصوص شرائط کے تحت NOC رکھنے والے اداروں کے لیے بینک اکانٹس کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

PVARA کے مطابق ریگولیٹری فریم ورک میں کاروباری طرزِ عمل، مالیاتی تحفظ، ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور اینٹی منی لانڈرنگ و دہشت گردی کی مالی معاونت کے تدارک سے متعلق تقاضے شامل ہیں۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ایکٹ کی منظوری کے بعد چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں لائسنسنگ اور نگرانی کا جامع فریم ورک مکمل کیا گیا، جس سے پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے کے لیے قانونی اور ریگولیٹڈ مارکیٹ کی بنیاد قائم ہوگئی ہے۔