وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ نوجوان نسل کو انتہا پسندی، فرقہ واریت اور گمراہ کن نظریات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکمت و دانائی کے ذریعے ان کے سوالات کے تسلی بخش جواب دیے جائیں اور انہیں اسلامی روایات کے علم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم سے بھی آراستہ کیا جائے۔
شہباز شریف نے حضرت محمد ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں موجود امن، رحمت اور شفقت کے عالمگیر پیغام کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو اس بات سے آگاہ کرنا چاہیے کہ حضرت محمد ﷺ کی سیرتِ پاک اور تعلیمات عالمی امن کی ضمانت ہیں۔
وزیراعظم نے خطے میں امن اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ اس حوالے سے انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے دشمنوں نے مشرقِ وسطیٰ کے مسلمانوں کو تقسیم کرنے، ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور ان میں نفرت کا زہر گھولنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کا بہترین نتیجہ اب ہمارے سامنے مکہ معاہدے کی صورت میں موجود ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال مئی کی جنگ کے دوران ترکیہ اور سعودی عرب پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے ساتھ یہ دیرینہ تعلقات مزید مضبوط ہوتے رہیں گے۔
وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ حضرت محمد ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے رہنمائی حاصل کریں۔
انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ کی زندگی افراد، خاندانوں، معاشروں اور ریاست کی ترقی کے لیے ایک مکمل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت ہمیں نظم و ضبط، اجتماعی ذمہ داری، ہمدردی اور قربانی کا درس دیتی ہے۔
رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا راغب حسین نعیمی سمیت معروف علمائے کرام نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کے لیے حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات اور مثالی زندگی کی پیروی کریں۔
وزیراعظم نے سیرت کی کتابوں کے مصنفین میں انعامات اور اعزازات بھی تقسیم کیے۔