کل جماعتی حریت کانفرنس نے اپنے عید اور یوم پاکستان کے تہنیتی پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی امیدوں کا محور ہے۔
حریت کانفرنس کے رہنماؤں اور تنظیموں نے سرینگر میں اپنے بیانات میں 23 مارچ انیس سو چالیس کی قرارداد پاکستان کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو مسلسل تقویت دینے کا باعث ہے۔
رہنماؤں نے حقِ خود ارادیت کے لیے کشمیری عوام کی جائز اور منصفانہ جدوجہد کی مسلسل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
یوم پاکستان کے موقع پر سرینگر اور دیگر علاقوں میں پاکستانی پرچم، قائداعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تصاویر والے پوسٹرز آویزاں ہیں، جن پر مبارکباد کے پیغامات درج ہیں۔
پوسٹرز پر ’’بھارت واپس جاو‘‘ اور ’’جموں و کشمیر پاکستان کا حصہ ہے‘‘ جیسے نعرے تحریر کئے گئے ہیں اور اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے اور پاکستان سے اظہار یکجہتی کیلئے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔
ادھر، بھارت نے سیکڑوں ایلیٹ کمانڈو اہلکار تعینات کرکے مقبوضہ علاقے کی عسکری کارروائی تیز کردی ہے۔
یہ اقدام اگست 2019 میں اس علاقے کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد مودی حکومت کے نارمل ہونے کے دعووں کے کھوکھلے پن کو مزید بے نقاب کر رہا ہے۔
دوسری جانب انجمن اوقاف جامع مسجد نے سرینگر میں ایک بیان میں شہر کی جامع مسجد میں نماز عید کی ادائیگی پر لگاتار آٹھویں سال پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے بلاجواز اور مسلمانوں کے لیے تکلیف دہ قرار دیا ہے۔