کل جماعتی حریت کانفرنس نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کرنے سے روکیں۔
حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت کے زیر کنٹرول ادارے پورے علاقے میں چھاپوں اور کارروائیوں کے دوران مکانات، اراضی اور کاروباری ادارے ضبط کر رہے ہیں۔
بھارتی فوج ضلع راجوری میں ہیلی کاپٹروں، ڈرونز، سراغ رساں کتوں اور پیرا کمانڈوز کی مدد سے بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کر رہی ہے۔
بھارتی فوج تقریباً تین ہفتوں کی مسلسل کارروائیوں کے باوجود کوئی اہم پیش رفت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بھارتی پولیس نے پلوامہ اور اسلام آباد اضلاع میں کارروائیوں کے دوران مختلف بہانوں سے پانچ نوجوانوں کو گرفتار کیا۔
دوسری جانب مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہر جموں میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے اہلکار اسسٹنٹ سب انسپکٹر لال سنگھ نے خودکشی کر لی۔ وہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کا رہائشی تھا۔
سول سوسائٹی کے کارکنوں نے بی جے پی حکومت کی طرف سے کشمیری عوام کے الگ سیاسی، ثقافتی اور مذہبی تشخص کو مجروح کرنے کی منظم کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کارکنوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد کیے گئے اقدامات، بالخصوص آرٹیکل 370 اور 35A کی منسوخی کا مقصد علاقے کی مسلم اکثریتی اور منفرد شناخت کو کمزور کرنا تھا۔