فائل فوٹو
بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں سری نگر کے علاقے چوٹہ بازار میں وحشیانہ قتل عام کے آج پینتیس سال مکمل ہوگئے ۔
انیس سو اکانوے میں اسی دن بھارتی پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں نے سری نگر کے چوٹہ بازار میں اندھا دھند فائرنگ کر کے ایک خاتون اور ایک بچے سمیت 32 معصوم شہریوں کو شہید کردیا تھا۔
کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم آج بھی اسی طرح جاری ہیں اور متاثرہ خاندان 35 سال بعد بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے چوٹہ بازار کے شہدا کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
حریت کانفرنس نے ایک بیان میں اس بات کا اعادہ کیا کہ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور جموں و کشمیر جلد بھارت کے قبضے سے آزاد ہوجائیگا۔
ادھر پونچھ میں گزشتہ ماہ کی 30 تاریخ سے لاپتہ بارہ سالہ لڑکی کی لاش ندی سے برآمد ہونے کے بعد لوگوں نے احتجاج کیا۔ ایک متعلقہ پیش رفت میں، بی جے پی کا ایک لیڈر ضلع بارہمولہ میں سترہ سالہ لڑکی پر مجرمانہ حملے میں ملوث پایا گیا۔