آج (جمعرات) پاکستان کے قومی ترانے کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری (1900 تا 1982 ) کی اکتالیسویں برسی ہے ۔
حفیظ جالندھری کے خاندان نے تقسیمِ ہند کے بعد جالندھر سے ہجرت کرکے لاہور میں اقامت اختیار کی ۔
آپ گیت کے ساتھ ساتھ نظم اور غزل دونوں کے قادرالکلام شاعر تھے تاہم آپکا سب سے بڑا کارنامہ 'شاہنامہ اسلام' ہے جو چار جلدوں میں شائع ہوا ۔ اس کے ذریعہ آپ نے اسلامی روایات اور قومی شِکوہ و عظمت کا احیا کیا جس پر آپکو 'فردوسی اسلام' کا خطاب دیا گیا ۔
حفیظ جالندھری کا دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان کا قومی ترانہ ہے جسکی تخلیق کی وجہ سے آپکو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ۔
حفیظ جالندھری کے شعری مجموعوں میں 'نغمہ بار' ، 'تلخابہ شیریں' اور 'سوز و ساز' شامل ہیں ۔ آپ نے 'ہفت پیکر' کے نام سے افسانوں کا ایک مجموعہ بھی مرتب کیا ۔ آپکے گیتوں کے مجموعے 'ہندوستان ہمارا' ، 'پھول مالی' اور 'بچوں کی نظمیں' کے نام سے شائع ہوئے ۔
حفیظ جالندھری نے 21 دسمبر 1982 کو لاہور میں وفات پائی۔ مینارِ پاکستان کے سایہ تلے آسودہ خاک ہیں ۔