فائل فوٹو
بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں، امرناتھ یاترا کی آڑ میں سینکڑوں اضافی فوجیوں کی تعیناتی نے پہلے سے ہی فوجی چھاؤنی میں تبدیل علاقے میں کشمیریوں کے مصائب کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ستاون روزہ یاترا کا آغاز اگلے ماہ کی تین تاریخ کو ہوگا تاہم فوج کی بھاری تعیناتی نے پہلے سے ہی بھارتی محاصرے میں زندگی گزارنے والے کشمیریوں کی زندگی مزید اجیرن کر دی ہے۔
اس کے برعکس مقبوضہ علاقے میں محرم کے جلوسوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں جو مسلم اکثریت کے خلاف امتیازی رویے کو بے نقاب کرتی ہیں۔
ادھر لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن اور لداخ گونپا ایسوسی ایشن نے مسائل کے حل کیلئے منگل کو پورے علاقے میں ہڑتال اور ریلی کا اعلان کیا ہے۔
آج مہاجرین کے عالمی دن کے موقع پر کشمیر میڈیا سروس کی جانب سے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے چالیس ہزار سے زائد کشمیری علاقے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی سے تنگ آکر بے گھر زندگی گزار رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں بھارتی فوج کے تشدد نے خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے اور مہاجروں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کی نقل مکانی کوئی حالیہ واقعہ نہیں ہے 1947ء میں ڈوگرہ فوج اور ہندوتوا کے انتہا پسند عناصر کی جانب سے فرقہ وارانہ تشدد کے ذریعے جموں میں لاکھوں مسلمانوں کو بے دخل کردیا گیا تھا۔
اس کے بعد سے اب تک پینتیس لاکھ سے زائد لوگ آزاد جموں و کشمیر، پاکستان اور دنیا کے دیگر حصوں میں ہجرت کر چکے ہیں۔