Monday, 28 September 2026, 03:41:10 am
 
کُوکَلْتاش
September 26, 2026

کُوکَلْتاش

مُغَلیہ دَربار اور سِیاست کے اَہَم تَرین کِردار، جنہیں ’کوکہ‘ بھی کہا جاتا تھا

موت بابُر سے معمولی فاصلے پر تھی۔ سُلطان اَحمَد تَنبَل کا لشکر اُس کے تعاقُب میں تھا اور اُس کے تِتَر بِتَر ہونے والے دو سو سے بھی کم ساتھیوں میں صِرف مِرزا قُلی کُوکَلْتاش نامی ایک وَفادار اُس کے ساتھ باقی بچا تھا۔

اِن دونوں کے گھوڑے بھی اِس قدر تھک چُکے تھے کہ اُن کا سَرپَٹ دوڑنا ممکن نہ رہا تھا اور وہ صِرف دُلکی چل رہے تھے۔

مِرزا قُلی کا گھوڑا زیادہ تھک جانے کی وجہ سے بار بار پیچھے رہ جاتا تو بابُر اُسے مُڑ کر دیکھتا اور کہتا:

’اگر تُم بھی پیچھے رہ گئے تو میرا کیا ہوگا؟ میرے ساتھ رہو، جینا ہوا تو ساتھ جِئیں گے اور مَرنا ہوا تو بھی ساتھ مَریں گے۔‘

بابُر کے ہر بار کے اصرار پر مِرزا قُلی اپنے گھوڑے کو زور سے ایڑ لگاتا، مگر گھوڑے کی تھکاوٹ کی وجہ سے وہ بابُر کے پَہلو بہ پَہلو رہنے کی کوشش میں ناکام رہ جاتا اور تڑپ اُٹھتا۔

جب مِرزا قُلی نے پکا جان لیا کہ اب اُس کے گھوڑے میں چلنے کی سَکت بالکل بھی نہیں رہی تو اُس نے بابُر سے کہا:

’میرا گھوڑا جواب دے چُکا ہے، اب یہ آگے نہیں جاسکتا۔ میری فِکر نہ کریں، آپ چلے جائیں۔ شاید آپ بچ نِکلیں۔‘

ویسے تو ۱۵۰۱ء میں سَمَرقَند سے محروم ہونے کے بعد ظَہیرُالدِّین بابُر اپنے باپ عُمَر شَیخ مِرزا کی میراث فَرغانہ پر بھی اپنا مُؤثّر اقتدار کھو چُکا تھا اور وہ مُحَمَّد شَیبانی خان اور سُلطان اَحمَد تَنبَل کے ڈر سے کبھی ایک عِلاقے اور کبھی دُوسرے عِلاقے میں پناہ ڈھونڈتا پِھر رہا تھا، تاہم مِرزا قُلی کُوکَلْتاش کو پیچھے چھوڑ کر تنہا نِکل جانے کا جو واقعہ ۹۰۸ھ/۱۵۰۲ء میں اَخسی شہر میں پیش آیا، اُس میں وہ حقیقی معنوں میں موت کے منہ میں جانے سے بال بال بچا تھا۔

شَیبانی خان ماوَراءُالنَّہر میں اُبھرتی ہوئی اُزبَک طاقت کا سَربراہ تھا اور ۱۵۰۱ء میں بابُر کو سَمَرقَند چھوڑنے پر مجبور کرچُکا تھا، جبکہ اَحمَد تَنبَل، جو کبھی بابُر کے اپنے اُمراء میں شامِل تھا، بابُر کے چھوٹے بھائی جَہانگیر مِرزا کو اپنا حَلیف بنا کر فَرغانہ میں اپنی طاقت قائم کرچُکا تھا۔ اور یوں بابُر اُن دونوں کی وجہ سے دَر بہ دَر ہوچُکا تھا۔

ظَہیرُالدِّین بابُر کی خودنوشت ’بابُرنامہ‘ کے مطابق اَخسی میں اَحمَد تَنبَل نے بابُر کو اچانک ہی آ لیا تھا۔ جھڑپ میں پہلے بابُر کا گھوڑا تیر لگنے سے گِر پڑا اور وہ دُوسرے گھوڑے پر سوار ہوا۔ وہ لڑنا چاہتا تھا لیکن مُخالِف لشکر کی تعداد دو سے تین ہزار کے درمیان تھی، جبکہ بابُر کے پاس سو دو سو سے زیادہ آدمی نہ تھے۔ فِرار کے عِلاوہ اُس کے پاس کوئی راستہ نہیں رہا تھا۔

جب بابُر اَخسی سے بھاگا تو فصیلِ شہر کے باہر اُس کے ساتھ کم ہوتے ہوتے صِرف بیس تیس آدمی بچے تھے۔ تاہم اَخسی سے تقریباً چار میل دُور سَنگ تک پہنچتے پہنچتے یہ مُختصر جماعت بھی بِکھرنے لگی؛ کسی کا گھوڑا جواب دے گیا، کوئی دائیں بائیں نِکل گیا اور کوئی تعاقُب کرنے والوں کے ہاتھ گِرفتار ہوگیا۔ آخِر میں یہ صِرف آٹھ رہ گئے۔ پِھر یہ آٹھ بھی کم ہوتے گئے، یہاں تک کہ صِرف دو بچ گئے: بابُر اور مِرزا قُلی کُوکَلْتاش۔

بابُر کو یقینِ کامل تھا کہ اگر مِرزا قُلی کُوکَلْتاش کا گھوڑا اپنا دَم برقرار رکھتا تو وہ اپنی زِندگی کی آخری سانس تک بابُر کے ساتھ ہی رہتا اور بھرپور حقِ وفاداری ادا کرتا۔ تاہم قسمت نے یاوری کی اور وہ دونوں، ایک دوسرے سے جُدا ہوکر بھی، اَحمَد تَنبَل کے سپاہیوں کے ہاتھ نہ لگے اور بچ گئے۔

’بابُرنامہ‘ ہی میں مِرزا قُلی کُوکَلْتاش کے عِلاوہ ’نُویان‘ نامی ایک اور کُوکَلْتاش کا ذِکر بھی مِلتا ہے۔ بابُر لکھتا ہے کہ ۹۰۷ھ میں جب اُسے نُویان کُوکَلْتاش کی اچانک موت کی خبر ملی تو وہ دس روز تک روتا رہا۔ بابُر کے بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہت کم لوگوں کی موت نے اُسے اِتنا مُتأثّر اور غم زدہ کیا تھا جِتنا اِس ساتھی کی ناگہانی موت نے کیا۔

نُویان ایک دعوت میں شریک ہونے کے بعد لاپتا ہوگیا تھا۔ اگلے روز اُس کی لاش ایک گہری کھائی میں مِلی۔ بعض لوگوں کو شُبہ تھا کہ اُسے پُرانی دُشمنی کی بِنا پر قتل کرکے کھائی میں پھینک دیا گیا تھا، جبکہ کچھ کا خیال تھا کہ وہ پاؤں پھسلنے کے سبب کھائی میں گِر کر ہلاک ہوا ہے۔ بابُر نے نُویان کی وفات کا مادّۂ تاریخ بھی نِکالا: ’فَوت شُد نُویان‘ — ۹۰۷ھ۔

’بابُرنامہ‘ کی رُو سے بابُر کی زِندگی کے نِہایت ذاتی اور اَہَم مواقع پر دو اور کُوکَلْتاش بھی اُس کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ ۹۱۱ھ/۱۵۰۵ء میں جب کابُل میں بابُر کی والدہ قُتلُغ نِگار خانَم کا اِنتقال ہوا تو بابُر اور قاسِم کُوکَلْتاش اُن کے جنازے کو کندھا دے کر باغِ نَوروز لے گئے، جہاں اُنہیں سُپردِ خاک کیا گیا۔

اِسی طرح بابُر جب اپنی بڑی بہن خانزادہ بیگَم کو تقریباً دس سال بعد مِلنے گیا تو مُحَمَّدی کُوکَلْتاش اُس کے ہمراہ تھا۔ سَمَرقَند کے سُقوط کے بعد خانزادہ بیگَم ، شَیبانی خان کے قبضے میں آگئی تھی جس نے اُس سے نِکاح کرکے اُسے اپنے حرم میں رکھ لیا تھا۔ تقریباً دس برس بعد، شَیبانی خان کی شِکست اور موت کے بعد، شاہ اِسماعیل صَفَوی نے خانزادہ بیگَم کو عِزّت و اِحترام کے ساتھ بابُر کے پاس واپس بھجوایا تھا۔

گو کہ برسوں بعد مِلنے والے بہن بھائی کی مُلاقات ایک خالصتاً خانگی مُعاملہ تھا، مگر اِس موقع پر بھی بابُر کے ہمراہ مُحَمَّدی نامی ایک کُوکَلْتاش تھا۔ ’بابُرنامہ‘ کے مطابق جُدائی اِتنی طویل ہوچُکی تھی کہ خانزادہ بیگَم اور اُن کے ساتھ موجود خواتین پہلی نظر میں بابُر اور مُحَمَّدی کُوکَلْتاش، دونوں کو پہچان بھی نہ سکیں۔

اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مِرزا قُلی، نُویان، قاسِم اور مُحَمَّدی نامی اِن چار مُختلف اشخاص کے ساتھ ’کُوکَلْتاش‘ کی نِسبت کیوں آئی ہے؟ اور اِس عجیب لقب کے حامِل یہ لوگ کون تھے کہ بابُر کے ساتھ میدانِ جنگ اور شِکست و فِرار میں بھی دِکھائی دیتے ہیں، ماں کی تدفین کے وقت بھی اور دس برس بعد بِچھڑی ہوئی بہن سے مُلاقات کے وقت بھی؟

اَہَم سوال یہ بھی ہے کہ یہ اَفراد بابُر کی زِندگی کے ایسے مواقع پر اُس کے قریب کیوں دِکھائی دیتے ہیں جہاں دربار، منصب اور رسمی تعلّق پیچھے رہ گئے تھے؟

یہ کُوکَلْتاش کون تھے؟

’کُوکَلْتاش‘ بنیادی طور پر تُرکی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ’رَضاعی بھائی‘ یا ’دُودھ شریک بھائی‘ کے ہیں؛ یعنی ایک ہی عورت کا دُودھ پینے کے سبب باہم رَضاعی رشتے میں بندھ جانے والے اَشخاص۔ یوں اِس نسبت کی بنیاد خون، نسب یا خاندان نہیں بلکہ ایک عورت کا دُودھ تھا، جو مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کے درمیان رَضاعی قرابت قائم کردیتا تھا۔

فارسی کی معروف لغت ’لُغت نامۂ دِہخدا‘ میں بھی ’کُوکَلْتاش‘ کے معنی ’برادرِ رَضاعی‘ بیان ہوئے ہیں۔ لغتِ ہٰذا میں اِس رَضاعی نسبت کے لیے ’کوکہ‘ کی اصطلاح بھی درج ملتی ہے، جو بعد کے مغلیہ ہندوستان میں ’کُوکَلْتاش‘ کے مقابلے میں مختصر اور زیادہ رائج صورت کے طور پر مستعمل دکھائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر مرزا عزیز کو کہیں ’مرزا عزیز کوکہ‘ اور کہیں ’مرزا عزیز کوکلتاش‘ لکھا گیا ہے۔

فارسی لغات ’غیاثُ اللغات‘ اور ’فرہنگِ آنندراج‘ میں بھی ’کُوکَلْتاش‘ کے ہُوبہُو یہی معنی درج ملتے ہیں۔ اِن دو قدیم لغات کے علاوہ جدید لغات بھی اِس لفظ کے یہی معنی بیان کرتی ہیں۔

’کُوکَلْتاش‘ کا تعلق محض مغلیہ ہندوستان سے نہیں تھا؛ مؤرخ اور تُرک شناس اِشتوان واشاری نے اپنے تحقیقی مقالے ’دی اِنسٹی ٹیوشن آف فوسٹر برادرز (اِمِلداش اینڈ کُوکَلداش) اِن دی چنگیزیڈ اسٹیٹس‘ میں اِس رشتے کو تیرھویں سے سترھویں صدی کی چنگیزی ریاستوں کے تناظر میں باقاعدہ ایک سماجی و درباری ادارے کے طور پر دیکھا ہے۔

واشاری کے مطابق ایک ہی عورت کا دُودھ پینے سے پیدا ہونے والا رَضاعی رشتہ مختلف معاشروں میں موجود تھا، لیکن چنگیزی ریاستوں میں شاہی خاندان کے رَضاعی بہن بھائیوں نے خاندانی دائرے سے نکل کر سماجی اور سیاسی اہمیت بھی حاصل کرلی؛ یہاں تک کہ اُن کی حیثیت کسی حد تک ادارہ جاتی ہوگئی۔

اِس سلسلے میں دو اصطلاحیں خاص طور پر سامنے آتی ہیں: ’اِمِلْداش‘ اور ’کُوکَلْداش/کُوکَلْتاش‘۔ واشاری کے مطابق تُرکوں میں رَضاعی بہن بھائی کا تصور منگول عہد سے پہلے بھی موجود تھا، اور گیارھویں صدی کے معروف لغت نویس محمود کاشغری کے ہاں اِس رشتے کے لیے ’اِمِگداش/اِمِلداش‘ سے متعلق اصطلاح ملتی ہے۔ البتہ بعد کے چنگیزی ماحول میں ’کُوکَلداش‘ ایک نمایاں اصطلاح بن کر سامنے آئی۔

لفظ کی بناوٹ بھی نہایت دلچسپ ہے۔ واشاری اسے ایک ’تُرک-منگول مرکب‘ قرار دیتے ہیں۔ اُن کے مطابق اِس کا بنیادی جز ’کُوکُو/کُوکے‘ منگولی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی چھاتی یا پستان کے ہیں، جبکہ ’داش‘ تُرکی زبانوں کا وہ لاحقہ ہے جو کسی چیز میں شرکت یا اشتراک کا مفہوم پیدا کرتا ہے۔ اِس طرح ’کُوکَلداش‘ کا بنیادی تصور تقریباً ’ایک ہی دُودھ/رَضاعت میں شریک‘ بنتا ہے۔

اگرچہ لغات میں ’کُوکَلْتاش‘ کے معنی عموماً ’برادرِ رَضاعی‘، یعنی رَضاعی بھائی، بیان کیے گئے ہیں، لیکن مغلیہ مآخذ سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس رَضاعی نسبت کا دائرہ صرف مردوں تک محدود نہیں تھا۔ ’ہُمایوں نامہ‘ میں گُلبدن بیگم نے شریفُ النِّساء کوکہ، رابعہ سلطان کوکہ اور ماہ لِقا کوکہ جیسی خواتین کا ذکر بھی ’کوکہ‘ کی نسبت سے کیا ہے۔ اِسی طرح جہانگیر اپنی ’تُزکِ جہانگیری‘ میں حاجی کوکہ کو اپنے والد اَکبر کی رَضاعی بہن قرار دیتا ہے۔

یوں ’کُوکَلْتاش‘ یا ’کوکہ‘ محض ایک لقب نہیں تھا؛ اِس کی بنیاد ایک ایسے رَضاعی رشتے پر تھی جو شاہی بچے کو دُودھ پلانے والی عورت سے شروع ہوتا اور اُس کے اپنے بچوں اور خاندان کو بھی شاہی خاندان کے قریب لے آتا تھا۔ یہی وہ رشتہ تھا جو وسط ایشیا کی تُرک-منگول دنیا سے بابُر کے ساتھ ہندوستان پہنچا اور آنے والی مغل نسلوں میں رفتہ رفتہ دربار، فوج اور سلطنت کے انتظامی ڈھانچے میں بھی اپنی نمایاں جگہ بناتا چلا گیا۔

ظہیرُالدّین بابُر کے بعد اُس کے جانشین، نصیرُالدّین ہُمایوں کے عہد میں بھی بعینہٖ ’ندیم کوکہ‘ اور ’روشن کوکہ‘ جیسے کردار مغلیہ دربار اور سیاست، دونوں میں نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔

گُلبدن بیگم کے مطابق ندیم کوکہ اور روشن کوکہ بالترتیب فخرُالنِّساء اَنَگہ اور فاطمہ سلطان اَنَگہ کے بیٹے تھے۔ دونوں کا تعلق ہُمایوں کے رَضاعی خانوادے سے تھا اور اِسی نسبت سے اُن کے گھرانوں کو شاہی خاندان کے اندر ایک مخصوص شناخت حاصل تھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہُمایوں کے کوکوں کا حلقہ صرف اِنہی دو اَشخاص تک محدود نہیں تھا۔ گُلبدن بیگم ایک مقام پر باقاعدہ ’بادشاہ کے کوکوں‘ کا ذکر کرتے ہوئے ’خورشید کوکہ‘، ’شریفُ النِّساء کوکہ‘، ’فتح کوکہ‘، ’رابعہ سلطان کوکہ‘ اور ’ماہ لِقا کوکہ‘ کے نام بھی گنواتی ہیں۔

اِس فہرست سے ایک اور اَہم بات سامنے آتی ہے کہ مغل شاہی خاندان میں ’کوکہ‘ کی نسبت صرف مردوں تک محدود نہیں تھی بلکہ خواتین بھی اِسی رَضاعی نسبت سے ’کوکہ‘ کہلاتی تھیں۔

ندیم کوکہ ہُمایوں کا نہایت قریبی ساتھی تھا۔ وہ ہُمایوں کی شاہی مُہر کا نگران اور مُہردار تھا۔ ہُمایوں کی شکست اور آوارگی کے زمانے میں، عُمرکوٹ کی طرف سفر کے دوران، ہُمایوں کا گھوڑا پیاس سے مر گیا اور اُسے سواری کے لیے مناسب گھوڑا نہ مل سکا۔ ندیم کوکہ خود پیدل چل رہا تھا، جبکہ اُس کی ماں اُس کے گھوڑے پر سوار تھی۔ جب ندیم نے دیکھا کہ ہُمایوں اونٹ پر سوار ہونے پر مجبور ہے تو اُس نے اپنی ماں کو گھوڑے سے اُتارا، اُنہیں اونٹ پر سوار کیا اور اپنا گھوڑا ہُمایوں کو دے دیا۔ گُلبدن بیگم نے یہ واقعہ ’ہُمایوں نامہ‘ میں محفوظ کیا ہے۔

اِسی سفر میں جب راجہ مالدیو کے آدمیوں کے حملے کا خطرہ پیدا ہوا تو ہُمایوں نے جن لوگوں کو دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے آگے بھیجا، اُن میں ندیم کوکہ اور روشن کوکہ دونوں شامل تھے۔ گُلبدن کے مطابق اُنہوں نے فاتحہ پڑھی اور اپنی جان کی پروا کیے بغیر مقابلے کے لیے روانہ ہوگئے۔ کچھ عرصے بعد سندھ میں شاہ حسین اَرغون کے ساتھ کشمکش کے دوران ہُمایوں کے اُمراء مسلسل اُس کا ساتھ چھوڑنے لگے۔ گُلبدن کے مطابق ’بہت تھوڑے امیر باقی رہ گئے تھے‘؛ تاہم باقی رہنے والوں کے نام گنواتے ہوئے وہ ندیم کوکہ اور روشن کوکہ، دونوں کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کرتی ہیں۔

ندیم کوکہ پر ہُمایوں کا اعتماد صرف جلاوطنی کے اِن کٹھن دنوں تک محدود نہیں رہا۔ ۱۵۴۵ء میں جب ہُمایوں نے قندھار دوبارہ حاصل کیا اور اُس کا بھائی مرزا عسکری گرفتار ہوا تو ہُمایوں نے اِس اَہم شاہی قیدی کی نگرانی بھی ندیم کوکہ کے سپرد کی۔ یہ معمولی ذمہ داری نہیں تھی۔ مرزا عسکری کوئی عام قیدی نہیں بلکہ ہُمایوں کا حقیقی بھائی، ایک تیموری شہزادہ اور اُس اقتدار کی کشمکش کا اَہم کردار تھا جس نے ہُمایوں کو برسوں دَر بہ دَر رکھا تھا۔ ایسے شخص کو ندیم کوکہ کی تحویل میں دینا اُس اعتماد کی ایک اور مثال ہے جو ہُمایوں کو اپنے اِس کوکے پر تھا۔

ہُمایوں کے جانشین، جلالُ الدّین اَکبر کے عہد میں کوکوں کی صورت میں منظرِ عام پر آنے والے رَضاعی رشتوں کی اہمیت کا سب سے نمایاں نمونہ مرزا عزیز کوکہ کی شخصیت میں دکھائی دیتا ہے۔ وہ اَکبر کی رَضاعی ماں جیجی اَنَگہ اور شمسُ الدّین محمد اَتگہ خان کا بیٹا تھا، اِس لیے تقریباً ہم عمر اَکبر کا رَضاعی بھائی اور ’کوکہ‘ کہلاتا تھا۔ (بِحوالہ: ابوالفضل، ’آئینِ اکبری‘، مترجم: ہائنرش بلوخمان، جلد اوّل، تذکرۂ مرزا عزیز کوکہ)

اَکبر کا عزیز کوکہ سے تعلق محض شاہی خاندان کی نجی زندگی تک محدود نہیں رہا؛ گجرات کی فتح کے بعد ۱۵۷۳ء میں اَکبر نے عزیز کوکہ کو ’پنج ہزاری‘ منصب دے کر اِس نئے مفتوحہ صوبے کا پہلا مغل صوبہ دار مقرر کیا۔

اَکبر، مرزا عزیز کوکہ کی بے تکلفی اور بعض اوقات سخت گوئی کے باوجود، اُس سے غیر معمولی تعلق رکھتا تھا۔ روایت ہے کہ عزیز کی بے باکی پر بھی اَکبر عموماً اُس سے درگزر کرتا اور اپنے اِس رَضاعی بھائی سے تعلق کی گہرائی بیان کرتے ہوئے کہا کرتا تھا کہ اُس کے اور عزیز کے درمیان ’دُودھ کا ایک دریا‘ ہے جسے وہ عبور نہیں کرسکتا۔ ابوالفضل کی اصل فارسی روایت میں اِس تعلق کے اظہارکے لیے ’جُوئے شیر‘ کی ترکیب درج ملتی ہے ۔

عزیز کوکہ کے خاندان کے شاہی خاندان سے ازدواجی رشتے بھی قائم ہوئے۔ اُس کی ایک بیٹی شہزادہ مراد، جبکہ دوسری شہزادہ خسرو سے بیاہی گئی۔ شہزادہ مراد کی شادی عزیز کوکہ کی بیٹی حبیبہ بانو بیگم سے ہونے کی تفصیل ’اکبرنامہ‘ میں بھی ملتی ہے، جبکہ جہانگیر کی یادداشتوں میں شہزادہ خسرو سے عزیز کوکہ کی بیٹی کے بطن سے بیٹے کی پیدائش کا ذکر موجود ہے۔ (بِحوالہ: ابوالفضل، ’اکبرنامہ‘، مترجم: ہنری بیورج، جلد سوم، ص ۷۹۱؛ جہانگیر، ’تُزکِ جہانگیری‘، مترجم: الیگزینڈر راجرز، مرتب: ہنری بیورج، جلد اوّل)

عہدِ جہانگیر میں ۱۶۲۴ء میں وفات پانے والے مرزا عزیز کوکہ کی یادگار دہلی کے نظامُ الدّین علاقے میں آج بھی موجود ہے۔ سنگِ مرمر کے چونسٹھ ستونوں پر قائم اُس کا مقبرہ ’چونسٹھ کھمبا‘ کے نام سے مشہور ہے اور مغل عہد کے اِس غیر معمولی رَضاعی خاندان کی ایک نمایاں یادگار ہے۔

اَکبر کے رَضاعی حلقے کا ایک اور نمایاں نام زین خان کوکہ تھا۔ اُس کی والدہ بھی اَکبر کی دایاؤں میں شامل تھیں، جس کی وجہ سے وہ ’کوکہ‘ کہلایا۔ زین خان نے اَکبر کے عہد میں فوجی اور انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں اور بلند منصب تک پہنچا۔ شمال مغربی سرحد پر یوسف زئیوں کے خلاف کارروائیوں میں بھی اُس کا اہم کردار رہا۔ ۱۵۸۶ء کی اِسی مہم کے دوران مغل لشکر کو سخت نقصان اُٹھانا پڑا اور اَکبر کا مقرب درباری بیربل مارا گیا۔ اِس واقعے کے باوجود زین خان کا شاہی خدمت سے تعلق ختم نہیں ہوا اور بعد کے برسوں میں بھی اُسے اہم ذمہ داریاں ملتی رہیں۔

زین خان کوکہ کے خاندان کا تعلق بھی اگلی نسل میں شاہی خاندان سے ازدواجی رشتے میں بدل گیا۔ اُس کی بیٹی کا نکاح ۱۵۹۶ء میں اَکبر کے بیٹے شہزادہ سلیم سے ہوا، جو بعد میں ’جہانگیر‘ کے شاہی لقب کے ساتھ تخت پر بیٹھا۔ ابوالفضل اِس شادی کا باقاعدہ ذکر کرتا ہے۔(بِحوالہ: ابوالفضل، ’اکبرنامہ‘، مترجم: ہنری بیورج، جلد سوم، ص ۱۰۵۸–۱۰۵۹، حاشیہ ۳)

جلالُ الدّین اَکبر کے بعد نورُالدّین جہانگیر کے عہد میں بھی کوکلتاشوں یا کوکوں کی شکل میں قائم ہونے والے رَضاعی رشتوں کی سیاسی اور اِنتظامی اَہمیت کے تاریخی شواہد ملتے ہیں۔ اِس دور میں ’کوکہ‘ کے لقب کے ساتھ سامنے آنے والی سب سے نمایاں شخصیت قُطبُ الدّین خان کوکہ کی تھی، جس کا اصل نام شیخ خُوبُو تھا۔ اُس کی والدہ شیخ سلیم چشتی کی بیٹی اور شہزادہ سلیم، یعنی بعد کے بادشاہ جہانگیر، کی رَضاعی ماں تھیں۔

خود جہانگیر اپنی یادداشتوں، ’تُزکِ جہانگیری‘ یا ’جہانگیرنامہ‘، میں تصریح کرتا ہے کہ اِس خاتون نے اُسے اپنا دُودھ پلایا تھا اور اُسے اُن سے اپنی حقیقی والدہ سے بھی بڑھ کر اُنس تھا۔ اُن کی وفات پر جہانگیر شدید رنجیدہ و مغموم رہا؛ وہ اُن کے جنازے میں شریک ہوا اور کچھ فاصلے تک اُن کی میّت کے پاؤں اپنے کندھے پر اُٹھائے چلا۔ (بِحوالہ: جہانگیر، ’تُزکِ جہانگیری‘، مترجم: الیگزینڈر راجرز، مرتب: ہنری بیورج، جلد اوّل)

اِسی رَضاعت کے سبب اُن کا بیٹا شیخ خُوبُو، قُطبُ الدّین خان ’کوکہ‘ کہلایا۔ جہانگیر کے نزدیک اِس رشتے کی اَہمیت غیر معمولی تھی۔ وہ اپنی یادداشتوں میں قُطبُ الدّین کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ وہ اُسے اپنی اَولاد اور بھائیوں سے کم عزیز نہیں رکھتا تھا، بلکہ تمام کوکوں میں قُطبُ الدّین ہی حقیقتاً اُس کا ’کوکہ‘ کہلانے کا مستحق تھا۔ اِس ایک جملے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جہانگیر کے رَضاعی حلقے میں دوسرے ’کوکے‘ بھی موجود تھے، اگرچہ قُطبُ الدّین کو اُن سب میں اِمتیازی مقام حاصل تھا۔ (بِحوالہ: جہانگیر، ’تُزکِ جہانگیری‘، مترجم: الیگزینڈر راجرز، مرتب: ہنری بیورج، جلد اوّل، ص ۷۸)

یہ ذاتی قُربت سیاسی اِعتماد میں بھی تبدیل ہوئی۔ شہزادہ سلیم نے اَکبر کے خلاف اپنی بغاوت کے زمانے میں شیخ خُوبُو کو ’قُطبُ الدّین خان‘ کا خطاب دیا۔ تخت نشینی کے بعد ۱۶۰۶ء میں جہانگیر نے اُسے بنگال اور اُڑیسہ کا صوبہ دار مقرر کیا اور پنج ہزاری منصب بھی عطا کیا۔ ’تُزکِ جہانگیری‘ میں قُطبُ الدّین کی اِس ترقی اور بنگال و اُڑیسہ میں تقرری کا ذکر خود جہانگیر نے کیا ہے۔ (بِحوالہ: جہانگیر، ’تُزکِ جہانگیری‘، مترجم: الیگزینڈر راجرز، مرتب: ہنری بیورج، جلد اوّل، ص ۷۸)

قُطبُ الدّین خان کی صوبہ داری زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکی۔ ۱۶۰۷ء میں قُطبُ الدّین اور شیر اَفگن کی ملاقات ایک خونریز تصادم میں بدل گئی۔ شیر اَفگن کے وار سے قُطبُ الدّین شدید زخمی ہوا، جبکہ قُطبُ الدّین کے ساتھیوں نے شیر اَفگن کو قتل کردیا۔ قُطبُ الدّین بھی زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ جہانگیر نے اُس کی موت پر اپنے شدید رنج کا اظہار کرتے ہوئے اُسے اپنے لیے عزیز بیٹے، مہربان بھائی اور موافق دوست کی مانند قرار دیا۔ (بِحوالہ: جہانگیر، ’تُزکِ جہانگیری‘، مترجم: الیگزینڈر راجرز، مرتب: ہنری بیورج، جلد اوّل، ص ۱۱۴–۱۱۵)

دونوں کی قبریں بردھمان، مغربی بنگال، میں ایک ہی اَحاطے میں موجود ہیں۔

شیر اَفگن کی بیوہ مِہرُالنِّساء سے جہانگیر نے ۱۶۱۱ء میں شادی کرلی، جو بعد میں ’نور جہاں‘ کے نام سے مغل سلطنت کی نہایت بااَثر ملکہ بنی۔ بعد کے زمانے میں جہانگیر، مِہرُالنِّساء اور شیر اَفگن کے گرد متعدد رومانوی روایات نے جنم لیا۔ اُن میں یہ قصہ بھی مشہور ہوا کہ جہانگیر پہلے ہی مِہرُالنِّساء کا خواہش مند تھا اور شیر اَفگن کی موت کے پیچھے بھی اِسی خواہش کا ہاتھ تھا؛ گویا قُطبُ الدّین کوکہ کو شیر اَفگن کے خلاف اِسی مقصد سے اِستعمال کیا گیا تھا۔ تاہم قریبُ العہد مآخذ میں اِس دعوے کی واضح شہادت نہیں ملتی۔

رَضاعی رشتوں کے اِس سلسلے کی اگلی واضح کڑی اَورنگزیب عالمگیر کے عہد میں سامنے آتی ہے۔ اَورنگزیب کے نمایاں رَضاعی بھائیوں میں خانِ جہاں بہادر کوکلتاش خاص اَہمیت رکھتا تھا۔ اُس کا اصل نام میر ملک حسین اور والد کا نام میر اَبُوالمَعالی خوافی تھا۔ وہ پہلے بہادر خان کے نام سے معروف رہا اور بعد میں ’خانِ جہاں بہادر ظفر جنگ کوکلتاش‘ جیسے بلند اَلقاب حاصل کیے۔

’مآثرُالامراء‘ میں اُس کا مفصل تذکرہ ملتا ہے اور اُسے عالمگیر سے رَضاعی نسبت رکھنے والے ممتاز اُمراء میں شمار کیا گیا ہے۔ اُس نے فوجی اور اِنتظامی دونوں میدانوں میں بلند مقام حاصل کیا اور دکن سمیت سلطنت کے اَہم علاقوں میں ذمہ داریاں سنبھالیں۔ (بِحوالہ: شاہ نواز خان، ’مآثرُالامراء‘، مترجمان: ہنری بیورج و بینی پرشاد، جلد اوّل، ص ۷۸۳–۷۹۱)

خانِ جہاں بہادر نے ۱۶۹۷ء میں لاہور میں وفات پائی۔ اِسی شہر میں اُس کا عظیم مقبرہ آج بھی موجود ہے۔ بلند ہشت پہلو چبوترے پر قائم یہ دو منزلہ گنبد دار عمارت مغلیہ لاہور کے آخری دور کے اَہم مقابر میں شمار ہوتی ہے۔ بعد کے زمانوں میں عمارت اور قبر کو نقصان پہنچا، لیکن اُس کا بنیادی ڈھانچا آج بھی لاہور میں خانِ جہاں بہادر کوکلتاش کی یادگار ہے۔

اَورنگزیب کا ایک اور رَضاعی بھائی فِدائی خان کوکہ تھا، جس کا اصل نام میر مظفر حسین تھا۔ وہ خانِ جہاں بہادر کوکلتاش کا چھوٹا بھائی تھا۔ شاہجہان کے عہد میں اُسے ’فِدائی خان‘ کا خطاب ملا، جبکہ عالمگیر کے زمانے میں اُسے ’اَعظم خان‘ کا خطاب عطا ہوا؛ اِسی لیے مآخذ میں اُس کا ذکر فِدائی خان، اَعظم خان اور مظفر حسین کوکہ کے ناموں سے ملتا ہے۔ اُس نے اَودھ، لاہور اور دوسرے علاقوں میں اَہم اِنتظامی ذمہ داریاں اَنجام دیں اور بعد میں بنگال کا صوبہ دار بھی مقرر ہوا۔

اَورنگزیب کے بعد بھی مغل شاہی خاندان میں ’کوکہ‘ اور ’کوکلتاش‘ کی روایت برابر جاری رہی اور اِس کی ایک نمایاں مثال جہاندار شاہ کے رَضاعی بھائی علی مراد کی ہے، جو ’کوکلتاش خان‘ کے نام سے معروف تھا۔ ولیم اِروِن اُسے صراحتاً جہاندار شاہ کا رَضاعی بھائی قرار دیتا ہے۔ جہاندار شاہ کے عہد میں علی مراد ’خانِ جہاں‘ اور ’ظفر جنگ‘ کے اَلقاب کے ساتھ سلطنت کے بلند مرتبہ اُمراء میں شامل ہوا۔ (بِحوالہ: ولیم اِروِن، ’لیٹر مغلز‘، جلد اوّل، ص ۱۹۷–۱۹۸)

۱۷۱۳ء میں فرخ سیر کے خلاف تخت کی فیصلہ کن جنگ میں علی مراد کوکلتاش خان اپنے رَضاعی بھائی جہاندار شاہ کی طرف سے لڑا اور مارا گیا۔ جہاندار شاہ کا ایک اور رَضاعی بھائی احمد بیگ تھا، جو بعد میں ’غازیُ الدّین خان غالب جنگ‘ کے لقب سے معروف ہوا۔ ولیم اِروِن احمد بیگ کو بھی جہاندار شاہ کے رَضاعی بھائیوں میں شمار کرتا ہے۔ (بِحوالہ: ولیم اِروِن، ’لیٹر مغلز‘، جلد اوّل، ص ۲۶۶–۲۶۷)

یوں علی مراد کوکلتاش اور احمد بیگ کی مثالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مغلوں میں رَضاعی رشتوں کی سیاسی اَہمیت اَٹھارہویں صدی کے آغاز تک برقرار رہی تھی۔

اور یوں مغلیہ قرابت داری کے نظام میں کوکلتاشوں یا کوکوں کا معاملہ دو حوالوں سے بڑا نمایاں ثابت ہوتا ہے: اوّل، ’کوکہ‘ یا ’کوکلتاش‘ کا رشتہ محض رَضاعی قرابت کی شناخت نہیں تھا بلکہ اِس کے ساتھ وفاداری اور ’دُودھ کا حق‘ نبھانے کا ایک مضبوط اَخلاقی تصور بھی وابستہ تھا۔ مغل تاریخ میں متعدد کوکے بادشاہوں اور شہزادوں کے ساتھ غیر معمولی وفاداری نبھاتے دکھائی دیتے ہیں اور جواباً اُنہیں بھی شاہی خاندان کی طرف سے محبت، اِعتماد اور اِحترام حاصل ہوا۔

دوم، رَضاعت سے پیدا ہونے والا یہ جذبۂ ایثار و محبت دُودھ شریک بھائی اور بہن کے درمیان بھی اِسی طرح نمایاں ثابت ہوتا ہے ۔ اِس کی ایک نہایت دلچسپ مثال شاہجہان کی بیٹی شہزادی جہاں آرا اور نواب زاہد خان کی ہے۔ زاہد خان کی والدہ حوری خانم، جہاں آرا کی دایہ تھیں اور اِسی رَضاعت کے باعث زاہد خان شہزادی کا رَضاعی بھائی اور ’کوکہ‘ تھا۔

’ذخیرۃ الخوانین‘ کے مطابق زاہد خان کے بعض نامناسب رویّوں اور بے پروائی کے باوجود جہاں آرا اُس کی خطاؤں کو بادشاہ کے سامنے ظاہر کرنے سے گریز کرتی تھیں۔ اِس رعایت کی وجہ بیان کرتے ہوئے اُن سے منسوب کیا گیا ہے کہ گزشتہ بادشاہوں کے رَضاعی خاندانوں اور کوکوں نے بڑے مرتبے حاصل کیے، جبکہ ’یہ ہمارا واحد کوکہ ہے‘؛ لہٰذا اِس رشتے کا لحاظ رکھتے ہوئے اُس کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے۔ (بِحوالہ: شیخ فرید بھکّری، ’ذخیرۃ الخوانین‘، مترجم: زیڈ۔ اے۔ ڈیسائی، ص ۲۴۰–۲۴۱)

ظہیرُالدّین بابر ’کوکلتاشوں‘ کی صورت میں رَضاعی رشتوں کی جو روایت اپنے ساتھ لایا تھا، وہ ’تُزکِ بابری‘ کے صفحات پر منقش ہونے کے سبب ہندوستان کے بعد کے مغل بادشاہوں کے لیے گویا ایک غیر تحریری ’میگنا کارٹا‘ بن گئی۔

یہی وجہ ہے کہ تین صدیوں سے بھی زائد عرصے تک مغل دربار اور سیاست میں شاہی بچوں کو دُودھ پلانے والی عورتیں اور اُن کے خاندانوں کے ساتھ قائم ہونے والے رشتے اپنی ٹھوس جگہ بنائے رہے۔ اِسی سبب سے ’کوکلتاش‘ یا ’کوکے‘ کبھی بادشاہوں اور شہزادوں کے ہم سفر نظر آتے ہیں، کبھی اُن کے رازدار، کبھی میدانِ جنگ کے ساتھی، اور کبھی مغل سلطنت کے حقیقی وفادار منصب دار، سپہ سالار، میر بخشی اور صوبہ دار۔

لیکن ’کوکوں‘ کی اِس طویل داستان میں اُن کی حد درجہ وفاداری کا انسانی پہلو بالعموم نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ اُن کی قدر و منزلت کو سمجھنے کے لیے صرف ایک منظر تصوّر میں لائیں: گرد آلود راستہ ہے، گھڑ سوار ننگی تلواریں لیے دو مفروروں کے تعاقب میں ہیں۔ اِن مفروروں کو نہ اپنی منزل کا پتا ہے اور نہ انجام کا علم۔ ایک مفرور دوسرے سے کہتا ہے:

’اگر تُم بھی پیچھے رہ گئے تو میرا کیا ہوگا؟ میرے ساتھ رہو، جینا ہوا تو ساتھ جِئیں گے اور مَرنا ہوا تو بھی ساتھ مَریں گے۔‘

دوسرا جواب دیتا ہے:

’میرا گھوڑا جواب دے چُکا ہے، اب یہ آگے نہیں جاسکتا۔ میری فِکر نہ کریں، آپ چلے جائیں۔ شاید آپ بچ نِکلیں۔‘

دُودھ سے قائم ہونے والی یہ قرابت، واللہ اَعلم، کتنے امتحانوں سے گزرنے کے بعد اُس مقام تک پہنچی ہوگی جہاں ایک دوسرے کو بچانا بھی ساتھ نبھانا تھا، اور ساتھ جینا اور ساتھ مَرنا بھی۔

بہاولپور سے تعلق رکھنے والے سیّد آلِ احمد (مرحوم) کا یہ شعر بھی شاید اِسی طرح کی کسی پُرخار اور کٹھن مُسافت کا اظہار معلوم ہوتا ہے:

کس مُسافت کے بعد پہنچا ہے

تیرے رُخسار پر مِرا آنسو۔۔۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان