دو صدی قبل کی رِیاستِ بہاولپور — ایک برطانوی افسر کا چشم دِیدہ اَحوال
“ہم جب رِیاستِ بہاولپور کی حُدود میں داخل ہوئے تو ہمارا پہلا ٹاکرا رِیاست کے شُتر سوار فوجی دستے سے ہوا۔ اِس دستے میں تقریباً ڈیڑھ سو سپاہی تھے۔ ایک ایک اُونٹ پر دو دو فوجی سوار تھے اور دونوں کے پاس لمبی، چمکتی ہوئی فتیلہ دار بندوقیں تھیں۔ دستہ تین یا چار نہایت مُنظّم قطاروں میں آگے بڑھا اور ہمیں سلامی دی۔ اُن کے اُونٹ اِس قدر قابو میں تھے کہ گھوڑوں کی طرح چلتے معلوم ہوتے تھے۔ میرے لیے اِس دستے کا منظر بالکل نیا اور خاصا مُتأثّر کُن تھا۔
اِس دستے کے کمانڈر کی لمبی داڑھی تھی۔ اُس نے زردی مائل موٹے کپڑے کی ایرانی طرز کی لمبی قَبا پہن رکھی تھی، جس پر سونے کے بٹن لگے تھے، اور سر پر ایک چھوٹی، نیچی ٹوپی تھی جو کسی انگریزی ٹوپ کے اوپری حصّے سے مُشابہ تھی۔ وہ ایک نہایت عمدہ، ہلکے، تیز رفتار اور آرام دہ اُونٹ پر سوار تھا۔ اُونٹ کی زِین خاصی آراستہ تھی اور اُسے قابو کرنے کے لیے دو باگیں تھیں، جو اُونٹ کے دونوں نتھنوں میں کیے گئے سوراخوں سے گزرتی تھیں۔”
یہ مُشاہدات ماؤنٹ سٹوارٹ اَلفنسٹون کے ہیں، جو اُس نے اپنے سفرنامے ‘اَین اکاؤنٹ آف دی کنگڈم آف کابل اینڈ اِٹس ڈیپنڈینسیز اِن پرشیا، ٹارٹری اینڈ اِنڈیا’ میں درج کیے ہیں۔
ایسٹ اِنڈیا کمپنی کے اُنْتیس سالہ اِس افسر، اَلفنسٹون، کو کمپنی نے افغان بادشاہ شاہ شُجاع دُرّانی کے دربار کے لیے اپنا سفیر مُقرّر کرکے بھیجا تھا۔
مسٹر سٹریچی اِس سفارتی مشن کے سیکرٹری تھے، جبکہ لیفٹیننٹ جان میکارٹنی نقشہ سازی اور جُغرافیائی سروے کے لیے ساتھ تھا۔ فوجی مُحافظ دستے سے وابستہ افسروں میں کیپٹن ریپر، لیفٹیننٹ ہیرس، لیفٹیننٹ کننگھم، لیفٹیننٹ راس اور لیفٹیننٹ اِروِن شامل تھے۔ اَلفنسٹون کا یہ قافلہ سو باقاعدہ گھڑ سواروں، دو سو پیادہ فوجیوں اور تقریباً سو مُعاونین (باورچیوں، خُدّام، ذاتی خدمت گاروں وغیرہ) پر مُشتمل تھا۔
اِس سفارتی مشن کا بُنیادی مقصد افغانستان کے بادشاہ کے ساتھ ایسے دوستانہ تعلقات قائم کرنا تھا جو ہندوستان کی شمال مغربی سِمت سے کسی مُمکنہ فرانسیسی پیش قدمی کی صُورت میں برطانوی مَفادات کے لیے مددگار ثابت ہوسکیں۔
اَلفنسٹون اپنے دیگر مُشاہدات میں لکھتا ہے کہ نواب بہاول خان سوم کی مہمان نوازی اُس وقت ہی شروع ہوگئی تھی جب اُن کا قافلہ ابھی رِیاستِ بہاولپور کی حُدود میں داخل بھی نہیں ہوا تھا۔ پُوگل سے بہاولپور کی طرف سفر کے دوران قافلے کو ایک طویل بے آب و گیاہ صَحرا عُبور کرنا تھا، لہٰذا پانی کی ضَرورت کا اندازہ کرتے ہوئے نواب بہاول خان نے دو مرتبہ قافلے کے لیے پانی بھجوایا، تاکہ صَحرا میں ہم مُسافروں اور ہمارے جانوروں کو پانی کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مَوج گڑھ پہنچ کر اَلفنسٹون کے قافلے نے دو روز قِیام کیا۔ یہاں طویل صَحرائی سفر کے بعد پانی کا ذَخیرہ دوبارہ پورا کیا گیا۔ نواب بہاول خان کے دِیوان اور رِیاست کے دو دوسرے اہل کار بھی یہیں قافلے سے آملے۔ اب اَلفنسٹون اور اُس کے ساتھی اُس بڑے صَحرائے ہند کے آخری حصّے میں داخل ہورہے تھے، جسے وہ کئی ہفتوں سے عُبور کرتے چلے آرہے تھے۔
بہاولپور کے قریب پہنچتے ہی مَنظر بدلنے لگا۔ صَحرا کی ویرانی کی جگہ دَرخت، کھیت، آباد گھر اور صاف پانی کے کنویں دِکھائی دینے لگے۔ کئی ہفتے صَحرا میں گزارنے کے بعد یہ تبدیلی اَلفنسٹون اور اُس کے ساتھیوں کے لیے غیر معمولی طور پر خُوش گوار تھی۔
نواب بہاول خان خود بھی تقریباً چالیس میل کا سفر کرکے اپنے مہمانوں سے ملنے آئے۔ اُن کی آمد کے روز قافلے کے لیے اَسّی بھیڑیں، سو مَن آٹا اور دوسری اَشیائے خورونوش بھجوائی گئیں۔ اگلے روز مزید سامان اور تحائف پہنچے۔ اِن میں مٹھائی کے سو برتن، سنگتروں کی بڑی تعداد اور بادام و کشمش کی دس بوریاں شامل تھیں۔
اِن اَشیا کے ساتھ پانچ تھیلیوں میں پانچ ہزار روپے بھی بھجوائے گئے۔ ہر تھیلی میں ایک ہزار روپے تھے اور یہ رقم اَلفنسٹون کے ملازمین میں تقسیم کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی۔ اَلفنسٹون کو اپنے ملازمین کے لیے اتنی بڑی نقد رقم قبول کرنے میں تردُّد ہوا۔ بالآخر اُس نے یہ رقم اِس شرط پر قبول کی کہ نواب بہاول خان کے ملازمین بھی اُس کی طرف سے دیے جانے والے تحائف قبول کریں گے۔
۲۹ نومبر کو مسٹر سٹریچی اور کیپٹن ریپر نواب بہاول خان سے ملنے گئے۔ واپسی پر دونوں نواب کے پُرتپاک اور بے تکلُّف رویّے سے خاصے مُتأثّر تھے۔ گفتگو کے دوران شاہ شُجاع دُرّانی اور کابل کا ذِکر بھی آیا۔ نواب نے شاہ شُجاع کی تعریف کی، لیکن ساتھ ہی بڑی سادگی سے کہا کہ اُنہیں کابل کی سردی اور برف سے بہت ڈر لگتا ہے۔ وہ صَحرا کے رہنے والے ہیں اور اپنے صَحرائی ماحول ہی میں زیادہ مَسرور اور خُوش ہیں۔
یکم دسمبر ۱۸۰۸ء کو نواب بہاول خان خود اَلفنسٹون سے ملنے اُس کے خیمے میں آئے۔ اَلفنسٹون کے اندازے کے مُطابق نواب کی عُمر پینتالیس سے پچاس برس کے درمیان تھی۔ اُن کی شخصیت میں سادگی اور بے تکلُّفی تھی۔ نواب نے سفید لباس پہن رکھا تھا، جس پر سونے کے چھوٹے بٹن لگے تھے۔ اُس کے اوپر قیمتی سنہری زَربفت کی کشادہ پوشاک تھی۔ سر پر زَربفت کی ٹوپی تھی اور اُس کے اوپر ریشمی لُنگی پگڑی کی صُورت میں ڈھیلے انداز سے لپٹی ہوئی تھی۔
اِس ملاقات میں نواب کے چھ مُصاحب بیٹھے ہوئے تھے، جبکہ باقی لوگ اُن کے گرد ترتیب سے بااِحترام کھڑے تھے۔ وہ سب خُوش لباس اور مُعزّز نظر آتے تھے۔ گفتگو ہندوستان اور انگلستان تک پھیلی اور اُس وقت ختم ہوئی جب نواب نے خود توجّہ دِلائی کہ رات کافی ہوچکی ہے۔
اگلے روز، ۲ دسمبر ۱۸۰۸ء کو، اَلفنسٹون نواب کی ملاقات کا جواب دینے اُن کے ہاں گیا۔ اُس روز بہاولپور کی گلیاں لوگوں سے اِس قدر بھری ہوئی تھیں کہ اَلفنسٹون نے اُن کے لیے ’ناقابلِ یقین حد تک پُرہجوم‘ کے الفاظ اِستعمال کیے ہیں۔ مکانوں کی چھتیں بھی اُنہیں دیکھنے کے شائق لوگوں سے بھری تھیں۔ البتہ جس راستے سے اَلفنسٹون اور اُس کے ساتھیوں کو گزرنا تھا، اُسے لوگوں نے بالکل خالی چھوڑ رکھا تھا۔ اِن اَجنبی مُسافروں کو دیکھ کر کبھی کبھار حیرت کی کوئی آواز سنائی دیتی، ورنہ پورا مَجمع گہری خاموشی سے اُنہیں دیکھ رہا تھا۔
نواب نے اَلفنسٹون کو ایک خُوب صُورت کمرے میں بٹھایا، جہاں فارسی قالین بچھا ہوا تھا اور لوگ اُس کے گِرد قرینے سے بیٹھے تھے۔ گفتگو کے دوران نواب بہاول خان نے اپنی طبیعت کا ایک اور دِل چسپ پہلو ظاہر کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ بادشاہ سے کبھی نہیں ملے اور، خُدا نے چاہا تو کبھی ملیں گے بھی نہیں۔ اپنے صَحرا میں رہنا اور اپنے ہرنوں کا شکار کرنا اُن کے لیے کافی ہے؛ اُنہیں شاہی درباروں تک رسائی حاصل کرنے کی کوئی خواہش بھی نہیں۔
اِسی ملاقات میں نواب بہاول خان نے اَلفنسٹون کو ایک نہایت دِل چسپ بڑی میکانیکی گھڑی (کلاک) بھی دِکھائی، جسے اُن کے اپنے ایک کاریگر نے بنایا تھا۔ اَلفنسٹون کے مُطابق گھڑی کا اندرونی نظام خاصا عمدہ تھا۔ اُس کی گھنٹی مشین کے نیچے نصب تھی اور پوری گھڑی سونے کے ایک خُوب صُورت خول میں بند تھی، جس کے اَطراف موٹے شیشے لگے ہوئے تھے۔ نواب نے اُسے ایک نہایت عمدہ بندوق کا قُفل بھی دِکھایا، جو بہاولپور ہی میں تیار کیا گیا تھا۔
اِس ملاقات کے موقع پر نواب بہاول خان نے اَلفنسٹون کو کئی تحائف بھی دیے۔ اِن میں دو عمدہ باز، چند شکاری کُتّے اور دو گھوڑے شامل تھے۔ ایک گھوڑے کا ساز سونے سے آراستہ تھا، جبکہ دوسرے کا ساز مینا کاری سے مُزیّن تھا۔ اِس کے علاوہ ایک نہایت خُوب صُورت، مینا کاری سے آراستہ فتیلہ دار بندوق، انگریزی طرز کی بارود دانی اور بہاولپور میں تیار ہونے والے کپڑوں کے چند تھال بھی تحفے میں دیے گئے۔
چار دسمبر کو اَلفنسٹون کے قافلے کی روانگی کا وقت آیا تو نواب بہاول خان نے اُن کے خیموں کے قریب اپنا ایک خیمہ لگوایا۔ اُس وقت قافلے کا آخری سامان دریا پار کیا جارہا تھا۔ اِسی خیمے میں دونوں کی آخری ملاقات ہوئی۔ نواب نے سب سے پہلے اُس مقامی کاریگر کو اَلفنسٹون سے ملوایا جس نے وہ گھڑی بنائی تھی۔ پھر اُنہوں نے کئی ایسے اَشخاص سے اُس کا تعارف کرایا جن کے بارے میں نواب نے بتایا کہ وہ عُلما، یعنی اِسلامی عُلوم کے ماہر، ہیں۔
اِس کے بعد نواب بہاول خان، اَلفنسٹون اور مسٹر سٹریچی خیموں سے کچھ فاصلے پر بچھے ایک قالین پر جا بیٹھے۔ یہاں نواب نے مُختلف معاملات پر کُھل کر گفتگو کی اور جہاں تک مُمکن تھا، اَلفنسٹون کو معلومات اور مشورے دیے۔ رُخصت ہوتے وقت نواب نے کہا کہ چونکہ خُراسان کے لوگوں میں سب سے پہلے اُن ہی سے اَلفنسٹون کی ملاقات ہوئی ہے، اِس لیے وہ اُمید کرتے ہیں کہ آگے بہت سے لوگوں سے واقفیت ہوجانے کے بعد بھی وہ اُنہیں یاد رکھے گا۔
اَلفنسٹون لکھتا ہے کہ اُنہوں نے نواب بہاول خان سے بڑے اَفسوس کے ساتھ رُخصت لی۔ قِیام کے دوران نواب اُن کے ساتھ فیّاضی اور مہربانی سے پیش آئے تھے، لیکن اُن کے رویّے میں نہ ضَرورت سے زیادہ تکلُّف تھا اور نہ رسمی خاطر مُدارات۔ اَلفنسٹون کو اُن کی باتوں میں ایک ایسی سچّائی اور خُلوص محسوس ہوا، جس نے اُن کی دوستی کے اِظہار کو اور بھی خُوش گوار بنا دیا تھا۔
بہاولپور میں قِیام کے دوران اَلفنسٹون اور اُس کے ساتھی کئی مرتبہ شہر اور اُس کے گِرد و نواح کو دیکھنے نکلے۔ اُس کے اندازے کے مُطابق شہر کا مُحیط تقریباً چار میل تھا۔ شہر کی فصیل کے اندر آم کے باغات بھی موجود تھے۔ مکانات کچّی اینٹوں سے بنے ہوئے تھے اور اُن کی چھتیں مِٹّی کی تھیں۔ شہر کی فصیل بھی مِٹّی کی تھی اور اَلفنسٹون نے اُسے خاصا پتلا قرار دیا ہے۔
اَلفنسٹون نے بہاولپور کی مقامی صَنعت کا ذِکر کرتے ہوئے یہاں تیار ہونے والی لُنگیوں، ریشمی کمربندوں اور پگڑیوں کو خاص طور پر بیان کیا ہے۔
اُس کے مُشاہدے کے مُطابق بہاولپور اور اِس کے مغرب اور شمال کے نواحی علاقوں میں جَٹ اور بلوچ بڑی تعداد میں آباد تھے اور وہ مُسلمان تھے۔ بہاولپور میں ہندو آبادی بھی اُن دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ تھی جن سے اَلفنسٹون کا قافلہ اِس سفر کے دوران گزرا تھا۔ اَلفنسٹون یہ بھی لکھتا ہے کہ افغان یہاں غیرمقامی، یعنی باہر سے آئے ہوئے لوگ سمجھے جاتے تھے۔
دریا کے دونوں جانب چار پانچ میل تک کا علاقہ دریائی گاد سے بنا ہوا تھا۔ زمین نہایت زَرخیز تھی اور بعض مقامات پر اِس قدر نرم کہ اُس پر گھوڑے سے گزرنا بھی مُشکل ہوجاتا تھا۔ کہیں کھیتی باڑی تھی اور کہیں نیچی جھاڑیوں، بالخصوص جھاؤ، کے جُھنڈ پھیلے ہوئے تھے۔ اِن علاقوں میں جنگلی سُؤر، پاڑہ ہرن، جنگلی ہنس، تیتر، چَرَس یا چَرَغ کہلانے والے فلوریکن اور دوسرے شکاری پرندے اور جانور کثرت سے پائے جاتے تھے۔
اَلفنسٹون لکھتا ہے کہ یہاں دریا بہت بَل کھاتا تھا اور اُس کا پانی گدلا تھا، لیکن صاف ہوجانے کے بعد پینے میں نہایت عمدہ تھا۔ وہ اِسے ’گھارا‘ (Gharra) کے نام سے ذِکر کرتا ہے اور لکھتا ہے کہ یہ بیاس، جسے وہ قدیم نام ’ہائی فیسس‘ (Hyphasis) سے بھی یاد کرتا ہے، اور ستلج، جسے وہ ’ہائی سُڈرس‘ (Hysudrus) لکھتا ہے، کے ملے ہوئے پانی سے بنتا ہے۔
اَلفنسٹون کے بیان کی ایک دِل چسپ خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اِس خطّے کے دریاؤں کے اُس وقت کے مروّجہ ناموں کے ساتھ اُن کے قدیم یونانی جُغرافیہ میں مستعمل نام بھی درج کرتا چلتا ہے۔ یوں اُس کے سفرنامے میں بہاولپور کا جُغرافیہ اُس کے اپنے زمانے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ قاری کو دو ہزار برس سے بھی زیادہ پُرانی تاریخ کی طرف لے جاتا ہے۔
بیاس (ہائی فیسس) کا ذِکر کرتے ہوئے اَلفنسٹون کو سکندرِ اعظم کی ہندوستانی مُہم بھی یاد آتی ہے۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہاں اَلفنسٹون کو ایک تاریخی مُغالطہ لاحق ہوا۔ سکندر کے باقاعدہ دریائی سفر کا آغاز دریائے جہلم، یعنی ’ہائی ڈیس پیز‘ (Hydaspes) سے ہوا تھا، جبکہ دریائے بیاس، یعنی ’ہائی فیسس‘ (Hyphasis)، وہ مقام تھا جہاں سکندر کی فوج نے مزید مشرق کی طرف پیش قدمی سے اِنکار کردیا تھا۔
اَلفنسٹون اِس تاریخی نسبت کے پس منظر میں دریائے بیاس کو اُس وقت نسبتاً کم پانی کے ساتھ دیکھ کر کسی قدر مایوسی کا اِظہار بھی کرتا ہے۔ شاید اُس کے ذہن میں قدیم تاریخ کا وہ عظیم دریا تھا جس تک سکندر کی فوج پہنچی تھی، جبکہ اُس کی آنکھوں کے سامنے موجود دریا اُس تصوّر سے کہیں کم پُرشکوہ دِکھائی دے رہا تھا۔
یوں اَلفنسٹون کے سفرنامے میں بہاولپور اور اِس کے گِرد و نواح کا جُغرافیہ صرف اُس کے اپنے زمانے، یعنی اُنیسویں صدی کے آغاز، تک محدود نہیں رہتا، بلکہ سکندرِ اعظم کی مُہم اور دو ہزار برس سے بھی زیادہ قدیم تاریخ سے جُڑ جاتا ہے۔
پانچ دسمبر کو اَلفنسٹون کا قافلہ دریائے بیاس کے دائیں کنارے سے روانہ ہوا اور گیارہ دسمبر کو تقریباً ستّر میل کا فاصلہ طے کرکے مُلتان پہنچا۔ پہلے پانچ چھ میل کے بعد بیشتر علاقہ خُشک، ریتلا اور گھاس سے تقریباً خالی تھا، البتہ جگہ جگہ جھاڑیاں موجود تھیں۔ راستے میں بستیاں خاصی تعداد میں تھیں اور اُن کے آس پاس گندم، کپاس اور شلجم کے کھیت اچھی حالت میں دِکھائی دیتے تھے۔ پورے راستے میں بڑی اور گہری آبی گزرگاہیں بھی اِس کثرت سے تھیں کہ اَلفنسٹون کے مُطابق صرف اُنہیں دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ یہ علاقہ بڑے پیمانے پر زیرِ کاشت ہوگا۔
مُلتان پہنچنے سے پہلے نواب بہاول خان کی طرف سے بھیجے گئے پچّیس اُونٹ بھی قافلے سے آملے۔ اَلفنسٹون لکھتا ہے کہ نواب بہاول خان اپنے عمدہ اُونٹوں کے لیے مشہور تھے۔ وہ اپنے ذاتی اِستعمال کے لیے بھی اُونٹ رکھتے اور شکار کے لیے بھی اُنہی پر سوار ہوتے تھے۔ اَلفنسٹون کے مُطابق صَحرائی علاقوں میں اُونٹ عام طور پر اِستعمال ہوتے تھے اور طویل سفروں کے لیے نہایت موزوں سواری تھے۔
اَلفنسٹون اِسی سلسلے میں بیکانیر کے ایک عُمر رسیدہ وزیر کا ذِکر بھی کرتا ہے، جس سے وہ پہلے سیوگانہ میں ملا تھا۔ وہ وزیر بیکانیر سے تقریباً ایک سو پچھتّر میل کا سفر صرف تین دن میں اُونٹ پر طے کرکے آیا تھا۔ اَلفنسٹون کے قافلے کے بعض اَفراد کو بھی اُونٹ کی سواری اِس قدر پسند آئی کہ دریائے سندھ پار کرنے کے بعد بھی وہ محض شوق سے اُونٹوں پر سوار ہوتے رہے۔
یوں بہاولپور میں اَلفنسٹون کے قِیام کا اَحوال جس شُتر سوار فوجی دستے کے حیرت انگیز منظر سے شروع ہوتا ہے، اُس کا اِختتام بھی نواب بہاول خان کے بھیجے ہوئے پچّیس اُونٹوں کے ذِکر پر ہوتا ہے۔ صَحرا، اُونٹ اور دریاؤں کے درمیان اَلفنسٹون نے ۱۸۰۸ء کے بہاولپور کی ایک ایسی تصویر محفوظ کردی جو دو صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی غیر معمولی طور پر زندہ محسوس ہوتی ہے۔
اَلفنسٹون کے بظاہر سادہ اور روزمرّہ مُشاہدات میں رِیاستِ بہاولپور اور اُس کے حُکمران نواب بہاول خان سوم کے بارے میں کئی ایسی غیرمعمولی باتیں محفوظ ہوگئی ہیں جو دو صدیوں اور اٹھارہ سالوں کے بعد بھی پڑھنے والوں کو حیرت میں ڈالتی ہیں۔
صَحرا میں چار سو مہمانوں کے لیے تانبے کے بڑے برتنوں میں میٹھا پانی بھجوانا، اُن کے لیے اَسّی بھیڑیں، سو مَن آٹا اور دوسری اَشیائے خورونوش فراہم کرنا اِس لیے بھی غیرمعمولی بات تھی کہ مہمان نہ تو اِن چیزوں کے طلب گار ہوئے تھے اور نہ ہی وہ نواب بہاول خان کو اِس کا مُکلّف سمجھتے تھے۔
پھر نواب مذکور کا انگریز سفارت کار کو باز، شکاری کُتّے اور دو قیمتی گھوڑے تحفے میں دینا، جن میں سے ایک کا ساز سونے سے آراستہ تھا، بھی کچھ کم درجہ کی فیّاضی نہ تھی۔ اِس فیّاضی کی معنویت اُس وقت اور نمایاں ہوجاتی ہے جب چند روز بعد مُلتان میں پیش آنے والا ایک واقعہ سامنے رکھا جائے۔
اَلفنسٹون لکھتا ہے کہ مُلتان میں سکندر خان نامی ایک بااثر شخص نے اُسے اپنے ساتھ جنگلی سُؤر کے شکار کی دعوت دی۔ اَلفنسٹون نے احتیاطاً شکار میں شریک ہونے سے معذرت کی، البتہ خیرسگالی کے طور پر اپنے ایک مقامی ساتھی کے ہاتھ سکندر خان کے لیے عمدہ بارود اور ایک دُوربین بھجوائی۔ جواب میں سکندر خان نے اُسے ایک معمولی سا گھوڑابھجوایا۔ لیکن دو روز بعد صُورتِ حال یکسر بدل گئی۔ سکندر خان نے اَلفنسٹون کا بھیجا ہوا تحفہ، یعنی بارود اور دُوربین، واپس کردیا اور اپنا دیا ہوا گھوڑا بھی واپس مانگ لیا۔ اُس نے وجہ یہ بتائی کہ انگریزوں کے ساتھ سازباز کے شُبہے میں اُسے قید کیے جانے یا قتل کیے جانے کا خطرہ ہے۔
اِس واقعے کو سامنے رکھیں تو نواب بہاول خان کا مہمانداری کا اعلیٰ طرزِ عمل اور زیادہ نمایاں ہوجاتا ہے کہ ایک طرف مُلتان میں ایک معمولی گھوڑا تحفے میں دینے والا شخص دو روز بعد خوف کے باعث تحائف کا تبادلہ ہی واپس لے لیتا ہے، اور دوسری طرف نواب بہاول خان بلاخوف و تردُّد ایک بڑے انگریز سفارتی قافلے کی کُھل کر مہمان نوازی کرتے، قیمتی گھوڑے، باز اور شکاری کُتّے پیش کرتے اور اپنے وسائل اُن کے لیے کھول دیتے ہیں۔
پھر اَلفنسٹون کے ملازمین میں تقسیم کرنے کے لیے پانچ ہزار روپے نقد بھجوانا نواب بہاول خان کی دَریا دِلی اور فیّاضی کی ایک اور غیرمعمولی مثال تھی۔ اُس عہد میں پانچ ہزار روپے ایک خطیر رقم تھی؛ اُس زمانے کے سونے کی قدر کو پیمانہ بنایا جائے تو آج اِس رقم کی مالیت تیس کروڑ روپے میں بنتی ہے۔کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ کسی شخص کی طرف سے اپنے مہمانوں کے خدام کو اتنی خطیر رقم بطور بخشیش دے دی جائے گی ۔
نواب بہاول خان کی شخصیت کا دوسرا رُخ اُن کی بے نیازی کی صُورت میں سامنے آتا ہے۔ اَلفنسٹون سے اُن کا یہ کہنا کہ میں نے بادشاہ کو کبھی نہیں دیکھا اور، خُدا نے چاہا تو کبھی دیکھوں گا بھی نہیں؛ مجھے اپنا صَحرا اور اپنے ہرنوں کا شکار کافی ہے اور شاہی درباروں تک رسائی حاصل کرنے کی کوئی طلب بھی نہیں، کسی امیر کی بے نیازی کا غیرمعمولی اِظہار معلوم ہوتا ہے۔
ایک طرف مہمانوں پر اِس قدر فیّاضی اور دوسری طرف بڑے درباروں اور بادشاہوں سے اِس قدر بے نیازی، اَلفنسٹون کے بیان میں نواب بہاول خان کی شخصیت کا ایک نہایت دِل چسپ نقش اُبھارتی ہے۔
اِسی بیان میں بہاولپور کی فَنّی اور صَنعتی مہارت کی جھلک بھی ملتی ہے۔ ایک مقامی کاریگر کا ایسی میکانیکی گھڑی تیار کرنا، جس کے اندرونی نظام کو اَلفنسٹون نے خاصا عمدہ قرار دیا، اور بہاولپور ہی میں عمدہ بندوق کا قُفل تیار ہونا معمولی باتیں نہیں تھیں۔ یہ اِس اَمر کی شہادت ہیں کہ اُس عہد کے بہاولپور میں دھات، ہتھیار سازی اور باریک میکانیکی کام کے ماہر ہُنرمند موجود تھے۔ بعد کے مآخذ میں بھی رِیاستِ بہاولپور کے مختلف شہروں میں اِن صَنعتوں اور ہُنروں کے فروغ کا ذِکر ملتا ہے۔
اِسی طرح نواب کا اپنے مقامی کاریگر کے ساتھ رِیاست کے عُلما کو بھی اَلفنسٹون سے باقاعدہ ملوانا معنی خیز ہے۔ ایک غیرمُلکی سفارتی مہمان کے سامنے اہلِ عِلم کا اِس اِہتمام سے تعارف اِس بات کی خُوب صُورت مثال ہے کہ رِیاست میں عُلما کو عزّت اور اہمیت حاصل تھی اور نواب اُنہیں بھی اپنی رِیاست کے اُن نمایاں اَفراد میں شمار کرتے تھے جن کا تعارف اپنے مہمانوں سے کرانا ضروری سمجھتے تھے۔
پھر خود بہاولپور کے شہریوں کی نظم و ترتیب بھی توجّہ طلب ہے۔ گلیاں اور مکانوں کی چھتیں اِن اَجنبی مہمانوں کو دیکھنے کے لیے لوگوں سے بھری ہوئی تھیں، لیکن جس راستے سے قافلے کو گزرنا تھا، اُسے اُنہوں نے بالکل خالی چھوڑ رکھا تھا۔ کبھی کبھار حیرت کی کوئی آواز اُبھرتی، ورنہ لوگ خاموشی اور ترتیب کے ساتھ کھڑے اُنہیں دیکھتے رہے۔ اَلفنسٹون کا یہ چشم دِیدہ بیان دو صدی قبل کے بہاولپور کے شہری نظم، اِجتماعی آداب اور تہذیبی نَفاست کی ایک دِل چسپ تصویر محفوظ کردیتا ہے۔
نواب بہاول خان کی یہ فیّاضی بہاولپور کی تاریخ میں کوئی اَکلوتی مثال بھی نہ تھی۔ یہ روایت بعد کے اَدوار میں بھی دِکھائی دیتی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد نواب سر صادق محمد خان پنجم اور رِیاستِ بہاولپور نے نوزائیدہ مملکت کو درپیش مالی مُشکلات میں اپنے وسائل اُس کے لیے کھول دیے۔ گویا زمانہ بدلا، حُکمران بدلے اور حالات بدلے، مگر بہاولپور کی دَریا دِلی اور وقتِ ضَرورت اپنے وسائل دوسروں کے لیے کھول دینے کی روایت باقی رہی۔
اَلفنسٹون نے ۱۸۰۸ء میں بہاولپور میں جو کچھ دیکھا تھا، شاید اُس وقت اُسے بھی اندازہ نہ ہوگا کہ اُس کے یہ بظاہر معمولی مُشاہدات آنے والی نسلوں کے لیے ایک پورے عہد کے مزاج کی گواہی بن جائیں گے۔ حُکمران کی فیّاضی اور بے نیازی، اہلِ عِلم کی عزّت، ہُنرمند کی قدر، مہمان کی خاطر تواضع اور عام شہریوں کا نظم و ضبط—یہ سب مل کر اُس بہاولپور کی ایک ایسی تصویر بناتے ہیں جس کے رنگ دو صدیوں کا سفر بھی ماند نہیں کرسکا۔
اور بہاولپور کی تاریخ کے اِن دو دُور اُفتادہ زمانوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو بے اِختیار وہ پُرانی کہاوت یاد آتی ہے:
’کسی کے ماتھے پر کچھ نہیں لکھا ہوتا، عادتیں ہی نَسلوں کا پتا دیتی ہیں۔‘
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان