Tuesday, 22 September 2026, 03:46:15 am
 
’جُگاڑ‘ سے ’جلوے‘ تک، ریڈیو پاکستان کراچی کے اِبتدائی چھ برسوں کی داستان
September 21, 2026

’جُگاڑ‘ سے ’جلوے‘ تک

ریڈیو پاکستان کراچی کے اِبتدائی چھ سالوں کی دِلچسپ داستان

جولائی ۱۹۴۷ء کا مہینہ تھا۔ ’تین جون منصوبے‘ کے تحت ہندوستان کے بٹوارے کا حتمی فیصلہ ہوچکا تھا اور اَہلِ کراچی، آل اِنڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے اِس فیصلے پر بہت خوش اور نہایت پُرجوش تھے کہ اُن کا شہر عَنقریب ایک نئی ریاست، مملکتِ خُداداد پاکستان، کا دارُالخلافہ بننے جارہا ہے۔ (بحوالہ: چودھری خلیق الزماں، ’پاتھ وے ٹو پاکستان‘، ص ۳۴۷)

شہر میں نئی حکومت کے حوالے سے ہمہ قِسم کی سرگرمیاں جوش اور وَلولے کے ساتھ جاری تھیں؛ گورنر جنرل آفس اور قانون ساز اسمبلی کیلئے درکار لوازمات کو پورا کرنا، مختلف سرکاری محکموں کے مرکزی دفاتر کے قِیام کیلئے مناسب جگہوں کی تلاش اور ہزاروں سرکاری اَہلکاروں کیلئے مناسب رہائش گاہوں کا اِنتظام یہاں موجود اَفسر شاہی کی اَوّلین ترجیحات تھیں اور حسبِ توقع اِس شہر کی سول سوسائٹی اِس ضمن میں سرکاری اَفسران کو اپنی بھرپور معاونت فراہم کررہی تھی۔

تاہم جولائی ۱۹۴۷ء کے اِس جوش و خروش سے بے نیاز، کراچی کی فریئر روڈ پر ریڈیو کی دُکان کے مالک، ایس۔ کے۔ حیدر، کو ایک الگ ہی فِکر گھائل کیے جارہی تھی۔ وہ سَر تا پا ایک ہی اِضطراب میں ڈوبا ہوا تھا کہ کسی طرح جُگاڑ لگا کر اپنے شہر کو ایک خاص حوالے سے پشاور، لاہور اور ڈھاکہ کے برابر لا سکے۔ جُگاڑ کا مکمل خاکہ اُس نے اپنے ذہن میں ترتیب دے رکھا تھا، مگر اُسے چند چیدہ اَفراد کی مدد اور سرپرستی درکار تھی۔

’جُگاڑ‘ برِصغیر، اور خصوصاً کراچی کی بول چال کا ایک بڑا دِلچسپ لفظ ہے؛ ’جُگاڑ‘ اُس وقتی ترکیب، ہنگامی تدبیر یا کام چلاؤ اِنتظام کو کہتے ہیں جس میں مطلوبہ وسائل مُیسر نہ ہوں، مگر پھر بھی کوئی آدمی دستیاب چیزوں کو جوڑ جاڑ کر اپنی عقل، ہُنر اور حاضر دِماغی سے کام نکال لے۔

جُگاڑ لگانے والے شخص کو بے تکلفی سے ’جُگاڑی‘ کہا جاتا ہے۔

ایس۔ کے۔ حیدر اپنے جُگاڑ کا خاکہ لے کر کراچی کے باسی دو بھائیوں، اَحمد غلام علی چھاگلہ اور علی محمد چھاگلہ، کے پاس جا پہنچے۔ چھاگلہ برادران شہر کے بااَثر اور جانے پہچانے لوگوں میں شمار ہوتے تھے، اور ایس۔ کے۔ حیدر جس معاملے میں اُن کی مدد و معاونت چاہتے تھے، اُس کے لیے یہ دونوں بھائی موزوں ترین اَفراد تھے۔

ایس۔ کے۔ حیدر اور چھاگلہ برادران کے درمیان کئی دن مشاورت ہوتی رہی، جس کے بعد یہ تینوں ہم مشورہ اور ہم صلاح ہوکر حکومتِ سندھ کے مشیر، شری ٹھاکُرداس نارائن سِنگ اِدنانی، کے پاس جا پہنچے۔ اِدنانی ایک عملی آدمی تھے اور اپنے صوبے اور بالخصوص کراچی شہر کیلئے ہمیشہ ہی کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ اُنہیں بھی ایس۔ کے۔ حیدر کی تدبیر پسند آئی اور یوں وہ اِس منصوبے کی سرپرستی اور اِسے سندھ حکومت کی حد تک سرکاری سطح پر آگے بڑھانے میں باقی تینوں اَفراد کے رابطہ کار اور معاون بن گئے۔

اب اِس جُگاڑ کو عملی شکل دینے کا وقت آن پہنچا تھا، جو ایس۔ کے۔ حیدر کے زرخیز ذہن نے سوچ رکھا تھا۔

کراچی جِم خانہ ہال میں دوسری جنگِ عظیم کے زمانے کا ایک پُرانا فوجی ریڈیو ٹرانسمیٹر بیکار پڑا تھا۔ برطانوی اور امریکی اَفواج اِس ٹرانسمیٹر سے بحیرۂ عرب میں موجود اپنی بحری کشتیوں تک پیغام رسانی کا کام لیتی رہی تھیں۔ ایس۔ کے۔ حیدر کی تجویز یہ تھی کہ اِس ٹرانسمیٹر کو وہاں سے نکالا جائے، اِس کے ناکارہ یا گم شدہ پُرزوں کو کراچی کے کباڑ بازار سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر پورا کیا جائے اور پھر اِسے کسی مناسب اور کھلی جگہ پر نصب کرکے اَہلِ کراچی کو آل اِنڈیا ریڈیو سے بالا بالا اپنا ایک ریڈیو اسٹیشن مہیا کردیا جائے۔

ایس۔ کے۔ حیدر اپنے تئیں یہ تہیہ کرچکے تھے کہ اُنہیں کسی بھی ممکن طریقے سے قِیامِ پاکستان سے پہلے پشاور، لاہور اور ڈھاکا کی طرح کراچی میں بھی ریڈیو نشریات شروع کردینی چاہییں ؛ اُن کے نزدیک اگر کراچی میں آل اِنڈیا ریڈیو کا کوئی باقاعدہ ریڈیو ٹرانسمیٹر موجود نہیں تھا تو کیا ہوا؟ جُگاڑ لگانے میں کیا حرج ہے ! چل گیا تو تیر، نہ چلا تو تُکّا۔

شِری ٹھاکُرداس نارائن سِنگ اِدنانی کی سَرپَرستی کیا حاصِل ہوئی، گویا ایس۔ کے۔ حیدر کو پَر لگ گئے۔ اُنہوں نے کراچی جِم خانہ اِنتظامیہ سے جِم خانہ ہال کے تالے کھلوا کر وہاں بیکار پڑے پُرانے فَوجی ریڈیو ٹرانسمیٹر کو نِکلوایا اور کِلفٹن میں واقِع ’اَیک اَیک اِسکول‘ کی بیرکوں میں مُنتقل کردیا۔

اِس ٹرانسمیٹر کے جو پُرزے ناکارہ یا گُم تھے، اُنہیں ایس۔ کے۔ حیدر نے بذاتِ خود اور اپنی دُکان میں کام کرنے والے معاونین کی مدد سے کراچی کے کباڑ خانوں سے ڈُھونڈ ڈھانڈ کر پُورا کیا۔ فریئر روڈ کی اُن کی ریڈیو دُکان میں کام کرنے والے مکینکوں نے ہی اِس ٹرانسمیٹر کی تنصیب کا کام بھی مکمل کیا۔

’اَیک اَیک‘ اُس زمانے میں طَیّارہ شِکَن توپ خانے کے لیے اِستعمال ہونے والی فَوجی اِصطلاح تھی۔ ’اَیک اَیک اِسکول‘ برطانوی فَوج کا ایک تربیتی اِدارہ تھا جس میں اینٹی ائیرکرافٹ آلات چلانے کی تربیت دی جاتی تھی۔ سِندھ حکومت کا سَرکاری ریکارڈ ’اَیک اَیک اِسکول‘ کا مَقام کِلفٹن، کراچی ظاہر کرتا ہے۔

’اَیک اَیک اِسکول‘ کی بیرک کے ایک کمرے میں ٹرانسمیٹر لگ گیا تو دُوسرے کمرے کو عارضی نَشریاتی اِسٹوڈیو کی شَکل دے دی گئی۔ آواز کی گُونج کم کرکے مُناسِب صَوتی ماحول پَیدا کرنے کے لیے کمرے میں موٹے کپڑے کے بھاری پَردے لٹکا دیے گئے۔

’اَیک اَیک اِسکول‘ میں ریڈیو نَشریات کے اِس عارضی بَندوبست کو ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ کا نام دیا گیا۔ اِس بَندوبست کی کوئی قانونی شَکل نہیں تھی اور یہ لے دے کر ہر طرف سے بس ایک ’جُگاڑ‘ ہی تھا۔

اور پھر ۵ اَگست ۱۹۴۷ء کا وہ یادگار دِن آگیا جس میں یہ انکشاف ہونا تھا کہ ایس۔ کے۔ حیدر کا جُگاڑ چلتا بھی ہے یا نہیں؛ ناکامی کے امکانات ، کامیابی کے امکانات سے کہیں زیادہ تھے ۔

تاہم ’اَیک اَیک اِسکول‘، کِلفٹن میں جب اِس پُرانے ٹرانسمیٹر کو آن کیا گیا تو اِس نے خُوش قِسمتی سے سِگنل دینا شُروع کردیے۔ تَجرِبہ کامیاب رہا تھا۔ پانچ روز بعد، ۱۰ اَگست ۱۹۴۷ء کو ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ نے کلفٹن کے ’اَیک اَیک اِسکول‘ کی عمارت سے اپنی باقاعدہ نَشریات شُروع کردیں۔یہ کراچی کا پہلا ریڈیو اسٹیشن تھا۔

دَستیاب رِوایت کے مُطابِق ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ کی نَشریات تقریباً ۲۰۰ میٹر ویو لینتھ پر پیش کی جاتی تھیں، جو فریکوئنسی کے حِساب سے تقریباً ۱۵۰۰ کِلوہرٹز، یعنی ۱.۵ میگاہرٹز بنتی ہے۔

اِس پُرانے فَوجی ریڈیو ٹرانسمیٹر کی اَصل طاقت کتنے واٹ یا کِلوواٹ تھی؟ اِس کی قابِلِ اِعتماد تَفصیل دَستیاب ریکارڈ میں نہیں مِلتی، جس کی اِمکانی وجہ اِس ٹرانسمیٹر کی فَوجی مَقاصد کیلئے تیاری اور اِستعمال تھا۔

۱۰اَگست ۱۹۴۷ء سے ۱۳ اَگست ۱۹۴۷ء تک کے چار دِنوں میں ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ سے موسیقی اور ڈرامے سمیت مختلف نوعیت کے پروگرام نَشر ہوتے رہے، جنہیں اَہلیانِ کراچی بڑے شوق سے اپنے ریڈیو سیٹوں پر سُنتے اور اُن سے مَحظوظ ہوتے رہے۔

’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ اپنی نوعیت کا ایک منفرد ریڈیو اِسٹیشن تھا، جس کی ہر شے عارضی نوعیت کی تھی۔ وسائل بھی نہایت محدود تھے اور اِسٹوڈیو بھی ایک فَوجی بیرک میں قائم کیا گیا تھا، لیکن کمال یہ ہے کہ اِسی کے طُفیل کراچی میں پہلی مرتبہ باقاعدہ ریڈیو نَشریات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

پھر ۱۴ اَگست ۱۹۴۷ء کا تاریخی دِن آن پہنچا۔ پاکستان ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر اُبھرا اور قائدِاعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ نے اُس دِن معمول کے موسیقی اور ڈرامے کے پروگراموں کی بجائے قِیامِ پاکستان کی تاریخی تقریبات اور قائدِاعظم کی حلف برداری کی آنکھوں دیکھی روداد اپنے سامعین تک پہنچائی۔

تاہم کراچی کے اِس پہلے عارضی ریڈیو اِسٹیشن کی زندگی بہت مختصر ثابت ہوئی۔ قِیامِ پاکستان کو ابھی چند ہی روز گزرے تھے کہ ایک قانونی رُکاوٹ سامنے آگئی؛ ’اِنڈین وائرلیس ٹیلی گرافی ایکٹ‘ کی رُو سے صوبائی حکومت کے لیے اپنے طور پر ریڈیو اِسٹیشن چلانے کی گنجائش نہیں تھی۔ چنانچہ ۲۰ اَگست ۱۹۴۷ء کو، باقاعدہ نَشریات شروع ہونے کے صرف دس روز بعد، ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ کی نَشریات بند کردی گئیں۔

یوں کراچی کی فضا میں چند روز پہلے اُبھرنے والی ’سِندھ گورنمنٹ براڈکاسٹنگ اِسٹیشن‘ کی یہ آواز محض دس روز بعد ہی خاموش ہوگئی۔ ایس۔ کے۔ حیدر کا جُگاڑ فَنّی اور اِنجینئرنگ کے اِعتبار سے تو بڑی کامیابی سے چل گیا، مگر اِنتظامی طور پر ’اِنڈین وائرلیس ٹیلی گرافی ایکٹ‘ کی زد میں آگیا۔

۲۰اَگست ۱۹۴۷ء کو ایس۔ کے۔ حیدر کا جُگاڑ سے چلنے والا ریڈیو بند ہوگیا، مگر نئے مُلک کے دارُالخلافہ کراچی کو ایک مستقل اور مناسب طاقت کے ریڈیو اِسٹیشن کی ضرورت بدستور موجود تھی۔ اِس لیے حکومت نے ریڈیو نَشریات کی ترقی کے لیے ایک ترجیحی منصوبہ بنایا، جس میں وفاقی دارُالخلافہ کراچی کے لیے میڈیم ویو، جبکہ کراچی اور ڈھاکا کے لیے شارٹ ویو ٹرانسمیٹروں کی تنصیب تجویز کی گئی۔ اِن شارٹ ویو ٹرانسمیٹروں کا ایک اہم مقصد مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان نَشریاتی رابطہ قائم کرنا بھی تھا۔

ریڈیو پاکستان کے چیف اِنجینئر ریاض اَحمد کو اکتوبر ۱۹۴۷ء میں برطانیہ اور امریکا بھیجا گیا تاکہ نئے ٹرانسمیٹر اور ضروری نَشریاتی سازوسامان حاصل کیا جاسکے۔ اِسی منصوبے کے تحت امریکا سے دو ۵۰ کلوواٹ شارٹ ویو ٹرانسمیٹر اور ایک ۱۰ کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر خریدے گئے، جنہیں کراچی کے قریب لانڈھی میں نصب کیا جانا تھا۔

لیکن اِن بڑے ٹرانسمیٹروں کی تنصیب میں ابھی وقت درکار تھا اور حکومت چاہتی تھی کہ پاکستان کی پہلی سالگرہ تک کراچی سے ریڈیو پاکستان کی آواز ضرور سُنائی دینے لگے، لہٰذا ایک مرتبہ پھر عارضی اِنتظام کا سہارا لیا گیا۔

کراچی کے نمبر ۶ اِنٹیلی جنس اِسکول کی ایک پُرانی اور خستہ حال بیرک کو کراچی ریڈیو اِسٹیشن کا روپ دے دیا گیا؛ دفتری اَہلکاروں کے لیے بیرک کے باہر خیمے لگادیے گئے، جبکہ بیرک کے اندر اِسٹوڈیو قائم کیے گئے۔ ٹرانسمیٹر کی تنصیب کے لیے مناسب اینٹینا ماسٹ دستیاب نہ ہوا تو جُگاڑ لگا کر کراچی میونسپل کارپوریشن کا لوہے کا ایک گٹر پائپ ہی ماسٹ بنادیا گیا۔

یوں ایک بار پھر جُگاڑی اِنتظام کے ساتھ ۱۰۰ واٹ کا میڈیم ویو اور ۲۵۰ واٹ کا شارٹ ویو ٹرانسمیٹر نصب کردیا گیا اور کراچی کا عارضی ریڈیو اِسٹیشن مُلک کی پہلی سالگرہ تک اِفتتاح کے لیے تیار ہوگیا۔

بالآخر ۱۴ اَگست ۱۹۴۸ء کے دِن وزیرِاعظم لیاقت علی خان کے ہاتھوں اِفتتاح کے بعد ریڈیو پاکستان کراچی نے اپنی باقاعدہ نَشریات کا آغاز کردیا۔ اِفتتاحی تقریب کا آغاز مولانا شبیر اَحمد عثمانی کی تلاوتِ قرآنِ مجید اور دُعا سے ہوا، جبکہ وزیرِاعظم کے علاوہ وزیرِ اطلاعات و نشریات خواجہ شہاب الدین نے بھی اِس موقع پر تقریر کی۔ سجاد سرور نیازی کراچی اِسٹیشن کے پہلے اِسٹیشن ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔

اِفتتاحی نَشریات کے دوران ایک دِلچسپ واقعہ بھی پیش آیا۔ وزیرِاعظم لیاقت علی خان قوم سے خطاب کررہے تھے کہ اچانک بجلی چلی گئی۔ کنٹرول روم میں جنریٹر چل پڑا، اِس لیے نَشریات میں تعطل نہ آیا، مگر اِسٹوڈیو اندھیرے میں ڈوب گیا۔ زیڈ۔ اے۔ بخاری نے ٹارچ روشن کرکے وزیرِاعظم کے سامنے رکھے متن پر روشنی ڈال دی اور لیاقت علی خان نے اپنا خطاب جاری رکھا۔

تقریر ختم ہوئی تو لیاقت علی خان نے پوچھا کہ اِسٹوڈیو میں پیٹرومیکس کیوں نہیں رکھا گیا؟ بخاری نے جواب دیا کہ پیٹرومیکس خریدنے کے لیے وزارتِ خزانہ کی منظوری درکار ہے۔ اِس پر وزیرِاعظم نے وہیں دو پیٹرومیکس خریدنے کی خصوصی اجازت دے دی۔

تاہم ریڈیو پاکستان کراچی کو مستقل اور زیادہ طاقت وَر نَشریاتی سہولت فراہم کرنے کی طرف پہلی بڑی پیش رفت یکم نومبر ۱۹۴۸ء کو ہوئی، جب لانڈھی میں ۱۰ کلوواٹ کا میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کام کرنے لگا۔ یہ ۳۶۳.۶ میٹر ویو لینتھ، یعنی ۸۲۵ کلوہرٹز پر نَشریات پیش کرتا تھا اور کراچی کے اِبتدائی ۱۰۰ واٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کے مقابلے میں سو گُنا زیادہ طاقت وَر تھا۔ اِسٹوڈیو بدستور اِنٹیلی جنس اِسکول کی بیرکوں میں قائم تھا اور وہاں سے لانڈھی کے ٹرانسمیٹر تک پروگرام پہنچانے کے لیے فریکوئنسی ماڈیولیٹڈ لنک اِستعمال کیا جاتا تھا۔

اگلے برس، ۱۴ اَگست ۱۹۴۹ء کو، لانڈھی میں ۵۰ کلوواٹ کا پہلا ہائی پاور شارٹ ویو ٹرانسمیٹر کام کرنے لگا۔ اِس نئی سہولت کا اِفتتاح گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین نے کیا۔ اِسی روز ریڈیو پاکستان نے عربی، ایرانی، اَفغان فارسی اور برمی زبانوں میں اپنی چار بیرونی نَشریاتی سروسوں کا آغاز کردیا۔

لانڈھی کا دوسرا ۵۰ کلوواٹ شارٹ ویو ٹرانسمیٹر ۲۵ دسمبر ۱۹۴۹ء کو کام میں آگیا۔ اِس کے ساتھ ریڈیو پاکستان کے تکنیکی ترقی کے ترجیحی منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا اور مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان نَشریاتی رابطے کے ساتھ پاکستان کی آواز بیرونِ مُلک پہنچانے کی صلاحیت میں بھی نمایاں اِضافہ ہوگیا۔

یوں ایس۔ کے۔ حیدر کے اُس چند روزہ جُگاڑ سے شروع ہونے والی کراچی کی ریڈیو کہانی صرف دو برس کے اندر اِس مقام تک پہنچ گئی کہ اب کراچی سے اُٹھنے والی آواز پاکستان کی سرحدوں سے بہت دُور تک سُنی جانے لگی تھی۔

لانڈھی میں نئے اور زیادہ طاقت وَر ٹرانسمیٹروں کے آغاز سے ریڈیو پاکستان کراچی کی نَشریاتی طاقت تو بڑھ گئی، لیکن اِسٹیشن اب بھی کوئینز روڈ کے اِنٹیلی جنس اِسکول کی عارضی بیرکوں سے کام کررہا تھا۔ دارُالخلافہ کے ریڈیو اِسٹیشن اور ریڈیو پاکستان کے مرکزی اِنتظامی دفاتر کے لیے اب ایک مستقل براڈکاسٹنگ ہاؤس کی ضرورت شِدّت سے محسوس ہونے لگی۔

اِبتدا میں ایک نیا براڈکاسٹنگ ہاؤس تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، لیکن مختلف مشکلات کے باعث نئی عمارت کی تعمیر کا اِرادہ مؤخر کرنا پڑا۔ اِسی دوران بندر روڈ (موجودہ ایم۔ اے۔ جناح روڈ) پر واقع ڈسٹرکٹ بورڈ کی ایک سرکاری عمارت، جو اُس وقت خالی پڑی تھی، ریڈیو اِنتظامیہ کی نظر میں آگئی۔ عمارت اپنی نہیں تھی اور نہ ہی ریڈیو اِسٹیشن کی ضروریات کے مطابق بنائی گئی تھی؛ سو طے پایا کہ فی الحال اِسی عمارت کو ریڈیو کی ضروریات کے مطابق ڈھال کر براڈکاسٹنگ ہاؤس بنالیا جائے۔

یوں کراچی ریڈیو کی کہانی میں ایک اور جُگاڑ کام آگیا۔ عمارت کی نچلی منزل کو دفاتر کے لیے تیار کیا گیا، جبکہ بالائی حصے میں باقاعدہ اِسٹوڈیوز قائم کیے گئے۔ یہ محض کمروں میں مائیکروفون رکھ دینے کا معاملہ نہیں تھا۔ اِسٹوڈیوز کو بیرونی شور اور عمارت میں پیدا ہونے والے اِرتعاش سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی فَنّی اِنتظامات کیے گئے۔

یہ کام ۱۹۵۱ء میں مکمل ہوا اور ۱۶ جولائی ۱۹۵۱ء کو وزیرِاعظم لیاقت علی خان نے ایم۔ اے۔ جناح روڈ کے اِس براڈکاسٹنگ ہاؤس کا باقاعدہ اِفتتاح کردیا۔ کراچی ریڈیو اِسٹیشن کوئینز روڈ کے اِنٹیلی جنس اِسکول کی عارضی بیرکوں سے نکل کر اِس عمارت میں منتقل ہوگیا۔ یوں جس ریڈیو کی کراچی میں کہانی صرف چار برس پہلے ایک پُرانے فَوجی ٹرانسمیٹر، کباڑ بازار کے پُرزوں اور ’اَیک اَیک اِسکول‘ کی بیرک سے شروع ہوئی تھی، اب اُس کے پاس ایک باقاعدہ براڈکاسٹنگ ہاؤس تھا۔

کراچی ریڈیو اِسٹیشن کا یہ براڈکاسٹنگ ہاؤس اپنے نئے اِسٹوڈیوز، کنٹرول روم اور بہتر نَشریاتی سہولتوں کے ساتھ، دارُالخلافہ میں واقع ہونے کے باعث، اہم ملکی اور غیر ملکی شخصیات کی آمدورفت کا مقام بھی بننے لگا۔

دسمبر ۱۹۵۳ء میں امریکا کے نائب صدر رچرڈ نکسن اپنے طویل غیر ملکی دورے کے اِختتامی مرحلے میں اپنی اہلیہ پیٹ نکسن کے ہمراہ پاکستان پہنچے۔ ۸ دسمبر کو اُن کے پروگرام میں ریڈیو پاکستان کراچی کا دورہ بھی شامل تھا۔

براڈکاسٹنگ ہاؤس پہنچنے پر ریڈیو پاکستان کے سربراہ سیّد ذوالفقار علی بخاری (زیڈ۔ اے۔ بخاری) نے اُن کی میزبانی کی۔ اِس موقع پر اُن کے بڑے بھائی، نام وَر ادیب، سابق ڈائریکٹر جنرل آل اِنڈیا ریڈیو اور اُس وقت اَقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے، سیّد اَحمد شاہ ’پطرس‘ بخاری بھی موجود تھے۔ پطرس بخاری ۱۹۵۱ء سے ۱۹۵۴ء تک اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے رہے۔

رچرڈ نکسن نے ریڈیو پاکستان سے پاکستانی سامعین کے لیے خطاب کیا اور وزیٹرز بُک میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے۔ اِس دورے کی محفوظ تصویری دستاویز میں بھی نکسن کو ریڈیو پاکستان کی وزیٹرز بُک میں اپنے تاثرات قلم بند کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

اِس دورے کی چند تصاویر آج بھی اُس تاریخی لمحے کو محفوظ کیے ہوئے ہیں؛ ایک تصویر میں نکسن ریڈیو پاکستان کی وزیٹرز بُک پر اپنے تاثرات لکھ رہے ہیں، جبکہ دوسری میں زیڈ۔ اے۔ بخاری اور پطرس بخاری اُن کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ تصویر میں دیوار پر لگی ’ای۔ پی۔ ٹی‘ یعنی ’ایسٹ پاکستان ٹائم‘ کی گھڑی کی سوئیاں ۵ بج کر ۳۵ منٹ پر ٹھہری دکھائی دیتی ہیں۔

۱۹۴۷ء میں کراچی ریڈیو کی جس کہانی کا آغاز ایک جُگاڑ سے ہوا تھا، ۱۹۵۳ء تک اُس کہانی پر ’جلوہ‘ غالب آچکا تھا؛ دنیا کی ایک بڑی طاقت امریکا کا نائب صدر کراچی کے براڈکاسٹنگ ہاؤس میں بیٹھا ریڈیو پاکستان کی وزیٹرز بُک میں اپنے تاثرات قلم بند کررہا تھا۔

اور ’جلوے‘ کی بات کچھ ایسی مبالغہ آمیز بھی نہ تھی؛ تقریباً پندرہ برس بعد، جنوری ۱۹۶۹ء میں جب یہی رچرڈ نکسن امریکا کے سینتیسویں صدر بنے تو ۱۹۵۳ء میں ریڈیو پاکستان کراچی میں محفوظ ہونے والا وہ لمحہ وقت گزرنے کے ساتھ اور بھی تاریخی بن گیا۔

یوں کراچی ریڈیو کے اِبتدائی چھ برسوں کی یہ داستان واقعی ’جُگاڑ سے جلوے تک‘ کا سفر ثابت ہوتی ہے۔ وسائل کم تھے، مشکلات بہت تھیں، مگر کام کرنے والوں میں ہُنر، حوصلے اور کچھ کر گزرنے کی لگن کی کمی نہ تھی۔ ایک ناکارہ فَوجی ٹرانسمیٹر سے اُبھرنے والی آواز چند ہی برس میں ایک باقاعدہ اور باوقار نَشریاتی اِدارے کا روپ دھار چکی تھی۔

یہی ریڈیو پاکستان کے اُس شاندار ماضی کا اَصل جلوہ تھا—اور بفضلِ خدا، یہ جلوہ آج بھی قائم و دائم ہے۔

تحریر: سعید احمد شیخ ، ڈی جی ریڈیو پاکستان