فائل فوٹو
آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کی جانب سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث ممکنہ سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔
17 تا 23 اگست گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر کے حساس پہاڑی علاقوں میں گلیشیئرز اور برف پگھلنے، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور مون سون بارشوں کے باعث، اچانک سیلاب اور ملبے کے بہاؤ کا خطرہ ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق نارووال، سیالکوٹ، گجرات، جہلم، راولپنڈی، اسلام آباد، چکوال، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، لاہور، قصور، فیصل آباد، چنیوٹ اور اٹک کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے۔
بالائی علاقوں، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، کشمیر اور پنجاب میں موجودہ مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، تمام بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی ٹیمیں، ضروری ریسکیو وسائل کو تیار رکھنے، حساس آبادیوں کے لیے انخلا کے راستے اور محفوظ مقامات کی نشاندہی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
سفر سے پہلے موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں۔ اگر شدید بارش یا کسی بھی ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری ہو تو غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
سفر کے دوران اپنے ساتھ پینے کا پانی، خشک خوراک، ٹارچ، ابتدائی طبی امداد کا سامان، پاور بینک اور ہنگامی رابطہ نمبرز ضرور رکھیں۔
این ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں۔
عوام این ڈی ایم اے کی آفیشل ایپ ”پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ” سے بروقت معلومات حاصل کریں۔