اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے میڈیا کے ساتھ اہم نشست کی ہے۔ رواں سال ملک بھر میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشتگردی کی سرکوبی کے لئے مجموعی طور پر 32092 آپریشنز کیے، سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان رجیم کی سرپرستی اور تعاون سے دہشتگردی کے 2170 واقعات ہوئے، جن میں 1861 دہشتگرد جہنم واصل ہوئے اور ارض پاک کے 640 بہادر سپوتوں نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ انسدادِ دہشتگردی کی اس جنگ کے اعداد و شمار اس امر کے عکاس ہیں کہ افغان طالبان رجیم کی سرپرستی میں پنپنے والے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کس طرح پاکستان کی قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ ہمارا سفارتی رابطہ مکمل طور پر شفاف، باضابطہ اور ہمارے اس بنیادی مطالبے پر مبنی ہے کہ دہشت گردی کی سرپرستی فوری بند کی جائے۔
سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان کی حدود میں کیے جانے والے تمام فضائی و عسکری حملے انتہائی درستگی اور ٹھوس انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کیے گئے۔ طالبان رجیم انسانی حقوق کے لئے کسی قسم کے قابل احترام جذبات سے عاری ہے اور ان میں خواتین اور بچوں کے حقوق کا کوئی احترام نہیں ہے۔ دہائیوں پر محیط مسلسل رابطوں کے بعد پاکستان بالآخر اس حتمی نتیجے پر پہنچا ہے کہ طالبان رجیم کی جانب سے اسلام کی مسخ شدہ تشریح کے نفاذ کے حامی ہیں۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ طالبان رجیم کا غیر ذمہ دارانہ اور پرتشدد رویہ کسی بھی قسم کے سفارتی یا باہمی رابطے کے امکان کو رد کرتا ہے۔ پاکستان نے 2021 سے لے کر 2025 تک چار سال موجودہ افغان رجیم سے کثیر الجہتی مذاکرات کیے جو اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان افغانستان کیساتھ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں رہا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے کیا گیا مطالبہ دہشت گردوں کو سہولت، پناہ اور سرپرستی فراہم کرنے کا سلسلہ ختم کرنا ہے۔ افغان طالبان رجیم نے دہشتگردی کی سرپرستی اور افغان سرزمین کا دہشتگردی کے لئے استعمال روکنے میں ہمیشہ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ افغان طالبان رجیم کی ہٹ دھرمی اور غیر سنجیدہ رویے کے باعث پاکستان نے سرحد پار دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار کی میڈیا کے ساتھ اہم نشست (بلوچستان)
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فتنہ الہندستان (بی ایل اے) خالصتاً ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کی سرپرستی بھارت اور اس کے علاوہ کچھ یورپی عناصر کر رہے ہیں۔ پاکستان دشمن عناصر بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔ ریاست مخالف بیانیے کی تشکیل اور ترویج بھارت اور پاکستان دشمن عناصر کی طرف سے کی جا رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ نام نہاد بیانیہ کی جنگ سوشل میڈیا تک محدود ہے اور یہ زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ 32 ہزار کلو میٹر پر محیط سڑکیں اور ہائی ویز پر روزانہ 18 ہزار سے زائد گاڑیوں کی آمدورفت ہوتی ہے۔ یہ دہشتگرد بلوچستان کی وسعت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اکا دکا گاڑیوں کو نشانہ بنا کر سوشل میڈیا اور کچھ بیرونی میڈیا کے ذریعے بلوچستان کے حالات کو منفی انداز میں پیش کرتے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع نے بھی کہا کہ دہشتگردوں کے سہولت کار اور بیرون ملک بیٹھے ہنڈلرز ایک منظم اور مربوط حکمت عملی کے تحت ان ویڈیوز کو استعمال کر کے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کا حصہ بنتے ہیں۔ فتنہ الہندوستان اور اس کے سرپرستوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے خواتین کو استعمال کرنے کی مذموم حکمت عملی اپنائی ہے۔ یہ مکروہ حکمت عملی اسلام اور بلوچ روایات سے متصادم ہے جس کی وجہ سے بلوچستان کے طول و ارض میں فتنہ الہندوستان کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ ضلعی سطح پر فنڈز کی شفاف تقسیم اور منصوبوں کے درست انتخاب، بروقت عمل درآمد کے ذریعے حکومتِ بلوچستان بہترین نتائج پیدا کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ ریکوڈک اور کان کنی کے دیگر منصوبے بلوچستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے ایک اہم سنگ میل ہے۔ ان سے حاصل ہونے والے فوائد اور بلوچستان کو ملنے والی رائلٹی صوبے کی ترقی میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔کسی بھی علاقے سے نکلنے والی معدنیات کی کھپت اُس علاقے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کو ایکسپورٹ اور پروسیسنگ کے ذریعے ترقی کا ذریعہ بنایا جاتا ہے اور فوائد عوام کو حاصل ہوتے ہیں۔
اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار کی میڈیا کے ساتھ اہم نشست (دفاعی بجٹ)
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دفاعی بجٹ بڑھا کر 3 ہزار ارب روپے کر دیا گیا ہے، لیکن مہنگائی کی شرح اس کی حقیقی مالیت کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔ اس مختص کردہ بجٹ کا 80 فیصد سے زائد حصہ لازمی اخراجات کی طرف جاتا ہے، جس میں راشن، Maintenance اور تنخواہیں شامل ہیں۔ یہ لازمی اخراجات واپس ملکی معیشت میں شامل ہو کر اسی کو استحکام فراہم کرتے ہیں۔
ذرایع کا بتانا ہے کہ ان اخراجات کے بعد سازو سامان کی خریداری، ترقیاتی منصوبوں اور سپاہ کی استعداد بڑھانے کے لئے ایک محدود حصہ ہی باقی بچتا ہے۔ بھارت کا دفاعی بجٹ 90 بلین ڈالر سے زائد ہے جو پاکستان کے دفاعی بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے۔ پاکستان کی افواج بیک وقت روایتی، تکنیکی اور دہشتگردی کی جنگ لڑی رہی ہیں اور اس کی تیاری میں مصروف ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق مستقبل کی جنگ تکنیکی استعداد میں بہتری کی متقاضی ہے جبکہ انسداد دہشتگردی کی جنگ میں افرادی قوت پر انحصار بھی ہے۔ کثیر الجہتی آپریشنل صلاحیت کے پیش نظر دفاعی بجٹ میں کیا جانے والا اضافہ مستقبل کی سکیورٹی اور عسکری ضروریات کی وجہ سے ہے۔ضرورت زیادہ بھی ہو تو کوئی مسئلہ نہیں آپ کی افواج دفاع وطن کے لئے فخر کے ساتھ ہمہ وقت تیار ہیں۔