File Photo
آج بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن منایا جا رہا ہے۔
اس دن کے انعقاد کا مقصد دنیا بھر میں بچوں سے مشقت کے مسئلے کی شدت کی جانب توجہ مبذول کرانا اور اس کے خاتمے کے لیے درکار اقدامات اور کوششوں کو فروغ دینا ہے۔
اس سال اس دن کا موضوع ہے:
''بچوں سے مشقت کو ریڈ کارڈ: بچوں کے لیے منصفانہ کھیل، بالغوں کے لیے باوقار روزگار''۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہبازشریف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان سے بچوں سے مشقت کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا تاکہ بچوں کو استحصال سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج منائے جانے والے بچوں سے مشقت کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات میں کیا۔
صدر نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر اس عزم کی تجدید کرتا ہے کہ ہر بچے کو استحصال سے محفوظ ماحول دیا جائے اور سکول جانے کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں گے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت اس مقصد کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی پر عمل کر رہی ہے جس کا مقصد بچوں سے مشقت کا مکمل خاتمہ ہے۔
شہبازشریف نے تمام طبقات آجروں، مزدوروں، والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی، مذہبی رہنماؤں، ذرائع ابلاغ اور نجی شعبے سے اپیل کی کہ وہ اس قومی مشن میں حکومت کا ساتھ دیں تاکہ بچوں کو استحصال سے محفوظ رکھا جاسکے۔