کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور بھارت کے گودی میڈیا کے درمیان گٹھ جوڑ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا ہے، جبکہ شرپسند عناصر اور بعض سیاسی کارکن اس کمیٹی کی پرتشدد سرگرمیوں کو سوشل میڈیا پر پھیلانے میں مصروف ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بھارتی میڈیا آزاد کشمیر کی صورتحال کو مسخ شدہ انداز میں پیش کرنے کے لیے پرانی، جعلی اور غیر متعلقہ ویڈیوز استعمال کر رہا ہے۔ بعض بھارتی نیوز چینلز نے کراچی میں ہونے والے احتجاج کی پرانی ویڈیوز کو آزاد کشمیر سے منسوب کرکے نشر کیا تاکہ عوام کو گمراہ اور مشتعل کیا جا سکے۔
حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت ممنوع قرار دیا ہے، تاہم بھارتی میڈیا اسے "عوامی مزاحمت" قرار دے کر اپنے مخصوص بیانیے کو فروغ دے رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق چند ملک دشمن بھگوڑے یوٹیوبرز اور بعض سوشل میڈیا اکاونٹس بھی بھارتی میڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان مخالف پروپیگنڈا مہم چلا رہے ہیں۔ اس دوران بعض افغان سوشل میڈیا اکانٹس بھی آزاد کشمیر سے متعلق جعلی اور مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ویڈیوز کے ذریعے گمراہ کن مواد پھیلا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا کی مسلسل حمایت اور پروپیگنڈا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ معاملہ محض احتجاج تک محدود نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں بیرونی حمایت اور منظم سازش کے عناصر بھی موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق بھارت انتشاری عناصر کے مطالبات کو بنیاد بنا کر خطے میں انتشار پھیلانے اور پاکستان کے خلاف منفی تاثر اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے اصل مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لیے آزاد جموں و کشمیر کے حوالے سے گمراہ کن مہم چلا رہا ہے۔