فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے عناصر کے خلاف ان کے اہلخانہ کی جانب سے بھی لاتعلقی اور نفرت کا اظہار سامنے آیا ہے، جہاں گوادر سے تعلق رکھنے والے دو شہریوں نے پریس کانفرنس کے دوران اپنی لاپتہ بیٹیوں کے ممکنہ غیرقانونی اقدامات سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کیا۔
گوادر کے رہائشی علی بلوچ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کی بیٹی اقرا گزشتہ ایک ماہ سے لاپتہ ہے اور اس کے بارے میں اب تک کوئی مصدقہ معلومات موصول نہیں ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ خاندان، رشتہ داروں اور جاننے والوں نے ممکنہ مقامات پر اس کی تلاش کی، تاہم اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
علی بلوچ نے واضح کیا کہ وہ اور ان کے خاندان کے تمام افراد اقرا کے کسی بھی غیرقانونی، ریاست مخالف یا غلط اقدام کی حمایت نہیں کرتے اور اگر وہ کسی ایسے عمل میں ملوث پائی گئی تو اس کی ذمہ داری خاندان پر عائد نہیں ہوگی۔
اسی طرح گوادر کے ایک اور شہری شیر محمد نے بھی پریس کانفرنس کے دوران اپنی بیٹی حنیفہ سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حنیفہ 2 جون 2026 سے لاپتہ ہے اور تلاش کے باوجود اس کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔
شیر محمد کا کہنا تھا کہ اگر ان کی بیٹی نے قانون، ریاست یا معاشرتی اقدار کے خلاف کوئی راستہ اختیار کیا ہے تو اس کی ذمہ داری خاندان پر عائد نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حنیفہ کے حوالے سے کیے جانے والے کسی بھی پروپیگنڈے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
شیر محمد نے اپنے بیان میں اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ ایک محب وطن پاکستانی شہری ہیں اور آئین و قانون کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا خاندان ہمیشہ ریاستی اداروں اور قومی مفادات کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق ایسے بیانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دہشت گرد اور ریاست مخالف عناصر کے نظریات کو معاشرے اور ان کے قریبی حلقوں میں بھی پذیرائی حاصل نہیں ہو رہی۔