Friday, 12 June 2026, 11:48:12 pm
 
آئندہ مالی سال کیلئے 18 ہزار 771 ارب روپے کا عوام دوست وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش
June 12, 2026

آئندہ مالی سال کیلئے اٹھارہ ہزار سات سو اکہتر ارب روپے کے مجموعی حجم کا عوام دوست بجٹ پیش کردیا گیا ہے جس میں معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے اور ٹیکس ریلیف دینے پر توجہ دی گئی ہے۔

وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے آج شام اسلام آباد میں قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کی بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی اخراجات میں سے آٹھ ہزار چون ارب روپے مارک اپ کی ادائیگی کے لیے رکھے جائیں گے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی حکومت کی مجموعی آمدن کا تخمینہ بیس ہزار چھ سوارب روپے ہے۔ ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ پندرہ ہزار دوسو چونسٹھ ارب روپے ہے جو رواں مالی سال کے مقابلے میں سترہ ارب ساٹھ کروڑ روپے زیادہ ہے۔ وفاق کی وصولیوں میں صوبوں کا حصہ آٹھ ہزار آٹھ سو اڑتالیس ارب روپے ہے۔ نان ٹیکس محصولات کا ہدف پانچ ہزار تین سو چھتیس ارب روپے ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئندہ مالی سال مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو چار فیصد اور افراط زر کی اوسط شرح آٹھ اعشاریہ دو فیصد رہنے کی توقع ہے۔ بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کا تین اعشاریہ چھ فیصد اور بنیادی سرپلس مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد ہو گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی شعبے کے ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی دفاع حکومت کی اولین ترجیح ہے جس کے لیے تین ہزار ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ پنشن کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ایک ہزار ایک سو انہتر ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ بجلی اور دوسرے شعبوں میں سبسڈی کے لیے ایک ہزار اکانوے ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے گرانٹس کی مد میں دو ہزار چھ سو اسی ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے ایک ہزار اکہتر ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے لیے اکہتر ارب روپے اور ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کی توسیع کے لیے اٹھاسی ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فلیگ شپ اقدامات کی کوریج بڑھانے کے لئے حکومت کے ارادے کا اظہار کیا۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ کفالت پروگرام کے دائرہ کار کو ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں تک وسعت دی جائیگی اور بانوے لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تعلیمی وظائف پروگرام کو بھی مزید وسیع کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے آٹھ سو اڑتیس ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ موجودہ اخراجات میں سے آزاد جموں و کشمیر کے لیے ایک سو چھیالیس ارب روپے، گلگت بلتستان کے لیے اٹھاسی ارب روپے اور خیبرپختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کے لیے پچانوے ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے تین ہزار چھ سو پچھہتر ارب روپے مالیت کے قومی ترقیاتی پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں وفاق میں سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کیلئے ایک ہزار ارب روپے، صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے دوہزار دوسوچوبیس ارب روپے اور سرکاری اداروں کے ترقیاتی اخراجات کے لیے چارسواکاون ارب روپے شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تقسیم ایک آئینی انتظام کی عکاسی کرتی ہے جس کے تحت اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد سماجی شعبے کی ذمہ داریوں کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ وفاقی حکومت قومی اہمیت کے حامل منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ وفاق میں سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کا ساٹھ فیصد سے زائد ٹرانسپورٹ اور مواصلات، آبی وسائل اور توانائی کے اہم شعبوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ باقی رقم اعلی تعلیم، زراعت، صحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دوسرے اہم شعبوں کیلئے رکھی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان کے تحت تمام اقدامات اور نیشنل اکنامک ٹرانسفارمیشن پلان کے فائیو ایز اس ترقیاتی پروگرام کے اہم حصے ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سستی، قابل اعتماد اور پائیدار توانائی کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح اور معیشت کی بنیادی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں پاور سیکٹر کے لیے ایک سو سولہ ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پن بجلی کے سب سے اہم اقدامات میں دیامر بھاشا ڈیم کی توسیع، تربیلا ڈیم کی پانچویں توسیع اور مہمند پن بجلی منصوبہ شامل ہیں۔ماحول دوست اور قابل تجدید توانائی کے لیے واپڈا کو نو منصوبوں کے لیے پچاس ارب بیس کروڑ ارب روپے دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں پن بجلی کے آٹھ منصوبوں کے لیے تیرہ ارب دس کروڑ روپے کی خصوصی رقم مختص کی گئی ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کو پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے متعلق کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سیلاب نے ہماری معیشت کو آٹھ سو بائیس ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس شعبے میں منظم سرمایہ کاری کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ میں پانی کے منصوبوں کے لیے ایک سو تین ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔ سب سے اہم منصوبوں میں دیامر بھاشا ڈیم کے لیے چودہ ارب روپے، مہمند ڈیم کے لیے بائیس ارب روپے، داسو پن بجلی منصوبے کے لیے پندرہ ارب روپے اور کراچی کے پانی کی فراہمی کے منصوبے K-4 کے لیے دس ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف اقدامات کے حوالے سے وزیر خزانہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اورپنشنرز کی پنشن میں سات سات فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کم از کم اجرت میں دس فیصد اضافے کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے چاروں ٹیکس SLABSمیں انکم ٹیکس کی شرح میں کمی کرکے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ کمانے والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بتیس لاکھ سے اکتالیس لاکھ روپے سالانہ کمانے والے ٹیکس دہندگان کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اکتالیس لاکھ سے چھپن لاکھ روپے تک کمانے والے تنخواہ دار افراد کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کر دی جائے گی، جب کہ چھپن لاکھ سے 70 لاکھ روپے تک کمانے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم ہو کر 32 فیصد ہو جائے گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج کو ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پندرہ کروڑ سے پچاس کروڑ روپے تک کمانے والے کاروبار پر ایک سے سات اعشاریہ پانچ فیصد تک کا سپر ٹیکس واپس لے لیا گیا ہے، جبکہ پچاس کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر شرح دس فیصد سے کم کر کے آٹھ فیصد کر دی گئی ہے۔

روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معاشی ترقی کو آگے بڑھانے میں تعمیراتی شعبے کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ جائیداد کی منتقلی پر ود ہولڈنگ ٹیکس کو معقول بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فائلرز کے لیے پراپرٹی کی خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس ڈھائی فیصد سے کم کرکے ایک اعشاریہ دو پانچ فیصد اور فروخت پر ساڑھے پانچ فیصد سے کم کر کے دو اعشاریہ سات پانچ فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ اور اس شعبے کو تقویت ملے گی۔

ڈیجیٹل معیشت پاکستان کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی آمدنی کا ذریعہ ہے۔ پاکستان کا آئی ٹی اور اس سے متعلقہ خدمات کا شعبہ بشمول فری لانسرز، سافٹ ویئر ہائوسز، اور ڈیجیٹل برآمد کنندگان ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا آئی ٹی برآمدات کی آمدنی پر 0.25 فیصد کی ایف ٹی آر رعایت رواں ماہ کے آخر تک ختم ہونے والی ہے۔ انہوں نے کہا اس اسکیم کو مزید تین سال کے لیے تیس جون 2029 تک توسیع دینے کی تجویز ہے۔ اس اقدام سے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اضافے اور نوجوانوں کو اس شعبے میں شامل ہونے کی ترغیب دینے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہاکہ برآمدی شعبہ زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ اور ہماری اقتصادی ترقی کا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا اس وقت برآمدات پر ایڈوانس انکم ٹیکس اور کم از کم ٹیکس کے تحت مشترکہ دو فیصد ٹیکس عائد ہے۔ اور اسے کم کر کے ایک اعشاریہ دو پانچ فیصد کرنے کی تجویز ہے جو کم از کم ٹیکس کی مد میں وصول کی جائے گی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ غیر ملکی اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس اور مانع حمل ادویات کے ساتھ ساتھ سینیٹری پیڈز اور دیگر متعلقہ اشیا پر ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے کئے جانے والے ہر بین الاقوامی لین دین پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ اس بلند شرح نے رقم کی منتقلی کے لیے غیر رسمی ذرائع کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو 0.5 فیصد تک کم کرنے کی تجویز ہے۔ اس طریقے سے اس طرح کے لین دین کو عام مالیاتی طریقوں کے قریب لایا جائے گا اور معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔