خیبر پختونخوا کے شہریوں نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کو یومِ نجات قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
شہریوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے پر گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے ایک قبضہ گروپ قابض تھا اور وہاں بدعنوانی عروج پر تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کو وفاق سے ملنے والے فنڈز دھرنوں پر خرچ کیے گئے، جس کے باعث صوبہ ترقی کے میدان میں پیچھے رہ گیا۔
شہریوں نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت سے چھٹکارا ملنے پر یومِ نجات منا رہے ہیں اور مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں۔
انہوں نے وفاقی حکومت کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے نئے انتظامی سیٹ اپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔