محمد شاہ رنگیلے
وہ مغل بادشاہ، جس کا وَصفیہ لقب اُس کے لیے طعنہ بنایا گیا۔
’بادشاہ گر‘ بھائیوں، سید حسن علی خان اور سید حسین علی خان، نے اپنے ماموں زاد سید غلام علی خان کو پانچ سو گھڑ سواروں کے ہمراہ قلعۂ دہلی کے لیے روانہ کیا۔ اُس کے پاس قلعے کے نگران ملک یار خان کے نام قلعے میں مُقَیَّد مغل شہزادے سلطان ابراہیم کی حوالگی کا پروانہ تھا جسے وہ ایک کٹھ پتلی حاکم کے طور پر مغل تخت پر بٹھانا چاہتے تھے ۔
’بادشاہ گر‘ اِصطلاحاً اُس بااَثر شخص کو کہا جاتا تھا جو خود تخت پر بیٹھنے کے بجائے اپنی سیاسی اور عَسکری طاقت کے بَل پر دوسروں کو بادشاہ بنانے یا اُنہیں ہٹانے کی قُدرت رکھتا ہو۔
یہ دونوں بھائی ’ساداتِ بارہہ‘ سے تعلق رکھنے والے ’ہفت ہزاری‘ مَنصب دار تھے۔ اُن کے والد سید عبداللہ خان (المعروف سید میاں) اورنگ زیب عالمگیر کے عہد میں بیجاپور اور اجمیر کے صُوبہ دار (گورنر) رہ چکے تھے۔ یوں مغل دربار میں اِس خاندان کے اَثر و رُسوخ کی بنیاد عالمگیری عہد ہی سے پڑچکی تھی، جسے وقت گزرنے کے ساتھ اِن دونوں بھائیوں نے مزید تَقویت دی تھی۔
یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ یہ سید برادران اپنی مرضی کے کسی مغل شہزادے کو تخت پر بٹھا رہے تھے، بلکہ اُن کی ’بادشاہ گری‘ کی کہانی کئی برس پہلے سےشروع ہوچکی تھی۔
اِن بھائیوں نے پہلے ۱۰ جنوری ۱۷۱۳ء کو آگرہ کے قریب ہونے والی جنگ میں، دسویں مغل بادشاہ جہاندار شاہ کو شکست دے کر فرخ سیر کو مغل تخت پر بٹھایا۔ پھر چھ سال بعد، ۱۷۱۹ء میں، اِسی فرخ سیر کو پہلے مَعزول اور پھر قتل کرانے کے بعد اُنہوں نے تپِ دِق کے شکار ایک کم سِن مغل شہزادے رفیع الدرجات کو تخت پر بٹھایا تھا۔
اب اُن سید برادران کو ، ظہیرالدین بابر سے شروع ہونے والی مغل بادشاہوں کی لڑی کے رفیع الدرجات کے بعد کے بارہویں مغل بادشاہ، شاہ جہاں ثانی (اصل نام: رفیع الدولہ)، کی تپِ دِق سے ۱۷ ستمبر ۱۷۱۹ء کو ہونے والی موت کے سبب خالی ہونے والے مغل تخت کے لیے نیا بادشاہ دَرکار تھا، جس کے لیے اُنہوں نے اپنے ماموں زاد بھائی غلام علی خان کو قلعۂ دہلی بھیجا تھا۔ اِس دفعہ اُن کا اِرادہ قلعے میں مُقَیَّد شہزادہ سلطان ابراہیم کو تخت پر بٹھانے کا تھا۔
مگر قلعے کے نگران سے شہزادے کی شناخت میں غلطی ہوگئی؛ اُس نے سلطان ابراہیم کے بجائے شہزادہ روشن اختر کو غلام علی خان کے حوالے کردیا۔(بحوالہ: محمد ہاشم خافی خان، مُنتخبُ اللُّباب، جلد دوم، ص ۸۴۰)
یہ شہزادہ اپنی والدہ فخرُالنّساء بیگم کے ہمراہ گزشتہ تقریباً سات برس سے قلعۂ دہلی میں مُقَیَّد اور نظر بند تھا۔
غلام علی خان قلعۂ دہلی سے شہزادے کو لے کر روانہ ہوا۔ شہزادے کو لے جانے والے گھڑ سوار دستے اور اُس کے سالار نے سفر کا کچھ حِصّہ زمینی راستے سے اور کچھ دریائے جمنا میں کشتیوں کے ذریعے طے کیا۔ ۲۴ ستمبر ۱۷۱۹ء کو یہ قافلہ فتح پور سیکری سے تقریباً تین کوس شمال میں واقع بِدیّاپور پہنچا، جہاں سید برادران کا لشکر پہلے سے پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔(بحوالہ: رستم علی، قلمی نسخہ ’تاریخِ ہندی‘، ورق ۲۳۷ الف)
غلام علی خان کے ہمراہ آنے والے شہزادے سے سوال جواب کے بعد سید برادران کو اِدراک ہوا کہ جس شہزادے کو منگوایا گیا تھا، وہ یہ تھا ہی نہیں۔ حُکم رفیع الشان کے بیٹے سلطان ابراہیم کو لانے کا تھا، مگر سامنے خُجِستہ اختر جہاں شاہ کا سترہ سالہ بیٹا روشن اختر کھڑا تھا۔
غلطی ہوچکی تھی، لیکن سید برادران نے مَصلحتاً روشن اختر ہی کو قبول کرلیا۔ اُنہیں مغل خاندان سے مَحض ایک علامتی بادشاہ کی ضرورت تھی، جسے تخت پر بٹھا کر وہ سلطنت کی اصل باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھ سکیں۔
اگر سلطان ابراہیم کے بجائے روشن اختر اُن کے ہاتھ لگا تھا تو اُنہیں اِس اَمر سے کوئی خاص پریشانی نہیں تھی۔ پے در پے مغل شہزادوں کو تخت پر بٹھانے اور اُتارنے کے اُن کے طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اِن شہزادوں کو کم و بیش یکساں طور پر نااَہل اور ناکارہ سمجھتے تھے، اور اُن کی نگاہ میں تخت پر بیٹھنے والے شخص سے کہیں زیادہ اہم یہ تھا کہ اصل اِقتدار اُنہی کے ہاتھ میں رہے۔
چُنانچہ ۲۸ ستمبر ۱۷۱۹ء کو بِدیّاپور ہی میں روشن اختر کو تخت پر بٹھا دیا گیا۔ تخت نشینی کے ساتھ اِس سترہ سالہ شہزادے کو ’ابوالفتح ناصرالدین محمد شاہ بادشاہ غازی‘ کے شاہی اَلقاب سے نوازا گیا۔(بحوالہ: محمد ہاشم خافی خان، ’مُنتخبُ اللُّباب‘، جلد دوم، ص ۸۴۰)
قُدرت کی نیرنگیاں دیکھیے کہ قلعہ دار کی طرف سے شہزادے کی شناخت میں ہونے والی ایک غلطی نے سات برس سے مُقَیَّد ایک یتیم اور بے آسرا روشن اختر کو مغل بادشاہ ’ابوالفتح ناصرالدین محمد شاہ بادشاہ غازی‘ بنا دیا تھا۔
بادشاہ بننے کے بعد اب یہ سترہ سالہ نوجوان ایک اور طرح کے حِصار میں آگیا تھا۔ اُس کے گرد موجود تمام اہل کار سید برادران ہی کے مُقرّر کردہ تھے۔ اُس کی ذاتی نقل و حرکت بھی بلا روک ٹوک نہیں تھی؛ یہاں تک کہ جمعے کی نماز میں شرکت یا شکار کے لیے باہر جانے کے لیے بھی اُسے اپنے اَتالیق ہمت خان سے اِجازت لینا پڑتی تھی۔(بحوالہ: ولیم اِروِن، ’لیٹر مغلز‘، جلد دوم، ص :۲)
ُقدرت کی یہ نیرنگی بھی دیکھیے کہ اِسی اِتفاقی یا حادثاتی طور پر بادشاہ بننے والے محمد شاہ نے ۲۸ ستمبر ۱۷۱۹ء سے ۲۶ اپریل ۱۷۴۸ء تک، یعنی تقریباً اٹھائیس برس اور سات ماہ ہندوستان پر حکومت کی۔ یوں اُس کا عہدِ حکومت مغل تاریخ کے چوتھے طویل عہد کے طور پر شمار ہوتا ہے؛ صرف اکبر، اورنگ زیب عالمگیر اور شاہ جہاں نے اُس سے زیادہ عرصے تک مغل تخت سنبھالا۔
اورنگ زیب عالمگیر کا پڑپوتا یہ بادشاہ اپنے پردادا کی طرح جاہ و جلال اور بے مثال عَسکری طاقت کا حامل حکمران تو ثابت نہ ہوسکا، مگر اُس کے طویل عہدِ حکومت میں مغل دربار میں علم و اَدب، فنونِ لطیفہ، مُصوّری اور بالخصوص موسیقی کی سرپرستی کا ایک نیا اور نمایاں دَور شروع ہوا۔
محمد شاہ کے عہد کے اہم ترین سیاسی واقعات میں سید برادران کی سیاسی اور عَسکری بالادستی کا خاتمہ بھی شامل تھا۔ محمد شاہ کی والدہ فخرُالنّساء بیگم اور دربار کے وہ اُمراء، جو سید برادران کی بڑھتی ہوئی طاقت سے نالاں تھے، اِس منصوبے میں پیش پیش رہے تھے۔
۱۷۲۰ء میں جب سید حسین علی خان، نوجوان بادشاہ محمد شاہ کے ہمراہ ایک بڑے لشکر کے ساتھ دکن کی جانب بڑھ رہا تھا تو راستے میں ۹ اکتوبر ۱۷۲۰ء کو ٹوڈا بھیم کے قریب میر حیدر بیگ دُغلت نامی ایک شخص نے عرض داشت پیش کرنے کے بہانے اُس کے قریب پہنچ کر اُسے خنجر گھونپ کر قتل کردیا۔ قتل کی اس سازش میں محمد امین خان، حیدر قلی خان، عبدالغفور اور میر جملہ جیسے بااَثر اُمراء شریک تھے۔اس قتل کے ساتھ ہی سید برادران کی طاقت کا ایک بڑا ستون گرگیا۔(بحوالہ: ولیم اِروِن، ’لیٹر موگلز‘، جلد دوم، ص:۶)
دہلی میں موجود دوسرے بھائی سید حسن علی خان کو ہتھیار ڈالنے کا پیغام بھجوایا گیا، مگر اُس نے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مقابلے کا فیصلہ کیا۔ اُس نے مغل شہزادے سلطان ابراہیم کو بادشاہ قرار دے کر محمد شاہ کے مقابل کھڑا کردیا۔ یہ وہی سلطان ابراہیم تھا جسے کچھ عرصہ پہلے قلعۂ دہلی سے منگوانے کا حکم دیا گیا تھا۔
نومبر ۱۷۲۰ء میں حسن پور کے مقام پر فریقین آمنے سامنے آگئے۔ اِس مرتبہ محمد شاہ مَحض علامتی بادشاہ کی حیثیت سے پیچھے نہیں بیٹھا بلکہ جنگ کی صبح وہ اپنے ہاتھی ’بادشاہ پسند‘ پر سوار ہوا اور شاہی لشکر کے قلب میں اپنی فوج کی کمان سنبھالی۔ محمد امین خان، حیدر قلی خان، خانِ دَوراں اور دوسرے اُمراء اُس کی جانب سے میدان میں تھے۔ لڑائی کے نتیجے میں سید حسن علی خان کی فوج کو شکست ہوئی اور وہ گرفتار ہوگیا۔
یوں جس محمد شاہ کو سید برادران نے یہ سمجھ کر تخت پر بٹھایا تھا کہ سلطنت کی اصل باگ ڈور اُنہی کے ہاتھ میں رہے گی، تقریباً ایک برس کے اندر اُسی کے ہاتھوں اُن کی ’بادشاہ گری‘ کا خاتمہ ہوگیا۔ ستمبر ۱۷۱۹ء میں جو سترہ سالہ روشن اختر سید برادران کی مرضی سے تخت پر بیٹھا تھا، نومبر ۱۷۲۰ء تک وہ اُن دونوں بھائیوں کی سیاسی اور عَسکری بالادستی سے آزاد ہوچکا تھا۔
سید برادران کے خاتمے کے بعد کٹھ پُتلی حکمران کی چھاپ سے آزاد ہوتے ہوئے، اپنی عُمر کے اُنیسویں سال میں ایک خُود مُختار بادشاہ کے طور پر مغل تخت سنبھالنے والے اِس محمد شاہ کو اپنے آباء و اَجداد سے تین نہایت نام وَر چیزیں ورثے میں ملی تھیں۔
اوّل: تختِ طاؤس، دوم: وہ عظیم ہیرا، جسے دنیا بعد میں ’کوہِ نور‘ کے نام سے جاننے لگی، اور سوم: مغل دربار کی صدیوں پُرانی وہ موسیقائی روایت، جو کسی نہ کسی شکل میں آج تک برصغیر پاک و ہند میں موجود ہے اور تواتُر کے ساتھ چلی آرہی ہے۔
اِن تینوں کی اپنی اپنی ایک داستان تھی۔
تختِ طاؤس یا تختِ مُرَصَّع کو شاہ جہاں نے اپنے عہد میں ایک لاکھ تولہ (تقریباً ۱۱۶۶ کلوگرام) خالص سونے اور بیش قیمت ہیروں، یاقوت، زُمرد، موتیوں اور دوسرے جواہرات (جن کا وزن پچاس ہزار مِثقال سے بھی زیادہ بتایا جاتا ہے) سے تیار کروایا تھا۔ شاہی زرگری کے محکمے کے نگران بے بدل خان کی سرپرستی میں بننے والے اِس تخت کی لمبائی تقریباً تین گز، چوڑائی ڈھائی گز اور بلندی پانچ گز بیان کی جاتی ہے۔ اُس کا سائبان بارہ جواہر نِگار ستونوں پر قائم تھا، جن پر جواہرات سے آراستہ مور بنے ہوئے تھے، جبکہ موروں کے درمیان یاقوت، ہیروں، زُمردوں اور موتیوں سے بنے درخت سجے تھے۔ اِس بے مثال تخت کی تیاری میں سات برس لگے۔(بحوالہ: عبدالحمید لاہوری، ’بادشاہ نامہ‘، ذکرِ تختِ مرصع؛ نیز ایلیٹ و ڈاؤسن، ’دی ہسٹری آف انڈیا ایز ٹولڈ بائی اِٹس اون ہسٹورینز‘، جلد ششم، ص ۴۵–۴۶)
دوسرا بیش قیمت ورثہ وہ عظیم ہیرا تھا جسے دنیا آج ’کوہِ نور‘ کے نام سے جانتی ہے۔ محمد شاہ کو جب یہ ہیرا ورثے میں ملا تو غالباً ابھی اِس نام سے موسوم نہیں تھا۔ محمد شاہ کے عہد میں یہ اپنی موجودہ تراش سے کہیں بڑا، تقریباً ۱۸۶ قیراط، یعنی لگ بھگ ۳۷ گرام وزنی تھا۔ اپنی غیر معمولی جِسامت، آب و تاب اور قدر و قیمت کے باعث یہ مغل خزانے کے نادر ترین جواہرات میں شمار ہوتا تھا۔ روایت ہے کہ ۱۷۳۹ء میں نادر شاہ نے اِس عظیم ہیرے کو دیکھ کر اِسے ’کوہِ نور‘، یعنی ’روشنی کا پہاڑ‘ کا نام دیا۔(بحوالہ: اِیرج امینی، ’کوہِ نور‘، انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا، ڈیجیٹل ایڈیشن)
تیسرا ورثہ سونے یا جواہرات کا نہیں بلکہ سُر اور سنگیت کا تھا۔ اکبر کے زمانے سے گویوں اور سازندوں کے خاندان نسل در نسل مغل شاہی دربار سے وابستہ چلے آرہے تھے۔ گویا وہ فن کار تھا جس کا اصل وسیلۂ اِظہار اُس کی آواز تھی، وہ دُھرپد، خیال، ترانہ یا دوسری اَصناف گاتا تھا جبکہ سازندہ اپنے ساز کے ذریعے موسیقی پیش کرتا تھا؛ کوئی بین بجاتا، کوئی رَباب، کوئی سُرمنڈل اور کوئی دوسرے ساز۔
مغل دربار کی حد تک یہ ضروری نہیں تھا کہ ہر موسیقائی محفل میں گائیکی بھی ہو؛ کبھی سازندہ تنہا ساز بجاتا، کبھی گویے کے ساتھ سنگت کرتا اور کبھی ساز کی لَے پر رقص پیش کیا جاتا۔ یوں مغل دربار کی موسیقائی دنیا میں گویے، سازندے اور رَقّاص الگ الگ، مگر ایک دوسرے سے مربوط فن کارانہ طبقے تھے۔
اِن شاہی فن کاروں کے وظائف اور وسائل مُقرّر تھے اور وہ دربار اور شاہی محل کی مختلف تقریبات(جشنِ نوروز، عیدین، شاہی شادیوں، شہزادوں کی پیدائش، تخت نشینی اور تخت نشینی کی سالگرہ وغیرہ) میں اپنے فن کے جوہر دکھاتے تھے۔ موسیقی اِس اعتبار سے محض بادشاہ کی نجی تفریح نہیں تھی بلکہ شاہی رُسوم اور مغل دربار کی تہذیبی زندگی کا باقاعدہ حصّہ تھی۔
اکبر کے دربار میں گائیکی کی سب سے درخشاں شخصیت میاں تان سین تھے، جبکہ سازندوں میں شہاب خان بین بجاتے اور بیر منڈل خان سُرمنڈل نوازی میں معروف تھے۔ خود ابوالفضل نے ’آئینِ اکبری‘ میں اِن فن کاروں کو اُن کے فن اور ساز کے ساتھ الگ الگ درج کیا ہے۔
جہانگیر کے عہد میں بھی یہی روایت آگے بڑھی۔ تان سین کے بیٹے بِلاس خان اِس روایت کے بڑے وارثوں میں سے تھے، جبکہ نوبت خان بین نوازی کے بڑے اُستاد تھے۔ نوبت خان تان سین کے داماد بھی تھے اور جہانگیر کے عہد میں شاہی دربار سے وابستہ رہے۔
شاہ جہاں کے عہد میں اِسی موسیقائی خانوادے کے لال خان ’گُن سَمُدر‘ نے غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ وہ نوبت خان کے بیٹے اور بِلاس خان کے داماد تھے۔ شاہ جہاں نے اُنہیں ’گُن سَمُدر‘ کا خطاب عطا کیا۔ لال خان کے بیٹے خوشحال خان نے بھی یہی موسیقائی روایت ورثے میں پائی اور شاہ جہاں اور پھر اورنگ زیب عالمگیر کے عہد میں شاہی دربار کے ممتاز ترین موسیقاروں میں شمار ہوئے۔
اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں بھی یہ سلسلہ یکایک ختم نہیں ہوگیا۔ خوشحال خان ’گُن سَمُدر‘ شاہ جہاں اور اورنگ زیب دونوں کے عہد کے سربرآوردہ شاہی گویوں میں شمار ہوتے تھے۔ اُن کے بعد اُن کے بیٹے رَس بَرس خان نے بھی اِسی خاندانی روایت کو آگے بڑھایا اور موسیقی پر ’شمسُ الاصوات‘ تصنیف کی۔
یوں جب محمد شاہ تخت پر بیٹھا تو اُسے اپنے اَجداد سے صرف سونے، ہیروں اور جواہرات سے بھرا ہوا شاہی خزانہ نہیں ملا تھا؛ اُسے گویوں اور سازندوں کی وہ زندہ روایت بھی ورثے میں ملی تھی، جس کی جڑیں اکبر کے زمانے تک جاتی تھیں۔ تان سین، نوبت خان، بِلاس خان، لال خان اور خوشحال خان سے گزرتا ہوا یہی موسیقائی سلسلہ محمد شاہ کے عہد میں اَنجھا بَرس خان، نعمت خان ’صدارنگ‘ اور فیروز خان ’اَدارنگ‘ تک پہنچا۔ اَنجھا بَرس خان محمد شاہ کے گائیکی کے اُستاد بنے، جبکہ صدارنگ اور اَدارنگ کے ہاتھوں خیال گائیکی نے اِس عہد میں نئی وُسعت حاصل کی۔
تاہم اِس مغل بادشاہ محمد شاہ کے حصّے میں ایک ایسی منفرد اور بڑی اَفتاد بھی آئی، جس کا اُس سے پہلے مغل سلطنت کا شاید کوئی بادشاہ تصوّر بھی نہیں کرسکتا تھا۔
محمد شاہ کے اَجداد کے لیے ہندوستان کا ہمسایہ ملک ایران یا سلطنتِ فارس، بادِ بہاراں کی ایک کھڑکی کی مانند رہا تھا؛ ایک ایسی سرزمین جہاں سے ہمیشہ خیر اور بہتری ہندوستان کی طرف آتی رہی ۔تخت سے اُترا ہمایوں ایرانی سپاہ کی مدد ہی سے واپس اپنے تخت پر بیٹھا تھا۔ اکبر، جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگ زیب عالمگیر، اِن سب کے اَدوار میں ایران سے اہلِ علم و فن ہندوستان آتے رہے تھے۔
مگر حالات کی سِتم ظریفی دیکھیے کہ اِسی محمد شاہ کے دَور میں ایران سے بادِ سَمُوم کا ایک جھونکا، نادر شاہ اَفشار کی صُورت میں، ہندوستان آیا اور مغل سلطنت کی آن بان اور ساکھ کی ہری بھری ڈالی کو جُھلسا کر سوختہ کرگیا۔
۱۷۳۸ء کے اَواخر میں نادر شاہ اَفشار افغانستان سے آگے بڑھتا ہوا مغل سلطنت کی حُدود میں داخل ہوا۔ لاہور اُس کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا اور پھر ایرانی لشکر دہلی کی طرف بڑھنے لگا۔ محمد شاہ بھی اپنے اَمیروں اور ایک بڑے شاہی لشکر کے ساتھ مقابلے کے لیے نکلا۔ ۲۴ فروری ۱۷۳۹ء کو کرنال کے میدان میں دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں۔ تعداد میں بڑی ہونے کے باوجود مغل فوج اپنے اَمیروں کی باہمی نااِتفاقی، ناقص حِکمتِ عملی اور نادر شاہ کی منظّم اور تیز رفتار فوج کے سامنے شکست کھا گئی۔(بحوالہ: ’انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا‘، مقالہ ’انڈیا: ریلیشنز، دی اَفشارِد اینڈ زَند پیریڈز‘، ڈیجیٹل ایڈیشن)
یہ شکست صرف میدانِ کرنال تک محدود نہ رہی۔ نادر شاہ فاتح کی حیثیت سے محمد شاہ کو اپنے ساتھ لے کر دہلی پہنچا۔ شاہی دارالحکومت میں اُس کے نام کا خُطبہ پڑھا گیا اور سکّے ڈھالے گئے۔ پھر شہر میں یہ اَفواہ پھیل گئی کہ نادر شاہ مارا گیا ہے۔ دہلی کے لوگوں نے ایرانی سپاہیوں پر حملے شروع کردیے اور اُن میں سے متعدد کو قتل کردیا۔ اگلی صبح، ۲۲مارچ ۱۷۳۹ء کو، نادر شاہ نے قتلِ عام کا حُکم دے دیا۔ چند ہی گھنٹوں میں دہلی کی گلیاں اور بازار خون سے رنگ گئے اور اندازاً بیس ہزار شہری مارے گئے۔
دہلی کے بازار، محلّے اور گھر لُٹے۔ سونا، چاندی، نقدی، جواہرات اور دوسری بیش قیمت اَشیا فاتح کے قبضے میں چلی گئیں۔ محمد شاہ کو اپنے اَجداد سے ملنے والے دو بے مثال خزانے (تختِ طاؤس اور کوہِ نور) بھی نادر شاہ کے ہاتھ لگے اور وہ اُنہیں اپنے ساتھ ایران لے گیا۔ مغل خزانے سے حاصل ہونے والی دولت اِس قدر زیادہ تھی کہ نادر شاہ نے ایران واپس پہنچ کر اپنی رعایا کے لیے تین برس تک محصولات معاف کردئیے۔ (بحوالہ: ’انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا‘، مقالہ ’نادر شاہ‘، ڈیجیٹل ایڈیشن)
یہ محض ایک فوجی شکست یا شاہی خزانے کی لُوٹ نہیں تھی۔ مغل سلطنت کا دارالحکومت، جو نسلوں سے ہندوستان میں شاہی طاقت، دولت اور جاہ و جلال کی علامت چلا آرہا تھا، ایک غیر ملکی فاتح کے سامنے بے بس ہوچکا تھا۔ دہلی کا شاید ہی کوئی طبقہ ایسا بچا ہو جس نے اِس تباہی کا اَثر محسوس نہ کیا ہو؛ کسی کا مال گیا، کسی کی عِصمت اور کسی کی جان۔
۱۷۳۹ء میں نادر شاہ اَفشار کے اِس حملے نے عام لوگوں کے غُصّے، تنقید اور تَنقیص کا رُخ اُس وقت کے ۳۶ سالہ بادشاہ محمد شاہ کی طرف بھی موڑ دیا۔ اسی تسلسلِ تنقید و تنقیص کے سبب بعد کی تاریخ میں بھی اُس کی شناخت ایک کم زور اور عیش و عِشرت میں ڈوبے ہوئے بادشاہ کی حیثیت سے زیادہ نمایاں ہوتی چلی گئی۔
مگر محمد شاہ کی ایک دوسری شناخت بھی تھی؛ وہ شناخت، جس کا تعلق سیاست کے میدان سے نہیں بلکہ اُسے اپنے اَجداد سے ملنے والے اُس تیسرے ورثے، موسیقی سے تھا جسے نادر شاہ چاہ کر بھی اُس سے نہیں چھین سکتا تھا۔
محمد شاہ، سترہ سال کی عُمر میں مغل تخت پر پہلی دفعہ ایک اِتفاقیہ حادثے کے نتیجے میں بیٹھا تھا۔ قُدرت کی نیرنگی دیکھیے کہ دوسری دفعہ بھی وہ کچھ ایسے ہی غیر معمولی اور حیران کُن حالات میں اپنے اَجداد کے تخت پر بیٹھا۔ نادر شاہ نے نہ اُسے قتل کروایا اور نہ ہی دائمی طور پر معزول کیا۔
۱۲مئی ۱۷۳۹ء کو، یعنی کرنال کی شکست کے تقریباً ڈھائی ماہ بعد، نادر شاہ نے ایک باقاعدہ دربار منعقد کرکے محمد شاہ کو دوبارہ مغل تخت پر بٹھایا اور اُس کے سر پر تاج رکھا، جس کے بعد وہ مئی کے مہینے کے وسط میں ہندوستان سے واپسی کے سفر پر ایران کے لیے روانہ ہوگیا۔
نادر شاہ کے جانے کے بعد محمد شاہ دوسری دفعہ تخت پر بیٹھا تو اُس کے دربار کا بہت کچھ بدل چکا تھا، مگر فنونِ لطیفہ کی وہ جُملہ روایات ویسے ہی اُس کے سامنے برقرار تھیں، جیسے سترہ سال کی عُمر میں ایک اِتفاقیہ حادثے کے نتیجے میں پہلی دفعہ اُس کے مغل تخت پر بیٹھنے کے موقع پر موجود تھیں۔
اِن دونوں اِتفاقی تخت نشینیوں کے بعد محمد شاہ کے سامنے عَملاً دو راستے موجود تھے؛ ایک یہ کہ وہ دربار، محلات اور شاہی حرم کو چھوڑ کر اپنے پردادا اورنگ زیب عالمگیر کی طرح گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھتا اور مرکز گریز قُوّتوں کے خلاف مُہمّات پر نکل پڑتا۔ دوسرا یہ کہ جو کچھ فنونِ لطیفہ کی شکل میں اُس کے پاس موجود تھا، اُسی کی دل کھول کر سرپرستی کرتا۔
محمد شاہ نے دوسرا راستہ چُنا، اِس لیے بھی کہ پہلا راستہ چُننے کے لیے اُس کے پاس وسائل دستیاب نہ تھے۔ نہ اُسے وہ سلطنت ورثے میں ملی تھی جو اورنگ زیب کو تھالی میں سجی سجائی ملی تھی۔ نہ اُس کے پاس ویسا خزانہ تھا، نہ ویسی منظّم فوج اور نہ ایسے اَمراء کی جماعت جو دل و جان سے صرف مغل تخت کے ساتھ وابستہ ہو۔
دوسرا راستہ چُننے کے بعد محمد شاہ نے اپنے دربار کو ویسے تو علم و اَدب، مُصوّری کے ساتھ سبھی فنونِ لطیفہ کی سرپرستی کا مرکز بنایا، مگر اِن فنون میں ایک فن ایسا تھا جس سے بادشاہ کو خود بھی غیر معمولی دِل چسپی تھی، وہ تھا فنِ موسیقی۔ محمد شاہ کے عہد کو جدید تحقیق بھی مغل درباری فنون کے ایک نمایاں اَحیا کا زمانہ قرار دیتی ہے۔(بحوالہ: کیتھرین بٹلر شوفیلڈ، ’میوزک اینڈ میوزیشنز اِن لیٹ مغل انڈیا‘، ص ۴۹–۷۸)
محمد شاہ کے دربار میں گائیکی کی قدیم اور نئی روایتیں، دونوں ایک ساتھ موجود تھیں۔ ایک طرف دُھرپد گائیکی کی پُرانی اور باوقار روایت تھی اور دوسری طرف خیال گائیکی تھی۔ دُھرپد کی قدیم روایت کا ایک بڑا نام میاں اَنجھا بَرس خان تھا۔ وہ تان سین کے خانوادے سے تعلق رکھتا تھا اور محمد شاہ نے اُس کی شاگردی اِختیار کرکے باقاعدہ گائیکی سیکھی۔ اَنجھا بَرس محض ایک درباری گویا نہیں تھا بلکہ شاہی موسیقائی ادارے کی مرکزی شخصیات میں شمار ہوتا تھا۔(بحوالہ: ضیاءُ الدّین ضیاء، ’حَیُّ الاَرواح‘، ص ۳۵)
محمد شاہ کے اِسی دربار میں نعمت خان ’صدارنگ‘ اور اُس کا بھتیجا اور خاص شاگرد فیروز خان ’اَدارنگ‘ بھی موجود تھے۔ دونوں خود دُھرپد اور بِین کی مضبوط روایت سے آئے تھے، مگر اُن کی سب سے پائیدار شہرت خیال کی بندشوں کی تھی۔
خیال میں عموماً مختصر شعری کلام کو کسی مخصوص راگ اور تال میں باندھا جاتا ہے۔ اِن بولوں اور اُن کی بنیادی موسیقائی ساخت کو ’بندش‘ کہتے ہیں۔ یہی بندش گویا وہ بنیاد ہوتی ہے جس پر گائیک راگ، لَے، تان اور اپنی آواز کے ذریعے پورا خیال آگے بڑھاتا ہے۔
اِن بندشوں میں موسیقار اکثر اپنی ایک مخصوص پہچان بھی شامل کردیتا تھا، جسے ’چھاپ‘ کہا جاتا ہے۔ اِسے شاعری کے تخلّص سے سمجھا جاسکتا ہے: جس طرح شاعر اپنے شعر میں ’میر‘ یا ’غالب‘ لاکر اپنی شناخت چھوڑ جاتا ہے، اُسی طرح موسیقار بندش کے بولوں میں اپنی چھاپ رکھ دیتا تھا۔
نعمت خان کی موسیقائی چھاپ ’صدارنگ‘ تھی اور فیروز خان کی ’اَدارنگ‘۔ محمد شاہ کے عہد کے موسیقائی مخطوطات میں خود بادشاہ کا نام اور اُس سے وابستہ چھاپ ’رنگیلے‘ بھی ملتی ہے۔ بعض بندشوں میں ’صدارنگیلے‘ کی مرکب چھاپ بھی سامنے آتی ہے، جس سے یہ شائبہ ملتا ہے کہ یہ بندشیں شاید اِسی مغل بادشاہ محمد شاہ کی ایجاد کردہ ہوں۔(بحوالہ: فرانچیسکا اورسینی و دیگر، ’بیفور دی ڈیوائیڈ: ہندی اینڈ اردو لٹریری کلچر‘)
یوں محمد شاہ صرف موسیقی کا شاہی سرپرست نہیں رہا بلکہ ایک طرف وہ اَنجھا بَرس کی شاگردی میں گائیکی سیکھ رہا تھا اور دوسری جانب صدارنگ اور اَدارنگ کے گرد پروان چڑھنے والی خیال کی نئی موسیقائی دنیا میں اپنا شخصی وجود بھی علیحدہ سے تسلیم کروا رہا تھا۔ مثال کے طور پر راگ میگھ سے منسوب اُس کے زمانے کی ایک بندش کے بول ہیں:
رَین اَندھیری، بِجری ڈراوے
صدارنگیلے محمد سا پِیا گھر نہیں
(ترجمہ: رات اَندھیری ہے، بجلی ڈرا رہی ہے؛ ’صدارنگیلے‘، محمد سا پِیا گھر میں نہیں ہے۔)
اور راگ میاں کی مَلہار کی ایک دوسری معروف بندش میں محمد شاہ کو یوں مخاطب کیا گیا:
محمد شاہ رنگیلے سجنا۔۔۔
تُم بِن کالی بدریا نہ بھائے
(ترجمہ: اے محمد شاہ رنگیلے سجنا! تمھارے بغیر یہ کالی بدلیاں بھی اچھی نہیں لگتیں۔)
یہاں ’محمد شاہ رنگیلے‘ نہ سیاسی طنز ہے، نہ عیش پسندی کا طعنہ۔ یہ موسیقی کی اُس زبان کا حصّہ ہے جس میں پِیا، سجنا، رنگ، رَس، ساون اور بدریا محبوب اور اُس سے وابستہ جذبات کے اِظہار کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
اور سب سے اہم بات یہ کہ ’رنگیلے‘ کی یہ زبان محمد شاہ کے دربار میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہ لفظ اُس سے بہت پہلے ہندوستان کی بھکتی اور صوفیانہ روایت میں حُسن، رَس، محبت اور محبوبیت کے مثبت مفہوم میں موجود تھا۔
اہل ہند میں سے ’کرشن‘ کو اپنا معبود ماننے والے اُسے محبت و اِلتفات سے ’رنگیلے‘ کہتے تھے۔ مثال کے طور پر محمد شاہ کے عہدِ زندگی سے بھی پہلے کے کرشن بھکتی شاعر ’دُھرو داس‘ کے برج بھاشا میں منظوم کلام ’شری بیالیس لیلا‘ میں کرشن اور رادھا کیلئے ’رنگیلے‘ اور ’رنگیلی‘ کے الفاظ حُسن، رَس، پریم اور اَنوراگ میں رنگے ہوئے محبوب کے مفہوم میں بار بار استعمال ہوئے ہیں۔
’دُھرو داس‘ سترھویں صدی کے ’رادھا ولبھ‘ سلسلے کے شاعر تھے۔ اُن کی کتاب ’شری بیالیس لیلا‘ اُن سے منسوب بیالیس عقیدتی تخلیقات کا مجموعہ ہے، جس کے بعض حصّے ۱۶۲۰ء کی دہائی میں تحریر ہوئے۔ اِس کے قدیم قلمی نسخے بھی محفوظ رہے اور بعد میں یہ کتابی صُورت میں ۱۹۵۳ء میں شائع ہوا۔
’شری بیالیس لیلا‘ کے چند پَد اور اُن کا ترجمہ بطورِ نمونہ ملاحظہ ہوں:
نَوَل رنگیلی کُنج میں، نَوَل رنگیلے لال
نَوَل رنگیلی کھیل رچو، چِتَوَن نَین بِشال
(ترجمہ: نئی نویلی رنگیلی کُنج میں نئے نویلے رنگیلے لال، کرشن، اپنی بڑی بڑی آنکھوں کی چِتون کے ساتھ رنگیلی لیلا رچا رہے ہیں۔)
کون پریم کیہِ پھند پرے ہیں رنگیلے لال
اَٹپٹی گَتی ہیرے ہِیو اَکُلائی ری
(ترجمہ: یہ رنگیلے لال کس عشق کے پھندے میں پڑگئے ہیں کہ اُن کی یہ انوکھی حالت دیکھ کر دل بے قرار ہوا جاتا ہے۔)
ہارَنی کے بھار بھاری ایسی سُکُماری پیاری
رَسِک رنگیلے لال کِینھی اُر ہار سی
(ترجمہ: یہ پیاری ایسی نازک ہے کہ ہار کا بوجھ بھی اُسے بھاری لگتا ہے، مگر اُس نے رَسِک رنگیلے لال کو اپنے دل کا ہار بنا رکھا ہے۔)
ایسی کَرو نَو لال رنگیلے جُو
چِت نہ اَور کہوں لَلچائی
(ترجمہ: اے نئے نویلے رنگیلے لال! ایسی کِرپا کرو کہ میرا دل آپ کو چھوڑ کر کسی اور طرف مائل نہ ہو۔)
نَوَل رنگیلے دوؤ، رَس میں رَسیلے اَتی
سَہَج سُرنگ نَئے نیہ اَنوراگے ہیں
(ترجمہ: یہ دونوں نئے نویلے رنگیلے، رَس میں نہایت رَسیلے ہیں اور نئے عشق و اَنوراگ کے رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔)
ہندوستان میں ’رنگیلے‘ کا یہ محبت بھرا استعمال صرف کرشن کے عقیدت مندوں تک محدود نہیں رہا تھا بلکہ یہاں کی مسلم صوفیانہ روایت میں بھی ’رنگیلے‘ محبوب و مرشد کے لیے محبت اور عقیدت کے ساتھ استعمال ہوا۔
’اَمیر خسرو‘ سے منسوب معروف ہندوی کلام میں حضرت ’نظام الدین اولیاء‘ سے نسبت کے ساتھ کہا گیا ہے:
موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ دے رنگیلے
تُو تو صاحب میرا محبوبِ اِلٰہی۔۔۔۔۔۔
(ترجمہ: اے رنگیلے! مجھے اپنے ہی رنگ میں رنگ دو؛ آپ ہی میرے آقا، محبوبِ اِلٰہی ہیں۔)
یوں ’دُھرو داس‘ کے ’رنگیلے لال‘، صوفیانہ روایت کے ’رنگ دے رنگیلے‘ اور محمد شاہ کے عہد کے ’محمد شاہ رنگیلے‘ الگ الگ زمانوں اور سیاق میں ہوتے ہوئے بھی ایک بات ضرور واضح کرتے ہیں: ’رنگیلے‘ اپنے قدیم شعری اور تہذیبی مفہوم میں عیاشی یا بدکرداری کا لفظ نہیں تھا؛ یہ رنگ، رَس، حُسن، محبت اور محبوبیت کی زبان کا لفظ تھا۔
محمد شاہ کی شخصیت کے ساتھ تاریخ نے ایک عجیب تماشا کیا ہے ؛ اُس کے زمانے کے بعد کے مؤرخین نے اُس کے پورے عہد کو ہم عصر زمانی حالات سے ماورا ہوکر شکست و زوال کے ایک ایسے پس منظر میں محفوظ کردیا، جس میں اُس کی موسیقی سے دِل چسپی کو اُس کے سیاسی زوال کی واحد وجہ کے طور پر پیش کیا گیا۔
محمد شاہ صرف سترہ برس کی عُمر میں ایک عجیب اِتفاق کے نتیجے میں تخت پر بیٹھا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اُس کے بادشاہ بننے سے بہت پہلے ہی مغل سلطنت کی بنیادیں ہِلنا شروع ہوچکی تھیں۔ وہ اِس زوال کو روک تو نہ سکا، مگر تقریباً تین دہائیوں تک اُس کے آگے ایک دیوار ضرور بنا رہا۔
محمد شاہ نے نادر شاہ کے مقابلے میں اپنی فوج میدان میں اُتاری۔وہ لڑا مگر جنگ ہار گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ پہلا ہندوستانی بادشاہ تھا جس نے کسی بیرونی حملہ آور کے مقابلے میں جنگ ہاری تھی؟
وجہ جو بھی ہو، نادر شاہ نے ۱۷۳۹ء میں اِسی مفتوح مغل بادشاہ محمد شاہ کی بادشاہت کو دوبارہ تسلیم کیا، ایک باقاعدہ دربار میں تاج اُس کے سر پر رکھا اور ہندوستان کا اِقتدار اُسی کے حوالے کرکے واپس روانہ ہوا۔ کیا اِسے محمد شاہ کی کوئی سیاسی یا سفارتی کامیابی قرار نہیں دیا جانا چاہیے؟
دہلی کا ہول ناک قتلِ عام بھی نہ تو اُس وقت عَملاً مُقَیَّد اور نظر بند محمد شاہ کی وجہ سے ہوا تھا اور نہ اُس نے اِس کا آغاز کیا یا کروایا تھا۔ نادر شاہ کے مارے جانے کی اَفواہ پھیلنے کے بعد دہلی میں ایرانی سپاہیوں پر حملے ہوئے اور اُن میں سے متعدد مارے گئے۔ جواب میں ۲۲ مارچ ۱۷۳۹ء کو نادر شاہ نے قتلِ عام کا حُکم دے دیا۔ جدید تحقیق کے مطابق تقریباً چھ گھنٹے جاری رہنے والے اِس قتلِ عام میں اندازاً بیس ہزار شہری مارے گئے۔ لیکن اِس پورے سانحے کا تاریخی بوجھ صرف اور صرف محمد شاہ پر کیوں؟
اور سب سے بڑھ کر ’رنگیلے‘ کا وہ لفظ، جو صدیوں سے پاک و ہند میں ہندومت کے پیروکاروں اور اہلِ تصوّف کے ہاں نہایت مثبت معنوں میں استعمال ہوتا رہا تھا، وہ محمد شاہ کے لیے عیش پسندی، رنگ رَلیوں اور حکمرانی سے غفلت کا مفہوم کیوں اِختیار کرتا چلا گیا؟
محمد شاہ کی سیاسی ناکامیوں سے اِنکار نہیں کیا جاسکتا، مگر اُس کی پوری شخصیت اور تقریباً تین دہائیوں پر محیط عہدِ حکومت کو صرف ’رنگیلا‘ کہہ کر عیش و عِشرت کی ایک داستان میں سمیٹ دینا بھی تاریخ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ’رنگیلے‘ کے اصل تہذیبی اور موسیقائی مفہوم کو اُس کے اپنے عہد کے شواہد کی روشنی میں دوبارہ سامنے لانے کی ضرورت ہے۔
محمد شاہ صرف پینتالیس برس جیا۔ اب قُدرت کی ایک اور نیرنگی دیکھیے۔
جس محمد شاہ کے نام کے ساتھ لگنے والا ’رنگیلے‘ آنے والے زمانوں میں عیش و عِشرت کا طعنہ بن گیا، وہ مرنے کے بعد اُسی درگاہ کے اَحاطے میں آسودۂ خاک ہوا، جہاں ہندوستان کے صوفیائے کرام کے سرخیل حضرت ’نظام الدین اولیاء‘ اور اُن کے محبوب مُرید ’اَمیر خسرو‘ بھی آسودۂ خاک ہیں۔
محمد شاہ کی قبر اِن دونوں بزرگوں کے مزارات سے چند ہی قدم کے فاصلے پر واقع ہے۔
صدیاں گزر گئیں، مگر حضرت ’نظام الدین اولیاء‘ کی اِس درگاہ میں قوالی کی صدیوں پُرانی روایت زندہ ہے اور اَمیر خسرو سے منسوب یہ صدا آج بھی قوالوں کی آواز میں گونجتی ہے:
’موہے اپنے ہی رنگ میں رنگ دے رنگیلے
تُو تو صاحب میرا محبوبِ اِلٰہی۔۔۔۔۔۔‘
اکثر و بیشتر ایسا گمان گزرتا ہے جیسے صدیوں سے گونجتی یہ صدا تاریخ دانوں سے یہ مکالمہ کررہی ہو:
"بھائیو! اگر محمد شاہ کو ایک عیش پرست اور ناکام حکمران ثابت کرنا ہی مقصود ہے تو اُس کی سیاسی ناکامیوں، اُس کے فیصلوں اور اُس کے عہد کے واقعات کو دلیل بنائیے، مگر یہ کام ’رنگیلے‘ جیسے محبت، حُسن، رَس اور عقیدت کے معانی کے حامل صدیوں پرانے لفظ کی اوٹ میں مت کیجیے۔ اَمیر خسرو اور نظامُ الدّین اولیاء ، دونوں کو آپ کا یہ فعل قطعی طور پر پسند نہیں۔"
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان