’کون فرید فقیر؟‘
(مشہور صوفی شاعر فقیر غلام فریدؒ کے عُرس کی مناسبت سے خصوصی تحریر)
۶رَبِیعُ الثّانی ۱۳۱۹ ہجری کی شام، دریائے سِندھ کے بائیں کنارے کی بستی چاچڑاں میں شِدّتِ بیماری کے سبب طاری ہونے والی بے ہوشی کے دوران ہی ’دِیوانِ فرید‘ کے خالق فقیر غلام فریدؒ کی رُوحِ مُبارک قَفَسِ عُنصری سے پرواز کر گئی۔ اگلی صبح آپ کی مَیِّت دریائے سِندھ کے دوسرے کنارے کی بستی کوٹ مِٹھن لائی گئی، جہاں آپ اپنے خانوادے کے مَقابر میں سُپردِ خاک ہوئے۔ عیسوی اعتبار سے یہ ۱۹۰۱ء کا سال بنتا ہے۔
یوں آج ۶ رَبِیعُ الثّانی ۱۴۴۸ ہجری کے دن فقیر غلام فریدؒ کی قمری سالوں کی رُو سے ۱۲۹ویں بَرسی ہے۔ کیونکہ پاک و ہند میں صدیوں سے جاری دَستور کے مطابق چِیدہ ہستیوں کی بَرسی کو ’عُرس‘ کا نام دیا جاتا ہے اور عرائس کی تقاریب بَرسیوں سے ذرا مختلف طور سے منائی جاتی ہیں، تو آج آپ کے ۱۲۹ویں عُرس کا دوسرا روز بھی ہے۔ اللہ جَلَّ شَانُہٗ آپ کے مَرقَدِ مُبارک پر اپنی رَحمتوں کا نُزول جاری و ساری رکھے!
موجودہ تحریر کے لیے عَمداً آپ کا یہی نام، ’فقیر غلام فریدؒ‘ استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ آپ کو اپنے لیے یہی نام پسند تھا؛ اپنے خُطوط کا اختتام آپ اپنے اِسی نام کے ساتھ کرتے تھے اور آپ کی مُہر پر بھی آپ کا یہی نام کَندہ تھا۔
فقیر غلام فریدؒ کو یہ نام کیوں پسند تھا، اِس کا کوئی ٹھوس عِلمی حوالہ تو آپ کے اَحوال میں کہیں مَرقوم نہیں، تاہم سُنا یہ ہے کہ کئی ایک اَہلِ اللہ قرآنِ کریم کی سُورۂ مُحمّد کی آیتِ مُبارکہ ’وَاللّٰهُ الْغَنِيُّ وَأَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ‘ کی اِتّباع میں اپنے لیے ’فقیر‘ کا لَقَب باعثِ صَد تکریم و اِعزاز سمجھتے رہے ہیں، اور قوی گُمان پڑتا ہے کہ آپ کا بھی شاید یہی معاملہ تھا۔ باقی واللہ اعلم بالصواب
فقیر غلام فریدؒ کی وِلادت ۲۶ ذوالقعدہ ۱۲۶۱ ہجری کے دن ہوئی تھی اور آپ نے ۶ رَبِیعُ الثّانی ۱۳۱۹ ہجری کی شام اِس دُنیا سے کوچ کیا؛ یوں آپ کی عُمر قمری اعتبار سے محض ستّاون سال بنتی ہے۔ آسان لفظوں میں، مالکِ لَمْ یَزَلْ وَلَمْ یَزَالْ نے فقیر غلام فریدؒ کو اِس دُنیا میں جینے کے لیے ستّاون کے قریب قمری برس عطا فرمائے۔ بے شک وہ مالک، جیسا چاہے، کر لے؛ وہ مُختارِ کُل جو ٹھہرا۔
تاہم دریا کنارے کی جس بستی میں فقیر غلام فریدؒ کے بچپن، جوانی اور اُدھیڑ عُمری کا زمانہ گزرا تھا، وہاں لوگ بالعموم طویلُ العُمر ہوتے تھے، اِس لیے آپ کی صرف ستّاون سال کی عُمر میں فوتیدگی پر دریا کنارے کی دونوں بستیوں اور اَطراف کے گوٹھوں اور قصبوں کے عام لوگوں نے دِلی اَفسردگی اور غم کا اِظہار کیا۔
جن لوگوں کا فقیر غلام فریدؒ کے ساتھ زیادہ اُٹھنا بیٹھنا تھا، وہ اِس بات پر بھی مغموم تھے کہ کاش آپ نے اپنی زندگی میں اِس خواہش کا اِظہار نہ کیا ہوتا کہ ’مجھے بھی میرے بڑے بھائی کی موت کی طرح کی موت نصیب ہو۔‘ آپ کے بڑے بھائی غلام فخر الدین کی موت بھی جوان مَرگی کی موت تھی۔ اُن کی ران پر بھی اُسی طرح کا پھوڑا نکلا تھا، جیسا بعد میں آپ کی ران پر نکلا، اور وہ بھی آپ ہی کی طرح تکلیف اور بے ہوشی کے دن گزارنے کے بعد اِس دُنیا سے رُخصت ہوئے تھے۔
فقیر غلام فریدؒ کے اَحوالِ زندگی میں آپ کی دو اور خواہشات کا بھی ذِکر ملتا ہے: ایک یہ کہ آپ اپنے بڑے بھائی کی طرح فیروزی رنگ کا تہمد باندھیں۔ آپ بالعموم سفید رنگ کا تہمد باندھتے تھے۔ اپنے بڑے بھائی کو فیروزی رنگ کا تہمد باندھے دیکھا تو دِل میں یہ خواہش جاگزیں ہوئی کہ کبھی مَیں بھی اِس منفرد رنگ کا تہمد باندھوں۔
اور دوسری خواہش یہ تھی کہ کاش! کوئی مجھ سے اللہ کے نام پر ایک لاکھ روپے کا سوال کرے اور مَیں اُسے ایک لاکھ روپیہ دے دوں۔
یہ خواہش بھی فیروزی رنگ کا تہمد باندھنے کی خواہش کے جیسی عجیب تھی۔ آپ کے زمانے میں سونے کی قیمت قریب ساڑھے بارہ روپے فی تولہ تھی، اور درحقیقت کسی سائل کا ایک ہی بار اتنی بڑی رقم مانگ لینا بھی تصوّر سے بعید اَمر تھا۔ مگر اِس فقیر غلام فریدؒ کا دِل اتنا بڑا تھا کہ وہ اللہ کے نام پر ایک لاکھ روپیہ دے دینے کی خواہش لیے پھرتے تھے، لیکن کسی مانگنے والے نے مانگا ہی نہیں۔ اللہ جَلَّ شَانُہٗ سے ایسی محبّت پر صرف رَشک ہی کیا جا سکتا ہے۔
فقیر غلام فریدؒ انتہائی سادہ سے اِنسان تھے؛ تہمد باندھتے اور کُرتا پہنتے۔ بٹن یا تو اُن دنوں ایجاد نہیں ہوئے تھے یا چاچڑاں کی بستی میں دستیاب نہیں تھے، اِس لیے آپ کے ہم عصر عینی شاہدین کے مطابق آپ کے کُرتے کے گلے میں بٹنوں کی بجائے ڈوری بندھی ہوتی تھی؛ اُسی کو ڈھیلا کر کے یا کھینچ کر گلے کو کشادہ اور تنگ کرنے کا کام لیتے تھے۔
سر پر ایک ٹوپی پہنتے جو کانوں کو ڈھانپے رکھتی تھی۔ اِس طرح کی ٹوپی اُس علاقے میں کوئی اور نہیں پہنتا تھا۔ واللہ اَعلم، آپ نے ایسی منفرد ساخت کی ٹوپی کا تصوّر کہاں سے اَخذ کیا تھا، لیکن بہرحال یہ ٹوپی ’فریدی ٹوپی‘ کے نام سے آج بھی موسوم ہے اور آپ کے سلسلے کے کچھ عُمر رسیدہ لوگ اب بھی اِسے پہنتے ہیں۔
فقیر غلام فریدؒ اِس قدر سادہ ہونے کے باوجود بہت دِلیر اور نِڈر تھے۔ ریاست بہاولپور کے نواب محمد صادق خان چہارم کو ۲۸ نومبر ۱۸۷۹ء کو، اُن کی صِغر سِنی کا زمانہ ختم ہونے پر، ریاست کے مکمل اِختیارات سونپے گئے تو نواب مذکور نے، آپ کے مُرید ہونے کے سبب، آپ کو اپنی رسمِ تاج پوشی میں شریک ہونے کا دعوت نامہ بھیجا۔
فقیر غلام فریدؒ اِس تاج پوشی کی تقریب میں خود تو شریک نہ ہوئے کیونکہ آپ کو نمود و نمائش بھری ایسی محفلیں سخت ناپسند تھیں، مگر ایک کافی لکھ کر بھجوا دی۔ اِس کافی میں نواب صاحب کے لیے دُعاؤں کے علاوہ ایک ایسی نصیحت بھی تھی جس میں فقیر کی بے خوفی صاف دکھائی دیتی ہے:
’پٹ اَنگریز دے تھانے‘
(ترجمہ: اَنگریزوں کے تھانے یہاں سے اُکھاڑ پھینکو)
صادق محمد خان چہارم کی صِغر سِنی کے زمانے میں بہاولپور کا نظم و نسق برطانوی نگرانی میں رہا تھا۔ اِس عرصے میں ولیم فورڈ، چارلس چیری منچن اور لیوپولڈ جان ہربرٹ گریے یکے بعد دیگرے ریاست میں برطانوی سپرنٹنڈنٹ رہے۔ ۱۸۷۹ء کے آخری چند مہینوں میں جان گراہم کورڈری بھی اِس منصب پر رہا۔ اَنگریزوں سے سبھی ڈرتے تھے، مگر فقیر غلام فریدؒ نے بلا خوف و خطر ’پٹ اَنگریز دے تھانے‘ کہہ دیا۔ یہ کافی آج بھی آپ کے دِیوانِ فرید میں موجود ہے۔
فقیر غلام فریدؒ کے شعری دِیوان میں ۲۷۱ کافیاں ہیں؛ کچھ مارواڑی اور سندھی زبان میں، اور باقی اُس ’ریاستی زبان‘ میں جسے اُن دنوں ’ملتانی‘ زبان بھی کہا جاتا تھا؛ اِسی کو بعد میں سرائیکی کہا جانے لگا۔
فقیر غلام فریدؒ نے زندگی کا ایک بڑا حصّہ چاچڑاں شریف، ڈیرہ نواب صاحب، احمدپور اور صحرائے چولستان میں گزارا۔ لیکن اِس قدر دُور اُفتادہ دیہی علاقوں میں بود و باش اور صحرا نَوردی کے باوجود آپ کو عربی اور فارسی پر کمال دَسترس حاصل تھی۔ آپ کی کافیوں میں اِن دو زبانوں کے سیکڑوں اَلفاظ موجود ہیں۔
عربی میں مشکل ترین نثر شیخُ الاکبر محی الدین ابنِ عربی سے منسوب کی جاتی ہے۔ اُن کی مشہور کتابوں ’فُصوصُ الحِکَم‘ اور ’فُتوحاتِ مَکّیہ‘ کی کوئی ایک سطر بھی آسانی سے سمجھ میں نہیں آتی۔ لیکن فقیر غلام فریدؒ ابنِ عربی کی سبھی باتیں سمجھ لیتے تھے۔
کسی نے ایک مرتبہ فقیر غلام فریدؒ سے پوچھا کہ کیا آپ نے ‘فصوص الحکم’ کی کوئی شرح بھی پڑھی ہے ؟ آپ نے پانچ شروح کے نام گنوا کر کہا کہ ہاں ! میں ‘فصوص’ کی یہ پانچ شروح پڑھ چکا ہوں ۔
اِسی طرح فارسی میں مشکل اور اَدَق سُخن گوئی کے حوالے سے حکیم سنائی کا نام لیا جاتا ہے۔ فقیر غلام فریدؒ کو حکیم سنائی کے شعری کلام پر بھی بڑی دَسترس حاصل تھی۔
ایک روز صبح ، نمازِفجر کی ادائیگی کے بعد آپ نے دریافت کیا کہ رات یہاں مسجد میں کوئی فارسی اَشعار پڑھ رہا تھا، وہ کون ہے؟ کسی نے بتایا کہ ’سردارو‘ نام کا ایک فقیر آج کل مسجد میں آ کر ٹھہرا ہوا ہے، شاید وہی بوقتِ تہجّد اَشعار پڑھ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: مجھے اُس سے ملواؤ تو!
کوئی سردارو فقیر کا ہاتھ پکڑ کر اُسے آپ کے سامنے لے آیا۔ آپ نے اُس سے یہ نہیں پوچھا کہ رات تم کس کے اَشعار پڑھ رہے تھے، بلکہ فرمایا کہ رات تم حکیم سنائی کے جو اَشعار پڑھ رہے تھے، وہ ذرا دُہرا دو۔
سردارو فقیر نے وہ اَشعار دوبارہ پڑھے تو فقیر غلام فریدؒ نے وہاں موجود لوگوں سےحکیم سنائی کے اَحوالِ زندگی، اُن کے کلام کے محاسن اور اُن کی عارفانہ شعر گوئی کے بارے میں ایک بھرپور گفتگو بھی کی۔
چاچڑاں کی ایک چھوٹی سی بستی میں رہنے والے اِس سادہ اِنسان کو ابنِ عربی کی اِس قدر اَدَق عربی اور حکیم سنائی کی اِس قدر مشکل فارسی کیسے سمجھ میں آ جاتی تھی، یہ بات آج بھی بہت سے لوگوں کو سمجھ نہیں آتی۔
فقیر غلام فریدؒ کو عربی اور فارسی کے علاوہ قدیم ہندی اور سنسکرت پر بھی بڑا عُبور حاصل تھا۔ آپ کے دِیوان کی کچھ کافیاں نہایت اَدَق قدیم سنسکرت اور پوربی زبان میں بھی لکھی ہوئی ہیں۔
ایک مرتبہ صحرائے چولستان میں سفر کے دوران آپ کو ایک پتھر پڑا نظر آیا، جس پر شاستری زبان میں باپ کی طرف سے بیٹے کے نام ایک پیغام کَندہ تھا: ’بیٹے فلاں! تمہارے لیے چھوڑا میرا خزانہ اِس پتھر کے نیچے مدفون ہے۔‘
فقیر غلام فریدؒ نے پتھر اُٹھایا اور ریتلی زمین کو ہاتھ سے کُریدا تو نیچے واقعی تانبے کا ایک برتن موجود تھا، جس میں سونے کی ڈلیاں، قیمتی پتھر، جواہرات اور دوسری بیش قیمت اَشیا پر مشتمل خزانہ رکھا ہوا تھا۔ آپ نے برتن کو اُسی طرح بند کیا، اُس پر مٹی ڈالی، پتھر واپس اپنی جگہ رکھا اور چل دیے۔
کچھ دِنوں بعد کہیں بیٹھے ہوئے چولستان کے اپنے ساتھیوں سے اِس واقعے کا ذِکر کیا۔ اُنہیں بتایا کہ شاید راجپوتانے کا کوئی راجہ کسی جنگ میں شکست کھا کر فرار ہوتے ہوئے یہاں خزانہ دفن کر گیا ہے، اور یہ بھی بتایا کہ مَیں نے پتھر کے نیچے وہ خزانہ بچشمِ خود دیکھا ہے۔
یہ سُن کر سب پہلے حیران ہوئے اور پھر خفا۔ کہنے لگے کہ آپ تو غنی ہیں، آپ کو دولت کی نہ غرض ہے نہ طلب؛ ہمیں ہی بتا دیا ہوتا، ہم ہی وہ خزانہ نکال لیتے! یہ آپ نے ہمارے ساتھ بڑا ظلم کیا۔
فقیر غلام فریدؒ سب کی باتیں سُنتے رہے، پھر فرمایا:
’باپ کی بیٹے کے لیے اَمانت تھی؛ وہی نکالے تو نکالے، ہم کسی کی اَمانت میں کیوں ہاتھ ڈالیں۔‘
فقیر غلام فریدؒ بڑے سادہ دِل اِنسان تھے، اِس لیے کسی کا دِل توڑنے سے بھی بہت ڈرتے تھے۔
ایک مرتبہ ماہِ رمضان کے پہلے روزے میں عصر کی نماز کے بعد مسجد میں بیٹھے تھے کہ مارواڑ سے ناٹک دکھانے والوں کا ایک ٹولا آپ کی سخاوت کا سُن کر چاچڑاں شریف آن پہنچا۔ آپ کا پوچھتے پُچھاتے وہ مسجد تک آ گئے۔ اُن دنوں مسجدوں کی بیرونی دیواریں بہت چھوٹی، قریب گھٹنوں تک اُونچی ہوا کرتی تھیں۔ ناٹک دکھانے والے مسجد سے باہر ہی کھڑے رہے اور اُن کے بڑے نے دیوار کے پار سے عرض کیا: حضور! مارواڑ سے آئے ہیں، آپ کو اپنا ناٹک دکھانا چاہتے ہیں۔
آپ نے فرمایا کہ ہمارا تو رمضان کا مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ دِن میں ہم روزہ رکھتے ہیں اور روزے کے بعد نمازِ عشاء اور دوسری نفلی عبادات کی تیاری ہوتی ہے؛ رمضان میں ہم ناٹک کیسے دیکھیں؟
یہ سُن کر سب کے چہرے اُتر گئے؛ کہنے لگے: ’ہم مارواڑی ہندو ہیں، ہمیں تو عِلم ہی نہیں تھا کہ آپ مسلمانوں کے ہاں کوئی رمضان کا مہینہ بھی ہوتا ہے، ورنہ ہم اتنی دُور سے آتے ہی نہ۔‘
فقیر غلام فریدؒ نے اُن کے اُترے ہوئے چہرے دیکھے اور اُن کی مایوسی بھری بات سُنی تو فرمایا: چلو میاں! تم اپنے ناٹک کی تیاری کرو، رات ہم تمہارا ناٹک دیکھیں گے۔
فقیر غلام فریدؒ نمازِ عشاء اور تراویح سے فراغت کے بعد مسجد کے اندر ہی بیٹھے رہے اور وہ لوگ اُسی گھٹنوں اونچی مسجد کی بیرونی دیوار سے باہر اپنا ناٹک دکھاتے رہے۔ ناٹک ختم ہوا تو آپ نے اُنہیں جی بھر کر اِنعام و اِکرام دیا۔ وہ خوش ہوئے اور اگلی صبح اپنا سامان باندھ کر واپس روانہ ہو گئے۔
دو دِن بعد فقیر غلام فریدؒ ، مولوی رکن الدین نامی اپنے ایک مصاحب سے کہنے لگے: طبیعت بڑی گراں ہے۔ لگتا ہے کہ ہم نے رمضان کے مہینے میں یہ جو ناٹک دیکھا ہے، اُسی کے سبب طبیعت پر یہ گرانی پڑی ہے۔
مولوی رکن الدین نے عرض کیا: تو پھر آپ نہ دیکھتے، اِنکار ہی کر دیتے۔
فقیر غلام فریدؒ نے فرمایا:
’اُن کا دِل ٹوٹ جاتا۔‘
فقیر غلام فریدؒ کے بہت سے مُریدین تھے، مگر وہ دوسرے بہت سے پیروں کی طرح اپنے مُریدین سے خدمت کروانے کے بجائے اُلٹا اُن کی خدمت کرتے تھے۔ مُریدین آپ کے پاس آتے تو آپ اُنہیں اہتمام کے ساتھ کھلاتے پلاتے اور اُن کی خاطر تواضع کرتے۔ کسی کا کوئی دُنیاوی کام ہوتا تو ریاست بہاولپور کے متعلقہ اَفسر کے نام رُقعہ بھی لکھ دیتے، اور کوئی دُعا کے لیے کہتا تو اُس کے لیے دُعا بھی کرتے۔
کسی نے ایک مرتبہ پوچھا کہ باقی پیر تو اپنے مُریدین سے خدمت کرواتے ہیں، آپ اُلٹا اپنے مُریدین کی خدمت کرتے ہیں؟
فقیر غلام فریدؒ نے فرمایا:
’جو پیر دُنیا میں اپنے مُریدین کی مدد نہیں کرتا، وہ آخرت میں اُن کی کیا مدد کرے گا؟‘
فقیر غلام فریدؒ نے ۱۸۷۶ء میں حجِ بیتُ اللہ کی سعادت بھی حاصل کی۔ اپنی بستی چاچڑاں سے روانہ ہوئے تو پہلے بھاپ کے اِنْجن سے چلنے والی ریل گاڑی کے ذریعے بمبئی پہنچے اور وہاں سے بحری جہاز کے ذریعے جدّہ۔
حج سے فراغت کے بعد مکّہ مکرّمہ سے مدینہ منوّرہ تک کا سفر فقیر غلام فریدؒ نے اُونٹ کی سواری پر کیا۔ اُن دنوں اِس سفر میں عموماً نو سے بارہ دِن لگ جاتے تھے۔ لیکن آپ اِس سفر میں ’تھیواں صدقے، صدقے، آیا شہر مدینہ‘ (مَیں صدقے صدقے جاؤں، کہ شہرِ مدینہ آنے کو ہے) کہتے گئے۔
فقیر غلام فریدؒ کو عِلمُ النّجوم کی مدد سے سفری زائچہ بنانے میں بھی بڑی مہارت حاصل تھی اور آپ چاند کی منزلوں کا عِلم بھی بخوبی جانتے تھے۔ چاچڑاں سے سفر پر نکلنے لگے تو اپنے سفری زائچے کے حساب سے آپ نے تخمینہ لگایا کہ جب مَیں مدینہ منوّرہ پہنچوں گا، چاند اپنی منزلِ ’ولی‘ میں داخل ہو چکا ہوگا۔
اِتّفاق دیکھیے کہ سفر کرتے کرتے جس رات فقیر غلام فریدؒ حصارِ مدینہ میں پہنچے اور پڑاؤ کیا، اُسی رات چاند بھی اپنی منزلِ ولی میں داخل ہوا۔ بہت سوں کو آج تک یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ ’بُلوغُ الارب‘ میں مذکور چاند اور ستاروں کی منازل کا یہ پیچیدہ عِلم آپ نے چاچڑاں جیسی دُور اُفتادہ بستی میں بیٹھ کر کیسے سیکھ لیا ہوگا۔
سفرِ حج کے دوران فقیر غلام فریدؒ نے عشقِ نبوی صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم سے سرشار کئی رُوح پرور اَشعار بھی کہے، جو آپ کے دِیوان کی مختلف کافیوں میں موجود ہیں۔
ریڈیو پاکستان کا فقیر غلام فریدؒ سے بہت دِلی ربط چلا آ رہا ہے۔ آپ کی ۲۷۱ کافیوں میں سے ۹۱ مختلف کافیاں ریڈیو پاکستان کے مختلف اسٹیشنوں پر، مختلف اَدوار میں، مختلف گویّوں کی آوازوں میں ریکارڈ ہو چکی ہیں اور آج بھی محفوظ ہیں۔
زاہدہ پروین، فقیر غلام فریدؒ کا کلام بڑی خوب صورتی سے گاتی رہی ہیں۔ اُنہیں آپ سے عقیدت بھی بہت زیادہ تھی۔ ایک مرتبہ عُرس کے دنوں میں وہ کوٹ مِٹھن شریف میں آپ کے مزار کے زنان خانے میں بیٹھی تھیں کہ کسی نے اُنہیں گراموفون کی تھالی پر چھپنے والی اُن کی تصویر کی مدد سے پہچان لیا۔
مزار کے اَحاطے میں خلقت کا اَژدِہام تھا۔ چند ہی لمحوں میں لوگوں کے درمیان یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی کہ زنان خانے میں زاہدہ پروین بیٹھی ہیں۔ وہ باہر نکلیں تو فقیر غلام فریدؒ کے عقیدت مندوں نے اُنہیں گھیر لیا۔ ایک نے کہا: آپ زاہدہ ہیں تو ایک کافی سُنا دیں۔
کہنے لگیں: میرے ساتھ سازندے تو ہیں نہیں۔
کسی سوختہ دِل فریدی نے کہا: زاہدہ! اپنے مُرشد کے نام پر مُرشد کی ایک کافی سُنا دو۔
زاہدہ پروین تڑپ اُٹھیں۔ اپنے ہاتھ ناف پر باندھے اور فقیر غلام فریدؒ کی ایک کافی بغیر کسی ساز کے گانے لگیں۔ گاتے گاتے اُن کی آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ سُننے والوں پر بھی ویسی ہی کیفیت طاری ہو گئی؛ اُن کی آنکھوں میں بھی نمی اُترنے لگی۔
ایک کافی ختم ہوئی تو کسی نے کہا: مُرشد کے نام پر ایک اور کافی۔
مُرشد کے نام سے اِنکار نہ ہو پایا۔ زاہدہ پروین نے دوسری کافی اُسی طرح برستی آنکھوں کے ساتھ گائی۔ پھر تیسری، پھر چوتھی اور پھر پانچویں۔
جب پانچویں کافی ختم ہوئی تو مزار کے اَحاطے کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہر فریدی نم دیدہ آنکھوں کے ساتھ کھڑا رو رہا تھا۔ کلامِ فرید میں سوز و گداز بھی تو کچھ کم نہیں؛ یہ پتھر سے پتھر دِلوں کو موم بنا دیتا ہے۔
زاہدہ پروین اگر فقیر غلام فریدؒ سے اپنی عقیدت میں منفرد تھیں تو فقیر غلام فریدؒ کا اُن پر رُوحانی دستِ شفقت بھی منفرد رہا ہے۔ آج بھی زاہدہ پروین کا شمار فقیر غلام فریدؒ کا کلام گانے والے بڑے گویّوں میں ہوتا ہے۔
فقیر غلام فریدؒ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ سورج کی مانند ہیں۔ جس طرح سورج کے گرد اپنے مدار میں گردش کرنے والا سیارہ اُسی کی کشش سے وابستہ رہتا ہے، اُسی طرح آپ سے رُوحانی اور قلبی محبّت میں گرفتار کوئی سالک بھی پھر زندگی بھر آپ کے دائرے سے باہر نہیں نکل پاتا۔
فقیر غلام فریدؒ سے ایک مرتبہ کسی نے پوچھا: ’فقیر بننا چاہتا ہوں، کوئی نسخہ بتائیں!‘ تو آپ نے اپنے دِیوان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ’فریدی کافیاں پڑھتے رہو، فقیر بن جاؤ گے۔‘
فریدی کافیوں میں بہت سے اَسرار و رُموز پنہاں ہیں، اِس لیے تو فقیر بننے والے اُنہیں پڑھتے اور سُنتے ہیں۔
آج فقیر غلام فریدؒ کے عُرس پر ریڈیو پاکستان، اپنے ڈائریکٹر جنرل اور دیگر تمام کارکنان کی طرف سے آپ کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے اور یہ عہد کرتا ہے کہ یہ قومی ادارہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی آپ کی کافیوں کی نشر و اِشاعت کے ذریعے آپ کے رُوحانی فیض کو عام کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا۔
بقولِ فقیر غلام فریدؒ:
’رانجھن مینڈا۔۔۔۔ ۔۔۔مَیں رانجھن دی
کھیڑیاں دے مُنہ ،بھسّ وے میاں جی!‘
(ترجمہ: رانجھا میرا، اور مَیں رانجھے کی ہوں۔ کھیڑوں کے مُنہ میں خاک!)
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان