پاک و ہند میں موسیقی کی روایت صرف سُروں کی دُنیا تک محدود نہیں تھی؛ یہ نَسَب اور نِسبت کی بُنیاد پر وجود میں آنے والے مَراتب کی دُنیا بھی تھی۔ کون کس گھرانے کا گائیک ہے، کس کا بیٹا ہے، کس کا شاگرد ہے، کس اُستاد سے فیض پایا ہے، کس کے ساتھ سَنگت کرتا ہے، کس صِنف کا گَوَیّا ہے اور کس دربار میں گاتا ہے؛ یہ سب گِنا بھی جاتا تھا اور تولا بھی۔ گِنا تو عقیدت کے پیمانے سے جاتا تھا، مگر تولا سماعتوں کی سُچّی تَکڑی پر جاتا تھا۔
اِس مُنفرد دُنیا میں میاں تان سین کا فرزند کسی عام گائیک کے بیٹے پر بہرحال فوقیت رکھتا تھا، اور خوشحال خان ’گُن سَمندر‘ کے پوتے کے سامنے کسی اور کا پوتا بھی برابری کا دعویٰ نہیں کرسکتا تھا۔ اِس دُنیا میں ماضی کی طرح کسی نہ کسی طور ’پِدَرَم سُلطان بُود‘ والا سِکّہ آج بھی چلتا ہے۔
مَراتب سے گُندھی اِس دُنیا میں کسی موسیقار یا گائیک کا ذاتی فَن اور ہُنر تو ایک طرف، اُس کا کسی بڑے بادشاہ یا نواب کے دربار میں گاتے گاتے وہاں سے راندۂ درگاہ ہوکر کسی کم مَرتبہ دربار سے وابستہ ہوجانا تک اپنے مقام سے گِرنا اور وَقار کا زَوال سمجھا جاتا تھا۔
مثال کے طور پر، ۱۷۳۹ء میں نادر شاہ کے حملے کے بعد جب مُغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلے کا شاہی دربار اور خزانہ اپنے پہلے سے چلے آتے جاہ و جلال کے ساتھ موسیقاروں کی سَرپرستی کا بوجھ اُٹھانے کے قابل نہ رہا اور اُس کے بعض نامور موسیقاروں کو بھی دربار چھوڑنا پڑا تو میاں اَنجھا بَرس خان بھی مجبوراً اِس دربار سے علیحدہ ہوگئے۔ موسیقی کے رَسیا امیر خان عمدۃ الملک، محمد شاہ سے اِجازت لے کر میاں اَنجھا بَرس خان کو اُس زمانے کے تین سو روپے کے خطیر ماہانہ وظیفے پر اپنے ساتھ الہ آباد لے گئے، مگر وہاں صرف دو تین ماہ گانے کے بعد وہ موسیقی ہی کے تارک ہوگئے۔
ایک عظیم گائیک کو کم مَرتبہ دربار میں چلے جانا اپنے وَقار کا گِرنا نظر آیا تو اُس نے سِرے سے گائیکی ہی چھوڑ دی۔
تاہم موسیقی کی اِسی نَسَب و نِسبت سے سجی سنوری مَراتب کی دُنیا میں ایک بانکا، سَجیلا اور تگڑا گائیک ایسا بھی گُزرا جس نے، کم اَز کم اپنی زندگی میں تو، اِن مَراتب کو اُتھل پُتھل کیے رکھا۔
چھَریرے بدن، وَجیہہ چہرے اور لباس، گُفتگو، نشست و برخاست میں خاص رکھ رکھاؤ رکھنے والے اِس گائیک نے سب سے پہلے تو اُس تَصوّر کو توڑا جس کے تحت کسی گھرانے دار کلاسیکی گَوَیّے کا دُھرپد یا خیال کی مَسند سے اُتر کر غزل اور گیت کی طرف آنا اُس کے مقام سے نیچے گِرنا سمجھا جاتا تھا۔ ایک دن اُس نے ہارمونیم پکڑا، سینہ تان کر غزل گائی اور اُس کے نتیجے میں ملنے والی محبّت اور شُہرت کے زور پر اِس تَصوّر کی دھجیاں اُڑا دیں کہ غزل گانا کسی کلاسیکی گَوَیّے کی تَحقیر، توہین یا اپنے اُونچے مقام سے گِر جانا ہے۔
اِسی طرح ہندوستانی موسیقی میں مَرتبے کا ایک پیمانہ یہ بھی تھا کہ گائیک گا کیا رہا ہے—کس کی بندش، کس کے بول اور، غزل یا گیت ہو تو، کس شاعر کا کلام۔ یعنی ’گائیک کیسا گا رہا ہے‘ کے ساتھ یہ بھی دیکھا جاتا تھا کہ ’وہ کس کو گا رہا ہے‘۔ مُستند اور صاحبِ مَرتبہ شاعر کے کلام کا اپنا وَزن تھا اور محض لفظوں کے داؤ پیچ سے شعر گھڑ لینے والوں کا اپنا مقام۔
مگر پَٹیالہ گھرانے کے ہمارے مَمدوح گَوَیّے نے یہاں بھی پیمانہ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اُس نے جب اور جہاں چاہا، خواجہ حیدر علی آتش، احمد فراز اور کوثر نیازی کو اپنی آواز کے زور پر ایک برابر کھڑا کردیا۔
پروفیسر فتح محمد نے احمد فراز اور مولانا کوثر نیازی کے حوالے سے ۲ ستمبر ۲۰۱۶ء کے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ احمد فراز، مولانا کوثر نیازی کو سرے سے شاعر ماننے سے ہی انکاری تھے اور اسی بنا پر انہوں نے اُن کے مجموعۂ کلام کا پیش لفظ لکھنے سے بھی انکار کردیا تھا ، مگر اِسے اُستاد اَمانت علی خان کی آواز کا سَحر ہی کہا جاسکتا ہے کہ مُنکِر (اِنکار کرنے والے) احمد فراز کی غزل ’تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ‘ اور مُنکَر (جس کا اِنکار کیا گیا) کوثر نیازی کی غزل ’کبھی جو نکہتِ زُلفِ نگار آئی ہے‘، اَمانت علی خان کی غزلوں کی آڈیو کیسٹ میں محمود و ایاز کی طرح ایک ہی صف میں کھڑی نظر آتی ہیں۔
اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اُستاد امانت علی خان کی آواز نے شاعری کے مَراتب مٹا دیے تھے؛ کمال یہ تھا کہ وہ شاعر کے مَرتبے کا محتاج نہیں رہا تھا۔ اُس کے گلے سے نکلا ہوا کلام پہلے شاعر کا تعارف پوچھنے کے بجائے سیدھا سامع کے دِل تک پہنچتا تھا۔
گویا ایک مقام پر پہنچ کر اُستاد اَمانت علی خان نے مَراتب کے پیمانے خود طے کرنا شروع کردیے تھے۔
آج پَٹیالہ گھرانے کے اِسی بانکے، سَجیلے اور تگڑے گَوَیّے، اُستاد اَمانت علی خان کی ۵۲ ویں برسی ہے۔
اُستاد اَمانت علی خان ۱۹۲۲ء میں متحدہ ہندوستان کے پنجاب کے شہر ہوشیارپور میں اُستاد اختر حسین خان کے گھر پیدا ہوئے۔ موسیقی اُنہیں دَدھیال اور نَنھیال، دونوں طرف سے وَرثے میں ملی تھی۔
اُن کے والد اُستاد اختر حسین خان اپنے زمانے کے نام وَر گَوَیّے اور موسیقی کے عالِم تھے؛ دادا اُستاد علی بخش خان ’جرنیل‘ اور پردادا میاں کَلّو خان کا بھی ہندوستان میں موسیقی کے حوالے سے بڑا چرچا تھا۔ میاں کَلّو خان نے دہلی کے معروف موسیقار میر قُطب بخش ’تان رَس‘ خان سے اِکتسابِ فَن کیا تھا اور یہی خاندانی سلسلہ آگے چل کر ’پَٹیالہ گھرانے‘ کی شناخت بنا۔
ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں ’گھرانہ‘ محض ایک خاندان کو نہیں کہتے؛ یہ اُستاد سے شاگرد اور ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہونے والے اُس مخصوص اندازِ گائیکی، فَنّی علم اور موسیقائی روایت کا نام بھی ہے جو وقت گُزرنے کے ساتھ اپنی قطعی مُنفرد اور الگ پہچان بنالے۔
پاک و ہند کی موسیقی میں کئی موسیقائی گھرانے معروف رہے ہیں: ’گوالیار گھرانہ‘ (ریاست گوالیار سے وابستگی کے باعث)، ’دہلی گھرانہ‘ (شہر اور دربارِ دہلی کے حوالے سے)، ’آگرہ گھرانہ‘ (شہر آگرہ سے تعلق کے باعث)، ’کیرانہ گھرانہ‘ (قصبہ کیرانہ کے نام پر)، ’جے پور اَترولّی گھرانہ‘ (جے پور اور اَترولّی سے وابستگی کے باعث)، ’شام چوراسی گھرانہ‘ (پنجاب کے گاؤں شام چوراسی کے نام پر)، ’رام پور سَہسوان گھرانہ‘ (رام پور اور سَہسوان سے تعلق کے حوالے سے) اور ’بھنڈی بازار گھرانہ‘ (بمبئی کے علاقے بھنڈی بازار کے نام پر)۔
مگر اِن سب میں ریاست اور دربارِ پَٹیالہ کے ساتھ اِس خاندان کے گَوَیّوں کے تعلق کی وجہ سے معروف ہونے والا ’پَٹیالہ گھرانہ‘ اِس لیے زیادہ شُہرت کا حامل رہا ہے کہ اِس کی کئی جوڑیوں نے عالَم گیر شُہرت کمائی ہے۔ میاں کَلّو خان کے بعد اُن کے بیٹے علی بخش خان اور اُن کے ساتھی فتح علی خان نے اِس گائیکی کو ہندوستان بھر میں شُہرت دی۔ دونوں ساتھ گاتے تھے اور اُن کی جوڑی ’عَلِیّا فَتّو‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔
علی بخش خان کے نام کے ساتھ ’جرنیل‘ اور فتح علی خان کے ساتھ ’کرنیل‘ لگنے کی بھی ایک دل چسپ روایت ہے۔ ایک روایت کے مطابق وائسرائے ہند وِکٹر الیگزینڈر بروس، نویں اَرل آف ایلگن، دونوں کی گائیکی سے اِس قدر مُتأثر ہوئے کہ علی بخش خان کو ’جنرل‘ اور فتح علی خان کو ’کرنل‘ کا خطاب دیا گیا۔ یہی ’جنرل‘ اور ’کرنل‘ مقامی زبان میں ’جرنیل‘ اور ’کرنیل‘ ہوگئے۔ البتہ اِن خطابات کے بارے میں دوسری روایتیں بھی ملتی ہیں، اِس لیے اِسے روایت ہی کہنا زیادہ دُرست ہے۔
اُستاد اَمانت علی خان کے نَنھیال میں بھی سُروں ہی کا بسیرا تھا۔ اُن کے ماموں اُستاد اُمید علی خان بھی اپنے عہد کے بڑے کلاسیکی گَوَیّوں میں شمار ہوتے تھے۔ اُن کی والدہ نے اپنے خوب صورت بیٹے کو بڑے ناز سے، گویا کسی شہزادے کی طرح پالا۔ گھر کے بڑوں کی توجہ صرف اِس بات پر نہیں تھی کہ اَمانت علی سُر صحیح لگائے؛ لباس کیسا ہو، گُفتگو کیسے کرے، محفل میں کیسے بیٹھے اور ایک بڑے گھرانے کے گَوَیّے کا رکھ رکھاؤ کیسا ہونا چاہیے—یہ سب بھی اُن کی تربیت کا حصّہ تھا، جسے اُن کی والدہ نے بڑی توجہ سے انجام دیا۔
اُستاد اختر حسین خان کے گھر موسیقی کا یہ سلسلہ صرف اَمانت علی خان تک محدود نہیں رہا۔ اُن کے چھوٹے بھائی اُستاد فتح علی خان اور اُستاد حامد علی خان بھی آگے چل کر بڑے گَوَیّے ہوئے۔ خصوصاً اَمانت علی خان اور فتح علی خان نے ایسی جوڑی بنائی کہ دونوں کے نام موسیقی کی تاریخ میں رفتہ رفتہ ایک ہی فَنّی شناخت بن گئے۔
۱۹۴۷ء کے ہندوستان کے بٹوارے نے اُستاد اَمانت علی خان اور اُن کے خاندان کو شہرِ لاہور کی صورت میں ایک نئی دُنیا میں لا کھڑا کیا؛ یہ ایک نوزائیدہ مملکت کا ثقافتی طور پر خوش حال ترین شہر تھا، مگر یہاں کسی شاہی دربار کی سَرپرستی بہرحال موجود نہیں تھی۔
اَمانت علی خان اور دیگر اہلِ خانہ کا ہوشیارپور سے لاہور پہنچنا محض ایک خاندان کی ایک شہر سے دوسرے شہر ہجرت نہیں تھی؛ اِس نَقلِ مکانی نے موسیقاروں کی سَرپرستی کے صدیوں پُرانے نظام کو بھی بدل دیا تھا۔ وہ شاہی اور نوابی دربار، جن سے بڑے بڑے گَوَیّوں کا روزگار، مَرتبہ اور شناخت وابستہ رہی تھی، اب اِس خاندان کے پاس نہیں تھے۔
اِبتدائی زمانہ بہت کٹھن تھا۔ جس خاندان کے بُزرگ شاہی درباروں میں گاتے اور بڑے بڑے راجوں، مہاراجوں اور نوابوں کی محفلوں کی زینت بنتے آئے تھے، اُسی خاندان کے سربراہ اُستاد اختر حسین خان کو لاہور میں گُزر بَسر کے لیے گھر گھر جاکر موسیقی سکھانا پڑی۔ اُس زمانے میں صاحبِ حیثیت اور اَشرافیہ کے گھرانوں میں بچوں کو کلاسیکی موسیقی کی تعلیم دلانے کا رواج بھی تھا۔ اُستاد اختر حسین خان ایسے گھروں میں جاتے، بچوں کو سُر، راگ اور کلاسیکی گائیکی کی تعلیم دیتے اور اِسی محنت سے خاندان کی گُزر بَسر ہوتی۔
اِنہی مُشکل حالات میں ریڈیو پاکستان نے اِس خاندان کی مالی معاونت میں اہم کردار ادا کیا۔ اَمانت علی خان اور فتح علی خان ریڈیو پاکستان پر گاتے اور ایک پیش کش کے اُنہیں پینتالیس روپے ملتے تھے۔ یہ اُس زمانے کے حساب سے ایک غیر معمولی رقم تھی؛ ہجرت کے بعد نئے سِرے سے زندگی شروع کرنے والے اِس موسیقار خاندان کے لیے یہ آمدنی ایک باقاعدہ سہارا بنتی رہی۔
یوں ریڈیو پاکستان اِس گھرانے کے لیے صرف پَٹیالہ کے شاہی دربار کا مُتبادل نہیں بنا بلکہ اس ادارے نے پٹیالہ دربار کے مقابلے میں ، جہاں صرف مراجا، نواب، اُمرا اور چند سو خواص سامنے بیٹھے ہوتے تھے، ان گائیکوں کی آواز کو ہزاروں لاکھوں سامعین تک پہنچایا۔
جِدّوجُہد کے اِن اِبتدائی برسوں میں اَمانت علی خان اور فتح علی خان کی جوڑی نے اپنے قدم جمانے کی کوششوں میں ۱۹۴۹ء میں ہندوستان کا دورہ بھی کیا اور کلکتہ کی معروف ’آل بنگال میوزک کانفرنس‘ میں اپنے فَن کا مظاہرہ کیا۔ یہ اُن کی فَنّی زندگی کا ایک اہم مرحلہ ثابت ہوا۔ وہاں اُن کی گائیکی کو ایسی پَذیرائی ملی کہ ’اَمانت علی، فتح علی‘ کی جوڑی کی شُہرت پاکستان اور ہندوستان، دونوں طرف پھیل گئی۔ اب پَٹیالہ کا شاہی دربار پیچھے رہ گیا تھا، مگر پَٹیالہ کی گائیکی نہیں۔
یوں ہجرت کے بعد گھر گھر جاکر موسیقی سکھانے اور ریڈیو کی پیش کشوں سے گُزر بَسر کرنے والے اِس خاندان نے چند ہی برسوں میں نئے ملک کی موسیقائی دُنیا میں اپنے قدم جما لیے۔ ریڈیو پاکستان لاہور اُن کی فَنّی زندگی کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ تاہم ریڈیو کی نشریات کے ساتھ ساتھ دونوں بھائی موسیقی کی بڑی محفلوں اور نجی تقریبات میں بھی شریک ہوتے رہے۔
پاکستان میں قیام کے اِبتدائی برسوں ہی میں اُستاد اَمانت علی خان کی شادی اَلماس اَمانت علی خان سے ہوئی۔ اُن کی سات اَولادیں ہوئیں: تین بیٹے اور چار بیٹیاں۔ بیٹوں میں اَسد اَمانت علی خان، اَمجد اَمانت علی خان اور شفقت اَمانت علی خان شامل تھے۔ بڑے بیٹے اَسد اَمانت علی خان، جو ۱۹۵۵ء میں لاہور میں پیدا ہوئے، نے بعد اَزاں اپنے والد، خاندان اور گھرانے کا نام روشن کیا۔
اِس دوران ریڈیو پاکستان اَمانت علی خان اور فتح علی خان کی فَنّی زندگی کا ایک بڑا مرکز بن چکا تھا۔ پھر ۱۹۶۴ء میں لاہور سے پاکستان ٹیلی وژن کی نشریات شروع ہوئیں تو ریڈیو کے ساتھ ساتھ اِس نئے میڈیم پر بھی دونوں بھائیوں کی بھرپور نمائندگی ہونے لگی۔ پَٹیالہ گھرانے کی جو گائیکی کبھی شاہی دربار سے وابستہ تھی، وہ پہلے ریڈیو کی لہروں اور پھر ٹیلی وژن کی سکرین کے ذریعے گھر گھر پہنچنے لگی۔
کلاسیکی موسیقی اُن کے فَن کی بُنیاد تھی، مگر اَمانت علی خان نے اپنے آپ کو صرف کلاسیکی گائیکی تک محدود نہیں رکھا۔ اُنہوں نے گیت، غزل، مِلّی نغمے اور سوز و سلام بھی گائے۔ اُن کے فَن کا خاصا سرمایہ گراموفون اور اَی ایم آئی ریکارڈنگز کے علاوہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے آرکائیوز میں محفوظ ہوا۔ ریڈیو پاکستان کے ’آواز خزانہ‘ یوٹیوب چینل پر دونوں بھائیوں، اُستاد اَمانت علی خان اور اُستاد فتح علی خان، کی مشترکہ موسیقائی پیش کشوں کے علاوہ اَمانت علی خان کا سولو گایا ہوا فَنّی سرمایہ بھی موجود ہے۔
۱۹۶۹ء میں حکومتِ پاکستان نے اُستاد اَمانت علی خان کی فَنّی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں صدارتی تمغۂ حُسنِ کارکردگی سے نوازا۔ یہ ایک عظیم گَوَیّے کی زندگی ہی میں اُس کی فَنّی خدمات کے قومی اعتراف کا اظہار تھا۔
اُستاد اَمانت علی خان کی شخصیت بھی اُن کی آواز ہی کی طرح پُرکشش تھی۔ چھَریرے بدن، وَجیہہ چہرے اور نفیس لباس کے باعث وہ محفل میں الگ پہچانے جاتے تھے۔ طبیعت ہنس مُکھ، زِندہ دِل اور بَذلہ سَنج تھی۔ دوستوں کے ساتھ محفلیں جماتے اور موسیقاروں کے علاوہ شاعروں، ادیبوں اور دوسرے اہلِ علم و فَن کے ساتھ بھی اُن کا اُٹھنا بیٹھنا تھا۔
زندگی کے آخری دِنوں تک وہ بظاہر صحت مند اور چاق و چوبند تھے اور کسی ایسی طویل بیماری میں مُبتلا نہ تھے جس سے اُن کی ناگہانی موت کا اَندیشہ ہوتا۔ پھر اچانک اَپینڈکس کا شدید درد اُٹھا۔ اُنہیں ہسپتال لے جایا گیا، مگر مرض کی تشخیص اور آپریشن کے معاملے میں تاخیر ہوئی اور اَپینڈکس پھٹ گیا۔ سوانحی روایات کے مطابق یہی پیچیدگی جان لیوا ثابت ہوئی۔ ۱۸ ستمبر ۱۹۷۴ء کو صرف ۵۲ برس کی عُمر میں اُستاد اَمانت علی خان دُنیا سے رُخصت ہوگئے۔
آہوں اور سِسکیوں کے ساتھ عالَمِ جوانی میں رُخصت ہونے والے پَٹیالہ گھرانے کے اِس بانکے، سَجیلے گَوَیّے کو لاہور کے تاریخی مومن پورہ قبرستان میں سُپردِ خاک کیا گیا۔
سب سے گہرا صدمہ شاید اُس بھائی کو پہنچا جس نے بچپن سے اُن کے ساتھ سُر لگایا تھا۔ اُستاد فتح علی خان کے لیے اَمانت علی خان صرف بڑے بھائی نہیں، عُمر بھر کے ساتھی گَوَیّے بھی تھے۔ دونوں کو بچپن ہی سے ایک جوڑی کی صورت میں تیار کیا گیا تھا اور برسوں سے ’اَمانت علی—فتح علی‘ ایک ہی فَنّی شناخت بن چکے تھے۔ اَمانت علی خان کی وفات کے ساتھ یہ جوڑی ایک لمحے میں ٹوٹ گئی۔ فتح علی خان اِس صدمے سے ایسے نڈھال ہوئے کہ تقریباً دو برس تک گانا ہی چھوڑ دیا۔
اُستاد اَمانت علی خان کی ناگہانی موت سے چند ہفتے قبل ہی اُن کی آواز میں گائی ابنِ اِنشا کی ایک غزل ریڈیو اور ٹیلی وژن سے بار بار نشر ہورہی تھی:
’اِنشا جی اُٹھو، اب کُوچ کرو
اِس شہر میں جی کو لگانا کیا‘
پھر اِس غزل کو گانے والا گَوَیّا خود اچانک دُنیا سے رُخصت ہوگیا تو اِس اتفاق کو عام لوگوں نے ایک گائیک کی اپنی موت کی پیشگی خبر سے تشبیہ دے ڈالی۔ بہت سے سامعین نے اِسے محض ایک غزل کی بجائے اَمانت علی خان کی اپنی آواز میں اپنی ہی موت کی پیش گوئی سمجھا۔
ممکن ہے یہ محض اتفاق ہو، ممکن ہے کوئی اِس میں کوئی اور معنی تلاش کرے؛ بہرحال اَمانت علی خان کی ناگہانی موت کے بعد ’اِنشا جی اُٹھو، اب کُوچ کرو‘ اُن کی زندگی اور موت سے جُڑی ایک دیومالائی کہانی بن گئی۔
اور یوں صرف ۵۲ برس کی عُمر میں وہ آواز خاموش ہوگئی جس نے پَٹیالہ کے شاہی دربار سے چلی آنے والی موسیقائی روایت کو پاکستان میں ریڈیو، ٹیلی وژن، کلاسیکی موسیقی، غزل، گیت اور مِلّی نغمے تک پھیلا دیا تھا۔
اُستاد اَمانت علی خان کے بڑے بیٹے اُستاد اَسد اَمانت علی خان ۲۰۰۷ء میں اور اُن کے چھوٹے بھائی اور عُمر بھر کے ساتھی گَوَیّے اُستاد فتح علی خان ۲۰۱۷ء میں وفات پانے کے بعد مومن پورہ قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ یوں زندگی بھر سُروں اور رشتوں میں بندھا یہ خاندان موت کے بعد بھی ایک ہی خاک میں آسودہ ہے۔
اُستاد اَمانت علی خان کے فَنّی مَحاسن کا کسی ایک تحریر میں اِحاطہ ممکن ہی نہیں؛ اِس کے لیے کئی دفتر درکار ہیں۔ تاہم اُن کے فَن کی عظمت کا خفیف سا اندازہ اِس بات سے ضرور لگایا جاسکتا ہے کہ اپنے چھوٹے بھائی اُستاد فتح علی خان کے ساتھ اُنہوں نے پَٹیالہ گھرانے کی کلاسیکی گائیکی کو ایک ایسی شان اور شناخت دی کہ ’اَمانت علی—فتح علی‘ محض دو گَوَیّوں کے نام نہیں رہے، بلکہ ایک مکمّل موسیقائی حوالہ بن گئے۔
دونوں بھائیوں کی اِس جوڑی کی اصل خُوبی یہ تھی کہ دو الگ آوازیں مل کر ایک ہی موسیقائی وجود بن جاتی تھیں۔ ایک راگ کے اندر کبھی ایک بھائی فقرہ اُٹھاتا تو دوسرا اُسے وہیں سے تھام کر آگے لے جاتا؛ کبھی ایک سُر اور راگ کی فضا قائم کرتا تو دوسرا لَے اور تان سے اُس میں رنگ بھرتا۔ کہیں دونوں آوازیں ایک دوسرے کے تعاقب میں چلتی محسوس ہوتیں اور کہیں یوں لگتا جیسے ایک ہی موسیقائی خیال دو آوازوں میں اپنا اظہار کررہا ہو۔ پَٹیالہ گھرانے کی تیز تان، مُرکی، پَلٹے، زَمزمے، لَے کاری اور آواز کی لَچک اُن دونوں کے ہاں یکجا ہوتیں تو ایک الگ ہی رنگ پیدا ہوتا تھا۔
کلاسیکی موسیقی کے معروف جریدے ’سُروتی‘ نے بھی اَمانت علی خان اور فتح علی خان کو کلاسیکی گائیکی کی ایک ’لیجنڈری جوڑی‘ قرار دیتے ہوئے دونوں کے فَنّی فرق کو خاص طور پر نشان زد کیا ہے۔ پاکستان کے قومی اِدارۂ لوک وَرثہ کی کتاب ’گھراناز: میوزک آف دی سَب کانٹیننٹ‘ بھی اِس جوڑی کو پَٹیالہ گھرانے کی اُس طویل فَنّی روایت کے تسلسل میں دیکھتی ہے، جس کا موسیقائی علم کئی نسلوں سے منتقل ہوتا ہوا اُن تک پہنچا تھا۔
دونوں بھائیوں کی جُگل بندی میں اِسی لیے ایک نہایت دل چسپ فَنّی تقسیم بھی دکھائی دیتی تھی۔ اَمانت علی خان کی آواز شیریں، کُھلی ہوئی اور بھرپور تھی۔ سُر پر اُن کی گرفت، راگ کو خوش اُسلوبی سے کھولنے، اُس کی صورت اُبھارنے اور بالخصوص اُوپری سَپتک میں آواز کو کُھلا چھوڑنے کا اپنا کمال تھا۔ فتح علی خان کی آواز نسبتاً گہری تھی اور وہ راگ کی پیچیدہ بُنت، بہلاووں، تانوں اور لَے کاری میں اپنا ہُنر دکھاتے تھے۔
اَمانت علی خان کی آواز کی شیرینی، سُر کا لگاؤ اور اُوپری سَپتک کی کشادگی کو فتح علی خان کی گہری آواز، پیچیدہ تان اور لَے کاری ملتی تو دو الگ گَوَیّے نہیں، گویا ایک ہی موسیقائی وجود کی دو آوازیں سُنائی دیتی تھیں۔ دونوں کو الگ الگ بڑے گَوَیّے کہنا یقیناً دُرست ہے، مگر اُن کے عہد میں اُن کی سب سے بڑی فَنّی شناخت پھر بھی وہی تھی جسے برِّصغیر کے موسیقی شناس آج تک ایک ہی سانس میں ادا کرتے ہیں:’اَمانت علی—فتح علی‘۔
لیکن اِس تقسیم کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ ایک بھائی صرف سُر اور دوسرا صرف تان کا گَوَیّا تھا۔ دونوں مکمّل کلاسیکی گَوَیّے تھے اور ایک دوسرے کے میدان میں پوری قدرت کے ساتھ داخل ہوسکتے تھے۔ فرق یہ تھا کہ قدرت نے دونوں کو الگ الگ جگہ کچھ زائد دولت عطا کردی تھی اور اُن کے والد اُستاد اختر حسین خان کی تربیت نے اِن صلاحیتوں کو باہم اِس طرح جوڑ دیا کہ ایک کی طاقت دوسرے کی طاقت کو مزید نمایاں کرتی تھی۔
اِس فَنّی عظمت کی سب سے بڑی شہادت اِن دونوں بھائیوں کی محفوظ آوازیں ہیں۔ ریڈیو پاکستان نے قیامِ پاکستان کے بعد جن بڑے کلاسیکی گَوَیّوں کے فَن کو اپنے مائیکروفون اور ریکارڈنگ کے ذریعے محفوظ کیا، اُن میں ’اَمانت علی—فتح علی‘ کی جوڑی کو خاص مقام حاصل ہے۔
ریڈیو پاکستان کے صوتی آرکائیو، یعنی ہمارے ’آواز خزانہ‘، میں اُن کی مشترکہ کلاسیکی پیش کشیں اِس لحاظ سے قومی موسیقائی وَرثہ ہیں کہ اِن میں پَٹیالہ گھرانے کی ایک پوری نسل اپنی اصل آواز میں محفوظ ہے۔
ریڈیو پاکستان کے اِس محفوظ سرمائے کے ساتھ ساتھ دوسرے صوتی ذخائر میں موجود اِن بھائیوں کی متعدد نادر کلاسیکی ریکارڈنگز میں ’میاں کی توڑی‘، ’اَبھوگی کانڑا‘، ’ایمن‘، ’درباری‘ اور دوسرے راگوں کی پیش کشیں شامل ہیں۔ دستیاب ریکارڈنگ فہرستوں میں ۱۹۶۵ء کی ’میاں کی توڑی‘ کی تقریباً بیالیس منٹ طویل پیش کش بھی ملتی ہے، جبکہ ساٹھ کی دہائی کی دوسری طویل کلاسیکی ریکارڈنگز بھی اِس جوڑی کے فَنّی پھیلاؤ کی گواہی دیتی ہیں۔
اُن کی کلاسیکی گائیکی کی ایک اور خُوب صورت مثال ’درباری‘ کی محفوظ پیش کش ہے، جس میں پَٹیالہ گھرانے کی برق رفتار تانیں، نازک موسیقائی آرائش اور جوڑی میں گانے کی باہمی تقسیم پوری آب و تاب سے سامنے آتی ہے۔ اِسی طرح پَٹیالہ گھرانے کا مخصوص ’راگ رام ساکھ‘ بھی دونوں بھائیوں کی شناخت سے وابستہ رہا اور اُن کے پسندیدہ راگوں میں شمار ہوتا تھا۔
یوں اَمانت علی خان اور فتح علی خان کا کلاسیکی سرمایہ صرف چند معروف راگوں تک محدود نہیں تھا؛ خیال، ترانہ اور ٹھمری سمیت پَٹیالہ گھرانے کی مختلف فَنّی جہتیں اُن کی آواز میں سامنے آتی تھیں۔
کلاسیکی موسیقی کی بُلندیوں کو سَر کرنے کے بعد اُستاد اَمانت علی خان نے غزل کی طرف رُخ کیا تو یہ محض ایک نئی صِنف میں طبع آزمائی نہیں تھی؛ ایک گھرانے دار کلاسیکی گَوَیّے کے لیے یہ اُس زمانے کے موسیقائی مَراتب سے ایک طرح کی بغاوت بھی تھی۔
اِس حوالے سے اُستاد اَمانت علی خان کے خاندان میں ایک دل چسپ واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ ایک محفل میں اُس عہد کے ایک معروف غزل گائیک سے گُفتگو کے دوران غزل گائیکی کی دُشواری اور اُس میں مہارت کا ذکر کچھ اِس انداز میں ہوا کہ اَمانت علی خان نے اُسے اپنے فَن کے لیے ایک چیلنج سمجھ لیا۔
اُستاد اَمانت علی خان کا مؤقف تھا کہ جو گَوَیّا راگ کی پیچیدگیوں پر قدرت رکھتا ہو، اُس کے لیے غزل گانا کسی ناقابلِ عُبور مرحلے کا نام نہیں؛ بلکہ ایک کلاسیکی گَوَیّے کے نقطۂ نظر سے یہ اپنی بُلند مَسند سے نسبتاً ہلکی صِنف کی طرف آنا ہے۔
روایت کے مطابق اِسی واقعے نے اُستاد اَمانت علی خان کے اندر غزل گا کر اپنی بات ثابت کرنے کی تحریک پیدا کی۔ ریڈیو پاکستان لاہور نے اُن کے اِس نئے فَنّی رُخ کو باقاعدہ شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ریڈیو پروڈیوسر اعظم خان کے بیان کے مطابق ۱۹۶۷ء میں اُنہیں اَمانت علی خان کی آواز اور کلاسیکی تربیت میں ایک بڑے غزل گائیک کے اِمکانات نظر آئے۔ اُنہوں نے خواجہ حیدر علی آتش کی غزل ’یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرو کرتے‘ منتخب کی، جس کی دُھن ریڈیو پاکستان لاہور کے موسیقار نیاز حسین شامی نے ترتیب دی۔
اَمانت علی خان کی آواز میں یہ غزل بے حد مقبول ہوئی اور اُن کی غزل گائیکی کے ایک فیصلہ کُن مرحلے کی شناخت بن گئی۔
اُستاد اَمانت علی خان نے غزل کے لیے شُعرا کا انتخاب بھی کسی ایک عہد یا ایک اَدبی مزاج تک محدود نہیں رکھا۔ خواجہ حیدر علی آتش کی ’یہ آرزو تھی تجھے گُل کے رُوبرو کرتے‘، اَدا جعفری کی ’ہونٹوں پہ کبھی اُن کے مِرا نام ہی آئے‘، احمد فراز کی ’تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ‘، سیف الدین سیف کی ’مِری داستانِ حسرت وہ سُنا سُنا کے روئے‘، ظاہر کاشمیری کی ’موسم بدلا، رُت گدرائی، اہلِ جنوں بے باک ہوئے‘ اور ابنِ اِنشا کی ’اِنشا جی اُٹھو، اب کُوچ کرو‘ اُن کی آواز سے وابستہ یادگار غزلوں میں شامل ہوگئیں۔
اَدا جعفری کی مذکورہ غزل کی مقبولیت کا ذکر اُن کے سوانحی تذکروں میں بھی اَمانت علی خان کی آواز کے حوالے سے ملتا ہے۔ احمد فراز کے ساتھ اَمانت علی خان کی موسیقائی نِسبت بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ’تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ‘ فراز کے اِبتدائی شعری دَور کا کلام تھا اور اَمانت علی خان کی آواز نے اِسے ریڈیو کے وسیع حلقۂ سامعین تک پہنچایا۔
غزل میں اَمانت علی خان کی کامیابی کا راز شاید یہی تھا کہ وہ کلاسیکی موسیقی کا پورا سرمایہ اپنے ساتھ لائے، مگر اُسے شعر پر مُسلّط نہیں کیا۔ سُر کی پُختگی، آواز کا لگاؤ، سانس پر قدرت اور راگ داری اُن کے پاس موجود تھی، لیکن غزل میں لفظ اور معنی کو اُنہوں نے اپنی جگہ قائم رکھا۔ شعر اُن کے گلے میں آکر تانوں کے ہُجوم میں گُم نہیں ہوتا تھا؛ تلفّظ، مصرعے کا مفہوم اور جذبے کا اُتار چڑھاؤ سُر کے ساتھ اِس طرح جُڑتے تھے کہ شاعری اور موسیقی ایک دوسرے کی حریف نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی مَدَدگار بن جاتی تھیں۔
غزل ہی کی طرح اُستاد اَمانت علی خان نے گیت اور پنجابی گیت میں بھی اپنے کلاسیکی پس منظر کو بوجھ نہیں بننے دیا۔ اُن کی آواز میں ’مورا جِیا نہ لاگے‘ اور ’کب آؤ گے، تم آؤ گے‘ جیسے گیتوں سے لے کر پنجابی نغمے ’اَیہ دھرتی میرا سونا یارو‘ تک ایک الگ ہی رنگ دکھائی دیتا ہے۔
’اَیہ دھرتی میرا سونا یارو‘ کے بول نواز نے لکھے اور ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر عبد الحق قریشی نے اِس کی دُھن ترتیب دی۔ مِلّی نغموں میں ’اے وطن، پیارے وطن، پاک وطن‘ اور ’چاند میری زمیں، پھول میرا وطن‘ اُن کی آواز کی مستقل شناخت بن گئے۔ اوّل الذکر کے بول کرم حیدری کے تھے، جبکہ ’چاند میری زمیں، پھول میرا وطن‘ ساقی جاوید کا لکھا ہوا تھا۔
اِن نغموں میں بھی اَمانت علی خان کا کمال یہی تھا کہ کلاسیکی تربیت کی پُختگی اپنی جگہ موجود رہی، مگر ادائیگی ایسی سادہ، رَواں اور براہِ راست تھی کہ نغمہ عام سامع کی زبان پر چڑھ گیا۔ ریڈیو پاکستان اور بعد میں پاکستان ٹیلی وژن نے اِن آوازوں کو محفل سے نکال کر پورے ملک کی سماعت کا حصّہ بنادیا۔
اُستاد اَمانت علی خان کے فَن کا ایک نسبتاً کم زیرِ بحث پہلو سوز و سلام بھی ہے۔ پَٹیالہ کے اِس موسیقار خاندان میں مذہبی کلام، سوز، سلام اور مرثیے سے وابستگی کی روایت موجود تھی اور اَمانت علی خان نے بھی اِس روایت کو اپنی آواز دی۔ یہاں اُن کی گائیکی کا مزاج غزل یا کلاسیکی محفل سے مختلف ہوجاتا تھا؛ فَنّی نمائش کے بجائے لفظ، عقیدت اور سوز کو مرکزیت حاصل ہوجاتی تھی۔
یوں اَمانت علی خان کے فَن کا دائرہ راگ، خیال اور ترانے سے شروع ہوکر غزل، گیت، پنجابی نغمے، مِلّی نغمے اور سوز و سلام تک پھیل جاتا ہے۔ اُن کی اِن مختلف جہتوں کا قیمتی صوتی سرمایہ گراموفون اور اَی ایم آئی کی ریکارڈنگز کے ساتھ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے آرکائیوز میں بھی محفوظ ہے—اور یہی محفوظ آوازیں آج اِس ہمہ جہت گَوَیّے کے فَن کی سب سے بڑی گواہی ہیں۔
اُستاد اَمانت علی خان ۱۹۲۲ء میں پیدا ہوئے اور ۱۹۷۴ء میں اِس دُنیا سے رُخصت ہوگئے۔ گویا مالکِ لَم یَزَل و لَم یَزال نے اُنہیں جینے کے لیے صرف باوَن برس دان کیے۔ یہ کسی فَن کار کے لیے کوئی بہت طویل مُہلت نہ تھی، مگر اَمانت علی خان نے اِسی مختصر زندگی میں کئی ایسی فَنّی حدیں عُبور کرلیں جنہیں اُن کے عہد کی موسیقائی روایت بڑی مضبوطی سے قائم کیے ہوئے تھی۔
اُستاد اَمانت علی خان ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جس کے اپنے آداب، اپنے پیمانے اور اپنے مَراتب تھے، مگر وہ خود اُن مَراتب کے اَسیر ہوکر نہیں رہے۔ کلاسیکی موسیقی میں اپنا مقام بنایا، غزل کی طرف آئے، گیت، پنجابی گیت اور مِلّی نغمے گائے اور ہر نئی صِنف میں داخل ہوتے ہوئے اپنی کلاسیکی شناخت بھی قائم رکھی۔ اِس معنی میں وہ محض ایک عظیم روایت کے اَمین نہیں، روایت شِکن بھی تھے۔
اُستاد اَمانت علی خان کے ساتھ وابستہ کچھ دیومالائی باتیں بھی اُن کی شخصیت کو سَحر اَنگیز بناتی رہیں۔ اُنہی میں سے ایک بچپن کا وہ مشہور واقعہ ہے جسے اُنہوں نے اپنے ایک ریڈیو اِنٹرویو میں بیان کیا تھا۔ آٹھ نو برس کی عُمر میں راگ ’مالکونس‘ کا ریاض کرتے ہوئے اُنہیں یوں محسوس ہوا جیسے کوئی غیرمرئی آواز اُن کے ساتھ گا رہی ہو۔ وہ گانا روک دیتے تو وہ آواز بھی خاموش ہوجاتی اور دوبارہ سُر لگاتے تو پھر اُن کے ساتھ شامل ہوجاتی۔ بعد کے خاندانی بیانات میں اِس پُراَسرار واقعے کے مختلف معنی بیان ہوئے؛ کسی نے اُسے کسی ہوائی مخلوق کی آواز قرار دیا اور کسی نے اُن کے اپنے خاندان کے کسی مرحوم گائیک کی رُوح سے منسوب کیا۔ حقیقت جو بھی ہو، یہ حکایت اَمانت علی خان کے گرد بننے والی موسیقائی دیومالا کا حصّہ بن چکی ہے۔
اُستاد اَمانت علی خان کی اچانک موت نے بھی کچھ ایسا ہی دیومالائی رُوپ اختیار کیا۔ ابنِ اِنشا کی غزل ’اِنشا جی اُٹھو، اب کُوچ کرو، اِس شہر میں جی کو لگانا کیا‘ اُن کی آواز میں پہلے ہی مقبول ہوچکی تھی۔ پھر جب اَمانت علی خان اچانک اِس دُنیا سے رُخصت ہوئے تو اُن کے بہت سے سامعین نے اِس غزل کے لفظوں کو اُن کی موت کے ساتھ جوڑ لیا۔ ممکن ہے یہ محض اتفاق ہو، ممکن ہے کسی کو اِس میں کوئی اور معنی دکھائی دیں؛ بہرحال وقت کے ساتھ یہ نِسبت بھی اَمانت علی خان سے وابستہ اُن حکایتوں میں شامل ہوگئی جن میں حقیقت، یادداشت اور عقیدت ایک دوسرے میں گُھل مل جاتے ہیں۔
اُستاد اَمانت علی خان کا جَسدِ خاکی لاہور کے مومن پورہ قبرستان میں آسودۂ خاک ہے، مگر اُن کی آواز کسی قبر میں دفن نہیں ہوئی۔ وہ اپنے چاہنے والوں کی یادداشتوں میں بھی زِندہ ہیں اور اُس عظیم فَنّی سرمائے میں بھی جو ریڈیو پاکستان کے ’آواز خزانہ‘، پاکستان ٹیلی وژن کے آرکائیوز، گراموفون اور اَی ایم آئی کی ریکارڈنگز اور دُنیا بھر کے مختلف صوتی ذخائر میں محفوظ ہے۔
نصف صدی سے زیادہ وقت گُزر جانے کے باوجود اُستاد اَمانت علی خان کو سُنا جاتا ہے، پسند کیا جاتا ہے اور موسیقی کے طالبِ علم اُن کی آواز میں پَٹیالہ گھرانے کے فَن کی باریکیاں تلاش کرتے ہیں۔ مومن پورہ میں اُن کی آخری آرام گاہ اُن کے مختصر سفرِ حیات کی نشانی ہے، مگر دُنیا بھر میں بکھری ہوئی اُن کی محفوظ آوازیں ایک ایسے سفر کی گواہی دیتی ہیں جو ابھی ختم نہیں ہوا۔
اُستاد اَمانت علی خان صرف باوَن برس جیے، مگر اُن کا محفوظ فَن آج بھی اُن کی زندگی سے کہیں طویل عُمر پا رہا ہے۔ اور شاید کسی بڑے فَن کار کی عظمت کی اِس سے بڑی کوئی گواہی ہو بھی نہیں سکتی۔
بُلّھے شاہ!
اَسیں مَرنا ناہیں
گور پِیا کوئی ہور
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان