Tuesday, 06 October 2026, 03:42:43 am
 
ریاست اور خیبر پختونخوا کا مسئلہ سیاست نہیں بلکہ دہشت گردی ہے، وزیر دفاع
October 05, 2026

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ریاست اور خیبر پختونخوا کا مسئلہ سیاست نہیں بلکہ دہشت گردی ہے اور صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال سے متعلق حقائق کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ایکس'' پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سال میں خیبر پختونخوا میں تقریباً 6,200 دہشت گردی کے واقعات ہوئے اور 1200 شہادتیں ہوئیں ہیں جبکہ افغان شہریوں کی جانب سے 37 خودکش حملے کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ صرف رواں سال 14 خودکش حملے ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت افغان شہریوں کی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کی مجموعی نفری تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار ہے، جس میں سے 13 ہزار وی آئی پی پروٹوکول پر تعینات ہے۔ جبکہ پولیس کی 17 ہزار اسامیاں آج بھی خالی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں CTD کا نظام تقریباً غیر فعال ہے۔ پورے CTD کے پاس صرف 17 بلٹ پروف گاڑیاں ہیں اور اس کی مجموعی نفری صرف 3,300کے قریب ہے۔ صرف 25 مستقل ہیں جبکہ باقی کنٹریکٹ ملازمین ہیں۔

خواجہ محمد آصف نے کہا کہ پولیس نے دہشت گردوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پولیس چوکیوں کی تعمیرِ نو اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے 42 ارب روپے مانگے، لیکن خیبر پختونخوا حکومت نے صرف 1.2 ارب روپے جاری کیے۔ رقم جاری نہ ہونے کی وجہ سے روزانہ لوگ جانیں گنوا رہے ہیں۔ دوسری جانب کاغذات میں 42 ارب روپے خرچ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ حقیقت میں یہ رقم ہڑپ کر لی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے ریاست کی واضح پالیسی بیان کر دی ہے ، دہشت گردوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔ ریاست کی پالیسی دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات نہیں بلکہ ان کے خلاف کارروائی اور ان کا مکمل قلع قمع ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات اور انہیں انگیج کرنے کی پالیسی ریاست کی دہشت گردی کے خاتمے کی پالیسی سے مکمل طور پر متصادم ہے۔

وزیر دفاع نے کہاکہ خیبر پختونخوا کو وفاقی کی جانب سے 2010 سے 2025 تک 8.5 کھرب روپے دئیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ اس رقم میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت5,867ارب روپے، دہشت گردی کے خلاف جنگ قابلِ تقسیم پول کا 1 فیصد705 ارب روپے،ضم شدہ اضلاع کے لیے704 ارب روپے اور براہ راست منتقلی کی مد میں 482.7ارب روپے شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2016 تا 2025 کے دوان خیبر پختونخوا میں بی آئی ایس پی کے تحت 481.433ارب روپے خرچ کئے گئے جبکہ آئی ڈی پیز کی معاونت کے لیے117.166 ارب روپے فراہم کیے گئے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ استغاثہ کے زیرِ التوا مقدمات کی تعداد تقریباً 3,000 سے زائد ہے، لیکن اب تک کسی دہشت گرد کو پھانسی نہیں دی گئی اور نہ ہی کوئی سزا سنائی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کی واضح پالیسی Hold, Build and Transfer ہے، پہلے علاقوں کو محفوظ اور Hold کیا جائے، پھر وہاں تعمیرِ نو اور ادارہ جاتی ڈھانچہ Build کیا جائے اور آخرکار سول انتظامیہ کو Transfer کیا جائے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ آپ ان علاقوں کو Hold، Build اور Transfer کیوں نہیں کر رہے؟ آپ کی سول انتظامیہ اور عدالتوں کو آگے بڑھ کر ان علاقوں کا انتظام سنبھالنا چاہئے۔