Thursday, 05 November 2026, 05:12:59 pm
 

مزید خبریں

 
از پدر تا نامِ تو ﷺ آموختم": شاعرِ مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کے پدر و مُرشد شیخ نُور محمدؒ کا تذکرہ"
November 04, 2026

“از پدر تا نامِ تو ﷺ آموختم”

شاعرِ مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کے پدر و مُرشد شیخ نُور محمدؒ کا تذکرہ

(یومِ اقبال کی مناسبت سے خصوصی تحریروں کے سلسلے کی پہلی تحریر)

شاہینوں کے شہر سیالکوٹ کو بالعموم ’شہرِ اقبال‘ بھی کہا جاتا ہے، مگر یہ اُن کے مُرشد شیخ نُور محمدؒ کا شہر بھی ہے، کیونکہ وہ یہیں کی نیکاپورہ کی آبادی سے مُلْحِق ایک قدیمی قبرستان، جسے ’قبرستانِ امام صاحب‘ بھی کہا جاتا ہے، کے ایک انتہائی مختصر سے تین قبروں کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

شاعرِ مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے اپنے اِس مُرشد کی قبر کے کتبے کی عبارت بھی ایک رباعی کی شکل میں خود تحریر فرمائی، جو کچھ یوں ہے:

پدر و مُرشدِ اقبال ازیں عالم رفت

ما ہمہ راہ رَواں، منزلِ ما مُلکِ اَبَد

ہاتف از حضرتِ حق خواست دو تاریخِ رَحیل

آمد آواز: ’اَثَرِ رَحمت‘ و ’آغوشِ لَحد‘

 

ترجمہ: اقبال کے والد و مُرشد اِس جہان سے رخصت ہوئے۔ ہم سب اِسی راہِ (فنا) کے مسافر ہیں اور ہماری منزل بھی مُلکِ اَبَد ہے۔ ہاتف نے بارگاہِ حق سے اُن کی رحلت کی تاریخ کے لیے دو مادّے طلب کیے؛ جواب میں ندا آئی: ’اَثَرِ رَحمت‘ اور ’آغوشِ لَحد‘، یعنی رحمتِ الٰہی کی چھاپ اور عنایت سے لحد اُن کے لیے مانندِ آغوش بنی ہے۔

’قبرستانِ امام صاحب‘، حضرت امام علی الحق سیالکوٹیؒ کے نامِ نامی سے موسوم ہے۔ محکمۂ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر، حکومتِ پاکستان کے ریکارڈ میں درج ایک روایت کے مطابق، وہ ۹۶۵ء سے ۹۷۱ء کے درمیانی عرصے میں ملکِ عرب سے سیالکوٹ آئے، راجا سہان پال کے ساتھ جنگ میں جامِ شہادت نوش کیا، اور جس مقام پر شہید ہوئے وہیں آج کل اُن کا مزار قائم ہے۔

تین قبروں کے احاطے میں شیخ نور محمدؒ کی قبر کے دائیں جانب اُن کی زوجۂ محترمہ، حافظہ امام بی بیؒ (شاعرِ مشرق کی والدہ)، اور بائیں جانب اُن کی پوتی معراج بیگم (شاعرِ مشرق کی صاحبزادی) کی قبریں ہیں۔

علامہ محمد اقبالؒ اپنے مُرشد شیخ نُور محمدؒ سے بے پناہ مُتأثّر تھے اور کئی ایک حوالوں سے اُن کی پیروی کو اپنے لیے توشۂ آخرت سمجھتے تھے۔ اِن حوالوں میں سب سے بڑا حوالہ معرفتِ ذاتِ نبوی ﷺ کا تھا۔

علامہ محمد اقبالؒ کی شاعری کا ایک بڑا حصّہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ بابرکات سے محبّت، مودّت اور بے پایاں احترام پر مشتمل ہے، جس کی ایک ہلکی سی جھلک ’جوابِ شکوہ‘ کے اِن اشعار میں بھی دیکھی جا سکتی ہے:

قُوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے

دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا کر دے

ہو نہ یہ پھول تو بُلبُل کا ترنّم بھی نہ ہو

چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسّم بھی نہ ہو

 

یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو، خُم بھی نہ ہو

بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو

خیمۂ افلاک کا اِستادہ اِسی نام سے ہے

نبضِ ہستی تپش آمادہ اِسی نام سے ہے

 

دشت میں، دامنِ کُہسار میں، میدان میں ہے

بحر میں، موج کی آغوش میں، طوفان میں ہے

چین کے شہر، مراقش کے بیابان میں ہے

اور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہے

 

چشمِ اقوام یہ نظّارہ ابد تک دیکھے

رفعتِ شانِ ’رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ‘ دیکھے

مردمِ چشمِ زمیں یعنی وہ کالی دنیا

وہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیا

گرمیِ مہر کی پروردہ ہلالی دنیا

عشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیا

  

تپش اندوز ہے اِس نام سے پارے کی طرح

غوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرح

 

عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تری

مرے درویش! خلافت ہے جہاں‌گیر تری

ما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری

تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری

کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

 

تاہم حضور ﷺ کی ذاتِ اقدس کے بارے میں اِس قدر بے مثل وارفتگی کا اظہار کرنے والے علامہ محمد اقبالؒ اپنے مجموعۂ کلام ’رموزِ بے خودی‘ کی ایک طویل نظم بعنوان ’عرضِ حالِ مصنّف بحضورِ رحمتُ للعالمینؐ‘ میں نبی کریم ﷺ کا نامِ مبارک سیکھنے کا ماخذ اپنے والد و مُرشد شیخ نُور محمدؒ کو قرار دیتے ہیں:

از پدر تا نامِ تو ﷺآموختم

آتشِ این آرزو افروختمترجمہ: میں نے آپ ﷺ کا نام اپنے والد سے سیکھا؛ اِسی سے میرے دل میں اِس آرزو کی آگ روشن ہوئی۔

دوسرا حوالہ کلامِ الٰہی کی معرفت کا بنتا ہے؛ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کی لڑکپن ہی سے یہ عادت تھی کہ وہ نمازِ فجر کے بعد قرآنِ کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ ایک روز اُن کے والد شیخ نُور محمدؒ نے انہیں تلاوت کرتے دیکھا تو فرمایا: ’’بیٹا، قرآنِ پاک اِس طرح پڑھو گویا وہ تم پر نازل ہو رہا ہے۔‘‘ (سید نذیر نیازی، اقبال کے حضور، لاہور: اقبال اکیڈمی پاکستان، ۱۹۷۱ء، ص ۶۰–۶۱؛ بحوالہ احمد افضل، ’’اقبالز اپروچ ٹو دی قرآن‘‘، اقبال ریویو، اکتوبر ۲۰۰۸ء)۔

لڑکپن میں اپنے والد و مُرشد شیخ نُور محمدؒ سے سنی ہوئی یہ نصیحت اقبالؒ کے دل و دماغ میں اِس طرح پیوست ہوئی کہ انہوں نے ’بالِ جبریل‘ کے ایک شعر میں اِس تصوّر کو نصیحتِ عامّہ کے طور پر بیان کیا ہے:

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب

گِرہ کُشا ہے نہ رازی، نہ صاحبِ کشّاف

 

یعنی جب تک قرآنِ کریم تلاوت کرنے والے کے ضمیر پر نازل نہ ہو، نہ رازی اُس کی گِرہ کھول سکتا ہے، نہ کوئی صاحبِ کشّاف۔

علامہ محمد اقبالؒ نے ’رموزِ بے خودی‘ کے ایک حصے بعنوان ’دَر مَعْنیِ حُسْنِ سِیرَتِ مِلِّیّہ اَز تَأَدُّب بِآدابِ مُحَمَّدِیّہ اَسْت‘ میں لڑکپن کا ایک واقعہ بیان کیا ہے: ایک فقیر گھر کے دروازے پر مسلسل صدا لگا رہا تھا۔ اقبالؒ نے غصّے میں آ کر اُسے چھڑی مار دی، جس سے اُس کے جمع کیے ہوئے پیسے بکھر گئے۔ یہ دیکھ کر اُن کے والد و مُرشد، شیخ نُور محمدؒ، کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہوں نے بیٹے کو سمجھایا کہ قیامت کے دن رسولِ اکرم ﷺ کے سامنے اِس سلوک کا جواب دینا ہوگا:

حق، جوانے مسلمے با تو سپرد

کو نصیبی از دبستانم نبرد

 

از تو ایں یک کارِ آسان ہم نہ شُد

یعنی آں انبارِ گِل، آدم نہ شُد

فطرتِ مسلم سراپا شفقت است

در جہاں دست و زبانش رحمت استترجمہ: اللہ نے تمہارے سپرد ایک مسلمان نوجوان کیا، مگر اُس نے میرے دبستانِ اخلاق سے کچھ نہ سیکھا۔ تم سے اتنا آسان کام بھی نہ ہو سکا کہ مٹی کے اُس ڈھیر کو انسان بنا دیتے۔ مسلمان کی فطرت سراپا شفقت ہے؛ دنیا میں اُس کا ہاتھ اور زبان رحمت ہیں۔

والد کی یہ نصیحت قرآنِ کریم کی سورۃ الضحیٰ کی ہدایت ’’وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ‘‘ (اور سائل کو مت جھڑکو) کی روشنی میں تھی، کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ بیٹے کی زندگی قرآن کے اخلاق کی عملی تصویر بنے۔ اِسی مفہوم کو اقبالؒ نے اپنی نظم ’مردِ مسلمان‘ میں کچھ یوں بیان کیا ہے:

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن۔۔۔

قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآن!

تیسرا حوالہ علامہ محمد اقبالؒ کا شیخ الاکبر حضرت محی الدین ابن العربیؒ کی تصانیف کے مطالعے اور اُن پر تحقیق اور اُن کے محاکمے میں وقت صرف کرنا ہے۔ شیخ نور محمدؒ کے گھر میں ’فُصوصُ الحِکَم‘ کا باقاعدہ درس ہوتا تھا۔ علامہ محمد اقبالؒ نے شاہ سلیمان پھلواروی کے نام ایک خط میں لکھا:

’’میرے والد کو فتوحات (فُتُوحاتُ المَکِّیَّہ) اور فصوص (فُصوصُ الحِکَم) سے کمال توغّل رہا ہے اور چار برس کی عمر سے میرے کانوں میں اِن کا نام اور اِن کی تعلیم پڑنی شروع ہوئی، برسوں تک اِن دونوں کتابوں کا درس ہمارے گھر میں رہا۔ گو بچپن کے دنوں میں مجھے اِن مسائل کی سمجھ نہ تھی، تاہم محفلِ درس میں ہر روز شریک ہوتا۔ بعد میں جب عربی سیکھی تو کچھ کچھ خود پڑھنے لگا اور جوں جوں علم اور تجربہ بڑھتا گیا، میرا شوق اور واقفیت زیادہ ہوتی گئی۔‘‘(اقبالؒ کا خط شاہ سلیمان پھلواروی کے نام، ۲۴ فروری ۱۹۱۶ء؛ رفیع الدین ہاشمی، مرتب، ’خطوطِ اقبال‘، لاہور: خیابانِ ادب، ۱۹۷۶ء، ص ۱۱۷۔)

اقبالؒ کی رائے میں بعد میں تبدیلی آئی۔ ایک مرحلے پر انہیں گمان گزرا کہ شیخ الاکبرؒ کی بعض تعلیمات قرآن سے ہم آہنگ نہیں، تاہم وہ اپنے فہم کو حتمی قرار دینے میں متردد رہے۔ ۲۴ فروری ۱۹۱۶ء کے اپنے خط میں انہوں نے شاہ سلیمان پھلواروی کو لکھا:

’’اس وقت میرا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت شیخ کی تعلیمات قرآن کے مطابق نہیں ہیں اور نہ کسی تاویل و تشریح سے اس کے مطابق ہو سکتی ہیں، لیکن یہ بالکل ممکن ہے کہ میں نے شیخ کا مفہوم غلط سمجھا ہو۔ کئی سالوں تک میرا یہی خیال رہا ہے کہ میں غلطی پر ہوں، گو اب میں سمجھتا ہوں کہ میں ایک قطعی نتیجے تک پہنچ گیا ہوں، لیکن اس وقت بھی مجھے اپنے خیال کے لیے کوئی ضد نہیں۔ اس واسطے بذریعۂ عریضۂ ہٰذا آپ کی خدمت میں ملتمس ہوں کہ از راہِ عنایت و مکرمت چند اشارات تسطیر فرما دیں۔ میں ان اشارات کی روشنی میں فصوص اور فتوحات کو پھر دیکھوں گا اور اپنے علم و رائے میں مناسب ترمیم کرلوں گا۔‘‘

اسی سلسلے میں اقبالؒ نے ۱۹۳۳ء میں مولانا سید سلیمان ندوی اور پیر مہر علی شاہؒ کو بھی خطوط لکھے۔ ان میں شیخ الاکبرؒ کی تعلیمِ حقیقتِ زمان اور اس کے مآخذ کے بارے میں رہنمائی طلب کی۔ یہ خط و کتابت اقبالؒ کی نظرِ ثانی اور شیخ الاکبرؒ کی فکر کو سمجھنے کی مسلسل جستجو کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

چوتھا حوالہ شیخ نور محمدؒ اور علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کے درمیان ایسے گہرے قلبی تعلق اور روحانی رشتے کی نشان دہی کرتا ہے، جو محبوب و محب، اور معشوق و عاشق کے تعلق سے مشابہ تھا۔ اِس امر کا ایک مفصّل تذکرہ ڈاکٹر محمد عبداللہ چغتائی کی تحریروں میں بھی ملتا ہے۔ وہ اقبالؒ کے معاصر محقق اور اسلامی فنونِ لطیفہ و تعمیرات کے ماہر تھے۔ اقبالؒ سے اپنی ملاقاتوں اور مشاہدات کو انہوں نے کتاب ’اقبال کی صحبت میں‘ میں قلم بند کیا ہے۔

چغتائی کے بیان کے مطابق، ۱۹۰۰ء میں انجمنِ حمایتِ اسلام کے جلسے میں نوجوان اقبالؒ نے ’نالۂ یتیم‘ سنائی۔ نظم نے حاضرین کو اِس قدر متاثر کیا کہ اُس کی کئی سو مطبوعہ جلدیں فوراً فروخت ہو گئیں۔ انجمن کی مختصر تاریخ کے حوالے سے چغتائی لکھتے ہیں کہ شیخ نور محمدؒ اُس وقت گیلری میں موجود تھے اور انہوں نے نظم کی ایک جلد سولہ روپے میں خریدی۔ چغتائی نے شیخ نور محمدؒ کو پہلی مرتبہ ۱۹۱۱ء میں ریواز ہاسٹل میں دیکھا، جہاں وہ اقبالؒ کی نظم ’شکوہ‘ سننے آئے تھے۔ وہ انجمنِ حمایتِ اسلام کے جلسوں میں اکثر اپنے بیٹے کا کلام سننے تشریف لاتے تھے۔ چغتائی کے مطابق، اقبالؒ نے والد کی سہولت کے لیے ’اسرارِ خودی‘ جلی قلم سے لکھی تھی تاکہ وہ اسے آسانی سے پڑھ سکیں۔ ۱۹۲۷ء میں شیخ نور محمدؒ نے چغتائی کا ’زبورِ عجم‘ کی اشاعت پر لکھا ہوا مضمون بھی پڑھا اور اپنے ایک خط میں اقبالؒ کے سامنے اُس مضمون کی پسندیدگی کا اظہار کیا۔

والد کی ایک فرمائش کا ذکر اقبالؒ نے عطیہ بیگم کے نام ۷ جولائی ۱۹۱۱ء کے خط میں کیا۔ انہوں نے لکھا کہ والد نے بوعلی قلندر کی مثنوی کے بعد فارسی میں ایک مثنوی لکھنے کو کہا ہے اور کام دشوار ہونے کے باوجود انہوں نے یہ ذمّہ داری قبول کر لی۔ یہ مثنوی ’اسرارِ خودی‘ تھی، جو ۱۹۱۵ء میں شائع ہوئی۔ اقبالیات کے محقق محمد سہیل عمر نے والد کی اِس فرمائش کو اِس مثنوی کی تصنیف کے فوری محرکات میں شمار کیا ہے۔

علامہ محمد اقبالؒ ۱۹۰۵ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے یورپ گئے۔ ۱۹۰۷ء میں میونخ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی، یکم جولائی ۱۹۰۸ء کو لنکنز اِن سے بار میں داخل ہوئے، اور اسی سال ۲۶ جولائی کو لاہور واپس پہنچے۔ یکم جنوری ۱۹۲۳ء کو انہیں ’’سر‘‘ کا خطاب ملا؛ بعد میں، ۱۹۳۱ء اور ۱۹۳۲ء میں، وہ لندن کی گول میز کانفرنسوں میں شریک ہوئے۔ مگر اِن سب علمی اور سماجی مرتبوں کے باوجود، وہ سیالکوٹ کے ایک سادہ سے گھر میں اقامت پذیر اپنے والد سے کبھی لاتعلق نہ ہوئے۔

شیخ نور محمدؒ تادمِ مرگ سیالکوٹ ہی میں مقیم رہے، جب کہ محمد اقبالؒ کا ٹھکانہ اپنی ناگزیر مصروفیات کے سبب زیادہ تر یورپ اور لاہور میں رہا۔ تاہم وہ والد سے ملنے سیالکوٹ جاتے اور والد بھی اُن سے ملنے لاہور آتے رہے۔ اقبال اکادمی پاکستان کی تصویری سوانح میں شیخ نور محمدؒ کی ایک تصویر ۱۹۲۲ء کی درج ہے، جو لاہور کے انارکلی والے اقبالؒ کے مکان میں کھینچی گئی۔

شیخ نور محمدؒ پیشے کے اعتبار سے درزی تھے اور خواتین کے برقعوں کے لیے ٹوپیاں بنانے کا کام بھی کرتے تھے۔ اقبالؒ کے پاس ڈاکٹریٹ کی ڈگری تھی ، بیرسٹر تھے ، انتہائی اعلیٰ پایہ کے شاعر و مفکر تھے ۔ تاہم اس سب کچھ کے باوجود اپنے پدر و مرشد کے سامنے وہ خود و طفل مکتب سمجھتے رہے ۔ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں تھا کہ انہوں نے اپنے والد کے کتبۂ مزار پر انہیں ’پدر و مرشدِ اقبال‘ کہا بلکہ یہ الفاظ ان دو شخصیات کے مابین اُس رشتے کی معنوی گہرائی کا بھی پتا دیتے ہیں جو انمٹ اور بہت گہرا تھا۔

جاوید اقبال نے اپنی تصنیف ’’زندہ رود‘‘ (جو اقبالؒ کی سوانح ہے) میں اقبالؒ سے منقول ایک واقعہ درج کیا ہے، جو اِس حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ اقبالؒ اپنے والد کی روحانیت کے بھی بھرپور قائل تھے۔

جاوید اقبال کے بیان کے مطابق، اُن کے والد، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ، کوئی گیارہ برس کے تھے کہ ایک رات آہٹ سے جاگے۔ انہوں نے والدہ کو سیڑھیوں سے نیچے اترتے دیکھا اور اُن کے پیچھے چل دیے۔ آدھ کھلے دروازے سے جھانکا تو والد صحن میں بیٹھے دکھائی دیے؛ اقبالؒ کے بیان میں اُن کے گرد نور کا ہالہ تھا۔ والدہ نے انہیں آگے بڑھنے سے روکا اور واپس سلا دیا۔

صبح اقبالؒ والد سے رات کے منظر کے بارے میں پوچھنے پہنچے تو والد اپنی اہلیہ کو ایک خواب نما واردات سنا رہے تھے۔ اُن کے بقول، انہیں خبر ہوئی تھی کہ کابل سے آیا ہوا ایک قافلہ سیالکوٹ سے تقریباً پچیس میل دور ٹھہرا ہے، کیونکہ اُس کا ایک فرد سخت بیمار ہے۔ شیخ نور محمدؒ ضروری سامان لے کر تانگے میں روانہ ہوئے اور اقبالؒ کو بھی ساتھ بٹھا لیا۔ روایت کے مطابق، انہوں نے مریض کے متاثرہ اعضا پر راکھ جیسی چیز لگائی اور اللہ کے فضل سے شفا کی امید دلائی۔ اگلے روز مریض کی حالت بہتر ہونے لگی۔ اہلِ قافلہ نے خدمت کے عوض رقم پیش کی تو شیخ نور محمدؒ نے لینے سے انکار کر دیا۔ چند روز بعد خبر ملی کہ مریض صحت یاب ہو گیا ہے۔

اقبالؒ نے ۱۳ نومبر ۱۹۱۷ء کو سید سلیمان ندوی کے نام خط میں لکھا کہ وہ خود سلسلۂ قادریہ میں بیعت رکھتے ہیں۔ (علامہ محمد اقبال، اقبال نامہ: مجموعۂ مکاتیبِ اقبال، حصہ اوّل، مرتبہ شیخ عطا اللہ، لاہور: شیخ محمد اشرف، ۱۹۴۴ء، سید سلیمان ندوی کے نام مکتوب، ۱۳ نومبر ۱۹۱۷ء، مکتوب نمبر ۳۵۔)

عبدالمجید سالک نے ’ذکرِ اقبال‘ میں پیر جماعت علی شاہؒ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ اقبالؒ نے راز داری سے اُن سے کہا تھا کہ وہ اپنے مرحوم والد سے بیعت ہیں۔ (عبدالمجید سالک، ذکرِ اقبال: حضرت علامہ اقبال کی سوانح حیات، لاہور: بزمِ اقبال، ۱۹۵۵ء، ص ۱۳۔)

سیالکوٹ کی خاک میں آسودۂ خاک شیخ نور محمدؒ ،علامہ محمد اقبالؒ جیسی بڑی ہستی کے والد تو تھے ہی، بلکہ حقیقی معنوں میں اُن کے مُرشد بھی رہے۔ والد کا احترام بہت سے فرزندوں نے کیا ہوگا، مگر اپنے باپ کو مُرشد کہنے کا شرف، معلوم انسانی تاریخ میں، محمد اقبالؒ جیسے معدودے چند خوش نصیبوں کو حاصل ہوا ہے۔

شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے ۱۵۰ویں یومِ ولادت پر اُس عظیم باپ اور مُرشد کو سلام، جس نے اقبالؒ کی کردار سازی کی اور بالخصوص اُن کے دل میں عشقِ رسول ﷺ کی شمع روشن کی۔

ریڈیو پاکستان نے اپنی نشریات کے آغاز ہی سے فکرِ اقبال اور علامہ اقبالؒ کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں ایک ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کو اپنے اِس کردار پر فخر ہے۔ ریڈیو پاکستان کے صوتی آرکائیو (آواز خزانہ) میں علامہ اقبالؒ کا تحتُ اللفظ اور ترنّم، دونوں صورتوں میں پڑھا گیا کلام محفوظ ہے۔ فکرِ اقبال کو عوام تک پہنچانے کے لیے، بلا مبالغہ، ریڈیو پاکستان کے مختلف اسٹیشنوں سے اب تک ہزاروں پروگرام نشر کیے جا چکے ہیں۔

موجودہ تحقیقی مضمون بھی آٹھ دہائیوں سے جاری و ساری اِسی سلسلے کی ایک حقیرانہ سی کاوش ہے۔ دعا ہے کہ مالکِ لم یزل و لم یزال اِس کاوش کو قبول فرمائے!

؎اگر قبول افتد، زہے عزّ و شرف۔

شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے ۱۵۰ویں یومِ ولادت پر ریڈیو پاکستان کے تمام کارکنان، پوری پاکستانی قوم اور مسلم اُمّہ کے ساتھ مل کر شاعرِ مشرق اور اُن کے والدِ محترم و مُرشد، دونوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔اللہ جل شانہ دونوں ہستیوں کی قبور پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے !

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان