Monday, 02 November 2026, 03:04:35 pm
 
استاد حامد حُسین خان: نابغۂ روزگار سارنگی نواز اور سازِ حامدی کے مُوجِد کی داستانِ حیات
November 02, 2026

اُستاد حامد حُسین خان   

نابغۂ روزگار سارنگی نواز اور سازِ حامدی کے مُوجِد کی داستانِ حیات  

(برسی کی مُناسبت سے خصوصی تحریر) 

ایک دن میں دہلی میں جامع مسجد کے علاقے میں ٹہل رہا تھا کہ میری نظر ایک کباڑی کی دکان پر پڑی۔ وہاں ایک ٹوٹا ہوا وائلن رکھا تھا، جس کا صرف بنیادی ڈھانچا باقی رہ گیا تھا۔ میں نے کباڑی کو چار آنے دیے اور وہ وائلن خرید کر گھر لے آیا۔

گھر پہنچ کر میں نے اُس میں دو کھونٹیاں لگائیں اور تانبے کی تاریں چڑھائیں۔ اُسے بجانے کی کوشش کی تو آواز تو پیدا ہوئی، لیکن وہ سُر نہ مل سکے جن کی مجھے تلاش تھی۔ اِس ناکامی نے مجھے بے چین کر دیا۔

کچھ عرصے بعد میں دہلی کے علاقے قاضی حوض میں گھوم رہا تھا۔ ایک مکان میں داخل ہوا تو میری نظر شیشے کی ایک چھوٹی سی بوتل پر پڑی۔ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا۔ میں نے بوتل کو ساز کی تاروں پر رکھا اور اُسے تاروں پر پھسلانا شروع کر دیا، جبکہ دوسرے ہاتھ سے مِضراب کے ذریعے تاروں کو چھیڑتا رہا۔

اِس تجربے سے ایک ایسی آواز پیدا ہوئی جس نے مجھے حیرت اور مَسرّت سے بھر دیا۔ میں دیر تک ساز بجاتا رہا، یہاں تک کہ موسیقی کے اثر سے مجھ پر مَدہوشی طاری ہونے لگی۔

اِس کامیاب تجربے کے بعد میں نے ساز کی ساخت میں تبدیلیاں کیں۔ اِسے تنپورے کی شکل دی اور تانبے کی تاروں کی جگہ لوہے کی تاریں لگائیں۔ اب مجھے وہ آواز مل گئی تھی جس کی تلاش میں مُدّت سے تھا۔

میں دن رات اِس نئے ساز کی مشق کرنے لگا اور اِسے آل انڈیا ریڈیو دہلی بھی لے جانے لگا۔ دوپہر کے وقت سارنگی کی مشق کے بعد اِس نئے ساز پر بھی رِیاض کیا کرتا تھا۔

ایک دوپہر میں ریڈیو کے اسٹوڈیو میں تنہا بیٹھا اِسی ساز پر راگ مُلتانی بجا رہا تھا۔ اسٹوڈیو میں اندھیرا تھا اور میں موسیقی میں اِس قدر مَحو تھا کہ مجھے گرد و پیش کا کوئی احساس نہ رہا۔ اچانک مجھے اپنے قریب کسی کے خراٹے لینے کی آواز سنائی دی۔ میرے ہاتھ رُک گئے۔ میں نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ اسٹوڈیو میں روشنی تھی۔

میرے سامنے کرسیوں پر زیڈ اے بخاری اور سجاد سرور نیازی بیٹھے تھے، جبکہ بابا ملنگ خان اور حیدر حسین خان بھی وہاں موجود تھے۔ مجھے رُکتے دیکھ کر سب نے ساز بجانا جاری رکھنے کی فرمائش کی اور میری ساز نوازی کی تعریف کی۔ میں نے دوبارہ ساز اٹھایا اور راگ مُلتانی مکمل کیا۔ حاضرین نے خوب داد دی۔

اِس کے بعد زیڈ اے بخاری صاحب اپنی جگہ سے اٹھے اور مجھ سے دریافت کیا:’اِس ساز کا نام کیا ہے؟‘

میں نے عَرض کیا: ’ابھی تو اِس کا کوئی نام نہیں رکھا۔‘

اِس پر بخاری صاحب نے فرمایا:’میں اِس کا نام تمہارے نام پر رکھوں گا۔ آج سے یہ ساز ’حامدی‘ کہلائے گا۔‘

اُسی شام بخاری صاحب کی تقریر کے بعد آل انڈیا ریڈیو دہلی سے میرے نئے ساز ’حامدی‘ کا پروگرام نشر کیا گیا۔ سامعین کو اِس ساز کی آواز بہت پسند آئی۔ مجھے خود بھی اِسے خصوصاً وِلمبت لَے، یعنی دھیمی رفتار، اور جَور کے انداز میں بجانا پسند تھا۔ اِس کامیابی کے بعد میری ماہوار تنخواہ بھی پینتیس روپے سے بڑھا کر پچاس روپے کر دی گئی۔‘‘

یہ دلچسپ واقعہ ریگولا بُرک ہارٹ قریشی نے اپنی کتاب ’ماسٹر میوزیشنز آف انڈیا: ہیریڈیٹری سارنگی پلیئرز اسپیک‘ کے صفحات ۲۸۱ تا ۲۸۲ میں اُستاد حامد حسین خان کی یادداشتوں سے نقل کیا ہے۔ وہ سوئس نژاد کینیڈین ماہرِ موسیقیات اور یونیورسٹی آف البرٹا کی سابق پروفیسر ہیں، جنہوں نے برصغیر کی کلاسیکی موسیقی، قوالی اور سارنگی پر گراں قدر تحقیق کی۔ وہ کراچی میں اُستاد حامد حسین خان کی باقاعدہ شاگرد رہیں اور بعدازاں اُن کی یادداشتوں اور موسیقائی تجربات کو اپنی تحقیقی کتاب میں محفوظ کیا۔

آج اِسی ساز ’حامدی‘ کے مُوجِد، پاکستان کے صَفِ اوّل کے سارنگی نواز اُستاد حامد حسین خان کی ۴۶ویں برسی ہے۔ وہ ۲ نومبر ۱۹۸۰ء کو کراچی میں انتقال کر گئے تھے۔

اُستاد حامد حسین خان کا تعلق ہندوستان کے معروف موسیقائی مراد آباد گھرانے سے تھا، جس کے کئی افراد ریاست رام پور کے دربار سے وابستہ رہے۔ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے یادگاری رسالے ’ریزوننس آف سارنگی‘ کے مطابق وہ ۱۹۲۳ء میں رام پور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد اُستاد عابد حسین خان، نانا اُستاد حیدر بخش خان اور ماموں اُستاد علی جان خان اپنے عہد کے معروف موسیقار تھے۔

حامد حسین خان کی اپنی یادداشتوں کے مطابق وہ چودہ بہن بھائی تھے۔ نومبر ۱۹۵۲ء میں جب اُنہوں نے اپنی یادداشتیں مکمل کیں تو اُن میں سے صرف پانچ زندہ تھے، یعنی وہ خود، ایک بھائی اور تین بہنیں۔ اُن کے چھوٹے بھائی اُستاد زاہد حسین خان بھی معروف سارنگی نواز تھے، جبکہ ممتاز موسیقار اُستاد نہال عبداللہ اُن کے بہنوئی تھے۔

اُستاد حامد حسین خان کی اپنی یادداشتوں کے مطابق وہ صرف دو برس کے تھے جب اُن کے نانا انہیں رام پور لے گئے اور اپنی سرپرستی میں موسیقی سکھانے لگے۔ نانا صبح سویرے انہیں جگاتے اور راگوں کی بندشیں، خیال، الاپ اور سُروں کی باریکیاں سکھاتے۔ بعض اوقات کسی بندش کو یاد کرنے پر چار پانچ روپے انعام بھی دیتے تھے۔ بعد میں حامد حسین خان نے اپنے والد اور ماموں علی جان خان سے بھی سارنگی کی تعلیم حاصل کی۔ وہ روزانہ کئی کئی گھنٹے رِیاض کرتے تھے۔ اُن کے بقول بعض اوقات یہ مشق روزانہ چودہ گھنٹے تک جاری رہتی۔ وہ موسیقی میں اِس قدر مَحو ہو جاتے کہ کھانے پینے کا بھی ہوش نہ رہتا۔ اِسی تربیت کے نتیجے میں کم عمری ہی سے وہ سارنگی کے ساتھ گائیکی میں بھی مہارت حاصل کر چکے تھے۔

موسیقی کے علاوہ اُن کے نانا نے فارسی، اردو اور قرآنِ مجید کی تعلیم کا بھی اہتمام کیا تھا۔ اِسی زمانے کا ایک دلچسپ واقعہ اُستاد حامد حسین خان نے اپنی یادداشتوں میں بیان کیا ہے۔ ایک مرتبہ فارسی کے اُستاد نے انہیں اِس قدر مارا کہ وہ بیمار پڑ گئے۔ نانا کو معلوم ہوا تو اُنہوں نے نوابِ رام پور سے شکایت کی۔ نواب یہ سُن کر سخت ناراض ہوئے اور فارسی کے اُستاد کو ملازمت سے برطرف کر دیا، تاہم انہیں دو برس کی تنخواہ بھی ادا کی گئی۔ یہ واقعہ رام پور کے شاہی دربار میں اُن کے نانا کے اثر و رُسوخ اور اِس خاندان کو حاصل سرپرستی کا اندازہ کرنے کے لیے کافی ہے۔

اُستاد حامد حسین خان نے اپنی یادداشتوں میں اپنے نانا سے جدائی کا ایک نہایت دردناک واقعہ بھی بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب اُن کی عمر تیرہ برس ہوئی تو اُن کے والد نے خواہش ظاہر کی کہ اب وہ نانا کے بجائے مراد آباد میں اُن کے ساتھ رہیں۔ یہ سُن کر نانا رونے لگے۔ حامد حسین خان نے انہیں گلے لگایا اور ایک بچے کی طرح دِلاسا دیا کہ وہ وقتاً فوقتاً اُن سے ملنے آتے رہیں گے۔ نانا کی بے قراری کے باعث روانگی ایک دن مُؤخر کرنا پڑی۔ بالآخر وہ مراد آباد چلے گئے، لیکن نانا اُن کی جدائی سے بہت دُکھی تھے۔ کچھ عرصے بعد حامد حسین خان کسی کام سے دہلی گئے ہوئے تھے کہ والدہ کا تار موصول ہوا۔ نانا شدید بیمار تھے اور اپنے محبوب نواسے کو دیکھنے کے لیے بے قرار تھے۔ وہ فوراً رام پور جانے کی تیاری کرنے لگے، مگر ابھی ریل گاڑی میں سوار بھی نہ ہوئے تھے کہ دوسرا تار آگیا۔ نانا انتقال کر چکے تھے۔ اِس خبر نے حامد حسین خان کو اندر سے توڑ دیا۔ اُن کے بقول یوں محسوس ہوا جیسے اُن کی پوری دنیا بدل گئی ہو۔

نانا کی وفات کے بعد حامد حسین خان اپنے والد کے پاس رہنے لگے، لیکن خاندان کے معاشی حالات پہلے جیسے خوش حال نہیں تھے۔ وہ روزگار کی تلاش میں دہلی آگئے اور اپنے چچا کے ہاں قیام کیا۔ اُن کے ماموں علی جان خان نے موسیقی کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا، جبکہ دوسرے عزیز بھی اُن کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ کم عمری ہی میں، ۱۹۳۶ء یا اِس سے پہلے، اُنہوں نے دہلی ریڈیو کا آڈیشن دیا اور کامیابی حاصل کی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ریڈیو پر اُن کی ابتدائی شناخت نعت خواں اور پھر گلوکار اور ریڈیو ڈراموں کے صداکار کی بنی۔ ریڈیو سے اُن کا پہلا پروگرام نعت خوانی کا تھا، جسے سامعین نے بہت پسند کیا۔ دس روز بعد انہیں دوبارہ بلایا گیا اور بتایا گیا کہ اُنہیں گلوکار کی حیثیت سے ملازمت دی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی دریافت کیا گیا کہ کیا وہ گائیکی کے علاوہ بھی کوئی کام جانتے ہیں؟ حامد حسین خان نے صاف اِنکار کر دیا، حالانکہ وہ سارنگی نواز بھی تھے۔ اپنی یادداشتوں میں وہ اِس کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں اندیشہ تھا کہ اگر ریڈیو کے حکام کو اُن کی سارنگی نوازی کا علم ہوگیا تو شاید وہ انہیں گلوکار کی ملازمت نہ دیں۔

اِس کے بعد سجاد سرور نیازی انہیں زیڈ اے بخاری کے پاس لے گئے۔ بخاری صاحب نے دریافت کیا کہ ملازمت ملنے کی صورت میں وہ کتنی ماہوار تنخواہ لینا چاہیں گے؟ حامد حسین خان نے بڑے اعتماد سے پچاس روپے کا مطالبہ کیا۔ بخاری صاحب نے کہا کہ اِتنی تنخواہ نہیں دی جا سکتی۔ اِس پر حامد حسین خان اُٹھ کر جانے لگے تو بخاری صاحب نے انہیں روک لیا اور سجاد سرور نیازی سے مخاطب ہوکر کہا کہ یہ لڑکا بہت ہوشیار ہے۔ پھر حامد حسین خان سے کہا کہ ابھی تم کم عمر ہو، تمہیں تیس روپے ماہوار تنخواہ ملے گی۔ کافی بحث و تکرار کے بعد حامد حسین خان اِس پر رضامند ہوگئے۔

ملازمت کے دوران زیڈ اے بخاری نے اُن کی صداکاری اور مکالموں کی ادائیگی میں بھی خصوصی دلچسپی لی۔ حامد حسین خان صبح سات بجے ریڈیو اسٹیشن پہنچتے اور رات گیارہ بجے گھر لوٹتے تھے۔ اُنہوں نے سارنگی نوازی کو اب بھی پوشیدہ رکھا ہوا تھا اور گھر پر یا دوپہر کے وقت، جب اسٹوڈیو خالی ہوتا، سارنگی کا رِیاض کیا کرتے تھے۔ ایک روز وہ اسٹوڈیو میں سارنگی بجا رہے تھے کہ سجاد سرور نیازی خاموشی سے اُن کے پیچھے آکھڑے ہوئے۔ نیازی صاحب نے اُن کی نوازِش سُنی تو بے اختیار داد دی۔ حامد حسین خان گھبرا گئے اور فوراً سارنگی ایک طرف رکھ دی۔ نیازی صاحب کے دریافت کرنے پر وہ پھر اِنکار کرنے لگے کہ انہیں سارنگی بجانا نہیں آتی۔ تاہم اب اُن کی یہ صلاحیت پوشیدہ نہ رہ سکی۔ سجاد سرور نیازی نے زیڈ اے بخاری سے اجازت لے کر انہیں ریڈیو کے آرکسٹرا اور گلوکاروں کی سنگت پر بھی مامور کر دیا۔ اِس طرح انہیں سارنگی نوازی کے مزید مواقع میسر آئے اور اُن کی ماہوار تنخواہ صرف چھ ماہ بعد تیس روپے سے بڑھا کر پینتیس روپے کر دی گئی۔

۱۹۳۹ء میں زیڈ اے بخاری کی دعوت پر حامد حسین خان دہلی سے آل انڈیا ریڈیو بمبئی منتقل ہوگئے۔ یہاں اُن کی زندگی کا ایک اور خوش گوار اور یادگار واقعہ پیش آیا۔ بمبئی پہنچنے پر اُن کی ملاقات ممتاز طبلہ نواز اُستاد اللہ رکھا خان سے ہوئی، جو لاہور کے نامور طبلہ نواز میاں قادر بخش کے شاگرد تھے۔ اللہ رکھا نے اُن کی بڑی محبت سے خاطر مدارات کی، انہیں بمبئی کی سیر کرائی اور اپنے چھوٹے بھائی کی طرح اُن کا خیال رکھا۔ حامد حسین خان زیادہ تر اُنہی کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ اُنہوں نے اپنی یادداشتوں میں اللہ رکھا کے طبلے کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب وہ طبلہ بجاتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے شہد ٹپک رہا ہو۔ یہ محبت اور رفاقت دونوں اُستادوں کے درمیان ایک دیرپا دوستی کا سبب بنی۔

بمبئی ریڈیو سے حامد حسین خان کی سارنگی کے سولو پروگرام نشر ہونے لگے۔ اُن کی نَوازِش کو اِس قدر پسند کیا گیا کہ چند ہی مہینوں میں انہیں بڑی موسیقائی محفلوں اور کانفرنسوں میں مدعو کیا جانے لگا۔ اُن کی سارنگی پر اُستاد فیاض خان، بڑے غلام علی خان، اُستاد امیر خان، بیگم اختر، روشن آرا بیگم، نزاکت علی و سلامت علی خان اور امانت علی و فتح علی خان جیسے نامور گلوکاروں نے گایا۔ بمبئی میں قیام کے دوران وہ نوجوان گلوکارہ نورجہاں کے ایک ابتدائی ریڈیو آڈیشن میں بھی سارنگی پر اُن کی سنگت کر چکے تھے۔ ۱۹۴۵ء میں اُن کا تبادلہ کلکتہ ریڈیو ہوگیا، جہاں اُن کی سارنگی کے سولو پروگرام نشر ہوتے رہے۔ اُنہوں نے مدراس، حیدرآباد دکن اور دوسرے شہروں کی موسیقائی محفلوں میں بھی شرکت کی۔

اُستاد حامد حسین خان نے بیرونِ ملک بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ نیشنل کالج آف آرٹس سے منسوب سوانح میں ۱۹۴۳ء میں اُن کے دورۂ یورپ کا ذکر ملتا ہے۔ اُن کی اپنی یادداشتوں کے مطابق اُنہوں نے لندن، ہالینڈ، نیویارک اور واشنگٹن میں بھی سارنگی نوازی کی۔ ہالی وڈ میں ایک فلمی منصوبے سے وابستگی کا امکان بھی پیدا ہوا تھا، لیکن بٹوارے کے زمانے میں ہندوستان کے بگڑتے ہوئے حالات کے باعث یہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔ اُنہیں اپنا سفر مختصر کرکے واپس آنا پڑا۔

اُستاد حامد حسین خان کی ازدواجی زندگی کے بارے میں بھی کچھ معلومات دستیاب ہیں۔ اُنہوں نے اپنی شاگرد ریگولا بُرک ہارٹ قریشی سے گفتگو میں اپنی پہلی اہلیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ اُن کی ملاقات بمبئی میں ہوئی تھی اور دونوں نے محبت کی شادی کی۔ اُن کی اہلیہ بھی گلوکارہ تھیں۔ ایک مرتبہ شادی سے پہلے دونوں میں کسی بات پر ناراضی ہوگئی تو حامد حسین خان بمبئی چھوڑ کر کلکتہ چلے گئے، لیکن جدائی کے دن دونوں کے لیے نہایت کرب ناک ثابت ہوئے۔ وہ ایک دوسرے کو خطوط لکھتے رہے۔ اُستاد کے بقول اِس زمانے میں اُن کی سارنگی میں ایسا درد پیدا ہوا کہ کئی محفلوں میں سامعین اَشک بار ہوگئے۔ بعد میں دونوں کی شادی ہوگئی، تاہم اُن کی اہلیہ کا حیدرآباد دکن میں انتقال ہوگیا۔ اُستاد حامد حسین خان اِس ذاتی صدمے کو بھی اپنی موسیقی کی جذباتی تاثیر سے وابستہ کرتے تھے۔

بٹوارے کے بعد حامد حسین خان نے بمبئی کو خیرباد کہہ دیا۔ پہلے اپنے اہلِ خانہ کو رام پور منتقل کیا اور پھر جنوبی ہندوستان کے مختلف شہروں میں پروگرام پیش کرتے ہوئے بالآخر ڈھاکا پہنچے۔ یہاں اُنہوں نے سارنگی کے متعدد پروگرام پیش کیے۔ ڈھاکا ہی میں اُن کی زیڈ اے بخاری سے دوبارہ ملاقات ہوئی، جنہوں نے انہیں کراچی کے نئے ریڈیو اسٹیشن سے وابستہ ہونے کی دعوت دی۔ چنانچہ وہ کراچی منتقل ہوگئے اور ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوکر اپنی زندگی کے آخری برسوں تک اِس قومی نشریاتی ادارے کی خدمت کرتے رہے۔

کراچی میں حامد حسین خان نے سارنگی کے سولو پروگرام پیش کرنے کے ساتھ کلاسیکی گلوکاروں کی سنگت اور موسیقی کی تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ زیڈ اے بخاری اور شاہد احمد دہلوی کے ساتھ اُن کے قریبی تعلقات تھے۔ ۱۵ نومبر ۱۹۵۲ء کو اُنہوں نے اپنی موسیقائی یادداشتیں مکمل کیں، جن میں ریاست رام پور کے دربار، اپنے نانا کی سرپرستی، موسیقی کی تعلیم، آل انڈیا ریڈیو اور بٹوارے سے پہلے کے موسیقائی ماحول کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے۔ یہ یادداشتیں اُنہوں نے زیڈ اے بخاری کے نام منسوب کی تھیں۔ بعدازاں اُن کی شاگرد ریگولا بُرک ہارٹ قریشی نے اُن کے انگریزی ترجمے کے منتخب حصے اپنی تحقیقی کتاب میں شامل کیے، جس سے برصغیر کی موسیقائی تاریخ کا ایک قیمتی شخصی ریکارڈ محفوظ ہوگیا۔

اُستاد حامد حسین خان کے شاگردوں میں ریگولا بُرک ہارٹ قریشی، دیناز منوالا، محمد اقبال، بانسری نواز اُستاد سلامت حسین اور گلوکار حبیب ولی محمد شامل تھے۔ ریگولا قریشی نے ۱۹۶۸ء میں کراچی میں اُن کی باقاعدہ شاگردی اختیار کی۔ وہ سوئس نژاد کینیڈین ماہرِ موسیقیات اور یونیورسٹی آف البرٹا کی پروفیسر رہیں، جنہوں نے برصغیر کی کلاسیکی موسیقی، قوالی اور سارنگی پر گراں قدر تحقیق کی۔ اپنی کتاب میں وہ اُستاد حامد حسین خان کی تدریس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ اُستاد ریڈیو پاکستان میں ڈیوٹی سے فارغ ہوکر شاگردوں کے گھروں میں جاتے اور انہیں سارنگی سکھاتے تھے۔ بعض اوقات طبلہ نواز بھی ساتھ ہوتا تاکہ شاگرد تال کی پابندی سیکھ سکیں۔ وہ محض ساز بجانا نہیں سکھاتے تھے بلکہ یہ بھی سمجھاتے تھے کہ راگ کی روح اور اُس کے سُروں کی تاثیر کیسے محسوس کی جاتی ہے۔

اُستاد حامد حسین خان اپنے علم کو شاگردوں سے پوشیدہ رکھنے کے قائل نہیں تھے۔ اُن کے پاس مختلف گھرانوں کی بندشوں اور راگوں کا بڑا ذخیرہ محفوظ تھا، جسے وہ فراخ دِلی سے نئی نسل کو منتقل کرتے رہے۔ ریڈیو پاکستان سے وابستگی اور موسیقی کی تدریس کے ذریعے اُنہوں نے برصغیر کی موروثی موسیقائی روایت کو پاکستان میں برقرار رکھنے اور آگے بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

اُستاد حامد حسین خان کے ایجاد کردہ ساز ’حامدی‘ کا ذکر محض اُن کی یادداشتوں تک محدود نہیں، بلکہ آل انڈیا ریڈیو کے معاصر نشریاتی ریکارڈ میں بھی موجود ہے۔ آل انڈیا ریڈیو کے سرکاری رسالے ’دی انڈین لِسنر‘ کے ۷ مارچ ۱۹۳۹ء کے شمارے میں ۱۶ مارچ کو رات ۹ بج کر ۱۰ منٹ پر دہلی ریڈیو سے اُن کے ساز ’حامدی‘ پر راگ مالکونس کا پروگرام درج ہے۔ اِسی رسالے کے ۷ اپریل ۱۹۴۲ء کے شمارے میں اُن کی تصویر کے ساتھ یہ وضاحت بھی شائع ہوئی کہ حامد حسین خان بمبئی ریڈیو سے اپنے ایجاد کردہ ساز ’حامدی‘ پر باقاعدگی سے پروگرام پیش کرتے ہیں۔ یہ دونوں حوالے اِس اَمر کی دستاویزی شہادت ہیں کہ اُن کا ایجاد کردہ ساز برصغیر کی نشریاتی موسیقی کا باقاعدہ حصہ بن چکا تھا۔

اُستاد حامد حسین خان کی سارنگی نوازی کا نمایاں وَصف سُروں کی لطافت، الاپ کی گہرائی اور جذبات کی ترجمانی تھا۔ وہ تیز تانوں اور پیچیدہ سَرگم کے ذریعے محض فنکارانہ مہارت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ایک ایک سُر کے حُسن اور تاثیر کو اُجاگر کرنے پر زور دیتے تھے۔ اُن کی شاگرد ریگولا بُرک ہارٹ قریشی نے لکھا ہے کہ اُستاد کے نزدیک موسیقی میں اصل اہمیت اِس بات کی نہیں تھی کہ کوئی فنکار کتنی تیزی سے سُر ادا کرسکتا ہے، بلکہ یہ تھی کہ وہ ایک سُر کو کتنی خوب صورتی اور گہرائی کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ وہ الاپ کو راگ کا چہرہ قرار دیتے تھے اور اپنے شاگردوں کو سمجھاتے تھے کہ موسیقی کی حقیقی تاثیر اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی سُر سامع کے دل کو چھو لے۔

اُستاد حامد حسین خان اپنی شاگرد ریگولا قریشی سے گفتگو میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ہندوستان میں دو مرتبہ ایسا ہوا جب اُن کی سارنگی سُن کر پوری محفل اَشک بار ہوگئی۔ ایک محفل میں چند سو افراد اور دوسری میں ایک ہزار سے زیادہ سامعین موجود تھے۔ اُستاد کے بقول سامعین کو روتا دیکھ کر وہ خود بھی اپنے آنسو ضَبط نہ کر سکے۔ وہ اِس کیفیت کو موسیقی کی حقیقی کامیابی سمجھتے تھے۔ اُن کے نزدیک یہ تاثیر محض فنّی مہارت یا تیز رفتاری سے نہیں بلکہ مسلسل رِیاض، سُروں کی گہری پہچان اور دل کی سچی کیفیت سے پیدا ہوتی ہے۔

اُستاد حامد حسین خان کا فن محض اُن کے ہم عصروں کی یادداشتوں میں ہی محفوظ نہیں، بلکہ اُن کی متعدد نایاب صوتی ریکارڈنگز ، جن میں سے کچھ ریڈیو پاکستان کے ‘آواز خزانہ’ کا حصہ ہیں ، آج بھی اُن کی بے مثال سارنگی نوازی کی گواہی دیتی ہیں۔ اِن میں راگ مارو بہاگ، راگنی تان سینی مدھونتی، میاں کی ملہار، درباری، پوربی، پیلو اور للتا گوری کی پیشکشیں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ گراموفون کمپنی آف پاکستان کی ایک ایل پی میں اُنہوں نے طبلہ نواز اُستاد بشیر احمد خان کی سنگت میں راگنی تان سینی مدھونتی اور راگ مارو بہاگ پیش کیے، جن میں ہر راگ کی نَوازِش تقریباً نصف گھنٹے پر محیط ہے۔ اپنے چھوٹے بھائی اُستاد زاہد حسین خان کے ساتھ اُن کی سارنگی کی جُگل بندی بھی محفوظ ہے۔ ۱۹۷۵ء میں جاری ہونے والے ایک ریکارڈ میں دونوں بھائیوں کی راگ درباری اور راگنی پوربی کی پیشکشیں موجود ہیں، جبکہ میاں کی ملہار اور تان سینی مدھونتی میں بھی اُن کی مشترکہ نوازِش سُنی جاسکتی ہے۔ 

یہ ریکارڈنگز محض گزرے ہوئے زمانے کی یادگار نہیں، بلکہ سارنگی کے اُس عہد کی زندہ دستاویز ہیں جب ایک ایک سُر کو پوری نزاکت، وقار اور جذباتی گہرائی کے ساتھ ادا کرنا فن کی معراج سمجھا جاتا تھا۔ اُستاد حامد حسین خان کی سارنگی اِن ریکارڈنگز میں آج بھی گویا اپنے سامعین سے گفتگو کرتی محسوس ہوتی ہے۔

اُستاد حامد حسین خان اُن نابغۂ روزگار موسیقاروں میں شامل تھے جنہوں نے ریڈیو کی نشریات کو کلاسیکی موسیقی کی عظیم روایات سے ہم آہنگ کیا اور پاکستان کے موسیقائی وَرثے کی ترویج و تحفظ میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ اُن کی سارنگی کے سُر اِس ادارے کی نشریاتی تاریخ کا ایک روشن اور ناقابلِ فراموش باب ہیں۔ ریڈیو پاکستان اپنے اِس عظیم فنکار کو اُن کی ۴۶ویں بَرسی پر نہایت عقیدت و احترام سے یاد کرتا اور اُنہیں خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیوپاکستان