Monday, 02 November 2026, 03:03:45 pm
 

مزید خبریں

 
لفظوں کا جادُوگَر، اپنے عہد کا بڑا گیت نگار
November 01, 2026

تنویر نقوی

لفظوں کا جادُوگَر، اپنے عہد کا بڑا گیت نگار

(برسی کی مُناسبت سے خصوصی تحریر)

وہ حقیقی معنوں میں لفظوں کا جادُوگَر تھا۔ جذبات کو الفاظ کا ایسا پَیراہن پہناتا تھا کہ ایک دنیا عش عش کر اُٹھتی۔ اور صرف یہی نہیں، وہ کمال کا زُودگو شاعر بھی تھا۔ گیت لکھنا اُس کے لیے کس قدر سَہل تھا، اس کا اندازہ ایک واقِعے سے لگایا جا سکتا ہے۔

یہ سن ۱۹۷۰ء تھا۔ لاہور کے ایورنیو اسٹوڈیوز میں وہ اداکار آغا طالش سے ایک زیرِ تکمیل فلم کی کہانی کے بارے میں مَحوِ گُفتگو تھا کہ اسی دوران ایک خاتون قریب سے گزریں۔ یہ فلمی دنیا میں نَووارِد اداکارہ آسیہ تھیں۔ آغا طالش نے پوچھا: ’’یہ کون گزرا ہے؟‘‘

اُس نے خاتون کی طرف دیکھا اور اُن کا نام پوچھنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ وہ آناً فاناً اسٹوڈیو کے کسی کمرے میں داخل ہوگئیں۔ نام پوچھنے کی خواہش اور موقع ہاتھ سے نکل جانے کے درمیان جو لمحہ آیا، اُسی میں اُس کے ذہن میں ایک گیت کے بول اُبھرے اور اُس نے جھٹ سے لکھ ڈالے:

کس نام سے پکاروں، کیا نام ہے تمہارا

کیوں تم کو دیکھتے ہی دل کھو گیا ہمارا

یہی گیت ہِدایت کار ریاض شاہد کی تاریخی فلم ‘غَرناطہ’ (۱۹۷۱ء) میں شامل ہوا اور اداکارہ روزینہ پر فلمایا گیا۔ اے حمید کی موسیقی اور مَلِکۂ ترنّم نورجہاں کی آواز نے اسے پاکستانی فلمی موسیقی کا ایک لازَوال نغمہ بنا دیا۔

اس گیت کے خالق تنویر نقوی تھے، جنہیں فلمی دنیا میں مَحبّت سے ’شاہ جی‘ کہا جاتا تھا۔ وہ ایک ایسے منفرد گیت نِگار تھے جنہوں نے اپنے لازَوال نغموں سے فلمی شاعری کو ادبی حُسن، تہذیبی نَزاکت اور جذباتی گَہرائی عطا کی۔

آج انہی تنویر نقوی کی ۵۴ویں بَرسی ہے۔ یکم نومبر ۱۹۷۲ء کو یہ بے مِثال شاعر دنیا سے رُخصت ہوا تھا۔

تنویر نقوی کا اصل نام سید خورشید علی نقوی تھا۔ وہ ۶ فروری ۱۹۱۹ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید سعد علی نقوی کا تعلق ایران کے شہر آبادان سے تھا، جہاں سے ہِجرت کرکے وہ لاہور آئے اور اندرونِ بھاٹی دروازہ کے کوچہ فقیر میں آباد ہوئے۔

تنویر نقوی کے والد فارسی اور اردو میں شاعری کرتے تھے، جبکہ ان کے بڑے بھائی نوا نقوی بھی شاعر تھے۔ یوں گھر کے اسی عِلمی و اَدبی ماحول میں پرورش پانے کے باعث کم عمری ہی سے ان کا رُجحان شعرگوئی کی طرف ہوگیا۔

تنویر نقوی نے ابتدائی تعلیم لاہور کے ایک مَکتب یا مدرسے میں حاصل کی۔ ان کے تعلیمی ادارے، اَسناد یا تعلیم کی آخری منزل کے بارے میں کوئی مُصدّقہ معلومات دستیاب نہیں، تاہم اتنا تذکرہ ضرور ملتا ہے کہ وہ اردو اور فارسی، دونوں زبانوں سے بھرپور واقفیت رکھتے تھے۔ پندرہ برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا اور ابتدا میں زیادہ تر نَظم گوئی کی طرف مائل رہے۔ ۱۹۳۸ء میں ہِدایت کار نذیر کی فلم ’شاعر‘ کے لیے گیت لکھ کر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے۔

۱۹۴۰ء میں، اکیس برس کی عمر میں، تنویر نقوی کا پہلا شِعری مجموعہ ’سنہرے سپنے‘ شائع ہوا۔ یہی مجموعہ معروف فلم ساز و ہِدایت کار عبدالرشید کاردار تک پہنچا تو انہوں نے تنویر نقوی کو بمبئی آنے کی دعوت دی۔ بمبئی میں فلمی گیت نِگاری ان کا بنیادی پیشہ اور ذریعۂ معاش بن گئی، تاہم غیر فلمی شاعری سے بھی اُن کا تعلق برقرار رہا۔ وہ غزلیں، نظمیں اور گیت کہتے اور مُشاعروں میں بھی شرکت کرتے رہے ۔

تنویر نقوی کی اَزدِواجی زندگی کے بارے میں مختلف رِوایات موجود ہیں۔ سوانح نِگار آفتاب احمد کے مطابق اُنہوں نے تین شادیاں کیں؛پہلی شادی بمبئی کی فلمی اداکارہ مایا دیوی سے ہوئی، جو علیحدگی پر ختم ہوگئی۔ دوسری شادی مَلِکۂ ترنّم نورجہاں کی بڑی بہن عیدن بائی سے کی، جو تقریباً چودہ برس قائم رہی، تاہم یہ شادی بھی طلاق پر ختم ہوئی۔ اس شادی سے ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ تیسری شادی اپنے خاندان کی سیدہ تسنیم نقوی سے ہوئی۔اسی شادی سے ان کی اولاد کے بارے میں دو بیٹیوں اور ایک بیٹے سید شہباز تنویر نقوی کا واضح ذکر ملتا ہے۔ شہباز تنویر نقوی نے بھی اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے شاعری اور نَغمہ نِگاری اختیار کی۔ ان کا شِعری مجموعہ ’اُجالا‘ کے نام سے شائع ہوا۔

تنویر نقوی کی فلمی گیت نِگاری کا سفر تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر مُحیط ہے۔ اس دوران انہوں نے بٹوارے سے پہلے متحدہ ہندوستان کی فلمی صنعت کے لیے گیت لکھے جو ان کی شاعری کا پہلا دور کہا جاتا ہے ۔ دوسرا دور قیامِ پاکستان کے بعد لاہور میں نئی پاکستانی فلمی صنعت سے وابستگی کا ہے۔تیسرا دور پچاس کی دہائی کے وسط میں دوبارہ بمبئی جانے اور بھارتی فلموں کے لیے گیت لکھنے کا ہے، جبکہ چوتھا اور آخری دور پاکستان واپسی سے نومبر ۱۹۷۲ء میں ان کی وفات تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی آخری دور میں انہوں نے اردو اور پنجابی فلموں کے لیے اپنے متعدد یادگار نغمے تخلیق کیے۔

تنویر نقوی کا پہلا دور: بٹوارے(۱۹۴۰ء تا ۱۹۴۷ء)سے قبل کی شاعری

تنویر نقوی کی شاعری کا پہلا دور بٹوارے سے قبل کی متحدہ ہندوستان کی فلمی صنعت کی گیت نگاری تھی۔ اس دور میں انہوں نے فلم ‘سوامی’ (۱۹۴۱ء) ، ‘نئی دنیا’ (۱۹۴۲ء) اور ‘لیلیٰ مجنوں’ (۱۹۴۵ء) سمیت متعدد فلموں کے لیے گیت لکھے۔ تاہم انہیں غیر معمولی شہرت ہِدایت کار محبوب خان کی فلم ‘انمول گھڑی’ (۱۹۴۶ء) سے حاصل ہوئی۔ موسیقار نوشاد کی دُھنوں پر ان کے لکھے ہوئے گیت ‘آواز دے کہاں ہے’، ‘جواں ہے محبت، حسیں ہے زمانہ’ اور ‘آ جا میری برباد محبت کے سہارے’ نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ پہلا گیت نورجہاں اور سریندر کی آوازوں میں ریکارڈ ہوا، جبکہ باقی دونوں گیت نورجہاں نے گائے۔ اگلے برس ہِدایت کار شوکت حسین رضوی کی فلم ‘جگنو’ (۱۹۴۷ء) میں ان کا لکھا ہوا گیت ‘یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے’ بھی بہت مقبول ہوا۔ اس فلم کی موسیقی فیروز نظامی نے ترتیب دی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نورجہاں، نوشاد، فیروز نظامی اور محمد رفیع جیسے بڑے فنکاروں کے ساتھ ان کے اشتراک نے انہیں بمبئی کے ممتاز گیت نِگاروں کی صف میں لاکھڑا کیا۔

دوسرا دور: قیامِ پاکستان کے بعد لاہور (۱۹۴۸ء تا ۱۹۵۳ء)

بٹوارے کے بعد تنویر نقوی لاہور آگئے اور یہاں نئی قائم ہونے والی پاکستانی فلمی صنعت سے وابستہ ہوگئے۔ پاکستان کی پہلی فلم ‘تیری یاد’، جو ۷ اگست ۱۹۴۸ء کو نمائش کے لیے پیش کی گئی، کے لیے بھی انہوں نے دو گیت ‘کیا یاد سہانی آئی’ اور ‘او تیری یاد آئے’ لکھے۔ اگلے برس فلم ‘سچائی’ (۱۹۴۹ء) میں موسیقار جی اے چشتی کے ساتھ ان کا اشتراک سامنے آیا، جس میں ‘یہ ظالم زمانہ، نہ تیرا نہ میرا’ اور ‘بھولنے والا بھول گیا تو میری وفائیں، اپنی جفائیں’ جیسے نغمے شامل تھے۔ اس کے بعد انہوں نے ‘جہاد’، ‘کندن’، ‘جدائی’ اور ‘انوکھی داستان’ (۱۹۵۰ء)، ‘غیرت’ اور ‘پنجرہ’ (۱۹۵۱ء)، ‘بھیگی پلکیں’ (۱۹۵۲ء) اور ‘آواز’، ‘محبوبہ’، ‘آغوش’ اور ‘گلنار’ (۱۹۵۳ء) جیسی فلموں کے لیے گیت لکھے۔ فلم ‘جہاد’ کا ‘اے رات کے مسافر، پل بھر تو دم لے لے’ زینت بیگم نے گایا، جبکہ ‘گلنار’ میں ماسٹر غلام حیدر کی موسیقی اور نورجہاں کی آواز میں ان کا لکھا ہوا گیت ‘سکھی ری نہیں آئے، سجنوا مور’ مقبول ہوا۔ اس زمانے میں انہوں نے اردو کے ساتھ پنجابی فلموں ‘مندری’ (۱۹۴۹ء) اور ‘شمی’ (۱۹۵۰ء) کے لیے بھی گیت لکھے۔ یوں پاکستان میں فلم سازی کے ابتدائی برسوں میں ہی تنویر نقوی اردو اور پنجابی، دونوں زبانوں کے فلمی نغمہ نگار کی حیثیت سے سرگرم تھے۔

تیسرا دور: بمبئی میں دوبارہ قیام (تقریباً ۱۹۵۴ء تا ۱۹۵۷ء)

پچاس کی دہائی کے وسط میں تنویر نقوی ایک مرتبہ پھر بمبئی چلے گئے۔ اس مرتبہ انہیں معروف ہِدایت کار کے آصف نے اپنی زیرِ تکمیل تاریخی فلم ‘مغلِ اعظم’ کے لیے گیت لکھنے کی دعوت دی تھی۔ فلمی تذکروں کے مطابق انہوں نے اس فلم کے لیے دو گیت لکھے، تاہم موسیقار نوشاد اور گیت نِگار شکیل بدایونی کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختلافات کے باعث وہ اس منصوبے سے الگ ہوگئے۔ ان کے لکھے ہوئے دونوں گیت بعد میں دوسری فلموں میں شامل ہوئے۔ ان میں سے ایک ‘کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں’ تھا، جو پاکستانی فلم ‘انارکلی’ (۱۹۵۸ء) میں شامل ہوا، جبکہ دوسرا ‘گزرا ہوا زمانہ آتا نہیں دوبارہ’ تھا، جسے موسیقار ایس مہندر نے لتا منگیشکر کی آواز میں بھارتی فلم ‘شیریں فرہاد’ (۱۹۵۶ء) کے لیے ریکارڈ کیا۔ ‘مغلِ اعظم’ سے الگ ہونے کے باوجود تنویر نقوی نے بمبئی میں گیت نِگاری جاری رکھی۔ ایس مہندر کے ساتھ ان کا اشتراک خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ مدھوبالا کی پیش کردہ فلم ‘ناتا’ (۱۹۵۵ء) میں ان کا لکھا ہوا ‘اس بے وفا جہاں کا دستور ہے پرانا’ لتا منگیشکر کی آواز میں مقبول ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے ‘علاءالدین کا بیٹا’ اور ‘شہزادہ’ (۱۹۵۵ء)، ‘کارواں’، ‘سلطانِ عالم’ اور ‘شیریں فرہاد’ (۱۹۵۶ء) اور ‘پاتال پری’ (۱۹۵۷ء) کے لیے گیت لکھے۔ ‘شیریں فرہاد’ میں محمد رفیع کا گایا ہوا ‘ہزاروں رنگ بدلے گا زمانہ’ بھی ان کی تخلیق تھا۔ موسیقار ایس مہندر نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ تنویر نقوی ۱۹۵۶ء یا ۱۹۵۷ء میں پاکستان واپس چلے گئے تھے، اگرچہ بعض سوانحی مضامین میں ان کی واپسی کا سال ۱۹۶۰ء درج ہے۔

چوتھا دور: پاکستان واپسی سے وفات تک (تقریباً ۱۹۵۷ء تا ۱۹۷۲ء)

بمبئی سے واپسی کے بعد تنویر نقوی کی گیت نِگاری کا چوتھا اور آخری دور شروع ہوا، جو ان کے فلمی کیریئر کا نہایت زرخیز زمانہ ثابت ہوا۔ ۱۹۵۸ء میں ہِدایت کار انور کمال پاشا کی فلم ‘انارکلی’ کے لیے ان کے لکھے ہوئے گیت ‘کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں’ اور ‘جلتے ہیں ارمان، میرا دل روتا ہے’ نورجہاں نے رشید عطرے کی موسیقی میں گائے۔ اگلے برس خواجہ خورشید انور کی فلم ‘جھومر’ (۱۹۵۹ء) میں ناہید نیازی کا گایا ہوا ‘چلی رے چلی رے، میں تو دیس پیا کے چلی رے’ مقبول ہوا، جبکہ اسی موسیقار کی فلم ‘کوئل’ (۱۹۵۹ء) میں نورجہاں کے گائے ہوئے ‘دل کا دیا جلایا’، ‘مہکی فضائیں، گاتی ہوائیں’ اور منیر حسین کے ساتھ دوگانا ‘رم جھم رم جھم پڑے پھوار’ نے شہرت حاصل کی۔ اس کے بعد فلم ‘سلمیٰ’ (۱۹۶۰ء) کا ‘زندگی ہے یا کسی کا انتظار’، ‘ایاز’ (۱۹۶۰ء) کا ‘رقص میں ہے سارا جہاں’، ‘موسیقار’ (۱۹۶۲ء) کا ‘گائے گی دنیا گیت میرے’ اور ‘شہید’ (۱۹۶۲ء) کا ‘نقاب جب اٹھایا، شباب رنگ لایا’ ان کی مشہور تخلیقات میں شامل ہوئے۔ اسی برس فلم ‘عذرا’ (۱۹۶۲ء) میں ماسٹر عنایت حسین کی موسیقی اور سلیم رضا کی آواز میں ‘جانِ بہاراں، رشکِ چمن’ منظرِ عام پر آیا، جبکہ ۱۹۶۴ء میں خواجہ خورشید انور کی فلم ‘چنگاری’ کے لیے مہدی حسن نے ان کا لکھا ہوا ‘اے روشنیوں کے شہر بتا’ گایا۔ اس دور میں انہوں نے پنجابی فلموں کے لیے بھی متعدد یادگار نغمے تخلیق کیے، جن میں ‘اَت خدا دا ویر’ (۱۹۷۰ء) کے ‘گندلاں دا ساگ تے مکھن مکئی’ اور ‘جدوں ہولی جئی لینا میرا ناں’ اور ‘دنیا پیسے دی’ (۱۹۷۱ء) کا ‘چل چلیے دنیا دی اُس نُکرے’ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ آخری برسوں میں اردو فلم ‘افسانہ’ (۱۹۷۰ء) کے لیے ان کا لکھا ہوا ‘یوں کھو گئے تیرے پیار میں ہم’ مجیب عالم کی آواز میں، ‘دوستی’ (۱۹۷۱ء) کا ‘چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دے’ نورجہاں کی آواز میں اور ‘غَرناطہ’ (۱۹۷۱ء) کا ‘کس نام سے پکاروں، کیا نام ہے تمہارا’ بھی نورجہاں کی آواز میں مقبول ہوا۔ یوں ان کی گیت نِگاری کا یہ آخری دور اردو اور پنجابی فلمی موسیقی کی کئی یادگار تخلیقات اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔

تنویر نقوی نے رومانوی اور فلمی گیتوں کے علاوہ نعتیہ اور ملی شاعری میں بھی طبع آزمائی کی۔ ان کی نعتیہ شاعری کا ایک نمایاں نمونہ فلم ‘ایاز’ (۱۹۶۰ء) کی نعت ‘جو نہ ہوتا تیرا جمال ہی’ ہے، جس میں انہوں نے عربی دُرودیہ کلمات ‘صلّوا علیہ وآلہ’ کے ساتھ اردو کے مصرعوں کو بڑی مہارت سے ہم آہنگ کیا۔ اسے زبیدہ خانم نے ساتھی گلوکاروں کے ہمراہ گایا۔ فلم ‘نورِ اسلام’ (۱۹۵۷ء) کی مشہور نعت ‘شاہِ مدینہ، یثرب کے والی’ بھی بعض سوانحی تذکروں میں تنویر نقوی سے منسوب کی جاتی ہے، تاہم بعض فلمی ریکارڈز میں اس کے شاعر کا نام نعیم ہاشمی درج ہے۔

تنویر نقوی کا ریڈیو پاکستان سے بھی تخلیقی تعلق رہا۔ ایک تاریخی روایت کے مطابق ۱۱ ستمبر ۱۹۴۸ء کو قائداعظم کی وفات پر ان کا لکھا ہوا خصوصی مَرثیہ ‘السلام اے قائدِ اعظم سلام’ کراچی ریڈیو سے شیر محمد کی آواز میں نشر ہوا تھا۔ تاہم اس روایت کی اصل نشریاتی ریکارڈ سے تصدیق باقی ہے۔ ریڈیو پاکستان سے ان کے تعلق کا سب سے نمایاں حوالہ ۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ ہے، جب ریڈیو پاکستان لاہور نے ان کا لکھا ہوا ملی نغمہ ‘رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو’ مَلِکۂ ترنّم نورجہاں کی آواز میں ریکارڈ کیا۔ اس وقت ریڈیو پاکستان لاہور کے پروڈیوسر اعظم خان جنگی نغموں کی ریکارڈنگ سے وابستہ تھے۔ ان کی روایت کے مطابق نورجہاں کی آواز میں ریکارڈ کیے گئے ابتدائی جنگی نغموں میں تنویر نقوی کا یہ نغمہ چوتھے نمبر پر تھا۔

‘رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو’ دراصل تنویر نقوی کی ایک مکمل نظم ہے، جس میں شہیدوں کی قربانیوں کو آزادی کے روشن مستقبل سے وابستہ کیا گیا ہے۔ اس نغمے میں خونِ شہیداں کو نئی صبح کی نوید قرار دیتے ہوئے شاعر نے جدوجہدِ آزادی، ایثار اور قومی عزم کے جذبات کو نہایت پُراثر انداز میں پیش کیا۔ نورجہاں کی آواز اور ریڈیو پاکستان کی نشریات نے اس کلام کو ایسی مقبولیت بخشی کہ یہ ۱۹۶۵ء کی جنگ کے یادگار ملی نغموں میں شامل ہوگیا۔

تنویر نقوی کی گیت نِگاری کا سب سے نمایاں وصف زبان پر ان کی غیر معمولی گرفت، الفاظ کا موزوں انتخاب اور ان کی غَنائیت تھی۔ اس زمانے میں فلمی گیتوں پر ہندی، برج بھاشا اور پوربی کے الفاظ و محاورات کا گہرا اثر تھا، لیکن تنویر نقوی نے اردو کے فطری محاورے، ادبی تراکیب اور فارسی آمیز اسلوب کو بھی فلمی نغمے میں بڑی کامیابی سے برتا۔ ‘آواز دے کہاں ہے’ اور ‘کس نام سے پکاروں’ جیسے گیتوں میں سادہ، رواں اور روزمرہ کی اردو ملتی ہے، جبکہ ‘جانِ بہاراں، رشکِ چمن’ میں فارسی الاصل الفاظ اور ادبی تراکیب کی فراوانی ہے۔ ان کے ہاں الفاظ کا انتخاب محض قافیے یا وزن کی ضرورت کے تحت نہیں ہوتا تھا، بلکہ گیت کے موضوع، کردار کی کیفیات، فلم کے ماحول اور موسیقی کے آہنگ کو بھی پیشِ نظر رکھا جاتا تھا۔ وہ حسبِ ضرورت شُستہ اردو، فارسی آمیز ادبی زبان، ہندی اور پوربی کے لوک محاوروں اور ٹھیٹھ پنجابی میں یکساں سہولت سے گیت لکھتے تھے۔ یہی لِسانی تنوّع، لفظوں کی صوتی مناسبت اور جذبات کو سادہ مگر پُراثر شعری پَیراہن میں ڈھالنے کی صلاحیت ان کی گیت نِگاری کا امتیاز تھی۔

زندگی کے آخری برسوں میں تنویر نقوی کا سب سے گہرا یارانہ ہِدایت کار ریاض شاہد کے ساتھ رہا۔ دونوں نے متعدد فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔ یکم اکتوبر ۱۹۷۲ء کو ریاض شاہد کا انتقال ہوا اور ٹھیک ایک ماہ بعد، یکم نومبر ۱۹۷۲ء کو تنویر نقوی بھی لاہور میں دنیا سے رُخصت ہوگئے۔ اس وقت ان کی عمر صرف ۵۳ برس تھی۔ انہیں لاہور کے تاریخی میانی صاحب قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

تنویر نقوی نے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے پر مُحیط اپنے فلمی سفر میں سینکڑوں گیت لکھے۔ بمبئی سے لاہور، پھر بمبئی اور دوبارہ لاہور تک کے اس سفر میں انہوں نے مختلف موسیقاروں اور گلوکاروں کے ساتھ کام کیا اور اردو اور پنجابی فلمی موسیقی کو متعدد یادگار تخلیقات دیں۔ ان کے گیتوں پر انہیں تین مرتبہ نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

آج ان کی وفات کو چوّن برس گزر چکے ہیں، لیکن وہ اپنے گیتوں اور چاہنے والوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ تنویر نقوی کا فلم ‘موسیقار’ (۱۹۶۲ء) کے لیے لکھا ہوا گیت ‘گائے گی دنیا گیت میرے’، جسے نورجہاں نے گایا تھا، بے حد مقبول ہوا۔ اسی گیت میں انہوں نے ارمانوں میں سُریلے اَنگ اور نِرالے رَنگ بھرنے کا ذکر کرکے گویا اپنی ہی شاعری کا وصف بیان کر دیا تھا۔

وہ واقعی سُریلے اَنگوں اور نِرالے رَنگوں کے شاعر تھے، لفظوں کے ایسے جادُوگَر، جن کے گیت آج بھی اپنی تازگی اور غَنائیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

ریڈیو پاکستان اس عظیم شاعر کو ان کی ۵۴ویں بَرسی پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔

تحریر: سعید احمد شیخ ، ڈی جی ریڈیو پاکستان