وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کا تحفظ نہ کرنا صوبائی حکومت کی ناکامی ہے۔
آج ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پالیسی دہشت گردی کو فروغ دینا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ انہیں انتخاب کرنا ہوگا کہ یہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا افغانستان کے ساتھ۔
انہوں نے کہا کہ ان کے پاس جو کچھ ہے وہ پاکستان نے انہیں دیا ہے مگر یہ افغانستان کے حق میں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ فائدہ پاکستان سے لیتے ہیں اور حمایت افغانستان کی کرتے ہیں۔
وزیر نے کہا کہ تحریک انتشار کا وطیرہ ہے کہ بات چیت کیلئے آتے ضرور ہیں مگر دوہرے معیار اور منافقت کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں معصوم بچوں اور ریسکیو ورکرز کا خون بہہ رہا ہے اور سہیل آفریدی ایک قیدی کو رہا کرانے میں مصروف ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کو صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس منعقد کرنے سے کس نے روکا ہے؟
انہوں نے کہا کہ جب سے ان کی صوبے میں حکومت ہے انہیں این ایف سی میں انسداد دہشت گردی کی مد میں 700 ارب سے زائد رقم مل چکی ہے۔
وزیر نے واضح کیا کہ کسی کو امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہم نے اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔