وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات نیک نیتی سے ہوئے، تاہم خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔
آج لاہور میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاہدے کا مسودہ تیار ہونے کے بعد اپوزیشن اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئی، جبکہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے حتمی مسودے میں تبدیلیاں کرنے کی کوشش کی۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کو صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان اتحاد یقینی بنانا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ حکومت کسی صورت نو مئی جیسے واقعات دوبارہ نہیں ہونے دے گی۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ قانون پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا اور کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے دوران کسی بھی جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچانا توہین عدالت تصور کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر ایک بھی جان ضائع ہوئی تو خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ ذمہ دار ہوں گے۔