تحریکِ پاکستان کے سرگرم رہنما، انگریزی زبان کے صاحبِ طرز اِنشا پرداز ، ہندوستان کی آزادی کے بہت بڑے علمبردار ، مسلمانوں کے محبوب لیڈر اور صحافی و شاعر مولانا محمد علی جوہر کی 93 ویں برسی جمعرات کے روز منائی گئی۔
مولانا محمد علی جوہر 1878 میں رام پور میں پیدا ہوئے ۔ علی گڑھ اور لنکن کالج (آکسفورڈ) میں تعلیم حاصل کی۔ ریاست ہائے بڑودہ اور رام پور میں ملازم رہے ۔ ترکِ ملازمت کے بعد کلکتہ سے ہفتہ وار 'کامریڈ' اخبار جاری کیا ۔
دہلی میں 'ھمدرد' کے نام سے اردو میں بھی اخبار کا اجرا کیا ۔ مولانا محمد علی جوہر اپنی انقلابی تحریروں کے سبب 'رئیس الاحرار' کے لقب سے بھی جانے جاتے ہیں ۔ 1914 میں برطانوی پالیسی کے خلاف لکھنے پر آپ کو نظر بند کیا گیا ۔
1919 میں رہائی کے بعد تحریکِ خلافت میں حصہ لیا ۔ تحریکِ ترکِ موالات میں بھرپور حصہ لیا جس کی وجہ سے دو بار جیل جانا پڑا ۔ مولانا محمد علی جوہر شاعری میں داغ کے شاگرد تھے ۔ آپکا کلام 'دیوانِ جوہر' کے نام سے شائع ہوا ہے ۔
مولانا محمد علی جوہر گول میز کانفرس میں شرکت کے لیے لندن گئے اور وہیں 4 جنوری 1931 کو انتقال کرگئے ۔ بیت المقدس میں آسودہ خاک ہیں ۔