یکم ستمبر کو جنگ کا آغاز ہوا تو پاکستان کی مسلح افواج اور غیور عوام اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند ڈٹ کر کھڑے رہے۔
جنگ کے پہلے روز پاک فوج کے نمایاں شہدا ء میں میجر میاں رضا شاہ اور میجر شاہ نواز نے جوانمردی سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
یکم ستمبر 1965 کو مظفر آباد پر بھارتی دبائو کے پیش نظر میجر رضا شاہ کو چھمب سیکٹر کے گا ئوں چک پنڈت پر قبضے کا ٹاسک سونپا گیا۔
سونپے گئے مشن کی تکمیل کے لیے میجر رضا شاہ نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ جنگ کے دوران دشمن کا ایک گولہ میجر رضا شاہ کے ٹینک کو لگا اور آپ نے یکم ستمبر 1965 کو جامِ شہادت نوش کیا۔
اسی روز ملکی سرحدوں کے ایک اور مقام پر میجر شاہ نواز بھی دفاعِ وطن میں برسرِ پیکار تھے۔
میجر شاہ نواز اس فوجی دستے کا حصہ تھے جس نے چھمب، جوڑیاں اور اکھنور میں بھارتی فوج کے حملے کے جواب میں جوابی کارروائی کی۔
میجر شاہ نواز کی کمپنی اپنے ہدف کے قریب پہنچی تو گھمسان کی لڑائی شروع ہوگئی اور دونوں جانب کی افواج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
اسی اثنا میں مشین گن کا برسٹ میجر شاہ نواز کو لگا اور وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔
میجر شاہ نواز کی عظیم قربانی رائیگاں نہیں گئی۔ ان کی شہادت کے کچھ دیر بعد ان کی کمپنی نے دشمن کے قدم اکھاڑ دیے اور گاں پوار پر قبضہ کر لیا۔
میجر رضا شاہ شہید اور میجر شاہ نواز شہید کو بہادری کے اعتراف میں بعد از شہادت تمغہ شجاعت کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔
مشن کی تکمیل کے لیے جان کی پروا نہ کرتے ہوئے شہادت کا عظیم مقام حاصل کرنے والے ان شہدا کی بہادری کو قوم ہمیشہ سنہرے الفاظ میں یاد رکھے گی۔